تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     01-11-2017

ہلا گلا ضرور مگر سوچ سمجھ کر

پاکستان اور بھارت کے لوگ ویسے تو ایسا اور بہت کچھ کرتے ہیں جس کی مدد سے دنیا متوجہ ہماری طرف متوجہ ہوتی ہے۔ بہت سے دوسرے کاموں کے ساتھ ساتھ اب ایک کام مستقل نوعیت اختیار کرگیا ہے۔ یعنی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے فراق میں رہنا۔ دونوں طرف معاشرہ ایک سا نوعیت کا ہے۔ مجموعی مزاج ایک سا ہے۔ وہ ہم جیسے سے ہیں اور ہم اُن کی طرح کے واقع ہوئے ہیں! 
جب سے میڈیا کی گڈی چڑھی ہے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں اس قدر تیز ہوگئی ہیں کہ کبھی کبھی تو اپنی ہی کارکردگی اور تیزی پر حیرت ہوتی ہے! 
کسی کو نیچا دکھانے کے بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں۔ کبڈی کا میچ بھی کرایا جاسکتا ہے، باکسنگ کی رنگ میں بھی اترا جاسکتا ہے۔ میلوں ٹھیلوں میں طرح طرح کے ناٹک رچ کر موسم اور ماحول کو رنگین بنایا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے معاملے میں ہم بہت ہی بے ڈھنگی حرکتوں پر بھی اتر آتے ہیں۔ 
مگر صاحب، بے ڈھنگی حرکتوں کا دائرہ کچھ پاکستان تک محدود نہیں۔ یورپ اور امریکا میں بھی ایسا بہت کچھ ہوتا ہے جو لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے اور پھر لوگ الٹی حرکتوں کے ذریعے اپنی کارکردگی کا گراف بلند کرتے ہیں! امریکا میں ایسے واقعات عام ہیں کہ کسی بچے نے گاڑی کو مرکزی شاہراہ پر لاکر دوڑیں لگوا دیں۔ ایسے واقعات لوگوں کی توقعات کے برعکس ہوتے ہیں اس لئے یہ حیرت انگیز بھی ہوتے ہیں اور عجیب و غریب بھی۔ لوگ انہیں دیکھ کر انجوائے بھی کرتے ہیں اور اگر ان میں خطرے کا عنصر پایا جائے تو دیکھنے والوں کے اوسان خطا بھی ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ جان بوجھ کر ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور ان کی ویڈیوز بھی بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں تاکہ جو لوگ ان سے مستفید نہیں ہو سکے وہ بھی ان کی الٹی سیدھی حرکتوں کو دیکھ سکیں۔ بعض لوگ چلتے چلتے کسی کو چھیڑتے ہیں کسی کو ٹھاہ کی آواز سے ڈراتے ہیں یا کسی پر پانی پھینک دیتے ہیں اور خود دوڑ لگا دیتے ہیں۔ ایسی ویڈیوز بہت زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔
حال ہی میں امریکا میں ایک بچے نے ایسی حرکت کی کہ پولیس کے محکمے کی دوڑیں لگ گئیں! امریکی ریاست اوہایو میں ایک گیارہ سالہ لڑکے نے ایسا ''کارنامہ‘‘ انجام دیا کہ ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ اس نے ایک نئی کار چرائی اور سڑک پر لے آیا۔ یہ کار اس کی ماں کے بوائے فرینڈ کی تھی۔ ماں کے بوائے فرینڈ سے اس لڑکے کا کیا رشتہ ہوسکتا ہے، یہ تو قانون طے کرے گا مگر پولیس بہت کچھ طے کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ بے چارے پولیس اہلکاروں کا تو ناک میں دم آگیا۔ لڑکے نے نئی کار کو بھرپور ریس دی اور دوڑاتا ہی چلا گیا۔ پولیس کو گاڑیاں تیزی سے بھگاتے ہوئے 70 کلومیٹر تک جانا پڑا تب کہیں جاکر کار روکی جاسکی! جب لڑکے سے پولیس نے پوچھا کہ اس نے یہ کار کیوں نکالی اور ہائی وے پر لے کر کیوں آیا تو اُس نے ایسا جواب دیا جو امریکی پالیسیوں کا آئینہ دار ہے! ذرا تصور کیجیے کہ پولیس نے 70 کلو میٹر تک دوڑ لگاکر لڑکے کو روکا اور کار کو واپس گھر کے بیک یارڈ میں لائی۔ اور یہ سب کچھ کس کھاتے میں تھا؟ لڑکے نے معصومیت سے جواب دیا ''میں بیٹھے بیٹھے بور ہو رہا تھا۔ سوچا، چلو کچھ انجوائمنٹ ہی ہوجائے گی!‘‘ 
جن معاشروں میں بہت سے بنیادی مسائل حل کرلیے گئے ہوں وہاں لوگ قدم قدم پر بیزاری محسوس کرتے ہیں۔ زندگی کے بنیادی مسائل حل ہو جائیں تو لوگ صرف بات بات پر صرف دل پشوری کے طریقے سوچتے ہیں! ایسے میں نئی نئی شرارتیں وضح کی جاتی ہیں تاکہ زندگی میں کچھ تو مزا ہو، موسم ذرا رس دار تو ہو! 
ہمارے ہاں بھی ایسے گھرانے ہیں جو معاشرے کے بنیاد مسائل حل نہ ہو پانے پر بھی امریکیوں کے مانند ایسی حرکت کرتے ہیں جن کا سر ہوتا ہے نہ پیر۔ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کو بتادیں کہ ان کے پاس تمام مسائل حل کرنے کی کلید آچکی ہے اور اب کسی بھی صورت حال کو اپنی مرضی کے مطابق manipulate کرسکتے ہیں! 
امریکی پالیسی میکرز بھی بہت سی اقوام کو متحرک رکھنے کے لیے بہت کچھ میدان میں لاتے رہے ہیں۔ بہت سی عسکری کارروائیاں دراصل لہو گرم رکھنے کے بہانے کے طور پر بروئے کار لائی جاتی ہیں! جب لوگ بیٹھے بیٹھے بیزار ہو جاتے ہیں تو امریکی وار مشین کوئی نئی مشق شروع کرتی ہے۔ یہ سب کچے دل بستگی کے کھاتے میں ہوتا ہے۔ کئی ممالک میں امریکی فوجی محض دل پشوری کے کھاتے میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ کچھ رونق میلہ ہی لگا رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ افغانستان میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ کچھ وقت گزارنے کے لیے امریکی فوجی جب وہاں تعینات ہوتے ہیں تو کبھی کبھی پھنس بھی جاتے ہیں اور پھر کچھ دے دلا کر معاملات درست کرنا پڑتے ہیں! 
امریکیوں کے اپنے چونچلے ہیں۔ ہم ہر معاملے میں ان سے مقابلہ کرنے کی کوشش نہیں آسکتے۔ امریکیوں سے معاملات طے کرنے میں بہت سنبھل کر چلنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے لوگ بعض پالیسی معاملات میں بے پَر کی اڑاتے ہیں۔ کوشش کرنے پر بھی وہ بہتر انداز سے کام کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ امریکی پالیسیوں کے آف شوٹس میں ہمارے کے لیے بظاہر بہت کچھ ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ لیپا پوتی کے لیے ہوتا ہے۔ امریکی اپنے مفادات کو کسی بھی حال میں بالائے طاق نہیں رکھتے۔ کسی کو تھوڑا بہت دے دینا الگ بات ہے، مگر پالیسی کے معاملے میں کسی کو بہت کچھ دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس معاملے میں وہ بہت لیے دیئے رہتے ہیں۔ 
پاکستان کی پالیسیوں میں رونما طور پر رونما ہونے والی تبدیلیاں ہمہ گیر نوعیت کی ہیں۔ بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔ پالیسیوں کی کوکھ سے چند ایک مراعات نمودار ہو رہی ہیں۔ لوگوں کو کچھ نہ کچھ مل رہا ہے مگر یہ سب کچھ لگا بندھا ہے۔ کوئی بھی معاملہ غیر معین نہیں۔ امریکا سے کچھ حاصل کرنے کے لیے دانش مندی کا مظاہرہ لازم ہے۔ امریکا کے معاملات میں جذباتیت کچھ بھی نہیں دیتی۔ سکون سے کیے جانے والے اقدامات عمل کی سطح پر بہت کچھ دے جاتے ہیں۔ 
امریکا نے ہمارے ہاں سے بہت کچھ سمیٹا ہے اور جو کچھ دیتا جاتا ہے وہ اس قدر برائے نام ہوتا ہے کہ کبھی کبھی تو اس کا تعین کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے! مگر خیر، کمزور اقوام کا یہی مقدر ہوتا ہے۔ محض جذباتیت سے کام لینا سارا کھیل بگاڑ دیتا ہے۔ جو دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں وہی چھوٹے معاملات معاملات سے بہت سے فوائد کشید کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ 
سی پیک سے متعلق منصوبوں کا تیزی سے تکمیل کی طرف جانا ہمارے کے لیے بھرپور امکانات کی نئی دنیا سامنے لارہا ہے۔ ایسے میں بہت کچھ سوچ سمجھ کر کرنا ہے، امریکا یا کسی اور مغربی قوت کے معاملے میں جذباتی ہونے سے گریز کرنا ہے تاکہ تکمیل سے ہمکنار ہوتے ہوتے ہوئے منصوبے پاکستانیوں کے لیے اضافی فوائد بھی پیدا کریں۔ 
ترقی یافتہ معاشرے جو سہولتیں عوام کو دیتے ہیں اور ان کے لیے بہتر امکانات کی راہ ہموار کرتے ہیں وہ سہولتیں عشروں کی محنت کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ امریکا میں دس سال کا بچہ نئی کار 70 کلو میٹر تک لے جاسکتا ہے، ہماے بچے موٹر سائیکل دوڑانے کی پوزیشن میں بھی نہیں! یعنی اپنا ہلا گلا کرنے کے لیے ہمیں اپنی حددود کا تعین کرنا ہے۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved