تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     27-10-2017

ہکّا بکّا ہونے کی کہانی

کراچی کے ایک صاحب‘ جن کا فنانشل فیلڈ میں طویل تجربہ ہے اور اب تک جو فنانشل کرائمز ہوئے ہیں‘ وہ ان سب سے واقف ہیں‘ سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ صحافت میں چوبیس برس سے زائد عرصہ ہوگیا ہے اور بہت سارے سرکاری اور غیرسرکاری لوگوں سے ملاقاتیں رہی ہیں۔ ان سے مل کر لگا کہ ان سے زیادہ کوئی اور نہیں بتا سکے گا کہ اس ملک میں وارداتیں کیسے کی جاتی ہیں اور چند لوگ کیسے پورے معاشرے کو یرغمال بنا کر اس پر حکمرانی کرتے ہیں۔ چلیں حکمرانی کا تو آپ کے پاس مینڈیٹ ہے کہ اس کے بغیر ملک نہیں چلے گا لیکن حکمرانی کو تو لوٹ مار اور دولت اکٹھی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی نئے اور انوکھے طریقہ ہائے واردات سنے، دستاویزات دیکھیں، سکینڈلز فائل کیے لیکن ایک گھنٹے کی اس مختصر ملاقات میں جو کچھ اس بندے سے سنا ‘مجھے لگا کہ چوبیس برسوں میں‘ مجھے اتنی ساری چیزوں کا پتا نہیں چلا جتنا اس ایک ملاقات میں چل گیا۔
میںآخر یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ آپ سے ان وارداتوں کی تفصیلات سن کر کہ کراچی میں کون کیا کر رہا ہے یا کیا کرتا رہا ہے‘ مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ کراچی کیسے ڈوب گیا۔ ممبئی کے بعد کراچی جیسا ساحلی شہر‘ جسے دنیا کے ترقی یافتہ شہروں کے برابر کھڑا ہونا چاہیے تھا‘ کیسے برباد کر دیا گیا۔ یہ شہر اب گندگی میں ڈوب گیا ہے اور لوٹ لوٹ کر اس شہر کا سارا پیسہ دبئی‘ لندن اور نیویارک لے گئے ہیں۔
ان کی باتیں سنتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ یہ بات تو طے ہے کہ کئی برسوں کی محنت کے بعد ہم نے بیوروکریٹس کی ایسی کلاس پیدا کرلی ہے جسے اس ملک سے کوئی دلچسپی نہیں۔میں نے ان سے یہ بات عرض کی تو انہوں نے ایسا جواب دیا کہ یوں لگا کہ ایک لمحے میں ساری پزل حل ہوگئی ہے۔ وہ بولے: پڑھے لکھے افراد‘ جو کسی ملک کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ تین قسم کے ہوتے ہیں ۔ پہلی وہ کلاس ہے جو اپنے بچوں کو بیرونِ ملک پڑھانا افورڈ کر سکتی ہے۔ ان کے ذہین بچے امریکہ یا یورپی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں۔ وہاں اچھی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینا کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ مشکل ریاضی‘ انگریزی اور دیگر ٹیسٹ پاس کرنے کے لئے غیر معمولی ذہانت چاہیے ہوتی ہے۔ جب وہ وہاں داخلہ لیتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہارکرتے ہیں تو زیادہ تر امریکی کمپنیاں‘ جو یہودیوں کی ملکیت ہیں‘ انہیں فوراً وہیں پر ملازمت دے دیتی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ وہ انسانی خزانہ ہے جسے اس کے اپنے ملک واپس نہیں جانا چاہیے۔ یہ لوگ پاکستان جیسے ملکوں کا انسانی اثاثہ ہیں جو امریکہ جیسے ملکوں میں جا کر وہیں رہ جاتے ہیں۔ ان امیگرنٹس اور ان کے بچوں نے ہی امریکہ کو آج امریکہ بنایا ہے۔ لہٰذا وہ سب سے زیادہ ذہین کلاس جو پاکستان واپس لوٹ کر اپنے ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی طرح چلا کر آگے لے جاسکتی ہے‘ وہیں سیٹل ہوجاتی ہے۔ یہ افراد اگر برسوں میں کروڑ پتی نہیں تو لکھ پتی ضرور بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد دوسری کیٹگری ان افراد کی ہے جو بڑے غیر ملکی اداروں میں نہیں جاتے یا ان کی گھریلو مجبوریاں انہیں پاکستان واپس لے آتی ہیں۔ وہ بڑے بڑے پرائیویٹ اداروں میں چلے جاتے ہیں یا سرمایہ دار انہیں اپنے پاس ملازم رکھ لیتے ہیں کہ ان کے لیے کام کریں اور ان کی دولت میں اضافہ کرنے میں مدد دیں۔ اس کے بعد رہ جاتی ہے تیسرے درجے کی ذہانت جو بیرون ملک یونیورسٹیوں سے نہیں پڑھی ہوئی اور نہ ہی اسے پتا ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور جدید دور میں ایک ریاست کو کیسے چلانا ہے۔ وہ گریجویشن کرنے کے بعد سی ایس ایس کا امتحان دے کر ''بابو‘‘ بن جاتی ہے۔ کوئی ایم بی بی ایس اور کوئی انجینئرنگ کے بعد بھی سی ایس ایس کر لیتا ہے۔ یوں سب دال دلیا مل کر بھان متی کا ایک کنبہ بیوروکریسی میں اکٹھا ہو جاتا ہے۔ جس نے پانچ سال لوگوں کو انجکشن لگانے کی تربیت لی‘ وہ ضلع کا ایس پی بن جاتا ہے اور جو عمارتوں، پل اور سڑکوں کے ڈیزائن بنانا سیکھتا رہا اسے ڈپٹی کمشنر لگا کر پورا ضلع اسے کے حوالے کر دیا جاتا ہے کہ آپ اب اس کے مالک ہو۔
وہی گریجویشن پاس‘ کمشنر، ڈی آئی جی لگتے لگتے ایک دن فیڈرل سیکرٹری اور آئی جی لگ جاتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ سب محکموں میں جا کر بیٹھتے ہیں اور ان کی اوسط تعلیم اور تربیت کی وجہ سے انہیں گورننس اور معاشرے کی بہتری جیسے ایشوز سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان کے نزدیک کامیاب انسان وہ ہے جس کے پاس بہت دولت ہو‘ چاہے وہ حرام ذرائع سے ہی کیوں نہ کمائی گئی ہو۔ وہ کلاس اب بیوروکریسی سے غائب ہوگئی ہے جو کبھی اچھے تعلیمی بیک گرائونڈ اور اچھے خاندانی کردار کے ساتھ اس فیلڈ میں آتی تھی‘ اور جن کے لئے اپنی ساکھ اور اپنی ایمانداری ہی سب کچھ ہوا کرتی تھی۔ اب جو کلاس بیوروکریسی میں آ رہی ہے اس کے نزدیک بیوروکریسی میں جانا ایک ایسا موقع ہے جو قدرت نے انہیں اس لئے فراہم کیا ہے کہ اس سے انہوں نے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیاں بدلنی ہیں۔ ان کے نزدیک اس معاشرے کو آگے لے کر جانا ان کا کام نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سیاستدانوں کا کام ہے جو لوگوں سے ووٹ لے کر ملک بدلنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے تو عوام سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ ان کا کام بس اونچی سے اونچی پوسٹ پر بیٹھ کر مال بنانا، عوام پر وائسرائے کی طرح حکمرانی کرنا، سیاستدانوں کے کہنے پر ان کے مخالفوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا، ان پر تھانوں میں تشدد کرانا، بڑے بڑے کنٹریکٹس میں پرسنٹیج لینا، کسی پراجیکٹ میں قیمتی گاڑیاں لے کر بیوی بچوں میں تقسیم کرنا، بیرون ملک کے دورے کرنا، سیمینارز میں تقریریں کرناہے۔
اب لوئر مڈل کلاس سے آنے والے ان بیوروکریٹس کو ایک نیا شوق چرایا گیا ہے کہ کسی طرح دوسرے ملکوں کی بھی شہریت لی جائے کیونکہ انہیں یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ یہ ملک ڈوب رہا ہے، لہٰذا جو مال بنایا ہے، اسے باہر نکال کر لے جائو۔ اس لیے وہ بیرونی ممالک کی ان پیشکشوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں کہ پانچ کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری کرو تو آپ کو اس ملک کا اقامہ یا ریذیڈنس مل جائے گی۔ یہ بچوں کو بھی وہیں شفٹ کر رہے ہیں اور خود‘ جب تک پورا ملک نہیں ڈوب جاتا تب تک‘ یہیں رہ کر مال بنا کر باہر بھیجنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اب اکثر کے پاس امریکہ، کینیڈا یا برطانیہ کی شہریت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کا تقریباً دو سو ارب ڈالر پڑا ہے، جس کا اعتراف خود اسحاق ڈار بھی کر چکے ہیں۔ اب اس بیوروکریٹ کلاس نے ایک اور کام بھی کیا ہے اور وہ ہے دبئی میں جائیدادیں بنانے کا کام۔ اب یہ لوگ سمجھ گئے ہیں کہ پیسہ پاکستان میں نہ رکھو۔ دبئی میں شفٹ کر دو یا پھر کینیڈا لے جائو۔ یوں پاکستانیوں نے اب تک آٹھ ارب درہم کی جائیدادیں دبئی میں خرید لی ہیں اور یہ سب جائیدادیں پاکستان سے بنائے گئے مال سے خریدی گئی ہیں۔ یہ سب بلیک منی ہے۔ وہ ملک بھی پاکستانیوں سے نہیں پوچھتے آپ کے ذرائع آمدن کیا ہیں۔ آپ پاکستان میں ہیروئین بیچتے تھے، شراب کا دھندا کرتے تھے یا کرائے کے قاتل تھے، آخر آپ کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی کہ جس کا پاکستان میں بھی کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ پیسہ آپ بینکوں کے ذریعے ٹرانسفر کر کے لائے ہیں۔ ان ملکوں کو کوئی غرض نہیں کہ یہ لوگ کس کس طریقے سے پیسہ لوٹ کر وہاں لا رہے ہیں۔ ان کے لیے اہم بات یہ ہے اس پیسے سے ان کی اکانومی اوپر جا رہی ہے۔ اربوں روپے راتوں رات ان ملکوں میں شفٹ ہو رہے ہیں۔ وہ کیوں کسی سے پوچھیں؟ یوں ترقی یافتہ ملک غریب ملکوں کی لوٹی ہوئی دولت سے مزید ترقی یافتہ ہو رہے ہیں اور غریب ملک غربت کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔
اب یہ کام بیوروکریسی کا ہی تھا کہ وہ ایسے لوگوں کو روکیں، انہیں پکڑیں جو بلیک منی پاکستان سے باہر لے جا رہے ہیں۔ ایف آئی اے نے ایک ایسی رپورٹ تیار کی تھی جس میں پاکستان کے 2500 لوگوں کے نام تھے۔ جنہوں نے دبئی میں بلیک منی سے جائیدادیں خریدی تھیں۔ ان کے پاس اس دولت کے کوئی ثبوت نہیں تھے۔ اب ہونا تو یہ چاہے تھا کہ ان کے خلاف کارروائی کی جاتی اور تمام جائیداد ضبط ہوتی مگر اس کے برعکس وزارت داخلہ نے اس فہرست کو دبا دیا کیونکہ اس میں بہت سے لوگوں کے نام تھے۔ ایف بی آر‘ جس کا کام تھا وہ کارروائی کرتا‘ اس نے بھی اس فہرست کو چھپا دیا کیونکہ اس کے اپنے کئی افسران کے پاس غیر ملکی شہریت‘ بیرون ملک اکائونٹس اور جائیدادیں ہیں۔ 
وہ صاحب بولتے رہے، بولے رہے، بولتے رہے اور میں ہکا بکا انہیں دیکھتا رہا۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved