تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     12-11-2017

کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل

کوئی اور امکان بروئے کار آئے یا نہ آئے‘ مولانا فضل الرحمن سے جماعت اسلامی نے اگر اتحاد کیا تو اس دن کو یاد کرکے رویا کرے گی۔ جو متاع باقی ہے‘ وہ بھی برباد ہوگی‘ باقی ماندہ کمائی بھی لٹ جائے گی۔
کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گلِ تر کی صورت
ایسے ایسے آنجناب کے کارنامے ہیں کہ بوجھ اٹھایا نہ جا سکے گا۔ پانی اگر نہ ملے تو کیا آدمی ڈیزل سے غسل کر سکتا ہے؟
جماعت اسلامی پہ اعتراضات ہیں‘ مگر خدمات بھی ہیں۔ 2005ء کا زلزلہ ہو یا 2009ء کا ہولناک سیلاب‘ خدمتِ خلق کے میدان میں اس کا ایک قابلِ فخر کردار رہا۔ مرحوم مشرقی پاکستان میں ایسی قربانیاں اس نے پیش کیں کہ دائم ان کی بازگشت باقی رہے گی۔ بنگلہ دیش میں آج بھی اس کے رہنما پھانسی کا پھندہ چومتے ہیں۔
تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں بے مثال کردارہے اس کا۔ ساٹھ برس سے سید علی گیلانی سروقد کھڑے ہیں۔ ایک لمحہ کو دلاورکبھی متزلزل نہ ہوا۔ پاکستان کی داخلی سیاست پر سیّد صاحب کم ہی بات کرتے ہیں۔ طالبان کا طوفان اٹھا‘ مزاروں، مارکیٹوں اور امام بارگاہوں میں انسانوں کے چیتھڑے اڑے تو انہوں نے کہا: یہ لوگ پاکستان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ دوسری بار کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن کے کردار پر احتجاج کیا۔ یہ کہ خون آلود کشمیر کی قربانیوں سے وہ بے نیاز ہیں۔ برسوں پہلے ایک انٹرویو میں مولانا موصوف نے کشمیریوں کی جدوجہد کو جہاد کا درجہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ظاہر ہے‘ اس لیے کہ ان کے مذہبی مکتب ِفکر سے ان کا تعلق نہیں۔ تب کشمیر کمیٹی کی سربراہی آصف صاحب نے انہیں سونپ دی۔ میاں محمد نوازشریف نے برقرار رکھی۔
نواب زادہ نصراللہ خان کی کشمیر کمیٹی کا کردار وزارتِ خارجہ سے بھی بڑھ گیا تھا۔ سبھی کو ساتھ لیا۔ دنیا بھر میں ایک ایک دروازے پہ دستک دی۔ 1932ء میں نواب زادہ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز‘ تحریکِ آزادیٔ کشمیر سے کیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک والہانہ وابستگی وہ رکھتے تھے۔ ایک ایسے آدمی کو یہ گدّی کیوں سونپی گئی‘ جس کے اجداد یہ کہتے رہے کہ پاکستان بنانے کے گناہ میں وہ شریک نہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ‘ جمعیت علماء اسلام کی ساز باز تاریخ کا حصہ ہے۔ انہی کے عہد میں آں حضرت بھارت تشریف لے گئے اور یہ کہا کہ ایک عدد گول میز کانفرنس بلا کر پاک بھارت سرحد ختم کی جا سکتی ہے۔ قاضی حسین احمد نے اپنے حلیف کے لیے جواز ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر منور حسن ڈٹ گئے۔ قاضی صاحب کو خاموش ہونا پڑا۔ جماعت اسلامی کے اجتماعی ضمیر نے قاضی صاحب کی تاویل کو مسترد کردیا۔
2002ء سے 2007ء تک صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کا اقتدار تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ دہشت گردی پھلتی پھولتی رہی۔ ایم ایم اے نے ہرگز کوئی مزاحمت نہ کی۔ مولوی فضل اللہ ابھرے اور پھیلتے چلے گئے۔ رفتہ رفتہ یہ لوگ طاقتور ہوئے‘ اتنے کہ خود مولانا فضل الرحمن چلاّ اٹھے۔ ان کی اپنی زندگی اب خطرے میں تھی۔ اب ان درندوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کا ارادہ کیا گیا۔ ایک کل جماعتی کانفرنس کے بعد سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اختیار سونپ دیا گیا۔ سوات میں ایسی شاندار فوجی کارروائی جنرل نے کی کہ باید و شاید۔ 90 دن کے اندر نہ صرف دہشت گردوں کا صفایا ہوا‘ پوری کی پوری آبادی واپس لے جا کر بسا دی گئی۔ پھر کوئی ایسا کارنامہ کیوں انجام نہ دے سکا؟
یہ اکرم درّانی کی حکومت کے بوئے ہوئے بیج تھے۔ وزارتِ خارجہ کو اعتماد میں لے کر خاموشی سے وہ امریکہ گئے۔ غالباً آج بھی اس کا کوئی ریکارڈ حکومتِ پاکستان کے پاس موجود نہیں۔ کچھ عرصہ بعد وکی لیکس کا دفتر کھلا تو اس ٹھگنی امریکی سفیر این پیٹرسن سے مولانا فضل الرحمن کی فرمائش کا انکشاف ہوا۔ یہ کہ وزارتِ عظمیٰ کے حصول میں ان کی مدد کرے۔ اپنی کابینہ کے ارکان سے جنرل پرویزمشرف نے کہا تھا کہ بھارت سے حضرت مولانا فوائد حاصل کرتے رہے۔ اس کابینہ کے ارکان بقیدحیات ہیں۔ اخبار نویس اب بھی کرید سکتے اور تفصیلات معلوم کر سکتے ہیں۔ عراق پر امریکی بمباری کا آغاز ہوا تو مولانا اوّل عمرہ کرنے تشریف لے گئے‘ پھر اردن کے دورے پر۔ کرنل قذافی اور صدام حسین کی حکومتوں سے ان کے مراسم رہے۔ ان مراسم کی بنیاد کیا تھی؟ اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے میاں محمد نواز شریف اغوا کرکے لے جائے گئے تو چند ہفتے بعد مولانا فضل الرحمن نے ریاض میں قدم رنجہ فرمایا۔ انٹیلی جنس کے سربراہ شہزادہ مقرن سے ملاقات کی۔ کس لیے؟
جماعت اسلامی دعویٰ کر سکتی ہے کہ دو بار کراچی کی بلدیاتی حکومت اسے ملی اور اس کا دامن داغدار نہ ہوا۔ نعمت اللہ خان کا عہد کئی اعتبار سے مثالی ہے۔ 2 ارب روپے سالانہ ترقیاتی بجٹ کو انہوں نے چالیس ارب تک پہنچا دیا۔ انہی کی پیروی کرتے ہوئے‘ مصطفی کمال ابھرے۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت سے وابستہ جماعت اسلامی کے وزرا پر بھی شاید ہی کبھی کرپشن کا الزام لگا ہو۔ سینیٹر سراج الحق کے بارے میں سپریم کورٹ میں یہ کہا گیا کہ دفعہ 62 اور 63 کے معیار پر وہی ایک پورے اتر سکتے ہیں۔ مذہبی مکتبِ فکر یا وقتی سیاسی مفاد کے سوا مولانا فضل الرحمن سے ان کا رشتہ کیا ہے؟ دیانت و امانت‘ صداقت شعاری اور حسنِ کردار کی کوئی اہمیت نہیں؟
ایک نہیں‘ متحدہ مجلس عمل ایسے چار اتحاد بھی بن جائیں تو پختونخوا میں اکثریت حاصل نہیں کر سکتے۔ میاں محمد نواز شریف اور اے این پی کی تائید درکار ہو گی۔ فرض کیجئے متحدہ مجلس عمل جیت جائے۔ فرض کیجئے حکومت بھی بنا لے‘ تو عہدِ گزشتہ سے کیا وہ مختلف ہوگی؟ کیا وہی اکرم درّانی‘ ان کے وہی سرپرست‘ وہی کرپشن اور انتہاپسندوں کی وہی سرپرستی نہ ہوگی؟
مذہبی پارٹیوں کے ابتدائی اجلاسوں میں‘ مولانا فضل الرحمن مصر تھے کہ جماعت اسلامی پختونخوا حکومت سے فوراً الگ ہو جائے... اسے اتار پھینکا جائے۔ سراج الحق نے انکار کر دیا۔ پھر یہ طے پایا کہ دسمبر میں مولانا فضل الرحمن نون لیگ اور جماعت اسلامی عمران خان کو خیرباد کہہ دیں گے۔ سینیٹر صاحب نے یہ بھی کہا کہ عمران خان سے رہ و رسم وہ برقرار رکھیں گے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت گرانے میں شریک نہ ہوں گے۔ کیا یہی بات مولانا فضل الرحمن کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے؟ کیا کشمیر کمیٹی سے وہ الگ ہو جائیں گے؟ کیا اس عجیب و غریب نظریاتی کونسل پر ان کا تسلّط باقی نہ رہے گا‘ جس میں ان کے تجویز کردہ نئے سربراہ کو پرلے درجے کا مشکوک آدمی سمجھا جاتا ہے۔
جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو ایک دوسرے سے شکایات ہیں۔ جمعہ کو عمران خان سے ملاقات ہوئی۔ وہ تو زیادہ تر خاموش ہی رہے۔ ان کے ساتھیوں نے کہا کہ ہر ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی نے ان کی مخالفت اور مزاحمت کی۔ جماعت اسلامی والوں کا کہنا یہ ہے کہ سپیکر کے انتخاب میں‘ شفقت محمود‘ امیدوار تھے‘ تو کسی نے ان سے رابطہ کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ حلقہ 120 کے الیکشن میں میاں محمود الرشید نے وقت طے کرنے کے بعد‘ اجلاس ملتوی کر دیا۔ اس طرح کے اور کتنے ہی واقعات۔
دونوں ہی کی بعض شکایات درست ہو سکتی ہیں؛ اگرچہ زیادہ بچگانہ سی لگیں۔ غیر ذمہ داری‘ خود ترحمّی اور لاابالی پن کی مظہر۔ بہت سے واقعات ہیں مگر تفصیل سے کیا حاصل؟ انشراح تبھی ممکن ہے کہ باہم وہ بات کریں۔ اعتماد کا فقدان صاف نظر آتا ہے۔ اسی خلا میں وہ شاطر آگے بڑھا‘ جس کا نام مولانا فضل الرحمن ہے۔ کبھی کم ہی کوئی جس سے بچ پایا ہے۔ 2004ء کے جدّہ میں میاں محمد نواز شریف نے مجھ سے کہا تھا: قاضی حسین احمد سے میں ناخوش ہوں مگر ان سے ہمیشہ بات ہو سکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے کبھی نہیں۔ پھر کیا ہوا؟
کوئی اور امکان بروئے کار آئے یا نہ آئے‘ مولانا فضل الرحمن سے جماعت اسلامی نے اگر اتحاد کیا تو اس دن کو یاد کرکے رویا کرے گی۔ جو متاع باقی ہے‘ وہ بھی برباد ہوگی‘ باقی ماندہ کمائی بھی لٹ جائے گی۔
کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گلِ تر کی صورت

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved