تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     21-11-2017

وقت کے غلام

اکیسویں صدی کا دوسرا عشرہ ختم ہونے کو ہے۔ دنیا بہت تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے لیکن یہ سفر سب کے لیے نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے، ترقی جنہیں کرنی ہے وہی تو تیزی سے اِس راہ پر گامزن ہوں گے۔ جنہیں ''سکون‘‘ کی زندگی بسرکرنی ہے اُن کی بلا جانے کہ ترقی کہاں، کتنی اور کیوں ہو رہی ہے۔
وقت ہم سب کی زندگی کا جُزوِ لاینفک ہے یعنی یہ نہ ہو تو ہم نہ ہوں۔ وقت جب تک ہے ہم تب تک ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ وقت کی تقسیم کے معاملے میں سب ایک پیج پر ہیں۔ قدرت نے سب کو روزانہ چوبیس گھنٹے فراہم کرنے کا اہتمام کر رکھا ہے۔ کوئی شکایت نہیں کرسکتا کہ اُسے دوسروں سے ایک سیکنڈ بھی کم ملتا ہے۔ اس کے باوجود مسائل ہیں کہ حل بھی نہیں ہوتے اور کم بھی نہیں ہوتے۔ 
مشکل یہ ہے کہ لوگ کام بڑھاتے جاتے ہیں اور یوں وقت کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ تمام مسائل اُس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کام بڑھائے جائیں۔ سب کو یومیہ بنیاد پر دیا جانے والا وقت محدود ہے اور خواہشات و مسائل لامحدود۔ ایسے میں مسائل کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔وقت ہمارے لیے کیا کر سکتا ہے اور کس طرح کر سکتا ہے، اُس کی بھی ایک حد تو بہرحال ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم اپنے کام بڑھاتے جائیں اور وقت ہماری مدد کرتا رہے۔ اُس پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور یوں کام اٹکتے چلے جاتے ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے، وقت پر کام کا دباؤ بڑھاتے رہنے سے اُسے ڈھنگ سے بروئے کار لانا ناممکن ہوتا جاتا ہے اور اِس کے نتیجے میں زندگی کا ہر معاملہ بُری طرح الجھ کر رہ جاتا ہے۔ 
ترقی یافتہ معاشروں نے ثابت کیا ہے کہ وقت کو ڈھنگ سے بروئے کار لاکر زندگی کا معیار اِس قدر بلند کیا جا سکتا ہے کہ پس ماندہ معاشرے دیکھیں تو دیکھتے رہ جائیں، دانتوں تلے انگلی دابنا بھی بھول جائیں۔ ہر ترقی یافتہ معاشرہ وقت کے درست اور بارآور ترین استعمال پر بہت زور دیتا ہے۔ وقت کی پابندی اِس قدر کی جاتی ہے کہ عمومی زندگی مشینی انداز اختیار کرگئی ہے۔ ایک ایک سیکنڈ کی قدر کی جاتی ہے۔ دفتر، فیکٹری یا دکان پر دیر سے پہنچنا انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ مقررہ وقت سے کچھ پہلے ہی پہنچ کر سکون کا سانس لیا جائے۔ معمولات میں غیر معمولی تیزی دکھائی دیتی ہے۔ یہ تیزی اِس لیے ہے کہ سبھی کو وقت کے محدود اور مسائل کے لامحدود ہونے کا شدت سے احساس ہے۔وقت کی اہمیت تسلیم شدہ ہے۔ اِس دنیا میں جو لوگ اپنے دن رات انتہائی بھونڈے طریقے سے ضائع کر رہے ہیں وہ بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ وقت سے بڑی دولت کوئی نہیں اور اُسے کسی بھی حال میں ضائع نہیں کرنا چاہیے! مگر سب کچھ سمجھنے کے باوجود یہ روش ترک نہیں کی جاتی۔ وقت کی اہمیت کا احساس ہونے پر بھی اُسے ڈھنگ سے بروئے کار لانے کی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔ میرزا نوشہ نے ایسی ہی کیفیت کے لیے کہا ہے ؎ 
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد 
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی
مغرب کی ترقی یافتہ دنیا ہو یا مشرق بعید کے تیزی سے پنپتے ہوئے معاشرے، دونوں ہی ماحول‘ وقت کو ممکنہ بہترین انداز سے بروئے کار لانے کے معاملے میں روشن مثال کا درجہ رکھتے ہیں۔ مگر خیر، اس روشنی میں تھوڑی بہت ظلمت بھی چھپی ہوئی ہے!
والٹیئر نے کہا تھا کہ انسان آزاد پیدا ہوتا ہے مگر ہم اُسے ہر جگہ مختلف زنجیروں میں جکڑا ہوا پاتے ہیں۔ انسان کو مرضی کے مطابق عمل کی آزادی سے محروم کرنے والی زنجیریں اور بھی بہت سی ہیں مگر اِن میں ایک زنجیر ایسی ہے جس نے چند مسائل حل کیے ہیں اور دوسرے بہت سے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ اس زنجیر کو ہم وقت کی پابندی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ وقت کی اہمیت کا احساس ایک بڑی نعمت ہے مگر ترقی یافتہ معاشروں کے انسانوں نے اِس نعمت کو اپنے لیے ایک بڑی کال کوٹھڑی میں تبدیل کر لیا ہے۔ وقت کو بہترین انداز سے بروئے کار لانے کا شوق دل و دماغ پر ایسا سوار ہوا ہے کہ اب لوگ وقت کے غلام ہو کر رہ گئے ہیں۔ زندگی کا ہر معاملہ نپا تُلا ہو کر رہ گیا ہے۔ ہر کام کے لیے وقت کا کوٹہ مختص کر دیا گیا ہے۔ نیند بھی حساب سے، گھومنا پھرنا بھی حساب سے۔ کام بھی حساب سے اور آرام بھی حساب سے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں معمولات کا عمیق جائزہ لیجیے تو یہ بات بہت شدت سے محسوس ہوگی کہ تمام ہی معاملات ایک خاص پیمائش کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ وقت کے لامحدود ہونے کی حقیقت کو ذہنوں پر اِس قدر مسلّط کر دیا گیا ہے کہ لوگ ہر کام میں حساب کتاب کے عادی ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس حساب کتاب نے زندگی کو مشینی معاملے میں تبدیل کر دیا ہے۔ 
مغربی معاشروں میں ہر معاملے کو چند حدود و قیود کی نذر کر دیئے جانے پر مرزا تنقید بیگ بھی بہت دل گرفتہ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وقت انسان کے لیے ہوتا ہے، انسان وقت کے لیے نہیں ہوتا۔ ؎ 
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل 
لیکن کبھی کبھی اِسے تنہا بھی چھوڑ دے
مرزا چونکہ سرکاری ملازم رہے ہیں اِس لیے اُنہیں بخوبی اندازہ ہے کہ وقت کی غلامی سے بچنا، بلکہ اُسے اپنا غلام بناکر رکھنا کیا ہوتا ہے! ترقی یافتہ معاشروں میں پائی جانے والی پابندیٔ وقت کے تصور ہی سے انہیں قَے آنے لگتی ہے! گزشتہ دنوں یہ خبر آئی کہ جاپان کے ایک چھوٹے شہر میں ٹرین مقررہ وقت سے بیس سیکنڈ پہلے روانہ ہوگئی جس کے نتیجے میں بہت سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پر متعلقہ وزارت نے عوام سے باضابطہ معذرت کی! مرزا نے یہ خبر پڑھ کر بہت بے مزا ہوئے اور کہا کہ وقت کا اِس قدر حساب کتاب رکھنا اپنے آپ کو اُس کی غلامی میں دینے کی بدترین مثال ہے! 
1960 کے عشرے کی کامیاب ترین فلموں میں ''وقت‘‘ بھی شامل ہے۔ سُنیل دت، راج کمار اور ششی کپور کی اس فلم کے گیت ساحرؔ لدھیانوی نے قلم بند کیے تھے۔ محمد رفیع مرحوم کی آواز میں ریکارڈ کیے جانے والے فلم کے تھیم سانگ میں ساحرؔ نے کہا تھا ؎ 
وقت سے دن اور رات، وقت سے کل اور آج
وقت کی ہر شے غلام، وقت کا ہر شے پہ راج
وقت کی پابند ہیں آتی جاتی رونقیں
وقت ہے پھولوں کی سیج، وقت ہے کانٹوں کا تاج
وقت کی گردش سے ہے چاند تاروں کا نظام
وقت کے پابند ہیں کیا حکومت، کیا سماج
آدمی کو چاہیے وقت سے ڈر کر کہے
کون جانے کس گھڑی وقت کا بدلے مزاج
مرزا کہتے ہیں ''ساحرؔ لدھیانوی نے انسان کو وقت سے اِس طرح ڈرایا ہے کہ وہ گھبراکر کسی بھی معاملے سے لطف اندوز ہونا ہی چھوڑ دے! پاکستانی معاشرے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وقت کو جبر ڈھانے سے کس طرح روکا جاسکتا ہے! ایسی ترقی سے ہم باز آئے جو انسان کی آزادی کو وقت کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونے پر مجبور کردے!‘‘
ہم نے وقت کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ ع
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
مگر خیر، جو وقت کے غلام ہوکر رہ گئے ہیں اُن کا معاملہ بھی سچ ہے اور رسوائی ہی کا ہے! ''صد شکر‘‘ کہ زندگی کے میلے میں ابھی بہت سے تماشے برقرار ہیں یعنی ہم اِدھر اُدھر کی بہت سی دل کش راہوں میں بھٹک رہے ہیں اور وقت کی غلامی بہت دور کی منزل ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved