تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     04-11-2017

سر سید، اسلامی یونیورسٹی میں!

سر سید احمد خان کو یاد کیا جانا چاہیے مگر کیسے؟ 17 اکتوبر ہماری تاریخ کی اس جلیل القدر شخصیت کا دو سو سالہ یومِ پیدائش تھا۔ میرے علم کی حد تک ملک میں تین مقامات پر بڑی تقریبات ہوئیں۔ کراچی یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد۔
اسلامی یونیورسٹی میں دو دن سر سید کو متنوع حوالوں سے یاد کیا گیا۔ اس یونیورسٹی میں سر سید کا ذکر میرے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھا۔ اس ادارے سے بعض نامور علمی شخصیات وابستہ رہی ہیں۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈاکٹر محمود احمد غازی، پروفیسر فتح محمد ملک اور ڈاکٹر خالد مسعود کا بطور مثال ذکر کیا جا سکتا ہے۔ بطور ادارہ مگر یہ یونیورسٹی اپنی علمی حیثیت کو منوا نہ سکی۔ پندرہویں صدی ہجری کا آغاز ہوا تو اس کی بنیاد رکھی گئی۔ چوتھی دہائی اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس دوران میں، اس یونیورسٹی سے کوئی بڑا علمی کارنامہ منسوب نہیں ہوا۔ کئی تحقیقی ادارے اس سے منسلک ہیں مگر آج تک کوئی بڑی تحقیق سامنے نہ آ سکی۔ 
تدریجاً یہ ادارہ ایک جدید مدرسہ بنتا چلا گیا۔ زیادہ سے زیادہ مخصوص مذہبی تعبیرات کا تبلیغی مرکز یا ایک مذہبی سیاسی جماعت کے وابستگان کے لیے روزگار کا وسیلہ۔ علمی کم مائیگی کی ایک وجہ یہ رہی کہ یہاں علمی تحقیق کے لیے حوصلہ افزا فضا میسر نہ ہو سکی۔ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کو یونیورسٹی سے وابستہ کر دیا گیا‘ مگر ڈاکٹر فضل الرحمان کے ذکر پر پابندی رہی، جن کی علمی وجاہت کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔ اس پسِ منظر میں اگر اب یونیورسٹی نے سر سید احمد خان کو دو روزہ کانفرنس کا موضوع بنایا ہے تو یہ میرے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھا۔
شعبہ اردو کی ڈاکٹر نجیبہ عارف، ڈاکٹر عزیز ابن الحسن اور اقبال انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر حسن الامین نے اس کانفرنس کا اہتمام کیا اور اس کے لیے ایک بامعنی عنوان منتخب کیا: ''مطالعہ سر سید: مابعد نو آبادیاتی جہات‘‘۔ سر سید کا تعلق جس عہد سے تھا اس میں بھی مسلم سماج کو جدیدیت کا چیلنج درپیش تھا۔ آج نو آبادیاتی دور کو گزرے مدت ہو چکی‘ مگر یہ چیلنج باندازِ دیگر آج بھی زندہ ہے اور اس کے موضوعات بھی کم و بیش وہی ہیں۔اشد ضرورت ہے کہ مسلم سماج کی جامعات میں یہ چیلنج زیرِ بحث آئے اور اہلِ علم اس کا جواب فراہم کریں۔ سرسید بھی ایسے ہی ایک جواب کا عنوان ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کے فکری کام کی مختلف جہات پر غور کیا جائے اور یہ جانا جائے کہ آج کے دور میںاس کام سے استفادے کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔
اس کانفرنس کے سب ہی اجلاس بہت اہم تھے۔ڈاکٹر جعفر احمد،ڈاکٹر نعمان الحق،سہیل عمر اور احمد جاوید صاحب جیسی علمی شخصیات مدعو تھی۔ شرکاء کا انتخاب علمی اور مسلکی وابستگی سے بالاتر ہو کر کیا گیا۔ جی تو چاہتا تھا کہ سارے کام چھوڑ چھاڑ کر دو دن ان لوگوں کی صحبت میں گزاروں‘ زندگی مگر اس عیاشی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔وہ صرف انتخاب کا حق دیتی ہے۔ محترم احمد جاوید صاحب کے حسنِ طبیعت اور وسعتِ علمی اور پھر میرے ذوقِ سماعت نے تقاضا کیا کہ ان کے کلیدی خطبے سے براہ راست استفادہ کیا جائے۔یہ خطبہ مگر مجھے پریشان کر گیا۔
ان کے بنیادی استدلال کا خلاصہ چند سطور میں، میرے فہم کے مطابق، کچھ اس طرح ہے: مسلم سماج کا امتیازی وجود تین خصوصیات سے عبارت ہے۔ اس کا تصورِ خدا، تصورِ انسان اور تصورِ دنیا۔ یہ تصورات، صدیوں کے اجتماعی تعامل سے، مسلمانوںکی تہذیبی روایت میں اس طرح رچ بس گئے ہیں کہ ان کے بغیر مسلم سماج کا تصور محال ہے۔ سر سید نے ان سب بنیادوں کو منہدم کر نے کی کوشش کی۔ اس کام کے لیے انہوں نے جو استدلال مرتب کیا، وہ علمی اعتبار سے بہت پست تھا۔ وہ نہ صرف ان تصورات کو سمجھنے کی علمی استعداد نہیں رکھتے تھے بلکہ اس کام کے لیے ناگزیر بنیادی فکری صلاحیت ہی سے محروم تھے۔
انہوں نے عامیانہ دلیلوں سے یہ چاہا کہ وہ غزالی و رازی اور ماتریدی و اشعری روایت کو باطل ثابت کریں۔ انہوں نے الذولفقار کا مقابلہ خربوزہ کاٹنے والی چھری سے کیا۔ المیہ یہ ہوا کہ وہ اس میں کامیاب رہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جو ہاتھ اُس وقت ذوالفقار تھامے ہوئے تھے، وہ بھی بہت کمزور تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے مسلمانوں کے تصورِِ خدا کو اپنی عقل کے دائرے میں قید کرنا چاہا۔ ایک ہمہ جہتی ہستی کو کلامی دائرے میں قید کرتے ہوئے، قدیم علمِ کلام کو اپنے تئیں رد کرتے ہوئے، اس تصور کی تفہیمِ نو کی۔ اب وہ خدا کیسا ہو گا جو کسی انسان کے عقلی دائرے میں قید ہو جائے؟
اسے ہیگل سے منسوب فلسفیانہ روایت کے پس منظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اینٹی تھیسس، ہمیشہ تھیسس کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور یہی فطری ہے۔ تھیسس اس کے لیے ماں کے درجے پر ہے۔ سر سید نے جو اینٹی تھیسس دیا، اس نے مسلم روایت سے جنم نہیں لیا۔ انہوں نے اسے خارج یعنی مغرب سے لیا۔ یوں ایک شتر گربگی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ مسلم تہذیب کے احیا کے لیے سر سید کے اینٹی تھیسس سے نجات ناگزیر ہے۔ یہ اس لیے لازم ہے کہ ہماری روایت میں سر سید کی حیثیت وہی ہے جو فلسفے کی روایت میں افلاطون کی ہے۔ بات ان کی تائید میں ہو گی یا ان کے رد میں۔
میں نے اپنے فہم کے مطابق، احمد جاوید صاحب کے بنیادی استدلال کی تسہیل کر دی۔ یہ تقریر میرے لیے پریشان کن تھی۔ میرا ابتدائی تاثر تھا کہ یہ سر سید پر روایتی علما کی تنقید کا پُرشکوہ فلسفیانیہ ابلاغ ہے۔ یہ اسلوبِ کلام سامعین پر سحر طاری کر دیتا ہے۔ غور و فکر کی صلاحیت کو بھی کچھ دیر کے لیے سلب کر لیتا ہے۔ ایک وقت کے بعد، ہم اس قابل ہوتے ہیں کہ اس مقدمے کی صحت کو جانچ سکیں۔ پھر ہم اس کی قبولیت یا عدم قبولیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میں اس سحر سے نکل رہا ہوں۔ احمد جاوید صاحب کی فکری دیانت میرے لیے غیر مشتبہ ہے اور اس پر مستزاد ان کی علمی وجاہت۔ میرا احساس یہ ہے کہ سر سید کے مطالعے کے بعد، میرے ذہن میں ان کی جو تصویر ہے، وہ اس سے مختلف ہے جو احمد جاوید صاحب نے دکھائی ہے۔ اب ان دونوں تصاویر کے خد و خال پر مجھے نئے سرے سے غور کرنا ہو گا۔ 
خوشگوار حیرت کا پہلو یہ ہے کہ یہ ساری بحث اسلامی یونی ورسٹی میں ہو رہی تھی۔ یہ مطالعہ سر سید کی ایک جہت ہے جو احمد جاوید صاحب کے خطبے میں سامنے آئی۔ ڈاکٹر جعفر احمد نے اپنے بھرپور علمی مقالے میں ایک دوسرے اور مختلف پہلو سے سر سید کو دیکھا۔ ڈاکٹر حسن الامین نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے تحریری صورت میں یہ مقالہ فراہم کریں گے۔ اسلامی یونیورسٹی میں یہ کانفرنس خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے۔ جامعات کو علم کا بہتا دریا ہونا چاہیے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب علم کی تنقیدی روایت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ خیالات کو کسی تعصب کے بجائے، ان کے استدلال کی بنیاد پر قبول یا رد کیا جائے۔ اگر جامعات کو خاص فکر یا مذہبی تعبیر کے مبلغ بنا دیا جائے تو وہ جوہڑ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد بن یوسف الدرویش بھی تحسین کے مستحق ہیں جن کی سرپرستی میں یہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ انہوں نے جس طرح علمی مکالمے کے لیے جامعہ کے دروازے کھولے ہیں، یہ یونیورسٹی کی ساکھ اور ترقی کے لیے نیک شگون ہے۔ ڈاکٹر احمد کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ اس علمی سرگرمی کو شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030ء کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے‘ جو ایک معتدل اسلام کی بات کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر احمد فتنہ تکفیر کے رد میں کتاب لکھ چکے ہیں‘ اور اعتدال کی بات کرتے رہے ہیں۔ اعتدال اختلافِ رائے کو گوارا کرنے اور اس کا احترام کیے بغیر نہیں آ سکتا۔ اللہ کرے کہ اسلامی یونیورسٹی مذہبی مباحث کے لیے مکالمے کا مستقل فورم بن سکے۔
کالم اسلامی یونیورسٹی کے ذکر میں تمام ہو گیا۔ علامہ اقبال یونیورسٹی میں ڈاکٹر شاہد صدیقی نے جو بزم برپا کی اور جس میں فتح محمد ملک اور ڈاکٹر خالد مسعود نے فکر انگیز خطبات دیے، ان کا تذکرہ انشااللہ کسی اور کالم میں کروں گا۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved