تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     10-11-2017

اندوہناک غلطی

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ اردو کی بیرونی نشریات میں خصوصی خبریں یا رپورٹیں آ جاتی ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت اپنے ملک کی خبروں اور تبصروں کے معاملے میں زیادہ حساس ہے۔ مجھے اس کا طویل تجربہ ہے۔ سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں اگر کوئی نشریاتی ادارہ‘ خصوصی خبریں یا رپورٹیں نشر کر دے‘ تو اپنے قارئین کے لئے چن لیتا ہوں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ویب سائٹس پر‘ سعودی عرب میں خاصی اہمیت کی خبریں اور رپورٹیں شائع ہوئیں۔ ان کا تعلق حکمران خاندان میں بڑی تبدیلیوں سے تھا۔ سعودی عرب میں بیرونی میڈیا کے نمائندے عموماً خبریں حاصل کرنے کے بعد‘ متعلقہ حکام سے ان کی تصدیق کراتے ہیں۔ اسی لئے وہاں کے خصوصی نمائندوں کی خبریں‘ ایک دو روز کے بعد شائع ہوتی ہیں‘ جبکہ نشریاتی اداروں کے پاس وقت تھوڑا ہوتا ہے۔ وہ اکثر متعلقہ حکام سے کم وقت میں تصدیق حاصل کرکے‘ اپنے ادارے کو خبریں بھیج دیتے ہیں۔ اگر کوئی واقعہ شام کو تاخیر سے ہو جائے تو پرنٹ میڈیا کے پاس وقت کم رہ جاتا ہے‘ خصوصاً روزناموں کے لئے۔ اگر واقعہ سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق‘ مغرب کی نماز کے بعد ہوتا ہے تو ایسی خبریں نشریاتی ادارے تصدیق کرکے دے سکتے ہیں جبکہ پرنٹ میڈیا کے پاس وقت کی بہت کمی ہوتی ہے۔ ہم اخبار والوں کے لئے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے۔ کوئی واقعہ نماز مغرب کے بعد رونما ہو تو متعلقہ حکام سے خبریں سنسر کرانے کی گنجائش نہیں رہتی‘ جبکہ نشریاتی اداروں کے نمائندوں کو یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ای میل کے ذریعے خبریں بھیج سکتے ہیں۔ یہ سہولت اخباروں کو بھی حاصل ہے۔ لیکن خبریں سنسر کرانے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس لئے عموماً نیوز ایجنسیوں یا نشریاتی اداروں کی مدد لینا پڑتی ہے کیونکہ ای میل سروس ہر وقت دستیاب رہتی ہے جبکہ اخباری رپورٹرز حساس اور خصوصی خبروں کو فوراً نیوز روم میں نہیں بھجوا سکتے۔
گزشتہ دنوں سعودی عرب کے حکومتی ڈھانچے میں حساس نوعیت کی بڑی تبدیلیاں اچانک ہوئیں۔ ایسی خبروں کے لئے سعودی حکام‘ نشریاتی اداروں کو سنسر کی سہولت فراہم کر دیتے ہیں‘ لیکن جیسے واقعات گزشتہ ایام میں ہوئے‘ وہ اتنے حساس نوعیت کے تھے کہ ٹیلی وژن اور ریڈیو کے ذریعے بھی‘ اخبار والوں کو بروقت خبریں نہ ملیں۔ حتیٰ کہ ریڈیو اور ٹی وی کے نمائندے بھی براہ راست یہ خبریں نہ بھیج سکے۔ قارئین نے نوٹ کیا ہو گا کہ سعودی حکمران خاندان کے اندر اعلیٰ سطح پر اچانک تبدیلیاں ہوئیں تو خبروں اور رپورٹوں کے نشر یا طبع ہونے میں وقت لگ گیا۔ جب تک سعودی حکام دستیاب رہتے ہیں‘ سنسر کے مراحل طے ہو جاتے ہیں‘ ورنہ اگلے روز کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ سعودی عرب میں حساس نوعیت کی تبدیلیوں کی خبر‘ مقامی حکام کی تصدیق کرائے بغیر میڈیا میں آ جائے تو خبر بھیجنے والے متعلقہ نمائندے کو فوری طور پر ملک سے نکال دیا جاتا ہے۔ اگر تیز رفتاری سے نکالنا ممکن نہ تو اسے بلا تاخیر متعلقہ دفتر میں ''محفوظ‘‘ رکھ کے‘ مناسب وقت پر ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ اگر بدقسمتی سے وہ اخبار یا جریدہ سعودی عرب میں قارئین کے مطالعے کے لئے‘ بازار میں دستیاب ہو تو اس کی درآمد ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر بند کر دی جاتی ہے۔ پھر مہینے بلکہ سال ہی لگ جاتے ہیں کہ دوبارہ پھر سے اس کی درآمد شروع ہو سکے۔
میں جب ''اخبار جہاں‘‘ کا ایڈیٹر تھا تو سعودی قوانین پر تیز رفتاری سے عمل درآمد کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ وہاں کے نمائندے نے ایک رپورٹ ارسال کی‘ جو شائع ہو گئی۔ اگلے دن میر خلیل الرحمن مرحوم مجھ سے ملاقات کے لئے بے تاب بیٹھے تھے۔ جیسے ہی میں نے دفتر کے اندر قدم رکھا تو میر صاحب کا ایک خصوصی ملازم‘ مرکزی دروازے پر میرے انتظار میں کھڑا تھا۔ فوری طور پر مجھے حاضر کیا گیا۔ میر صاحب نے پریشانی کے عالم میں بات شروع کی۔ اگر اس وقت میرے ہاتھوں میں توتے ہوتے تو میں انہیں اڑا بیٹھتا۔ سعودی عرب سے نمائندے نے اطلاع بھیجی‘ میں نے بے ضرر سمجھ کر شائع کر دی۔ دھماکہ ہو گیا۔ دفتر کی انتظامیہ میں ہنگامی حالات پیدا ہوئے۔ 'اخبار جہاں‘ کی سرکولیشن سعودی عرب میں بہت زیادہ تھی۔ بہرحال میر صاحب نے بھاگ دوڑ کرکے پابندی رکوا دی۔ سرکولیشن معمول پر آ گئی۔ یہ تجربہ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔ آج بھی سعودی عرب کے بارے میں کوئی خبر یا رپورٹ شائع کرنا پڑے تو ساتھیوں کے علاوہ‘ سعودی امور کے کسی ماہر سے مشورہ نہ کر لوں‘ تو زیر دست تحریر کو اشاعت کے لئے نہیں دیتا۔ اچھا ہوا کہ سعودی عرب کے بارے میں ایک ایسی ہی رپورٹ‘ جناب ندیم نثار نے اپنے ریشمی لہجے میں سنائی۔ اگر بی بی سی میں بیٹھے دوستوں کو پتہ چل جاتا تو میرا کیا بنتا کالیا! اچھا ہوا کہ یہ اندوہناک غلطی‘ اکیاسی (81) سال کی عمر میں ہوئی۔ بیس سال کی عمر میں ہو جاتی تو ساٹھ سال کیسے گزارتا؟
_______________

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved