تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     29-11-2017

حقیقت پسندانہ تجزیہ

عصری معاشروں میں بشمول ہمارے معاشرے کے‘ تعصب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہم حالات کا درست تجزیہ کرنے کی بجائے‘ عام طور پر ہر بدلتی صورتحال کو پسند اور ناپسند کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ صورتحال کا درست تجزیہ کیے بغیر اصلاح احوال کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران فیض آباد دھرنے کے حوالے سے مختلف طرح کی آراء سننے کو ملتی رہیں۔ کوئی اس دھرنے کے شرکا کو نظریاتی اور کو ئی اس کو کسی کے اشاروں پر دیا ہوا دھرنا قرار دیتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعد ازاں دھرنے کے منتشر ہونے کے حوالے سے بھی مختلف طرح کی باتیں کی جاتی رہیں۔ صورتحال کا درست تجزیہ کرنے کے لیے ختم نبوت کے ترمیمی بل کے پسِ منظر اور ترمیمی بل پیش کیے جانے کے بعد والے حالات پر غور کرنا ضروری ہے۔
تحریکِ ختم نبوتﷺ کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں آئین میں ختم نبوتﷺ کے حوالے سے معاملات بالکل واضح کر دیئے گئے تھے اور بعد ا زاں جنرل ضیاء الحق مرحوم نے بھی امتناع قادیانیت کے حوالے سے آئین میں ایسی شقیں شامل کر دیں کہ جن کے نتیجے میں ختم نبوتﷺ کا کوئی بھی منکر شعائر اسلام کو استعمال کرنے پر قانون شکنی کا مرتکب اور سزا کا مستحق قرار پاتا تھا۔ جب بھی کبھی پاکستان کے مذہبی رہنماؤں اور طبقات نے محسوس کیا کہ حکمران بیرونی دباؤ یا مغرب نواز این جی اوز کی ایما پر ناموس رسالتﷺ اور ختم نبوتﷺ سے متعلق قوانین میں ترمیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ تو مذہبی رہنماؤں نے اپنی بساط کے مطابق فی الفور اس پر بھرپور طریقے سے آواز اُٹھائی اور مغرب نواز طبقے کی خواہشات کبھی بھی پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکیں۔ چنانچہ جب سابق گورنر پنجاب نے آسیہ کیس کے موقع پر حرمت رسالتﷺ سے متعلق قانون 295(C) پر تنقید کی تو وہ اپنے ہی گارڈ کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ ملک بھر کے بیشتر مذہبی طبقات نے اس قتل کا سبب سابقہ گورنر کے اپنے بیانات کو قرار دیا اور ممتاز قادری کی حرمت رسولﷺ سے وابستگی کے سبب انہیں مجرم تسلیم نہ کیا۔ لیکن ایک فیصلے کے ذریعے انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ جس کی وجہ سے ملک بھر میں غم وغصے اور تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی اور یہ تاثر ابھرا کہ حرمت رسولﷺ کے حوالے سے حکمرانوں کا طرز عمل متوازن اور مناسب نہیں۔ بعد ازاں اسی دورِ حکومت میں نیشنل فزکس سنٹر کے نام کو ایک متنازع شخصیت کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ مذہبی طبقات نے بڑے واضح انداز میں حکومت سے سنٹر کے نام کی تبدیلی کا مطالبہ کیا لیکن حکومت نے اس حوالے سے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا۔ اسی دورِ حکومت میں بعض بلاگرز نے پاکستان میں ایسے پیجز کو چلایا جن پر نبی کریمﷺ کی توہین کی گئی تھی۔ حکمرانوں نے بلاگرز کے خلاف بھی بروقت اقدامات نہ کیے اور ملک بھر میں ہونے والے جلسے، جلوسوں اور آل پارٹیر کانفرنسز کو نظر انداز کرکے اُمت مسلمہ کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کبھی اس بات کو محسوس کیا گیا کہ ختم نبوت کے منکروں کے لیے نرمی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اپنے مکتبِ فکر کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ختم نبوتﷺ کے دفاع کے لیے متحد ہو گئے۔ چنانچہ جب پرویز مشرف کے دور میں مذہب کے خانے کو پاسپورٹ سے نکالا گیا تو ملک میں ایک تحریک بپا ہو گئی۔ بعد ازاں جنرل پرویز مشرف نے مذہبی طبقات کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے‘ حالات کے بگڑنے سے پہلے پہلے‘ اپنی غلطی تسلیم کر کے مذہب کے خانے کو دوبارہ پاسپورٹ میں بحال کر دیا۔ حالیہ دور میں ممتاز قادری، بلاگرز اور نیشنل فزکس سنٹر کا نام ایک متنازع شخصیت کے نام پر رکھنے کے بعد جس وقت یہ بات منظر عام پر آئی کہ شق 62،63 میں نااہل شخص کو پارٹی کا سربراہ بنانے کے لیے ترمیم کی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ ختم نبوتﷺ کے متعلق شقوں پر بھی طبع آزمائی کی گئی۔ تو ملک بھر میں ایک اشتعال کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ قومی اسمبلی میں شیخ رشید صاحب نے ایک جذباتی اور بھرپور تقریر کے ذریعے جب اس امر کی نشاندہی کی تو ابتدائی طور پر حکومت اس بات کو تسلیم کرنے پر آمادہ و تیار نہ ہوئی اور حلف نامے اور اقرار نامے کو ہم معنی قرار دے کر عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن بتدریج مذہبی طبقات اس حقیقت کو بھانپ گئے کہ حکومت اس مسئلے میں غلط بیانی سے کام لے رہی ہے اور صرف حلف نامے کوا قرار نامے میں تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ الیکٹورل رول سے متعلقہ شقوں 7B اور 7C کو بھی حذف کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ ملک بھر میں اجتماعات اور کانفرنسوں کا انعقاد ہوا جن میں حلف نامے کو اقرار نامے میں تبدیل کرنے کے نکتے پر خصوصیت سے زور دیا گیا۔ اس مطالبے کو عوام الناس کی مکمل تائید حاصل ہونے کی وجہ سے حکومت نے تسلیم کر لیا اور ساتھ ہی عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اس بات کا بھی اعلان کر دیا گیا کہ راجا ظفر الحق کی سربراہی میں ایک کمیٹی کو قائم کیا جائے گا جو اس واقعہ کے ذمہ داران کو بے نقاب کرے گی اور بعد ازاں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ حکومتیں عوامی دباؤ سے نکلنے کے لیے تاخیری حربے استعمال کرتی ہیں، اس مسئلے میں بھی کچھ یہی رویہ اپنایا گیا۔
اس حوالے سے حکومتی اراکین کا یہ گمان تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال تبدیل ہو جائے گی اور عوام اس مسئلے کو فراموش کر دیں گے۔ اس حوالے سے ہونے والے احتجاجی جلسے، جلوسوں کو روزمرہ کی کارروائی سمجھ کر نظرانداز کر دیا گیا۔ اسی مؤقف کو جب فیض آباد کے دھرنے میں دوبارہ اُٹھایا گیا تو حکومت کا یہ گمان تھا کہ چند ہزار افراد کا یہ مطالبہ شاید وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مدہم پڑ جائے لیکن جب دھرنے کے شرکا اپنے مطالبے پر پوری طرح کاربند رہے تو حکومت نے اس مسئلے کی حساسیت کو سمجھنے میں غلطی کرتے ہوئے دھرنے کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی جس پر ملک بھر میں بڑے پیمانے پر اجتماعات، مظاہرے اور دھرنے شروع ہو گئے۔ چنانچہ حکومت یہ سمجھ گئی کہ دھرنے کے شرکا کو قوت کے ذریعے منتشر کرنا یقینا ایک غلط فیصلہ تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی ایک صاحب فہم وفراست اور حرمت رسول اللہﷺ کے حوالے سے حساسیت رکھنے والے انسان ہیں اور اس مسئلے میں بھی خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں لیکن اس دھرنے کے نتیجے میں عوام کی روزمرہ کی نقل وحرکت پر پڑنے والے اثرات کے سبب جسٹس صاحب نے بھی دھرنے کے بارے میں سخت احکامات جاری کیے جن پر عمل کروانا کسی بھی طورپر انتظامیہ کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ انتظامیہ نے حکومت کی مشاورت کے ساتھ فوج کے پاس ایک سمری بھیجی جس میں بگڑتے ہوئے حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔ فوج نے اس موقع عوامی جذبات اور ملک میں پھیلی ہوئی اشتعال انگیزی کو سامنے رکھتے ہوئے آپریشن سے معذوری کا اظہار کیا۔ اس ساری صورتحال سے گمان کیا جا رہا تھا کہ کشیدگی کے سبب آنے والے دنوں میں تصاد م کئی جہتوں میں پھیل سکتا ہے۔ چنانچہ معاشرے کے سنجیدہ طبقات اس حوالے سے بہت زیادہ دباؤ اور پریشانی کا شکار تھے۔ دھرنے کے شرکا نے بھی آنسو گیس، شیلنگ اور اس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے بعد وزیر قانون کے استعفیٰ کے ساتھ ساتھ پوری کابینہ کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ اس مطالبے کی وجہ سے ملک میں ڈیڈ لاک کا شدید اندیشہ پیدا ہو چکا تھا۔ سیکورٹی اداروں نے معاملے کی حساسیت کو بھانپتے ہوئے حکومت کی سمری کی روشنی میں مثبت کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور دھرنے کے شرکا سے اس بات کی اپیل کی کہ وہ ملکی صورتحال پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور اپنے اصولی مطالبات کو بڑھانے کی بجائے انہی پر کاربند رہیں۔ حکومت کو بھی اس سلسلے میں قائل کرنے کی کوشش کی گئی جو الحمدللہ کامیاب ہوئی اور ملک ڈیڈ لاک کی کیفیت سے باہر نکل آیا۔ 
دھرنے کے شرکا کے مطالبے کے نتیجے میں وفاقی قانون زاہد حامد مستعفی ہو گئے اور دھرنے کے شرکا پر قائم مقدمات اور گرفتاریوں کو بھی ختم کر دیا گیا۔ اس مفاہمت پر پورے ملک میں اطمینان کا اظہار کیا گیا اور یہ توقع ظاہر کی گئی کہ آئندہ کے بعد ناموس رسالتﷺ اور ختم نبوتﷺ جیسے قوانین کے خلاف کسی قسم کی کوئی سازش نہیں کی جائے گی۔ دھرنے کے شرکا کے مطالبات میں راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ کا سامنے آنا اور مجرموں کے ظاہر ہونے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا بھی شامل ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ بعض عناصر اس بگڑتی ہوئی صورتحال کے بعد قائم ہونے والے امن پر مطمئن ہونے کی بجائے اپنی اپنی گروہی عصبیت اور انانیت کے سبب کبھی فوج اور کبھی دھرنا دینے والی جماعت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر فوج نے جس کردار کا مظاہرہ کیا اور دھرنے پر ہونے والے تشدد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے حوالے سے دھرنے کے قائد اور شرکا نے جس سنجیدگی اور متانت کا مظاہرہ کیا، یقینا وہ لائق ستائش ہے اور اس معاملے کے تانے بانے کسی سازش سے جوڑنے والے عناصرکو اس امر پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر خدا نخواستہ افواج پاکستان یا سکیورٹی ادارے اس مسئلے میں ضامن کا کردار اد انہ کرتے تو ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قا بو پانا حکومت کے لیے ممکن نہ رہا تھا۔ اس موقع پر ہمیں جماعتی مفاد کی بجائے ملّی مفاد کو اہمیت دینی چاہیے اور ملک کے ڈیڈ لاک کی کیفیت سے باہر نکلنے پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved