تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     01-11-2017

خوشگوار عائلی زندگی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔ چنانچہ سورۂ نباء کی آیت نمبر 8 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ''اور ہم نے پیدا کیا تمہیں جوڑا جوڑا‘‘ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ نساء کی پہلی آیت میں اس بات کا ذکر کیا ''لوگو! ڈرو اپنے رب سے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک جان (آدم) سے اور اس نے پیدا کیا اُس (جان) سے اُس کا جوڑا، اور پھیلا دیئے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ روم کی آیت نمبر 21 میں ارشاد فرمایا ''اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اُس نے پیدا کیا تمہارے لیے تمہارے نفسوں (یعنی تمہاری جنس) سے بیویوں کو۔ تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اُن کی طرف (جاکر) اور اس نے بنا دی تمہارے درمیان محبت اور مہربانی، بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے (جو) غور و فکر کرتے ہیں‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ سورۂ اعراف کی آیت 189 نمبر میں ارشاد فرماتے ہیں ''(اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا تمہیں ایک جان سے اور اُس نے بنایا اُس سے اس کا جوڑا تاکہ وہ سکون حاصل کرے اُس سے‘‘۔ یہ تمام کی تمام آیات اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انسان کو جوڑے کی شکل میں پیدا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو زندگی کے کٹھن راستے کے دوران سکون حاصل کرنے کے لیے ایک رفیقِ زندگی کی ہمراہی حاصل ہو اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِس جوڑے کے درمیان مودّت اور رحمت کو پیدا فرمایا دیا۔
ایک مثالی گھرانہ وہ ہوتا ہے جس میں میاں بیوی کے درمیان زبردست ہم آہنگی موجود ہو۔ وہ ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ میں کام آنے والے، ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے والے، ایک دوسرے کی ضروریات اور سہولیات کا خیال رکھنے والے اور ان کو بہم پہنچانے والے ہوں۔ ایسے مثالی گھرانوں میں جنم لینے والے بچوں پر والدین کی محبت اور ہم آہنگی کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ایسے خاندان میں پرورش لینے والے بچوں کی شخصیت میں کسی قسم کا خلا اور نفسیاتی محرومی باقی نہیں رہتی۔ لیکن اس کے برعکس بعض گھرانے ایسے ہوتے ہیں کہ جن میں ہمہ وقت کھچاؤ، خود غرضی، نفسا نفسی اور کشمکش پورے عروج پر رہتی ہے۔ دوسرے کے حقوق سے لاتعلقی اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر وقت جستجو جاری رہتی ہے‘ جس کی وجہ سے گھریلو نظام میں ایک تناؤ نظر آتا ہے۔ ایسے گھرانوں میں جنم لینے والے بچوں میں مختلف قسم کی نا ہمواریاں، نفسیاتی محرومیاں اور جذباتی اتار اور چڑھاؤ کی کیفیات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ گھریلو ہم آہنگی کا فروغ اور خوشگوار عائلی زندگی کے حصول کے لیے بعض اہم تدابیر کا شادی سے پہلے ہی اختیار کر لینا انتہائی مفید ہے۔ جن میں سے چند درج ذیل ہیں: 
1۔ بلوغت کے بعد جلد شادی کا اہتمام کرنا: ہر عاقل‘ بالغ انسان میں ایک مخلص اور ہمدرد شریک زندگی کی رفاقت کی تمنا موجود ہے۔ بعض لوگ معاشی، معاشرتی اور تعلیمی مسائل کی وجہ سے جلد شادی نہیں کر پاتے جبکہ بعض لوگوں کے والدین بغیر کسی معقول سبب کے‘ اپنی اولادوں کی شادیوں کو ملتوی اور مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں انسانوں کی طبیعت میں لچک ہوتی ہے اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سمجھوتے اور ہم آہنگی پر جلد تیار ہو جاتے ہیں۔ جبکہ پختہ عمر میں اپنی عادات اور سوچ و فکر کو تبدیل کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ کامیاب شادی کے لیے بلوغت کے بعد کا پہلا دور کافی مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس عمر میں شادی کرنے والے لوگوں میں ذہنی ہم آہنگی اور مطابقت پیدا ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کافی حد تک اپنے والدین کے زیر اثر ہوتے ہیں‘ اگر گھریلو سطح پرکوئی ناخوشگوار کیفیت پیدا ہو بھی جائے تو لڑکے اور لڑکی کے والدین ان میں اختلافات کو تحلیل کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
2۔ رشتوں کا درست چناؤ: رشتوں کا درست چناؤ بھی شادی کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ بہت سے لوگ شکل و صورت اور مال و دولت کی وجہ سے شادی کرتے ہیں اور دین، اخلاق اور کردار کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو بالعموم پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے بالمقابل جو لوگ دین، اخلاق اور کردار کی وجہ سے رشتوں کا انتخاب کرتے ہیں وہ ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں۔ دین کی وجہ سے مرد اور عورت ایک دوسرے کے کی حق تلفی کرنے سے باز رہتے ہیں۔ اللہ کا خوف شوہر کو بیوی کے ساتھ ظلم سے روکتا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے خوف ہی کی وجہ سے عورت بھی شوہر کی نافرمانی سے گریز کرتی ہے۔ اچھے اور برے اخلاق کے ازدواجی زندگی پر بہت گہرے اثرات ہوتے ہیں۔ تلخ اور کڑوی طبیعت کے لوگ ایک دوسرے کی زندگی کو اجیرن بنا دیتے ہیں۔ اس کے مدمقابل خوشگوار اور دھیمی طبیعت کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے اور ایک دوسرے کی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ انسان کا اچھا یا برا کردار بھی اس کی ازدواجی زندگی کی کامیابی اور ناکامی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ بالعموم بے راہ روی اور بدکرداری کا شکار لوگ اپنے ازدواجی ساتھی کی زندگی میں دکھوں اور تلخیوں کا زہر گھول دیتے ہیں۔ اس کے بالمقابل اچھے کردار کی وجہ سے باہمی اعتماد کا رشتہ مضبوط رہتا ہے۔ شوہر اپنے گھر بار کے حوالے سے اور بیوی اپنے شوہر کے طرز عمل کے حوالے سے شکوک وشبہات کا شکار نہیں ہوتی۔ قرآن وسنت میں بھی دین اور اخلاق کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ جب ایسا شخص تمہارے پاس آئے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس کے ساتھ (بہن یا بیٹی کی) شادی کر دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین پر بہت بڑا فتنہ اور فساد ظاہر ہو جائے گا۔ اخلاق اور دین کے ساتھ ساتھ انسان کو ایسی عورت کو تلاش کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے جو صبر اور شکر کرنے والی ہو۔ حالات کبھی بھی یکساں نہیں رہتے‘ زندگی میںبہت سے اتار‘ چڑھاؤ آتے ہیں۔ جو لوگ رشتوں کے چناؤ میں صبر اور شکر گزاری کو اہمیت دیتے ہیں‘ وہ ہمیشہ سکھی رہتے ہیں۔ نازک طبع مرد یا عورت سے شادی کرنا کئی مرتبہ انسان کے لیے درد سر کا باعث بن جاتا ہے۔ اچھے حالات میں آپے سے باہر رہنے والے اور برے حالات میں بے صبری کا مظاہرہ کرنے والے مرد اور عورت گھریلو ماحول کو ہمیشہ تلخی کا شکار بنائے رکھتے ہیں۔ اس کے مدمقابل برے حالات میں صبر کرنے والے اور اچھے حالات میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و عنایت پر اس کا شکر ادا کرنے والے لوگ ہمیشہ گھر کی خوشیوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپؑ نے اپنی بہو کے صابرہ اور شاکرہ ہونے کی خواہش کی اور اپنے بیٹے کے ساتھ ناشکری عورت کا رہنا ناپسند کیا اور جب حضرت اسماعیلؑ کی زندگی میں صابر اورشاکر بیوی آئیں تو آپؑ نے اس امر کی تحسین فرمائی۔
3۔ شادی بیاہ کے موقع پر سادگی: کامیاب شادی میں سادگی اور آسانی والا نکاح بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ دولت اور پیسے کی مسابقت کی وجہ سے اس عظیم رشتے میںبرکات کم ہو جاتی ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنی حیثیت کو اجاگر کرنے جیسے جذبات اور احساسات غالب آ جاتے ہیں۔ جب سادگی اور احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے تو ایک دوسرے کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا اور ایک دوسرے کے لیے قربانی اورایثار جیسے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں بالعموم بہت زیادہ فضول خرچی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح بہت زیادہ جہیز طلب کیا جاتا ہے اور ان تقریبات میں موسیقی اور مخلوط مجالس کا بکثرت انعقاد و اہتمام کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شادی کے آغاز ہی میں بہت سی قباحتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے حوالے سے احساسِ عدم تحفظ اور تحفظات کا شکار رہتے ہیں۔ نتیجتاً معاشرے اور گھروں میں کھچاؤ اور بگاڑ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر شادی بیاہ کی تقریبات کو سادگی اور تواضع کے ساتھ انجام دیا جائے‘ ایک دوسرے کے مال کی قدر کی جائے اور اس کو ضیاع سے بچانے کی جستجو کی جائے تو خود بخود ایک دوسرے کے بارے میں مخلصانہ جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگر عائلی زندگی سے قبل یا اس کے آغاز ہی میں ان تمام کے تمام اسباب کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو یقینا ایک گھرانہ مثالی گھرانہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر خود غرضی، خود پسندی اور ذاتی اغراض و مقاصد کو پیش نظر رکھا جائے تو نہ صرف یہ کہ گھرانے کی بنیادیں کمزور ہو سکتی ہیں بلکہ منفی اثرات آنے والی نسلوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved