تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     16-10-2017

سول حکومت ہے کہاں؟

بندوں کو پروردگار مہلت دیتا ہے مگر کتنی مہلت ؟ ظفر اللہ جمالی چلے گئے، ریاض پیرزادہ سٹپٹا اٹھے، شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان سمیت کتنے ہی اپنے لوگ فریادی ہیں ۔ کب تک ؟ 
پروفیسر احسن اقبال جس سول حکومت کی بات کرتے ہیں ، وہ ہے کہاں؟ بلوچستان فوج کے سپرد ہے ۔ اس نے عام لوگوں کو اپنانے کا سلسلہ شروع نہ کیا ہوتا تو انجام کیا ہوتا؟ ڈیرہ بگٹی اور منسلک اضلاع میں دہشت گرد بھتہ وصول کر رہے تھے ۔ کتنے ہی قصبے ہیں ، جہاں پاکستانی پرچم لہرایا نہ جا سکتا تھا۔ سول حکومت کی اب بھی جہاں عمل داری ہے، کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ ارکانِ اسمبلی میں سے ہر ایک کو 25، 30 کروڑ روپے ترقیاتی پروگراموں کے لیے ملتے ہیں ۔ بیشتر ہڑپ کر لیا جاتا ہے ۔ باقی ماندہ لیڈروں کی ذاتی ترجیحات کے مطابق صرف ہوتا ہے ۔ فوج کی کوششوں سے، چمالانگ میں کوئلے کی 75 ارب ڈالر کی کانیں بانٹ نہ دی گئی ہوتیں تو ہزاروں بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم نہ پا رہے ہوتے ۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی پہل قدمی سے ، ایک خصوصی پروگرام کے تحت اگر بلوچستان سے فوجی بھرتی کا عمل شروع نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ معلوم نہیں ، اب کیا حال ہے ، نواز شریف کے چار سالہ اقتدار میں خود ان کے وزیرِ اعلیٰ روتے پیٹتے رہے کہ وزیرِ اعظم کیا، ان کا عملہ بھی فون سننے کا روادار نہیں ۔ 
افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے کارندے داخل ہوتے اور قتل و غارت کرتے ۔ جیسا کہ اوّل‘ وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سلامتی اجیت دوول کے دعوے اور بعد ازاں کل بھوشن یادیو کی گرفتاری سے واضح ہوا، بلوچستان کو الگ کرنے کا ایک مربوط اور مکمل منصوبہ تھا۔ اس عالمگیر سازش سے نمٹنے کے لیے سیاستدانوں نے کیا کیا؟ بلوچستان میں شریف حکومت کے سب سے زیادہ پرجوش وکیل محمود اچکزئی کے ساتھ غارت گر افغان انٹیلی جنس کے ایک افسر کی تصاویر منظرِ عام پر آئیں ۔ وزارتِ داخلہ نے وزارتِ خارجہ کو لکھا کہ اچکزئی صاحب نے ایرانی انٹیلی جنس سے دس لاکھ روپے وصول فرمائے ہیں۔ اسی کے ایک افسر عزیر بلوچ کو ایران لے کر گئے ۔ 
یہ اکیسویں صدی کا سترہواں سال ہے ۔ ابھی تک صرف پانچ فیصد صوبے پر پولیس کی عمل داری ہے۔ باقی پر لیویز حکمران ہیں ، جن کے اہلکاروں کی بھرتی سرداروں کی مرضی سے ہوتی ہے ، تنخواہوں کی ادائیگی بھی۔ کیا وہ ریاست کے وفادار ہوں گے یا سرداروں کے ؟ جمہوریت نہیں، اسے امیر شاہی (Oligarchy) کہتے ہیں ۔ 
2000ء میں بلوچستان کے آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل نے لیویز کی تربیت کا منصوبہ بنایا، جب جنرل پرویز مشرف کا ایک سال گزرا تھا اور کوئٹہ پر راکٹ برسا کرتے ۔ لیویز کے نیم خواندہ اور نا خواندہ نوجوانوں کو پڑھا لکھا کر پولیس میں ضم کرنا تھا۔ 2002ء میں سیاستدان اقتدار میں آئے تو اس منصوبے کو ختم کر دیا ۔ جہاں کہیں فوج کا عمل دخل نہیں ، لوٹ مار اب بھی جاری ہے ۔ نوکریاں اب بھی بکتی یا نا اہلوں کو سونپی جاتی ہیں ۔ 
ایک زمانہ وہ تھا کہ ایف سی کے اہلکار سمگلنگ سے حاصل ہونے والی ''طیب‘‘ آمدنی میں ذوق و شوق سے شریک ہوتے؛ حتیٰ کہ میجر جنرل کے عہدے کا ایک آئی جی بھی پکڑا گیا۔ کوئٹہ کے بازاروں میں ایرانی تیل کھلے عام بکا کرتا۔ جمعیت علمائے اسلام اور قوم پرست سیاسی جماعتوں کے بعض لیڈر بھی شریک تھے۔ رفتہ رفتہ فوجی قیادت نے احتسابی نظام کو بہتر بنایا۔ ایرانی تیل کی سمگلنگ اگرچہ اب بھی جاری ہے ۔ اس کے خلاف کارروائی بہرحال فوجی ادارے ہی کرتے ہیں ۔ سول حکومتیں بھنگ پیے سوئی رہتی ہیں۔
سندھ کی پولیس شاید بدترین ہے ۔ کوئی پولیس افسر اشارۂ ابرو پر حرکت کرنے سے انکار کرتا ہے تو اس کی شامت آتی ہے ۔ سندھ کے آئی جی اے ڈی خواجہ ایک مثال ہیں ۔ دیہی علاقوں میں ہر بااثر آدمی کو گھیر گھار کے پیپلز پارٹی کا حصہ بنانے میں پولیس افسر شریک ہیں ۔ کوئی ہمت دکھائے تو رینجرز کا رخ کرتا ہے ۔ گاہے اس کی داد رسی ہو جاتی ہے ۔ رینجرز کے ایک افسر نے ایک دانا آدمی سے مشورہ لیا۔ پھر وڈیرے اور عام لوگوں کو یکجا کیا تو وڈیرے کی حالت غیر ہو گئی ۔ ہاتھ جوڑ کر کہا: یہ ظلم نہ کیجیے ، عامیوں کے ساتھ نہ بٹھائیے۔ 
وہ ہریالیوں اور ویرانوں کا خدا ہے ۔ تعلیم کا دشمن اور بندگانِ خدا کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کرنے والا۔ آصف علی زرداری ان سب کے پیشوا اور امام ہیں ۔ عزیر بلوچ کے بقول ، جس نے ان کے لیے چودہ شوگر ملوں پر قبضہ کیا۔ کیا نواز شریف کا دل اس پر کبھی دُکھا؟ کبھی انہوں نے اصلاحِ احوال کی ادنیٰ سی کوشش بھی کی؟ کیا ان کا ہدف صرف ذاتی کاروبار اور حلیفوں کی سرپرستی ہے؟ مولانا فضل الرحمٰن اور اچکزئی کی خواہش پر جب قبائلی پٹی کو صوبے کا حصہ بنانے سے انکار کیا جاتا ہے تو یہ کس کی خدمت ہے ؟ 
پختون خوا میں ضرور خرابیاں ہوں گی۔ سندھ میں افتادگانِ کو کیڑوں مکوڑوں کی طرح روندا جاتا ہے ، اس پر نون لیگ کو تکلیف کیوں نہیں پہنچتی ؟ کیا وہ خدا کی مخلوق نہیں۔ کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ کب تک ظلم ڈھانے اور اس پر خاموش رہنے والوں پہ اللہ کا عذاب ٹلا رہے گا؟ پختون خوا میں تو پولیس بتدریج اس قابل ہو گئی کہ انتظامیہ نے فوج کے زیرِ نگیں علاقے واپس لینے کی تجویز دی ہے ۔ بلوچستان اور سندھ میں کوئی منصوبہ تک بنایا نہیں گیا ۔ خود پنجاب میں پولیس کی حالت اتنی پست ہے کہ چھوٹو گینگ کے خلاف فوج سے مدد مانگنا پڑی۔ صوبے کے مختلف حصوں میں رینجرز کو کارروائی کرنا پڑتی ہے ۔ جرائم بڑھ رہے ہیں مگر ایک ایک تھانیدار کا تقرر فرمائش پہ ہوتا ہے ۔ چن کر کسی بدترین افسر کو آئی جی لگانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اب کی بار مکمل طور پہ مرضی کا آدمی نہ ملا تو قائم مقام انسپکٹر جنرل کا تقرر ہوا؛ حتیٰ کہ ہائی کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی۔ سکول برباد ہیں اور ہسپتال بھی ۔ پوری کابینہ ، پوری پنجاب اسمبلی اور پارلیمانی پارٹی پہ ایک حمزہ شہباز بھاری ہے ۔ گیارہ کروڑ آبادی میں ، صوبے کے بجٹ کا بڑا حصہ لاہور میں جھونک دیا جاتا ہے کہ شریف خاندان اور ان کے درباری الیکشن جیت سکیں۔ وزارتیں بھی وسطی پنجاب کے چیلوں چانٹوں میں بٹتی ہیں۔ جنوبی علاقہ یتیم ہے اور پوٹھوہار بھی ۔ اس پر یہ دعوے ، اس پر یہ زعم اور دھونس ۔ احسن اقبال صاحب! 
ڈیڑھ سو برس ہوتے ہیں ۔ بہاولپور کا نواب صادق آخرِ شب ملتان کی کھوکھر منزل کے دروازے پر کھڑا تھا۔ خواجہ غلام فریدؒ کے خادم میاں انگنا نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا۔ نواب رو پڑا تو خواجہ بیدار ہوئے اور یہ کہا : میرے پاس آنے کی بجائے، تمہیں اپنی رعایا کا حال پو چھنا چاہیے تھا۔ پھر ایک خط میں اسے لکھا '' زیر بن زبر نہ بن متاں پیش پوی‘‘ عاجزی کر، تکبر نہیں ورنہ تمہیں پیش آئے گی ۔ 
بندوں کو پروردگار مہلت دیتا ہے مگر کتنی مہلت ؟ ظفر اللہ جمالی چلے گئے، ریاض پیرزادہ سٹپٹا اٹھے، شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان سمیت کتنے ہی اپنے لوگ فریادی ہیں ۔ کب تک ؟ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved