تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     09-03-2013

نعیم کوہلی کی پنجابی شاعری

ہمارے دوست ڈاکٹر نعیم کوہلی ان لوگوں میں شامل ہیں جو امریکہ گئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شعر کہتے ہیں۔ ان کا اردو مجموعۂ کلام ’’نہ آپ ہوتے نہ خواب ہوتے‘‘ کچھ عرصہ پہلے شائع ہو کر اہل فن سے داد وصول کر چکا ہے۔ اب ان کی پنجابی نظموں کا مسودہ ’’شام توں پہلے آئیاں راتاں‘‘ میرے پیش نظر ہے جو میری خاص فرمائش پر انہوں نے بھجوایا ہے اور انشا اللہ اسی سال زیورِ طبع سے آراستہ بھی ہوگا اور جس کا ان کے مداحین کو شدت سے انتظار رہے گا۔ ڈاکٹری کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی دھومیں مچانا بظاہر سمجھ میں آنے والی چیز نہیں ہے تاہم ابرار احمد، وحید احمد اور جاوید انور نے اسے ممکن بنا کر پڑھنے والوں کی اکثریت کو حیران بھی کر رکھا ہے اور اگر تھوڑی بہت کسر اس ضمن میں رہ گئی تھی تو وہ نعیم کوہلی نے پوری کر دی ہے۔ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی ترسیلات کا اہتمام تو کرتے ہی ہیں، ان میں سے بعض حضرات کی طرف سے شاعر کی درآمد برآمد بھی جاری رہتی ہے جن میں احمد مشتاق، آفتاب حسین، افضال نوید اور طاہر اسلم گورا وغیرہ بطور خاص شامل ہیں۔ پنجابی میں استقامت کے ساتھ شعر کہنا بجائے خود ایک قربانی کا مظہر ہے کیونکہ اس کے پڑھنے والے بھی خال خال ہیں اور لکھنے والے بھی اس لیے کہ یہاں پر اس صوبے کی ماں بولی کی ترویج ہی کا اہتمام نہیں کیا گیا اور جو اپنے پورے زور اور طاقت کے باوجود پسماندگی کا شکار ہے۔ پنجابی نظم و نثر پڑھنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ ابھی تک اس کے سکرپٹ ہی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا جس میں سرکار کے ساتھ ساتھ ہم سب کی اپنی بے اعتنائی بھی شامل ہے؛ چنانچہ یہاں سے نہ کوئی باقاعدہ پنجابی اخبار شائع ہوتا ہے نہ ادبی رسالہ۔جو چھپتا ہے وہ بھی کبھی کبھار ہی نظر آتا ہے۔ حالانکہ حق تو یہ ہے کہ دوسری صوبائی زبانوں کی طرح اسے بھی پرائمری ہی سے ذریعہ تعلیم بنایا جائے، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ چنانچہ ایسا لگتا ہے کہ اس زبان کی املائی مشکلات ہی کے پیشِ نظر نعیم کوہلی نے نسبتاً آسان ذریعہ اظہار کا انتخاب کیا ہے اور اپنی شاعری کو بھاری اور ثقیل نہیں ہونے دیا بلکہ موضوعات بھی پیچیدہ ہونے کی بجائے زندگی سے جُڑے ہوئے اور آسان فہم ہیں کیونکہ پنجابی میں کم اور اردو شاعری میں پیچیدگی اور مشکل پسندی کا رواج زیادہ ہو گیا ہے چنانچہ غزل تو پھر بھی چل جاتی ہے، نظم کا قاری شاید اس خصوصیت کے باعث کمی کا شکار ہو رہا ہے کیونکہ ہمارے ہاں غزل کا تربیت یافتہ قاری نظم سے بھی غزل ہی کی طرح سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کرتا اور بالعموم ناکام رہتا ہے۔ نعیم کوہلی نے حسبِ قاعدہ اور روایت کے مطابق اپنی نظموں کے عنوان بھی دیے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عنوان دینا اس کے معانی اور سکوپ کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ اسی لیے میں، ان کی جو نظمیں یہاں درج کروں گا وہ عنوان کے بغیر ہی ہوں گی۔ علاوہ ازیں، ایک بات یہ بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اُس نے جو زبان استعمال کی وہ خالص شہری زبان ہے اور کسی حد تک اردو آمیز بھی۔ اور جہاں تک میرا خیال ہے جہاں پنجابی لفظ دستیاب ہو وہاں اردو لفظ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح پنجابی کا خالص پن بھی متاثر ہوتا ہے اور چونکہ ہم بچپن ہی سے یہ زبان بولتے چلے آئے ہیں اس لیے ٹھیٹھ الفاظ کی کمی کا ہمیں سامنا کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ اب اس کی کچھ نظمیں دیکھیے: شہر ترا میں چھڈّیا مٹی گھٹّا چھّٹ کے جویں مچھّی پرتدی آخر پتھّر چٹّ کے ……………… میں تاں ربّا ہاڑے کردا، حشر دیہاڑا آوے خورے اوس دیہاڑے سانوں سُکھ دا ساہ آ جاوے ……………… کیہ جینا اوس عاشق دا جیہڑا جِتّ کے وی ہر جائے یار تے آوے باہواں اندر، ساہواں وچ نہ آئے ……………… یاریاں وی اج کل چھولیا دا وڈّھ اے کریئے وِساہ جیہدا، اوہو وڈّا ٹھّگ اے ……………… سانوں سخر دوپہراں لُٹیا، اسیں بھری جوانی موئے سانوں بھائیاں لارا ماریا ساڈے چار چفیرے ٹوئے اساں بِیجی کنک امان دی ہوئے گوڈے گوڈے سوئے جیوں جیوں وڈّھے چھانٹ کے، تیوں تیوں دونے ہوئے نہ مِٹیا متھّے لکھیا، جا ندّیاں لیکھ وی دھوئے تقصیراں معاف نہ ہوئیاں ہنجُو لکّھ مُصّلے دھوئے کیہ جینا اوس کمین دا رب جیہدے نال نہ ہوئے سب آس اُمیداں ٹُٹیاں، جو ہونا سو ہُن ہوئے اسیں بھری جوانی موئے ……………… ڈِگریاں ڈھہیندیاں عمراں لنگھیاں، سَدّھراں روہڑیاں شوہ دریاواں چار چفیرے بھانبڑ اگ دے، میتھوں ڈرے میرا پرچھاواں دل کردا کسے حُجرے اندر کھچ کے سُوٹا لاواں اللہ ہُو دی دُھونی دُھخیے، گھُٹ کے ساہ مرجاواں ……………… سڑکے تُے لک ماہیا جہیدے اگّے لپ رویئے اوہ روندا اے بُک ماہیا ……………… اُڈ پُڈ جانیا، مکئی دے دانیا، پردیسیا نمانیا پردیس دی گل، پردیس وچ رہن دے میری ہُن گل سُن، مینوں کجھ کہن دے جُھل کے جوانی آئی، روکیاں نہ رُکدی ڈُلھ ڈُلھ جاندے بیر، کُبّی ہو کے چُکدی آپنیاں میں گلّہاں آپ کیویں چُمدی جے ہووے کھٹنا تے ہتھوں وی گوانا پیندا اک واری ہس لیّے دو واری رونا پیندا ایہہ دیس اپنا اے، دس ایتھے کیہ نئیں دُنیا تے کدھرے وی لنچ فری نئیں ……………… ناں تاں اوہنے اکھ چُرائی ناں کدے اکھ ملائی ناں تاں میری گل ّ ای ٹکّی، ناں وچ ہاں ملائی ناں کدی مینوں آپنی لگّی، ناں اوہ لگّی پرائی فِر اوہ کیہڑی گّل سی مینوں کیتا جیس شُدائی آج کا مطلع شہر اندر آ وڑے سن لبھدے لبھدے بھنگ کوکا کولا پی کے مُوہدے ہوئے ملنگ

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved