تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     15-11-2017

میں لاہور کا دشمن ہوں؟

ایک ٹی وی شو میں عامر متین نے ایک جملہ ویسے ہی لائٹ موڈ میں کہہ دیا ‘یہ دن بھی آنے تھے کہ رئوف نے لاہور کا مقدمہ لڑنا تھا ۔
ان کا مطلب تھا میں ہمیشہ لاہور میں جاری ترقیاتی پراجیکٹس اور جنوبی پنجاب یا سرائیکی علاقوں کو نظرانداز کیے جانے کے خلاف باتیں کرتا تھا لیکن اب لاہور کے لیے لڑ رہا تھا ۔ جو حالت لاہور کی پچھلے تین ہفتے سے ہورہی ہے اس پر سب کو جھٹکا لگا ہے۔ ایک ماہر موسمیات پہلے ہی مجھے بتا چکے ہیں اگلے دس برس بعد لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ ڈویژن لوگوں کے رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ لوگ ان شہروں سے ہجرت کر جائیں گے اور جولوگ گائوں چھوڑ کر ان شہروں میں نسلوں سے بس گئے تھے وہ دوبارہ گائوں جا بسیں گے۔ 
سموگ نے پچھلے سال کی نسبت اس دفعہ ایک ماہ پہلے ہی لاہور کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اگلے سال یہ کچھ وقت مزید پہلے آجائے گی اور یوں یہ دائرہ بڑھتا جائے گا اور لوگوں کے لیے زندگیاں عذاب بننا شروع ہوجائیں گی۔ 
تاہم ایک بات محکمہ موسمیات کے اعلیٰ ماہر نے نہیں بتائی کہ اب شہر تو تباہ ہورہے ہیں اور وہاں سانس لینا مشکل ہورہا ہے تو کیا جب یہ لوگ ہجرت کر کے دوبارہ دیہات میں جائیں گے تو وہاں شہری زندگی تلاش کرنے کے نام پر یہ وہی کچھ نہیں کریں گے جو شہروں میں کیا اور یوں پہلے شہر رہنے کے قابل نہ رہے تو پھر گائوں نہیں رہیں گے تو پھر یہ سب کہاں جائیں گے؟ 
ویسے تو اب شہروں اور دیہات میں فرق نہیں رہ گیا ۔ میں اسلام آباد سے چلتا ہوں تو موٹروے کے اردگرد اب زرعی زمین پر ہائوسنگ سوسائٹیز بنتی نظرآتی ہیں۔ پوٹھوہار سے کلر کہار سب جگہوں پر اب سریا ‘ اینٹیں اور سیمنٹ ٹھوکا جارہا ہے۔ آپ لاہور کے قریب جاتے ہیں تو آپ کو ہزاروں ایکڑ زرعی زمین پر طویل چاردیواری نظرآتی ہے جس پر گھاس ،گندم اور کاٹن کی جگہ اب سریا اور سیمنٹ دھرتی کے سینے میں ڈالا جائے گا ۔ اب لاہور گوجرانوالہ اور شیخوپورہ بھی لاہور کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔ لاہور سے ملتان کی طرف جائیں تو بھی یہ حالت ہے لگتا ہے پورا ملک اب ایک ہائوسنگ سوسائٹی بن گیا ہے۔ ملتان سے بہاولپور روڈ پر گیا تو بھی دیکھ کر دنگ رہ گیا دس برس تک جو ہر طرف کھیت اور سبزہ ہوا کرتا تھا وہاں اب ہر جگہ ہائوسنگ سوسائٹیز تعمیر ہورہی ہیں۔ ہر طرف سبزے اور درختوں کا قتل عام جاری ہے۔ جہاں کہیں کوئی چھائوں یا سبزہ نظر آیا وہیں مافیا نے سرکاری افسروں سے مل کر زرعی زمین خرید کر کدال سے کھدائی کا کام شروع کرا دیا۔ ملتان اور بہاولپور کی بڑی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے وہاں زرعی زمینوں کا استعمال ہوا ہے۔ حیرانی ہوتی ہے ہم کس طرف چل پڑے ہیں۔ ایک اعلیٰ افسر سے گزارش کی کہ خدا کے لیے اپنی پالیسی بدلیں ۔ یہ د و دو تین کنال والے دور ختم کریں۔ کسی جگہ پانچ دس ایکڑ پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر کر کے فلیٹس کلچر شروع کریں۔ بہاولپور میں اب بارہ ہزار ایکڑ پر نیا شہر بنے گا اور اتنا ہی ملتان میں بن رہا ہے جہاں سنا ہے آموں کے باغات کو کاٹ دیا گیا ہے۔ ملتان وہ علاقہ ہے جہاں زیادہ سے زیادہ درختوں کی ضرورت ہے اور وہاں سے درخت، کھیت اور سبزہ ختم کردیا گیا ہے۔ اب بندہ کس سے گلہ کرے جب ساہیوال جیسے زرعی علاقے میں بارہ سو ایکڑ زرعی زمین پر کوئلے کا پلانٹ لگا دیا گیا ۔ سب شور مچاتے رہ گئے یہ ظلم مت کریں۔ اب تو چین نے خود آلودگی کے ہاتھوں تنگ آکر کوئلے کے پلانٹ بند کردیے ہیں اور ہم چین سے وہ پلانٹ اور ان کی بوسیدہ مشینری پاکستانی زرعی زمینوں پر لگا رہے ہیں۔ اگر کوئی سوال اٹھائیں تو آپ سی پیک کے دشمن قرار دیے جاتے ہیں۔ تو پھر قوم بھگتے اس سموگ اور اس سے جڑی خوفناک بیماریوں کو جنہوں نے لاہور اور دیگر علاقوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ 
یہی کچھ اسلام آباد میں بھی شروع ہوگیا ہے۔ جس شہر کی آبادی بیس لاکھ ہے وہاں ایک سو دس غیرقانونی ہائوسنگ سوسائٹیز کام کررہی ہیں۔ اندازہ کریں کتنے ہزار درخت اور جنگل کاٹ دئیے گئے ۔ اکثر کا کام فراڈ کر کے لوگوں کے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک فرار ہونا ہے۔ رہی سہی کسر اسلام آباد کے ٹھیکیدار مئیر نے درختوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کر کے پوری کردی ہے۔ 
سوال یہ ہے لاہور کی یہ حالت کس نے کی ہے؟ میں خود اپنی خالہ کے گھر جو کینال بنک روڈ پر تھا وہاں انیس سو اسی کی دہائی میں جا کر کئی ہفتے رہتا تھا ۔ وہ وہاں سے گلبرگ شفٹ ہوئے تو بھی وہاں انیس سو نوے تک جاتا رہا۔ آج بھی اس خوبصورت لاہور کی یادوں سے دل بھرا ہوا ہے۔ وہ لاہور جہاں میں ہفتوں خالہ کے گھر رہتا تھا اب میں لاہور جائوں تو میری کوشش ہوتی ہے اگر دن میں واپسی مشکل ہے تو رات گزار کر اگلی صبح اسلام آباد نکل آئوں۔ یہ سب کس نے کیا؟ لاہور کو برباد کس نے کیا۔پھولوں، باغوں اور خوبصورت بارشوں کے شہر لاہور کو اس حالت میں کس نے پہنچایا؟جب لاہور میں جاری بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کے نام پر یہ تباہی جاری تھی تو میں اس وقت بھی رولا ڈالتا تھا ۔ شہباز شریف کے ان دس برسوں کی حکومت میں جب بھی لاہور گیا ہر دفعہ کوئی نہ کوئی سڑک اکھاڑ رہے ہوتے ۔ میں اپنے کئی ٹی وی شوز کے کلپس دکھا سکتا ہوں جن میں‘ میں نے کہا تھا ایک دن لاہور کی یہ بے ہنگم ترقی اس کی دشمن بن جائے گی۔ میرا موقف تھا ایک طرف آپ پنجاب کو مزید صوبوں میں تقسیم نہیں کررہے جس سے گورننس تباہ ہورہی ہے، آبادی بے تحاشا بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف سارا پیسہ لاہور میں لگ رہا تھا ۔ اس کا نقصان یہ ہواوہ اضلاع جہاں یہ ترقی نہیں پہنچی اور انہوں نے دیکھا لاہور میں تو بسیں اور ٹرینیں شروع ہورہی ہیں تو وہ کھوتا ریڑھی پر سامان لاد کر لاہور پہنچ گئے۔ رہی سہی کسر نواز شریف اور شہباز شریف نے پوری کردی جب انہوں نے شمالی پنجاب سے لے کر جنوبی پنجاب جا جا کر یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ اگر ترقی دیکھنی ہے تو لاہور جا کر دیکھو۔ اب لاہور میں اب آپ کو باقی اضلاع سے بہت سارے لوگ مزدوری کرتے ملتے ہیں۔ یوں لاہور کے اردگرد کچی بستیاں، رش بڑھنا شروع ہوا ۔ باہر سے آئے لوگوں کو ماحول کو صاف رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ انہیں مزدوری ملنی چاہیے۔ یہی کچھ اسلام آباد اور پنڈی میں ہوا۔ اب یہاں آج کل میں سرائیکیوں اور پشتونوں کو دیکھتا ہوں جو بڑی تعداد میں اپنے اپنے علاقوں سے نکل کر یہاں آئے ہیں کیونکہ انہیں اپنے علاقوں میں وہ سہولتیں نہیں ملیں جو ان کے خیال میں یہاں میسر ہیں۔ یوں ان سب نے جہاں اپنی رہائش کے لیے کچی آبادیاں ڈھونڈ لیں ۔ یہ کام بیوروکریسی کا تھا وہ بڑھتے ہوئے شہروں پر آبادی کے دبائو کے لیے پلان کرتے۔ ان لوگوں کو ان کے علاقوں میں بہتر سہولیات دیتے تاکہ دیہات سے شہروں کو آبادی کا ٹرانسفر روکا جائے۔ لیکن سرکاری زکوٹا جنوں کو ان مسائل کا ادراک ہے نہ دلچسپی۔انہیں دلچسپی یہ تھی انہیں کس پراجیکٹ میں کتنا مال ملے گا۔ کس پی سی ون میں سے کون سی بڑی گاڑی نکالنی ہے اور کتنا الائونس اور بیرون ملک دورے کرنے ہیں۔ 
ایک دن لاہور کو کہا گیا اب کینال روڈ کو بڑا کرنا تھا کیونکہ آبادی بڑھ گئی تھی اورباہر سے لوگ یہاں شفٹ ہوگئے تھے۔ اس کے لیے بڑے پیمانے پر درختوں کا قتل عام ہونا تھا۔ جب قتل عام شروع ہوا اور کچھ لوگوں نے لاہور بچائو تحریک کے نام سے مزاحمت شروع کی تو مزے کی بات ہے لاہور شہر کے ہی بڑے وکیل پنجاب حکومت کے وکیل بن کر سپریم کورٹ پیش ہوئے اور انہوں نے فرمایا جناب یہ سب لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ لاہور کا ماحول تو بہت بہتر ہورہا ہے۔ عدالت نے بڑے وکیل کو دیکھا اور ان کے کہنے پر لاہور بچائو تحریک کی درخواست خارج کر کے حکومت کو اجازت دی گئی کہ وہ درخت کاٹ لے۔
اب وہی بڑے وکیل جنہوں نے سپریم کورٹ میں ماحول بہتر ہونے کا جھوٹ بولا تھا وہ اب ڈر کے مارے لاہور نہیں جاتے جب سے سنا ہے جتنی آلودگی کا تناسب اس وقت لاہور کی فضا میں ہے اس کا مطلب ہے ہر بندہ دن میں چوالیس سگریٹ پی رہا ہے۔میں لاہور کی ترقی کے خلاف نہیں تھا تاہم مجھے صاف نظر آرہا تھا جس طرح شہباز شریف اور ان کے سرکاری زکوٹے جس ترقی کے نام پر شہر کا حشر نشر کررہے تھے وہ جلد یا بدیر بدترین نتائج کا سامنا کرے گا ۔
مجھے ہرگز خوشی نہیں ہے میرے خدشات درست نکلے ۔ الٹا مجھے افسوس ہے میرے اندازے سے بہت پہلے لاہور پر شہباز شریف ماڈل کے وہ تباہ کن اثرات نازل ہوگئے ہیں جن کا مجھے کئی برسوں سے خوف تھا ..!

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved