تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     06-12-2017

کسی کسی کو خدا یہ ’’کمال‘‘ دیتا ہے

یہ معاملہ یک نہ شد دو شد والا ہے۔ اب تک تو یہ تھا کہ امریکی پالیسیاں حیران و پریشان رکھتی تھیں۔ پالیسیوں کے شدید منفی اثرات زیادہ محسوس نہ ہوں اِس کا اہتمام امریکی صدور کیا کرتے تھے۔ ''گڑ نہ دو گڑ جیسی بات تو کرو‘‘ والے مشورے، تجویز یا استدعا پر عمل کرتے امریکی صدور گفتگو کا ایسا انداز اختیار کرتے آئے ہیں کہ دنیا بھر میں لوگ اُن کی میٹھی باتوں کا اثر قبول کرکے امریکی پالیسیوں کی تلخی تھوڑی کم محسوس کرتے رہے ہیں۔ خیر، یہ امریکی ایوان صدر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ''قدومِ میمنت لُزوم‘‘ پڑنے سے پہلے کا قصہ ہے۔ ع 
... اب کے نظر آتے ہیں کچھ آثار جُدا 
ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے وائٹ ہاؤس میں قدم رکھا ہے دنیا بھر میں لوگوں کی حیرانی و پریشانی بڑھ گئی ہے۔ پریشانی یوں بڑھی ہے کہ امریکی پالیسیوں اور امریکی صدر میں پہلی بار ''مسابقت‘‘ کی فضاء پیدا ہوئی ہے۔ طے نہیں ہو پارہا کہ امریکی پالیسیاں زیادہ بے ڈھنگی ہیں یا امریکی صدر! 
صدر ٹرمپ کی باتوں اور حرکتوں سے دنیا بھر میں لوگ جس قدر پریشان ہیں اُس سے کہیں زیادہ پریشان، بلکہ بے حواس امریکا میں نفسیاتی امور کے ماہرین ہیں۔ وہ ابھی تک یہ بھی طے نہیں کرسکے ہیں کہ ٹرمپ کو نفسیاتی امراض کے کون سے درجے میں رکھیں! وہ ابھی کچھ سوچ اور طے کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ امریکی صدر کچھ نہ کچھ ایسا کر گزرتے ہیں کہ نئے سِرے سے سوچنا اور فیصلہ تبدیل کرنا لازم ٹھہرتا ہے۔ 
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گزارے ہوئے گیارہ ماہ کے دوران ایسی ''شاندار‘‘ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے کہ لوگ سمجھ نہیں پارہے کہ اپنا سَر پیٹیں یا اُن کا۔ ویسے اس معاملے میں سوچنے اور سمجھنے کی کچھ خاص ضرورت ہے نہیں کیونکہ ٹرمپ دوسروں کی آسانی کے لیے ''بھنڈ‘‘ بھی ایسے بھونڈے انداز سے کرتے ہیں کہ اُن کا سَر پیٹنے کے سِوا چارہ نہیں رہتا! 
محض ایک سال سے بھی مدت کے دوران صدر ٹرمپ نے اپنے کور سرکل میں اتنی تبدیلیاں کی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے یہ سرکل کام کیسے کر رہا ہے۔ امریکی صدارتی انتخاب میں روس کی تکنیکی مداخلت اور دیگر بہت سے امور میں اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں اور کئی اہم عہدیداروں کو ہٹنا پڑا ہے۔ جو گئے وہ اب تک سوچ سوچ کر پریشان ہیں کہ نکلے تو کیوں نکلے۔ اور جو تاحال فیصلہ ساز گلیاروں میں بھٹک رہے ہیں وہ گو مگو کے عالم میں ہیں کہ ع 
نہ جانے کون سا پل موت کی امانت ہو 
ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ ترین اعلان یہ ہے کہ انہوں نے ایک پیغام تیار کیا اور برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کو ٹویٹ کرتے وقت شدید لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے برطانیہ کی ایک اور خاتون تھریسا اسکرائوینر کو ٹویٹ کردیا! اس پیغام میں برطانوی وزیر اعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا گیا کہ مجھ پر توجہ دینے کے بجائے برطانیہ میں تیزی سے جڑ پکڑتی ہوئی مذہبی شدت پسندی و انقلاب پسندی پر توجہ دیجیے۔ اور یہ کہ ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ بالکل درست ہے۔ تھریسا اسکرائیوینر سخت بے مزا ہوئیں اور امریکی ایوان صدر سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا۔ 
بزرگ شاعر اعجازؔ رحمانی کہتے ہیں ؎ 
وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے 
کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے 
جو کچھ ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں اُسے کماحقہ بیان کرنے کے لیے محترم اعجازؔ رحمانی کے شعر میں تھوڑا تصرّف کرنا پڑے گا یعنی یہ کہ ؎ 
وہ بات بات پہ حیرت میں ڈال دیتا ہے 
کسی کسی کو خدا یہ ''کمال‘‘ دیتا ہے! 
آپ نے ''بھائی بُھلکّڑ‘‘ والی مشہور نظم پڑھی یا سُنی ہوگی۔ اس نظم میں مذکور ہے کہ جوتا ہے تو موزہ غائب، پیالی میں ہے چمچہ غائب، راہ چلیں تو رستہ بھولیں وغیرہ وغیرہ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی کچھ ایسا ہی احوال ہے۔ ایک تو بُھلکّڑ پن اور اُس پر بے حواسی، بلکہ حواس کے حوالے سے شدید بے نیازی! کئی مواقع پر اُن کی عجیب و غریب حرکتوں نے ماحول کو یا تو زعفران زار بنادیا یا پھر متعلقین ایسے بے مزا ہوئے کہ اُن کے نزدیک آنے سے بھی کترانے لگے! حال ہی میں ایک عالمی سربراہ کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے ہاتھوں کی زنجیر بنانے کے مرحلے میں ایسا بھونڈا پن دکھایا کہ لوگ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئے۔ ایک سربراہِ مملکت کے دونوں ہاتھ اُنہوں نے پکڑ لیے! وہ غریب سٹپٹا گیا۔ یہ بات تو شاید اُس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگی کہ دنیا کی طاقتور ترین ریاست کا سربراہِ مملکت اس نوع کے عدمِ تدبّر کا مظاہرہ کرے گا۔ دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت و حکومت اور حکام کو یاد رکھنا چاہیے کہ اُنہیں ابھی مزید تین سال تک اِس نوع کے بہت سے تماشے دیکھنے ہی نہیں، جھیلنے بھی ہیں۔ 
ڈونلڈ ٹرمپ کب کیا کر گزریں، کچھ اندازہ نہیں ہو پاتا۔ ہوسکتا ہے خود اُنہیں بھی اندازہ نہ ہو پاتا ہو۔ نفسیات کے امریکی ماہرین کی مشکل ہم آسان کیے دیتے ہیں۔ درجہ بندی کے مرحلے میں وہ زیادہ الجھن، ہچکچاہٹ اور تردّد کا شکار نہ ہوں۔ اگر معاملہ سمجھ میں نہیں آرہا تو کوئی بات نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے وہ نئی کیٹیگری بنالیں یعنی اُنہیں بہت آسانی سے RANDOM BOY قرار دیا جاسکتا ہے! اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ طے نہیں کہ وہ کب کیا کر گزریں۔ 
امریکی صدر کو خدا نے وہ ''کمال‘‘ بخشا ہے کہ جب بھی عالمی سیاسی مے کدے میں قدم رنجہ فرماتے ہیں، سارے کے سارے مے خوار سنبھل کر بیٹھ جاتے ہیں کہ خدا جانے اب اور کتنا خوار ہونا پڑے! ڈونلڈ ٹرمپ جب جام لُنڈھانے پر آتے ہیں تو حماقت اور بے حواسی کا دریا بہا دیتے ہیں۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ کون سا ریلا کس طرف جا نکلے اور کس کس کو اپنے ساتھ بہا لے جائے۔ کسی بھی بین الاقوامی کانفرنس یا اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ جو کیفیت پیدا کرکے دم لیتے ہیں اُسے دیکھتے ہوئے کسی اُستاد کا شعر یاد آجاتا ہے ؎ 
مے خانے میں زاہد سے کوئی چُوک ہوئی ہے 
جانے کے قدم اور تھے، آنے کے قدم اور! 
امریکا کے بارے میں سوچنے اور لکھنے والوں نے خدا جانے کیا کیا سوچا اور لکھا ہے۔ سب اپنے طور پر ایک اندازہ قائم کرتے ہیں اور پھر اُس اندازے کے حوالے سے اپنی سوچ پر لاحول پڑھتے ہوئے کچھ الگ سے سوچنے کی کوشش کرتے ہیں مگر امریکا کو سمجھنے اور بیان کرنے کا حق پھر بھی بیان نہیں ہو پاتا۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ امریکا کی مثال کسی بھرے پُرے کمرے میں بیٹھے ہوئے بڑے حجم کے کُتّے کی سی ہے۔ اشیاء بہت زیادہ ہیں اور اُس کے بیٹھنے کی گنجائش برائے نام۔ ایسے میں وہ دم بھی ہلاتا ہے تو کچھ نہ کچھ توڑ دیتا ہے۔ ٹرمپ نے بھی عالمی سیاست کے بھرے پُرے کمرے میں کچھ نہ کچھ توڑتے رہنے کی قسم کھا رکھی ہے! کچھ مدت سے وہ خود کو 
A BULL IN THE CHINA SHOP 
ثابت کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ دیکھیے، عقل کو دنگ کرنے والے ''کمالات‘‘ کا سلسلہ کب تک جاری رہتا ہے اور کتنے لوگ کب تک تاب لا پاتے ہیں۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved