تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     11-11-2017

ریکارڈ کی درستی‘ ثناء اللہ ظہیر اور ممتاز اطہر

ہمارے ایک بھائی نے کل یہ شعر دو بار درج کیا ہے‘ شروع میں بھی اور آخر پر بھی ؎
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
بہت سے دوستوں کو یاد ہو گا کہ یہ شعر غالبؔ کا ہے اور اسی طرح سے ہے ؎
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے
اگر تو برادر نے یہ دانستہ کیا ہے تو الگ بات ہے کیونکہ اس طرح کا کام پہلے بھی ہو چکا ہے۔ کئی سال پہلے برادرم عطاء الحق قاسمی نے اسی طرح کے کئی اشعار اس طرح سے پیش کئے تھے کہ پڑھ کر بے اختیار ہنسی نکل جاتی تھی مثلاً ایک کلاسیکی شاعر مومن خاں مومن کا شعر ہے ؎
تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں‘ شبِ ہجراں ہوں گے
جبکہ احمد ندیم قاسمی کا ایک مشہور شعر ہے ؎
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا
میں تو دریا ہوں‘ سمندر میں اُتر جائوں گا
ان دونوں کا ایک ایک مصرع لے کر موصوف نے یہ شعر بنایا ؎
تُو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
میں تو دریا ہوں‘ سمندر میں اُتر جائوں گا
بلکہ اُنہوں نے اپنے کالم میں ایک اور طرح سے بھی لطف پیدا کیا۔ روحی کنجاہی کا مصرع ہے ؎ 
حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی
اس مصرعے کو انہوں نے اس زمانے کی بعض خبروں سے بھی ملایا۔ مثلاً خبر تھی کہ میڈم نور جہاں نے ایک اور شادی کر لی۔ جس پر موصوف نے گرہ لگائی ع
حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی
چند سال پہلے جناب موصوف کی سالگرہ پر میں نے انہیں بذریعہ قطعہ اس طرح ہدیہ تبریک پیش کیا تھا۔
مزاح و طنز نگاری جو تجُھ پہ ناز کرے
شعورِ شاعری بھی خم سرِناز کرے
یہی ہے آج ترے سارے دوستوں کی دُعا
کچھ اور بھی تری رسّی خدا دراز کرے
چنانچہ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ غالبؔ نے اس جسارت کا بُرا بھی منایا ہو جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ان کے پاس ایک نیازمند آیا کہ مجھے آپ کا یہ شعر بہت پسند ہے ؎
اسدؔ اِس جفا پر بُتوں سے وفا کی
مرے شیر شاباش‘ رحمت خدا کی
یہ سن کر غالبؔ بولے :
''اگر یہ مرا شعر ہے تو مجھ پر لعنت خُدا کی‘‘
تاہم‘ یہ مناسب ہو گا کہ بھائی صاحب نے غالبؔ کے مصرعہ کے ساتھ جو مصرعہ لگایا تھا‘ اس کی تحقیق کر کے بھی اگر بتا دیں کہ وہ کس کا مصرعہ ہے تو اس سے بہتوں کا بھلا ہو سکتا ہے جبکہ اسے حامد کی پگڑی محمود کے سر پر باندھنا بھی بتایا گیا ہے‘ نیز اگر مذکورہ مصرعہ کے خالق کی نظر سے وہ شعر گزرا ہو تو وہ اس عزت افزائی کے لیے شاید موصوف کے شکرگزار بھی ہوں‘ تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ بھائی صاحب نے غالبؔ کے مصرع پر گرہ خود ہی لگا دی ہو!
تاہم‘ بھُول چُوک کی بات اور ہے کیونکہ میں تو اکثر بھُول جایا کرتا ہوں۔ ایک تو مجھے شک تھا کہ مندرجہ بالا شعر مومن کا ہے یا نہیں۔ نیز قاسمی صاحب کے شعر کا پہلا مصرعہ مجھے یاد نہیں آ رہا تھا تو میں نے عزیزی ناصر بشیر کو فون کیا جس نے میری مشکل آسان کی۔ بلکہ میں تو اپنے شعر بھی بھول جاتا ہوں۔ اگلے روز آفتاب اقبال نے ایک شعر سناتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ آپ کا ہے؟ میں نے کہا‘ سٹائل تو میرا ہی لیکن میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ واقعی میرا ہے۔ بعد میں اپنی کتابوں کی ورق گردانی کی تو وہ میرا ہی نکلا! اور‘ اب آخر میں فیصل آباد سے ثناء اللہ ظہیر کے یہ شعر دیکھیے۔
مرے خلوص کا ایسے صلہ مجھے دے گا
غلط کرے گا وہ خود اور پھنسا مجھے دے گا
یہ سوچتا ہوں تو ساحل پہ لوٹ آتا ہوں
وہ ڈوبتے ہوئے لمحے صدا مجھے دے گا
میں جانتا ہوں کہ دل سے وہ میرے ساتھ نہیں
مدد کرے گا کسی کی‘ دُعا مجھے دے گا
ظفرؔ سے حضرتِ غالبؔ نے یہ نہیں پوچھا
کہ تیرے پاس ہے کیا اور کیا مجھے دے گا
تُو سیرِ عہدِ گزشتہ کو جا رہا ہے ظہیرؔ
وہاں سے لا کے لڑکپن مرا مجھے دے گا؟
اور‘ اب مزید آخر میں ممتاز اطہر کا یہ مطلع ؎ 
نظر ہے شرط‘ ابدزار بھی تماشا ہے
تماشا گاہ کے اُس پار بھی تماشا ہے
...............
آج کا مقطع
دل کے اندر جنہیں محفوظ سمجھتا رہا میں
چل دیئے وہ بھی ظفرؔ‘ توڑ کے گھیرے میرے

 

..............................

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved