تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     28-11-2017

سرخیاں‘ متن اور شاعری

فیض آباد آپریشن میری نگرانی میں نہیں ہوا: احسن اقبال
وزیر داخلہ پاکستان پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''فیض آباد آپریشن میری نگرانی میں نہیں ہوا‘‘ اور میں اب تک حیران ہوں کہ کس کی نگرانی میں ہوتا رہا حالانکہ وزیر داخلہ میں ہوں لیکن اگر رینجرز کا ایک سپاہی میری حکم عدولی کر سکتاہے تو فیض آباد آپریشن پر بھی نگرانی‘ میری بجائے کوئی اور کر سکتا ہے۔ آخر اس ملک کا کیا بنے گا؟ انہوں نے کہا کہ ''ڈی سی اور آئی جی نے عدالتی حکم پر کارروائی کی‘‘ اس لیے میرا نام ہر گز نہ لگایا جائے اور میرے خلاف سازشوں کا یہ سلسلہ بند کیا جائے جبکہ پہلے میرے قائد کو سازش کر کے نااہل کروا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ''آج عدالت میں اپنا مؤقف پیش کروں گا‘‘ اور چونکہ راستے بھی بند ہیں اس لیے شاید عدالت میں بھی وقت پر نہ پہنچ سکوں۔ انہوں نے کہا کہ ''نثار کی باتوں کا جواب نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ میں ایک سابق وزیر داخلہ کی باتوں کا جواب دینا اپنی توہین سمجھتا ہوں جو دھرنے کے حوالے سے پہلے ہی کافی ہو چکی ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں آن لائن گفتگو کر رہے تھے۔
سندھ میں کرپشن لوگوں نے فنکشنل لیگ سے سیکھی: منظور وسان
صوبائی وزیر صنعت سندھ منظور وسان نے کہا ہے کہ ''سندھ میں کرپشن لوگوں نے فنکشنل لیگ سے سیکھی‘‘ جبکہ ہمارے جملہ زعماء جناب آصف علی زرداری سمیت سب حیران ہیں کہ کرپشن آخر چیز کیا ہے اور لوگ یہ کیسے کر لیتے ہیں اور اس پیسے کا کرتے کیا ہیں‘ کیسا زمانہ آ گیا ہے! انہوں نے کہا کہ ''سکھر جلسہ تیسری قوت کے سہارے کیا گیا‘‘ اس لیے اس تیسری قوت کے ساتھ بھی نمٹنا پڑے گا اور اس بار اینٹ سے اینٹ بجانے کا فیصلہ واپس نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ''یہ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس نہیں بلکہ مشرف الائنس ہے‘‘ اور اگر پہلے پتا ہوتا کہ وہ ملک سے جا کر اس طرح کی حرکتیں کریں گے تو انہیں ہم 21 توپوں کی سلامی کبھی نہیں دیتے بلکہ دو تین گولے ہی کافی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ''مشرف الائنس پہلے سے بھی کم سیٹیں لے گا‘‘ بلکہ عمران خان کی نحوست کی وجہ سے ہمیں بھی اپنی سیٹوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ آپ اگلے روز کراچی میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
قائداعظم کے بعد بھٹو سے بڑا لیڈر نہیں آیا: یوسف رضا گیلانی
سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سیّد یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ''قائداعظم کے بعد بھٹو سے بڑا لیڈر کوئی نہیں آیا‘‘ البتہ میں بنتے بنتے رہ گیا تھا کیونکہ عین وقت پر مجھے نااہل کر دیا گیا حالانکہ میں مالی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے ایم بی بی ایس ہونے کی بنا پر ان کاعلاج معالجہ بھی کر رہا تھا۔ تاہم امید ہے کہ اس بار اقتدار ملا تو میں قائداعظم تو نہیں البتہ بھٹو سے بڑا لیڈر بن کر دکھا دوں گا کیونکہ اگر قائداعظم سے بڑا لیڈر بن بھی گیا تو یہ جاہل قوم تسلیم ہی نہیں کرے گی جبکہ میاں نواز شریف بھی جوں توں کر کے قائداعظم ثانی ہی کے رتبے پر پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''پیپلز پارٹی غریبوں‘ کسانوں اور مزدوروں کی جماعت ہے‘‘ کیونکہ ساری جماعت اقتدار سے اترنے کے بعد غریب بلکہ مزدوروں سے بھی بدتر ہو گئی ہے بلکہ ہمیں تو زکوٰۃ بھی لگنے لگی ہے۔ آپ اگلے روز کوٹھے والا میں ایک کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔
اور اب جریدہ ''نقاط‘‘ میں سے کچھ بقایا منتخب اشعار:
کچھ بھٹکے ہوئے لوگ نظر آتے ہیں آگے
رہبر نہ کوئی راہگزر کوئی نہیں ہے
چارپائی پہ ڈال کر مٹی
اک بچھونے کی ابتدا کی ہے
............
چل دئیے آپ کچھ بتائے بغیر
زندگی بھر وہیں رہا تھا میں 
(فیضی)
خدا کرے نہ کوئی ان میں نامہ بر نکلے
کہ جو پرند میں کر کے شکار لایا ہوں
مرے عزیز زمانہ رکا ہوا ہے جہاں
میں اس جگہ سے بھی خود کو گزار لایا ہوں
............
دیا جلا کے پریشان ہو گیا ہوں میں
یہ گھر تو اور بھی تاریک لگ رہا ہے مجھے
تمہاری طرزِ پذیرائی کا جواب نہیں
یہ میرا حق ہے مگر بھیک لگ رہا ہے مجھے
............
خدا کرے وہ کسی روز گھر پہنچ جائیں
کہ گھر سے روز جو گھر کے لئے نکلتے ہیں
وہ کون لوگ ہیں تاریکیاں اٹھائے ہوئے
ستارے جن کی خبر کے لیے نکلتے ہیں
ایک دریا نہ بن سکا مجھ سے
دو کنارے بنا لیے میں نے
............
معلوم کچھ نہیں کہ مجھے دیر کیوں ہوئی
میرے سوا تو کوئی نہیں تھا قطار میں
............
ڈوب بھی سکتے ہیں یہ سطح پہ رہنے والے
ان سے باتیں نہ کیا کیجئے گہرائی کی
(کاشف حسین غائر)
ہر بنی بات نہ بننے سے بنی ہے میری
کارِ دنیا بھی مجھے کارِ زیاں سے آیا
............
اس آسرے نے تو کمزور کر دیا ہے مجھے
کہ میرا ضعف مرا حوصلہ بڑھا رہا تھا
جو لگ رہا تھا بظاہر کہیں نہیں جاتا
وہ راستہ بھی تو آخر کہیں کو جا رہا تھا
(میاں آفتاب احمد)
(جاری )
آج کا مقطع
بظاہر مرے ہونٹ ہیں‘ اے ظفرؔ
لگا‘ اصل میں منہ پہ تالا ہے یہ

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved