تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     14-10-2017

دردِ دل دردِ سر نہ ہو جائے!

کہنے کو ہر دل میں کسی نہ کسی آرزو کا پایا جانا لازم سا قرار پا گیا ہے مگر صاحب، دل کی آرزو بھی کیا قیامت ہے۔ دل میں رہ جائے تو مصیبت، پوری ہو جائے تو آفت۔ گویا نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ بہت سے لوگ زندگی بھر کسی نہ کسی آرزو کا دامن تھامے رہتے ہیں۔ ہر آرزو بظاہر اِس لیے ہوتی ہے کہ پوری ہو مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ کسی آرزو کو پالنے کے ساتھ ساتھ اس کے پورا نہ ہونے کی دعا بھی مانگتے رہتے ہیں! کیوں؟ شاید اِس خوف سے کہ ع
پھر دل میں کیا رہے گا جو حسرت نکل گئی!
قدرت مہربان ہونے پر آجائے تو انسان کے سارے دُلدّر دور کر دیتی ہے۔ اِس لیے سیانے کہتے ہیں کہ انسان کو بہت سوچ سمجھ کر کوئی آرزو کرنی چاہیے۔ پتا نہیں کون سی گھڑی قبولیت کی ہو، جو کچھ جی میں ہو وہ مل ہی جائے اور اِس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہے! قدرت کا معاملہ یہ ہے کہ دل کی مراد اگر پوری کر دے تو پھر واپس نہیں لیتی، خواہ مراد پانے والے پر قیامت ہی گزر جائے! یہی سبب ہے کہ بہت سے لوگ دل کی مراد پوری ہونے پر زندگی بھر روتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی دل کی آرزو ایسے بھرپور انداز سے پوری ہوتی ہے کہ انسان بعد میں ع
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
کا راگ الاپتے رہنے پر مجبور ہو جاتا ہے! مگر صاحب، چڑیاں جب کھیت چگ جائیں تو رونے سے حاصل؟
دو دوست مدت بعد ملے۔ اِدھر اُدھر کی بہت سی باتیں ہو چکیں تو اُنہوں نے ایک دوسرے کی گھریلو زندگی کے بارے میں جاننا چاہا۔ ایک دوست بولا ''بس یار، کچھ نہ پوچھو۔ زندگی میں صرف دکھ لکھا ہے‘ دکھ۔ میں جس لڑکی کو چاہتا تھا اُس کی شادی کہیں اور ہوگئی۔ آج بھی وہ میرے دل میں بسی ہوئی ہے۔ نکلنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ بیشتر وقت اسی کے خیالوں میں کھویا رہتا ہوں۔‘‘
دوسرے دوست نے کہا ''اِس میں بہت زیادہ دل جلانے کی کیا ضرورت ہے؟ انسان کو صبر اور شکر سے کام لیتے ہوئے خوش و خرم زندگی بسر کرنی چاہیے۔ جو مل گیا وہ غنیمت اور جو نہ مل سکا اُسے بھول ہی جانا چاہیے‘ بس۔‘‘
پہلا دوست بولا ''یہ سب کہنے کی حد تک تو بہت آسان لگتا ہے۔ جس پر گزرتی ہے کچھ اس کے دل سے پوچھو۔ تم پر گزری ہو تو جانو۔ اور ہاں، اپنی تو سناؤ۔‘‘ 
دوسرا دوست بولا ''ارے یار، مجھ پر بھی قیامت ہی گزر گئی۔ محبت میں ناکام ہونے والوں کو دیکھ دیکھ کر میں بھی آہیں بھرتا ہوں۔‘‘
پہلے دوست نے پوچھا ''کیوں؟ آہیں کیوں بھرتے ہو؟ کیا اِسی صف میں کھڑے ہو؟‘‘
دوسرا دوست انتہائی سرد آہ بھرتے ہوئے بولا ''میرے ایسے نصیب کہاں؟ تم کیا جانو کہ مجھ پر کیا گزری۔ ارے دوست! میرا معاملہ تو 'ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘ والا ہے!‘‘
پہلا دوست بولا ''میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘
دوسرے دوست نے سرد آہ بھرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا ''قدرت نے ایک ہی وار میں عمر بھر کے ستم ڈھا دیئے۔ بس یہ سمجھ لو کہ قدرت مہربان ہوئی اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ میں جس لڑکی کو چاہتا تھا‘ وہی اب تمہاری بھابی ہے!‘‘ 
بات ازدواجی زندگی کی ہو یا سیاست و سفارت کی، ہر جگہ معاملہ یہ ہے کہ دل کی مراد بر آنے پر کبھی کبھی جان پر بھی بن آتی ہے۔ 1970 کے زمانے میں ریلیز ہونے والی محمد علی کی فلم ''آئینہ‘‘ کی ایک غزل مہدی حسن کی آواز میں ریکارڈ کی گئی جس نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ اس غزل کا ایک شعر تھا ؎ 
مرے محبوب! زمانے میں کوئی تجھ سا کہاں؟ 
ترے جانے سے مری جان پہ بن آئی ہے 
کبھی کبھی ایسی صورتِ حال بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ اس شعر کے دوسرے مصرع میں تھوڑے سے تصرّف سے بیان کا حق ادا ہوسکتا ہے ع
ترے ''آنے‘‘ سے مری جان پہ بن آئی ہے!
کبھی کبھی کوئی زندگی میں یوں آ جاتا ہے کہ سب کچھ جاتا رہتا ہے۔ انسان سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ جو آ گیا ہے اُسے چلتا کیسے کیا جائے! من چاہی چیز ملنے پر انسان کی خوشی قابل دید ہوتی ہے۔ مگر کبھی کبھی یہ سب کچھ نظر کا دھوکا ثابت ہوتا ہے۔ من چاہی چیز مل جانے پر دل بلّیوں اُچھلتا ہے مگر جب جھاگ بیٹھتا ہے، جوش و خروش سَرد پڑنے لگتا ہے تب اندازہ ہوتا ہے کہ ع
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سُنا افسانہ تھا!
پاکستان کی سیاسی و سفارتی تاریخ کا بھی کچھ ایسا ہی فسانہ ہے۔ امریکا ہی کا معاملہ لیجیے۔ یہ کچھ ایسی دوستی رہی ہے جس نے قدم قدم پر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ع
ہوئے تم دوست جس کے‘ دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟
1947 میں ملک کے قیام کے فوراً بعد ہمارے سامنے یہ بنیادی سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ کمیونسٹ بلاک کو اپنایا جائے یا دائیں بازو کے لبرل بلاک کو‘ جو امریکا اور یورپ پر مشتمل تھا۔ اسے آزاد دنیا بھی کہا جاتا تھا جس میں فرد کو پنپنے کی پوری آزادی بخشی گئی تھی۔ یعنی ہمارے سامنے قدرت نے دو آپشن رکھے۔ ہم نے امریکا اور یورپ پر مشتمل مغربی دنیا کو اپنایا۔ اور اپنایا کیا، اُس پر دل و جان سے ایسے فدا ہوئے کہ ع
یوں کھوگئے تیرے پیار میں ہم‘ اب ہوش میں آنا مشکل ہے
والی کیفیت پیدا کر کے دم لیا! دنیا نے سمجھانے کی کوشش کی مگر ہم کہاں سمجھنے والے تھے؟ دردِ دل کی الگ ہی اٹھان ہوتی ہے۔ یہ توجہ اور احتیاط دونوں ہی کا طالب ہوتا ہے۔ اگر عدم توجہ کی روش پر گامزن رہا جائے تو دردِ دل کو دردِ سر بنتے کچھ زیادہ دیر نہیں لگتی! ہم نے بارہا یہ تجربہ کیا ہے، بھگتا ہے اور پلٹ کر آنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اب ایک بار پھر ہم ''ابھی نہیں یا کبھی نہیں‘‘ کے دو راہے پر کھڑے ہیں۔ ایک بار پھر ترجیحات کا نئے سرے سے تعین کرنا ہے۔ ایک بار پھر یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم اپنے لیے اچھے اور برے میں تمیز کرنے کا شعور رکھتے ہیں۔ ایک بار پھر کوئی آرزو کرنی ہے، ایسی آرزو جو ہماری پریشانیاں دور کردے۔ ایک بار پھر کسی بھی ایسی آرزو سے یکسر گریزاں رہنا ہے جو پوری ہونے پر ہمارے لیے تسکین کا کم اور بگاڑ کا سامان زیادہ کرے۔ سیاست اور سفارت کی حسین و ہنر آزما فضاء میں ہمیں ایسا دردِ دل منتخب کرنا ہے جو دردِ سر نہ ہو بیٹھے! ہم بہت حد تک ایک بار پھر پوائنٹ آف نو ریٹرن پر کھڑے ہیں۔ ایسے میں پسپائی کا محل نہیں اور آگے بڑھنے کے لیے درست راہ منتخب کیے بغیر چارہ نہیں۔ کچھ کرنے سے کہیں بڑھ کر یہ کچھ سوچنے کی گھڑی ہے۔ خدا نہ کرے کہ ہم کوئی ایسی ویسی آرزو کر بیٹھیں اور پھر اُس کے پورا ہونے پر طویل المیعاد نالہ و فریاد کی راہ پر گامزن رہیں!

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved