تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     03-11-2017

سرخیاں ان کی‘ متن ہمارے

دو منٹ میں منتخب وزیراعظم کو ہائی جیکر بنا دیا جاتا ہے:نواز شریف
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''دو منٹ میں منتخب وزیراعظم کو ہائی جیکر بنا دیا جاتا ہے‘‘ حالانکہ کم از کم پانچ دس منٹ تو لگانا چاہئیں کہ جلدی کا تو ویسے بھی شیطان کا کام ہوتا ہے۔ نیز سہج پکے سو میٹھا ہو۔ ہماری طرح کھیر ٹھنڈی کر کے ہی کھانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ''مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہائی جیکنگ میں مجھے کس جرم میں سزا دی گئی‘‘ اگرچہ صاف ظاہر ہے کہ ہائی جیکنگ ہی کے جرم میں سزا دی گئی ہوگی لیکن جب سے میں نے ''مجھے کیوں نکالا‘‘ کا ورد شروع کیا ہے مجھے ہر بات میں اس کی وجہ پوچھنے کی عادت ہی پڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''نگران جج کا مقصد ہر صورت میرے خلاف کچھ نکالنا ہے‘‘ حالانکہ سب کچھ صاف ظاہر ہے‘ اس میں اتنی محنت کی کیا ضرورت ہے۔ لگتا ہے جج صاحب کو اور کوئی کام میں نہیں ہے‘ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ''نظام میں تضادات ہیں‘‘ اور اس سے بڑا تضاد اور کیا ہو سکتا ہے کہ منی لانڈرنگ کی بجائے مجھے اقامہ پر نکال دیا گیا۔ دونوں کو آگے پیچھے کرنے سے بڑی بے ترتیبی اور کیا ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ''کیا ہر دس سال بعد ملک چھوڑ دوں؟‘‘ جبکہ پہلے تو میں نے اپنی مرضی سے بلکہ درخواست کرکے ملک چھوڑا تھا لیکن اب بہانے بنائے جا رہے ہیں‘ حالانکہ اگر میری جان چھوڑ دیں تو یہ کام اب بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''نااہلی کے ڈرامہ سے صدمہ ہوا‘‘ جبکہ یہ کام آرام آرام سے اور ڈرامہ کے بغیر بھی ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ''مسلسل نقصان پہنچ رہاہے‘‘ کیونکہ پیسہ باہر جانے سے رک جانے پر بیرونی ممالک میں سخت مایوسی پھیل رہی ہے جس سے پاکستان سے تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ''سسلین مافیا اور گاڈ فادر کہنے والی عدالت کا بہادری سے مقابلہ کیا‘‘ کیونکہ وہ گاڈ فادر ہی کیا جو بزدلوں کی طرح بھاگ جائے۔ انہوں نے کہا کہ ''احتساب کا مقصد انصاف نہیں‘ سیاسی انتقام ہے‘‘ جبکہ میں عدالتوں پر تنقید بھی ان کی بہتری کے لئے کرتاہوں اور زیادہ تنقید کا مقصد زیادہ بہتری کی خواہش ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ عدالتیں اپنی بہتری خود ہی نہیں چاہتیں اور ملک میں جو ایک مصلح باقی رہ گیا ہے اس کی بھی قدر نہیں کی جا رہی‘ کس قدر افسوس کا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''میں پاکستان میں کسی بھی عدالت کا سامنا کرنے کو تیار ہوں‘‘ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کوئی عدالت میرا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''جانبداری کے باوجود عدالت کا سامنا کروں گا‘‘ کیونکہ جو کچھ میرے ساتھ ہونے جا رہا ہے مجھے اچھی طرح سے معلوم ہے تو جو کچھ مجھ سے ہو سکتا ہے وہ تو کر ہی رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ''یہ پہلا موقع ہے کہ میری فیملی کو عدالتوں میں گھسیٹا ہے‘‘ حالانکہ ایک منتخب وزیراعظم کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ جو چاہے کرتا پھرے بلکہ اس کو تو سات خون بھی معاف ہیں۔ انہوں نے کہا ''پہلے بھی میرے خلاف شرمناک سازشیں ہوئیں‘‘ حالانکہ معقول اور شریفانہ سازشیں بھی ہو سکتی تھیں اور مقام افسوس تو یہ ہے کہ لوگوں کو یہاں سازشیں کرنا بھی نہیں آتا‘ آخر میں ان کو کیا کیا کچھ سکھائوں؟ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ''سپریم کورٹ کے ججوں نے میرے خلاف فیئر ٹرائل نہیں کیا‘‘ البتہ اب ریفرنسز میں جو ٹرائل ہو رہا ہے وہ کسی قدر فیئر نظر آتا ہے اور اگر ان کا فیصلہ پہلے کر لیا جاتا تو اقامہ میں مجھے نکالنے کی نوبت ہی نہ آتی ۔ انہوں نے کہا کہ ''سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل کیے جانے کے فیصلے کو پسند نہیں کیا لیکن اس کے احترام میں اس پر عمل کیا‘‘ کیونکہ اگر عمل نہ کرتا تو انہوں نے ویسے ہی عمل کروا لینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''میں نے تاخیر کا کوئی حربہ استعمال نہیں کیا‘‘ حالانکہ میرے پاس ہر حربہ موجود تھا جو کسی اور وقت کے لئے رکھ لیا تھا جو بس اب آنے ہی والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''میرے خلاف کیا چارج شیٹ تھی؟‘‘ میں اپنے وکیلوں سے بھی پوچھتا رہا مگر کم بختوں نے اتنی بھاری فیسیں لینے کے بعد بھی مجھے نہیں بتایا کہ چارج شیٹ کیا تھی۔ انہوں نے کہا کہ ''میرے خلاف کون سا سکینڈل تھا جس میں‘ میں ملوث تھا‘‘ کیونکہ سارے کے سارے نیب کی فائلوں میں پڑے آرام کر رہے تھے۔ آخر گڑے مردے اکھاڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی‘ افسوس کہ انہیں مردوں کا بھی کوئی لحاظ اور احترام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''میرے وسائل اور اثاثے اس وقت سے ہیں جب میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا‘‘ اس سے بڑی اللہ کی قدرت اور کیا ہو سکتی ہے۔ کیا آپ اللہ کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے؟ انہوں نے کہا کہ ''کیس پاناما سے شروع ہوا حالانکہ اس میں میرا نام ہی نہیں تھا‘‘ لیکن حسین نواز نے الحمدللہ کہہ کر سارا کام خراب کر دیا حالانکہ الحمدللہ کہنے کے کئی اور بھی مواقع ہو سکتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ فیصلے سے مجھے شدید دھچکا لگا‘‘ اگرچہ جواب میں‘ میں بھی بے شمار دھچکے لگا چکا ہوں لیکن کسی پر کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا اور مجھے سمجھ نہیں آتی کہ قوم اس قدر بے حس کیوں ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''بھرپور جذبے سے پاکستان کی خدمت کی جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں‘‘ بلکہ اب تو عدالت کے سامنے بھی آ گئے ہیں کیونکہ ؎
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
کہ خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
جبکہ ہمارے پھول اصلی تھی جن کی خوشبو سے نیب عدالت ہر وقت معطر رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا‘‘ اور جو کمی ہوئی ہے وہ موسم گرما ختم ہونے سے ہوئی ہے اور میری دعا ہے کہ موسم گرما کبھی نہ آئے۔ انہوںنے کہا کہ ''ہم ملک کے طول و عرض میں موٹرویز کا جال بچھا دیں گے‘‘ کیونکہ یہی دور سے بھی نظر آتی ہیں جبکہ پینے کا صاف پانی‘ ہسپتال اور سکول کالج کس کو دکھائی دیتے ہیں؟ جن میں خدمت کا عنصر بھی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمرہ کے دوران میری لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ اگرچہ اصل ملاقات تو شہزادگان سے ہوئی تھی لیکن وہ تو پٹھے پر ہاتھ بھی رکھنے دیتے ۔ آپ اگلے روز ہیتھرو ائیر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
آج کا مطلع
اندر کہیں رہ جاتا ہے طوفان ہمارا
اب تک جو سلامت ہے گریبان ہمارا

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved