تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     24-10-2017

سُرخیاں‘ متن‘ اوکاڑہ لٹریری فیسٹیول اور ثناء اللہ ظہیرؔ

ہماری صفوں میں اتنا گند نہیں جتنا 
تحریک انصاف میں ہے : احسن اقبال
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''ہماری صفوں میں اتنا گند نہیں جتنا تحریک انصاف میں ہے‘‘ تاہم‘ ہمارے ہاں سے تو یہ گند صاف ہونا شروع ہو گیا ہے جو نا اہلیوں سے شروع ہو کر انشاء اللہ سزایابیوں تک پہنچے گا اور اتنی صفائی ہو گی کہ صرف جھاڑو باقی رہ جائے گا اور شاید بعد میں جھاڑو کو بھی صاف کرنا پڑے اور یہ جو اعتراض کیا جا رہا ہے کہ میٹرو بس کا ٹھیکہ میرے بھائی کو دیا گیا ہے تو اس لیے کہ اس ٹھیکے پر اور کوئی شخص رضامند ہی نہیں ہو رہا تھا کہ سراسر گھاٹے کا سودا ہے اور انہی گھاٹوں کی وجہ سے ہمارے قائد کی فیملی کنگال ہو کر رہ گئی ہے اور مقدمات ایسے اثاثوں کے بنائے جا رہے ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور اگر صورتِ حال ایسی ہی رہی تو یہ فیملی خدانخواستہ زکوٰۃ کے قابل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ''ٹیکنوکریٹ حکومت کا ماڈل کہیں نظر نہیں آ رہا‘‘ تاہم اُمید ہے کہ بہت جلد نظر آ جائے گا کیونکہ ہونی ہو کر ہی رہتی ہے۔ آپ اگلے روز نارووال میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے ملک
کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے : شہبازشریف
خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ ''ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے ملک کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے‘‘ جبکہ ہم دونوں بھائیوں نے ذاتی مفادات کو ترک کر کے اپنا یہ حال کر لیا ہے کہ اب ہماری شکلیں ہی پہچانی نہیں جاتیں اور ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھتے رہتے ہیں کہ یہ مفلوک الحالی دیکھی نہیں جاتی اور یہی سوچتے رہتے ہیں کہ جو دے‘ اُس کا بھلا‘ اور جو نہ دے اُس کا بھی بھلا۔ انہوں نے کہا کہ ''ہم نے سیاست کو خدمت کا ذریعہ سمجھا‘‘ جس کے شواہد اندرون و بیرون ملک بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں اور سب سے زیادہ خدمت میگا منصوبوں کے ذریعے کرنے کا موقعہ ملتا رہا جو اب تک جاری و ساری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ملک کی تیزرفتار ترقی مخالفین کو کھٹک رہی ہے‘‘ اور‘ ہمارے غربت و افلاس کی وجہ سے وہ ہمیں مذاق کا نشانہ بھی بنائے رکھتے ہیں کہ ہور چُوپو! آپ اگلے روز لاہور میں ایک وفد سے گفتگو اور سینئر صحافی کے والد کے انتقال پر اظہار تعزیت کر رہے تھے۔
عمران بنی گالہ سے نکل کر ملک کے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں : بلاول
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''عمران خان بنی گالہ سے نکل کر ملک کے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں‘‘ جبکہ اُنہیں چاہیے تھا کہ وہ بھی بلاول ہائوس جیسا عمران ہائوس بنواتے اور پھر قدرت کا تماشا دیکھتے جیسا کہ ہم دیکھنے والے ہیں اور 2013ء کے الیکشن کی طرح ایک بار پھر اسی طرح فتح کے جھنڈے گاڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''26 ؍اکتوبر کو نااہل سیاستدانوں کو شکست دیں گے‘‘ جبکہ والد صاحب اور پھوپھی صاحبہ کی نااہلی وغیرہ کی افواہیں بھی گردش کرنے لگی ہیں۔ آپ اگلے روز پشاور میں ایک جلسۂ عام سے لکھی ہوئی تقریر کے ذریعے خطاب کر رہے تھے۔
شہبازشریف کو وزیراعظم نہ بننے کا مشورہ میں نے دیا تھا : رانا ثناء
وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ''شہبازشریف کو وزیراعظم نہ بننے کا مشورہ میں نے دیا تھا‘‘ کیونکہ بطور وزیراعظم نااہل ہونے کا حق میاں نوازشریف ہی کا تھا۔ اس لیے آپ بطور وزیراعلیٰ یہ اعزاز حاصل کر سکتے ہیں بلکہ بات یہیں پر ختم نہیں ہو گی کیونکہ ماڈل ٹائون رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد تو ہم دونوں کو شاید یہ اعزاز حاصل کرنے کا موقعہ نہ ملے اور ایک طویل سفر پر روانہ کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ''اقامہ فیصلے پر نوازشریف کے لیے عوام کی ہمدردیوں میں اضافہ ہوا‘‘ اور‘ اب ہم باقی فیصلوں کا بیتابی سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ ہمدردیوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ''ماڈل ٹائون رپورٹ اوپن کی گئی تو اور مطالبے ہوں گے‘‘ اسی لیے یہ ملکی مفاد کے عین مطابق ہے کہ اس رپورٹ کو شائع نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ''مسلم لیگ میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں‘‘ نہ ہی اس میں اتنے لوگ باقی رہ جائیں گے کہ فارورڈ بلاک بنا سکیں کیونکہ اس کشتی سے چھلانگیں لگانے کے لیے اکثر زعماء بالکل تیار بیٹھے ہیں۔ آپ اگلے روز دنیا نیوز کے پروگرام ''محاذ‘‘ میں گفتگو کر رہے تھے۔
اوکاڑہ لٹریری فیسٹیول
ممتاز شاعر و ادیب علی اکبر ناطق نے اطلاع دی ہے کہ مارچ میں اوکاڑہ لٹریری فیسٹیول کے انعقاد کی تیاریاں زوروں پر ہیں جس میں برصغیر کے نامور نقاد اور ادیب شمس الرحمن فاروقی کی آمد بھی متوقع ہے۔ علاوہ ازیں ملک کے نامور ادیب اور مشہور زمانہ ناول ''اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز‘‘ کے مصنف محمد حنیف جن کا اپنا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے ، اس میں بطور خاص شرکت کریں گے۔ اس فیسٹیول کا اہتمام اوکاڑہ ہی کے ایک جانے پہچانے ادیب سید حسنین حیدر کر رہے ہیں۔
مسعود احمد کا مصرعہ
فیصل آباد سے ہمارے پسندیدہ شاعر ثناء اللہ ظہیرؔ نے آگاہ کیا ہے کہ اگلے روز درج ہونے والے مسعود احمد کے مصرعہ ع
اک دوسرے سے اس قدر گہرا گریز بھی
میں فنی نقص ہے کہ ''قدر‘‘ کی رے بحر سے نکل گئی ہے۔ میں نے خود بھی محسوس کر لیا تھا لیکن میں نے جانے دیا کیونکہ موصوف وزن کے ساتھ اس طرح کی بے تکلفی کا اظہار کبھی کبھار کرتے ہی رہتے ہیں جبکہ اپنے وزن کا بالکل درست حساب رکھتے ہیں۔ بہرحال اس کا شکریہ! اس کے علاوہ شعیب زمان نے یاد دلایا ہے کہ آپ فرخ آفاق کے اس شعر پر ایک کالم بھی لکھ چکے ہیں! سبحان اللہ کیا حافظہ ہے!!
آج کا مقطع
ہم ہیں کہ سنگسار ہوئے مفت میں‘ ظفرؔ
ورنہ کسی کے اِتنے گنہگار تو نہ تھے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved