تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     04-11-2017

ڈکٹیشن نہیں لوں گا

یہ وہ تاریخی جملہ ہے جس نے نواز شریف کو عوامی لیڈر بنا دیا۔وزیراعظم تو تھے ہی لیکن جنرل ضیا ء کی باقیات سمجھے جاتے تھے ۔ جب 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ نہ بنی تو ایک تقریر ریکارڈ کرائی جس کا مرکزی جملہ یہی تھا '' ڈکٹیشن نہیں لوںگا‘‘ ۔
غلام اسحاق بھی جنرل ضیاء کے پیروکار تھے اورنواز شریف بھی ۔ دوباقیات کی آپس میں لڑائی ہوگئی ۔اب حالات یکسر مختلف ہیں۔بات پاناما پیپرز سے شروع ہوئی اورالف لیلہ کی کہانیوں اور قطری خطوط کے معجزوں سے ہوتی ہوئی جناب ِ نواز شریف کی برطرفی تک پہنچی ۔اس تناظر میں کسی دباؤ یاڈکٹیشن کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے؟صدر اپنے ہیں گو اُن سے یہ تاریخی غلطی سرزد ہوئی کہ برسرعام کہہ بیٹھے کہ دیکھتے جائیے پاناما پیپرز میں کون کون پھنستا جاتاہے ۔کچھ تو اُن سے پوچھا گیا ہوگا، گلے کے انداز میں ، کہ جنابِ صدر یہ آپ کیا کہہ گئے؟آپ سے تو یہ توقع نہ تھی ۔ انہوں نے کیا صفائی پیش کی ہوگی یہ ابھی تک راز کی بات ہے ۔
بہرحال بات ہورہی تھی کہ صدر بھی اپنے ، وفاقی حکومت اپنی اورپنجاب میں بھی اپنا ہی راج ۔ تو ڈکٹیشن کی بات کہاں سے آ گئی؟ بس غلطی پہ غلطی ہوئی ،ڈھنگ کی کہانی نہ بنی، خاندان کے تمام افراد کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف نکلے اورپھسلتے پھسلتے معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا ۔ ملک کے نامور وکیلوں کی خدمات شاہی خاندان کو فراہم رہیں۔ تین بار وکلاء کی ٹیمیں تبدیل ہوئیں۔اورتو کچھ حاصل نہ ہوا پرجس وکیل نے بھی اس دلدل میں قدم رکھا ،رسوا ہوکے رہ گیا ۔ اب منہ چھپائے پھرتے ہیں ۔ایک آدھ اِن میں ٹی وی چینلز پہ قانون کی حاکمیت اوراعلیٰ اخلاقیات پہ باقاعدہ وعظ فرمایا کرتے تھے ۔ جب سے شریف خاندان کے دفاع کا بیڑا اپنے سر لیا ٹی وی چینلز پہ نہیں دیکھے جاتے ۔
سپریم کورٹ کا 3-2کافیصلہ آیا تو وزیراعظم ہاؤس میں سمجھا گیا کہ یہ اُن کی فتح ہے ۔مٹھائیاں بانٹی گئیں ۔کچھ دیر بعد جب فیصلے کا اصل مفہوم سمجھ میں آیا تو چہرے بدل گئے ۔مٹھائیاں غائب ہوئیں ۔شیخ رشید احمد نے دریا کو کُوزے میں بند کردیا جب کہا کہ پپو دوپیپرز میں فیل اورتین میں کمپارٹ آئی ہے ۔ یہ ایسا جملہ تھا کہ تاریخ کا حصہ بن گیا ۔ پھر جے آئی ٹی بیٹھی تو ہم جیسوں نے بھی سمجھا کہ معاملہ دَ ب کے رہ جائے گا۔ ایسی تفتیشیں کب نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں ؟لیکن جب حسین نواز کی پیشی ہوئی اورانہیں دوگھنٹے انتظار کرنا پڑا اورپھر پوچھ گچھ چارپانچ گھنٹے جاری رہی تو سب پہ آہستہ آہستہ آشکار ہوا کہ یہ معاملہ مختلف ہے ۔ البتہ کوئی پنڈت یا گُرو نہیں تھا جس نے کہا ہو کہ جے آئی ٹی ساٹھ دن میں اپنا کام مکمل کرلے گی۔لیکن ایسا ہوا اورجب رپورٹ کے مندرجات سامنے آئے تو بہتوں کے ہوش ٹھکانے آگئے ۔
معاملہ جب دوبارہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو نتیجہ نواز شریف کی برطرفی کی شکل میں نکلا ۔ نواز شریف کے ساتھ وہ ہوا جو1930ء کی دہائی میں امریکہ کے سب سے بڑے مافیا کے گاڈ فادرایل کپون (Al Capone)کے ساتھ ہوا ۔ ایل کپون جرائم کی ایک ایمپائر کے بادشاہ تھے ۔کیا کچھ اُنہوں نے نہ کیا ،قتل اوربھتہ خوری سے لے کر وسیع پیمانے پرغیر قانونی شراب فروشی تک ۔ لیکن قانون کی گرفت میں نہ آتے کیونکہ کسی جرم کا ثبوت نہ ملتا ۔ آخر ایل کپون کے خلا ف گواہی کون دیتا ؟پھرکسی سمجھدار نے کہا کہ اس کے ٹیکس ریکارڈ چیک کئے جائیں۔ٹیکس چوری پکڑ ی گئی اوراسی پہ سزا ہوئی ۔ 
ہماری سپریم کورٹ کرپشن پہ تو سزا دے نہیں سکتی تھی کیونکہ سپریم کورٹ ایک ٹرائل کورٹ نہیں اورتفتیش اُس کے دائرہ کار میں نہیں آتی ۔ آیا پاناما پیپرز کی رُوداد میں جھوٹ کا سہارا لیا گیا اس نتیجے پہ تو ایک ٹرائل کورٹ ہی پہنچ سکتاتھا ۔لیکن جے آئی ٹی کی تفتیش میں ایک اورچیز سامنے نکل آئی کہ اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کے وزیراعظم کے پاس عرب امارات کا ورک پرمٹ ہے جسے عربی زبان میں اقامہ کہتے ہیں ۔ اپنے ٹیکس پیپرز اورالیکشن کے کاغذات نامزدگی میں جنابِ نواز شریف نے اس ورک پرمٹ کا ذکر نہ کیا تھا ۔اورکرتے بھی کیسے کیونکہ اس بات کے افشا ہونے سے جگ ہنسائی ہوتی ۔لوگ کہتے کتنے شرم کی بات ہے وزیراعظم اورارب پتی ہوتے ہوئے امارات کا ورک پرمٹ اپنی جیب میں رکھا ہواہے ۔کسی اورملک میں ایسا ہوتا اورایسا راز سامنے آتا توفوراًمنصب چھوڑنا پڑتا۔ ہماری کھالیں موٹی ہیں اوراقامہ جیسی چھوٹی موٹی چیز سے شرمندگی تو دُور کی بات ہے تھوڑا سا احساس ِ ندامت بھی نہیں ہوتا ۔ ہمارے تو سرکس کے شیرایسے ہیں کہ کہتے نہیں تھکتے کہ دیکھیں ہمیں اقامہ پہ دھر لیاگیا۔ ہمارے ہاں اخلاقیات کی باتیں بہت ہوتی ہیں پرعمل ذرا ہٹ کے ہے۔
sexual harassmentیا جنسی بنیاد پہ کسی کو تنگ کرنا کے زمرے میں دنیا کے مختلف ممالک میںآجکل جو قصے رونما ہورہے ہیں وہ تو ہم پاکستانیوںکی سمجھ سے باہر ہیں ۔ ایک ایکٹر کہتاہے کہ دس سال پہلے جب میں چود ہ سال کا تھا تو Kevin Spacey(جو بلند پایہ ایکٹر ہیں اوردوبار آسکر ایوارڈ لے چکے ہیں) نے میرے گھٹنے کو غلط انداز میں چھوا ۔ قصہ دس سال پراناہے لیکن Kevin Spaceyکی شامت آگئی ہے ۔منہ چھپائے پھرتاہے۔ برطانیہ میں وزیر دفاع مائیکل فیلن پر ایک خاتون الزام لگاتی ہیں کہ پتہ نہیں کتنے سال پہلے میخانے میں بیٹھے شراب پی رہے تھے جب فیلن نے مجھے ٹانگ پہ غلط انداز میں ہاتھ لگایا ۔ کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا ،کوئی جے آئی ٹی نہیں بیٹھی ، لیکن مائیکل فیلن ازخود اپنے منصب سے سبکدوش ہوگئے ہیں ۔ اُنہوں نے نہیں کہا میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا ۔ کوئی قطر سے کہانی تراش کے نہیں لائے ۔بس اپنے کئے پہ نادم ہیں اورجو سیاسی قیمت چُکانی تھی وہ چُکا دی ۔
یہاں کرپشن کے الزامات ہمالیہ پہاڑوں سے اونچے ہیں ۔ منی لانڈرنگ کے ضمن میں اسحاق ڈار کا سترہ سال پُرانا اعترافی بیان ہے اوراگر وہ ناکافی تھا تو اُن کے قریبی ساتھی نیشنل بینک آف پاکستان کے حالیہ صدر جناب سعید احمد کاتاز ہ ترین اعترافی بیان ہے جو اسحاق ڈار کے پرانے بیان کی تصدیق کرتاہے ۔ جنابِ اسحاق ڈار کا چہرہ پریشانیوں میں گھرا ہوا نظرآتاہے لیکن کُرسی چھوڑنے کا دُو ر سے بھی شائبہ نہیں ہے۔بات سمجھنے کی ہے ۔ ہمارے معاشرے میں ریپ یا زنابالجر کی واردات ہوتی ہے اورملزمان بڑی معصومیت سے کہتے ہیں غلطی ہوگئی ،کچھ لے لیں اورمعاف کردیں ۔ہمارے ہاں کسی کو بتائیں کہ دس سال پہلے کسی شراب خانے میں کسی کا گھٹنا چھوا تھا تو وہ ہنس پڑے گا ۔ اور ہنستے ہوئے شاید یہ کہے کہ بس اور کچھ نہیںہوا ؟ایسے اعلیٰ ماحول میں کرپشن اورمنی لانڈرنگ کیا معنی رکھتے ہیں ؟بس پلازہ اونچا اورگھر کا لان وسیع ہوناچاہیے۔پھر سب خطائیں معاف ۔لاہور میں تو جس کے پاس پیسہ ہے وہ میاں صاحب کہلاتاہے ۔ اس تناظر میں بات بالکل جچتی ہے کہ سابق وزیراعظم پوچھتے پھریں مجھے کیوں نکالا گیا ؟میرا قصور کیا ہے ؟
صدر نکسن کو جھوٹ بولنے پہ صدارت سے سبکدوش ہونا پڑا ۔کلنٹن کا محاسبہ عشق کرنے کی بناء پہ نہیںبلکہ جھوٹ پکڑے جانے پہ ہوا ۔ایسی نزاکتیں ہمیں کون سمجھائے؟

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved