تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     30-10-2017

سیلیبریشن ٹائم

انسان کا مزاج کب کہاں پلٹی کھا جائے، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ درد ہو تو پہلے اُس کی دوا کا سوچا جاتا ہے۔ بہت کوشش کرنے پر بھی کارگر دوا نہ ملے اور درد کا تدارک ممکن نہ ہو پائے تو تھک ہار کر درد ہی کو دوا کا درجہ دے کر دل کی تسکین کا سامان کرلیا جاتا ہے۔ میرزا نوشہ کے زمانے میں بھی ''مجبوری کا نام شکریہ‘‘ جیسا یہی طریق رائج تھا ع 
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا! 
پریشانی حد سے گزرتی ہے تو پریشانی نہیں رہتی بلکہ عادات میں شامل ہو جاتی ہے، مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔ آزادی چھن جانے پر کسی بھی پرندے کا بے حواس اور اداس ہو جانا لازم ہے مگر یہ سب کچھ ایک خاص حد تک ہوتا ہے۔ پنجرے میں رہتے رہتے پرندے کی سوچ بدل جاتی ہے۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ قفس میں کون سے کم مزے ہیں؟ شکاری کی آمد کا دھڑکا ہے نہ شکار کرلیے جانے کا خطرہ! پیٹ بھر دانہ پانی بھی وقت پر ملتا ہے۔ جب یہ سوچ پروان چڑھ جائے تو پرندہ کیوں نہ کہے ع 
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے! 
صلاحیت اور سکت کو بروئے کار لاکر جو لوگ بھرپور کامیابی کا حصول ممکن بنالیتے ہیں اُن کی تو خیر بات ہی کیا ہے، جو لوگ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں وہ بھی زندگی کو کم انجوائے نہیں کرتے۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ زندگی کو انجوائے کرنے کا ہر شخص کا اپنا اپنا طریقہ ہوا کرتا ہے۔ کچھ لازم نہیں کہ ناکامی سے دوچار ہونے پر بھی مایوس ہوا جائے، بے دِلی کو گلے لگایا جائے۔ کچھ لوگ اس معاملے میں الگ سوچ رکھتے ہیں۔ وہ ناکامیوں کا روگ پالنے کے بجائے ناکامیوں کو دل و جان سے اپنالیتے ہیں۔ گویا ؎ 
ملے نہ پھول تو کانٹوں سے دوستی کرلی 
اِسی طرح سے بسر ہم نے زندگی کرلی 
زندگی کے خزانے سے اگر کچھ بھی ہاتھ نہ آیا ہو تو بہت سے لوگ محرومی کے احساس کو لات مار کر اپنے تہی دست ہونے ہی کو خوش ہونے کے موقع میں تبدیل کرلیتے ہیں۔ اِن کا بنیادی یا کلیدی فلسفہ یہ ہوتا ہے کہ ؎ 
دل کی تنہائی کو آواز بنا لیتے ہیں 
درد جب حد سے گزرتا ہے تو گا لیتے ہیں! 
ایسے لوگوں کو آپ ہر حال میں خوش اور بدمست پائیں گے۔ جہاں کہیں خوش ہونے کا ذرا سا بھی موقع دکھائی دے یہ اُس سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ ہاں، اِس بات سے اِنہیں کچھ خاص یا زیادہ غرض نہیں ہوتی کہ اِن کی بدمستی سے کسی پر کیا گزرے گی! 
جنوبی امریکا کے ملک کولمبیا میں ایسا ہی کچھ ہوا۔ ایک شاندار بس میں سیاح سوار تھے اور بس خراماں خراماں چلی جارہی تھی۔ بس کی طرح اُس میں نصب میوزک سسٹم بھی شاندار تھا۔ گانے بج رہے تھے اور تمام مسافر ان گانوں سے خوب محظوظ ہو رہے تھے۔ جب سبھی موسیقی سے محظوظ ہو رہے تھے تو بس کا ڈرائیور بھلا کیوں ایسا نہ کرتا؟ وہ بھی جھومنے لگا۔ خیر، یہ کوئی ایسی خطرناک بات نہ تھی۔ بس چلاتے چلاتے وہ کبھی کبھی اسٹیئرنگ چھوڑ کر ہاتھ بلند کرتا اور سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ہی خوب جھومنے لگتا۔ 
پھر یہ ہوا کہ ڈرائیور کی پسند کا گانا بجنے لگا تو وہ اُسی طور بے قابو ہوگیا جس طور بین دیکھ کر سانپ مست و بے خود ہوجایا کرتے ہیں! ابھی گانا بج ہی رہا تھا کہ ڈرائیور نے ایسی حرکت کی کہ سیٹوں پر بیٹھے بیٹھے ہی سیاحوں کی دوڑیں لگ گئیں، چیخیں نکل گئیں! ع 
تکلف برطرف، ہم تو سرِ بازار ناچیں گے! 
والی بات پر عمل کرتے ہوئے گانا سنتے سنتے ڈرائیور ایسا مست و بے خود ہوا کہ اسٹیئرنگ چھوڑا، پھر سیٹ چھوڑی اور مسافروں کے درمیان کھڑا ہوکر ناچنے لگا! 
ذرا سوچیے یہ منظر دیکھ کر مسافروں کا کیا حال ہوا ہوگا۔ دو تین لمحوں تک تو سیاحوں کی سمجھ ہی میں نہ آیا کہ زیادہ حیران ہوں یا پریشان! اور جب سچویشن لوگوں کی سمجھ میں آئی تو اُن کی چیخوں نے گانے کی ہائی پچ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا! 
مگر خیر، اس بات کی بھی داد تو دینا ہی پڑے گی کہ اس عجیب و غریب ہلاکت خیز سچویشن میں لوگ مووی بنانے سے باز نہ آئے۔ چند سیاحوں نے ڈانس کرتے ہوئے ڈرائیور کی تصاویر بھی لیں۔ گانے پر ڈانس کرنے میں بھی ڈرائیور نے دیر نہیں لگائی تھی اس لیے ڈانس کرتے ہوئے لی جانے والی اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے بھی دیر نہیں لگائی گئی! ''امراؤ جانِ ادا‘‘ میں شاہد کو اپنے سامنے پاکر رانی کی عجیب حالت ہوئی اور اُس نے جھوم جھوم کر گایا ؎ 
جھومیں، کبھی ناچیں، کبھی لہرائیں خوشی سے 
جی چاہتا ہے آج تو مر جائیں خوشی سے 
کچھ ایسا ہی عالم کولمبیا کے اس بس ڈرائیور پر بھی طاری ہوا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جھومنا، ناچنا اور لہرانا تو اِن صاحب کے حساب کتاب میں تھا اور (نہ چاہتے ہوئے بھی) مر جانا وہ مسافروں کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے تھے! محترم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر خیر گزری کہ کوئی حادثہ نہ ہوا۔ اگر بس سڑک سے منہ موڑ لیتی تو سُوکھے نالے میں جا گِرتی اور کئی مسافروں کی بہت دور یعنی اِس دنیا سے اُس دنیا تک دوڑیں لگ جاتیں! 
تھوڑا سا غور کیجیے تو کولمبیا کا یہ ڈرائیور مزاجاً قابلِ ذکر حد تک پاکستانی معلوم ہوتا ہے! ہمارے ہاں بھی ایک زمانے سے ایسے ہی تماشے ہو رہے ہیں۔ لوگ جب غم کی زیادتی سے گبھرا جاتے ہیں تو اپنے اور دوسروں کے انجام سے بے نیاز ہوکر جھومنے، ناچنے اور گانے لگتے ہیں۔ 
قمر جمیلؔ مرحوم نے خوب کہا ہے ؎ 
اپنی ناکامیوں پہ آخرِ کار 
مسکرانا تو اختیار میں ہے! 
مگر صاحب، وہ زمانہ وضع داری اور رکھ رکھاؤ کا تھا۔ لوگ ناکام ہوتے تھے تو اپنے اختیار کو مسکرانے تک محدود رکھا کرتے تھے۔ اب ناکامی کو بھی ''سیلیبریٹ‘‘ کرنے کی ''تابندہ روایت‘‘ زور پکڑ گئی ہے۔ شہرت سے زیادہ توجہ بدنامی یقینی بنانے پر دی جاتی ہے۔ دلوں میں اِس جواز کا کِلّا گاڑ لیا گیا ہے ع 
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا! 
اور سچ پوچھیے تو کبھی کبھی بدنامی ایسی جامع اور ہمہ گیر ہوتی ہے کہ بے چاری شہرت منہ چھپانے کے لیے کونا ڈھونڈتی پھرتی ہے! یہی سبب ہے کہ چلتی گاڑی میں اسٹیئرنگ اور ڈرائیونگ سیٹ چھوڑ کر والہانہ رقص کے ذریعے کچھ وقت اچھی طرح گزارنے کا رجحان دن بہ دن زور جڑ اور زور پکڑتا جارہا ہے۔ جب ہر طرف خرابیاں ہوں تو گِلوں، شِکووں کے ساگر میں ڈبکیاں لگاتے ہوئے لوگ خوش ہونے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں اور ذرا سی گنجائش دیکھ کر زندگی کی گھڑی کو ''سیلیبریشن ٹائم‘‘ کی منزل پر لے آتے ہیں۔ کچھ کھو جانے کا خوف اُسے ستاتا ہے جس کے پاس کچھ ہو۔ یہاں کسی کے پاس ہے کیا جس سے وہ محروم ہوگا! ایسے میں انجام کی پروا کسے ہو ... اور کیوں؟ ؎ 
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے 
اِس کے بعد آئے جو عذاب آئے 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved