تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     09-12-2017

یروشلم: ٹرمپ کی اشتعال انگیزی

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا رسمی طور پر دارالحکومت تسلیم کرنا‘ تاریخ کی سب سے عظیم اور طاقتور ترین سامراجی قوت کے زوال کی نشانی ہے۔ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیر دفاع جیمز میٹس کی جانب سے اس اقدام کی مخالفت بھی ٹرمپ انتظامیہ میں دراڑوں کو واضح کر رہی ہے‘ جن کو جیسن گرین بلیٹ، ڈیوڈ فرائڈ مین اور ایوانکا ٹرمپ کے شوہر جیرڈ کشنر پر مشتمل صہیونی انتہا پسندوں کے‘ 'تین کے ٹولے‘ نے کنارہ کش کر دیا ہے۔ ان کی اسرائیلی آباد کاری میں سرمایہ کاری ہے‘ اور یہ وائٹ ہائوس میں مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں کے مختارِ کل ہیں۔ یہ بے دھڑک اقدام محض ٹرمپ کے ڈانواں ڈول لاف زنیوں کا تسلسل نہیں‘ بلکہ امریکی ریاست اور سماج میں گہری چپقلشوں کی غمازی کرتا ہے‘ جو بڑھتے ہوئے معاشی بحران اور افغانستان، عراق، شام اور حالیہ سالوں میں دوسرے محاذوں پر ہونے والی شکستوں سے جنم لینے والی پراگندگیوں کا نتیجہ ہے۔
ٹرمپ نے یہ اقدام اپنے مواخذے کے خطرے کو ٹالنے کے لیے بھی کیا ہے۔ اس نے خطے میں اپنے قریبی اتحادیوں اور دوسرے ملکوں میں موجود حکمرانوں اور آمروں کو ایک دن پہلے فون بھی کیا تھا۔ ان حکمرانوں نے دہائیوں تک فلسطینی تنازع کو ایک بیرونی مسئلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اندرونی بغاوتوں کو کچلا ہے۔ اب وقتِ حساب آ چکا ہے۔یہ اقدام ایک دفعہ پھر اقوام متحدہ جیسے اداروں کی بے عملی کو واضح کرتا ہے۔ یہ نام نہاد عالمی برادری محض بورژوا حکمرانوں کا ایک کلب ہے‘ جہاں منافقانہ سفارت کاری سے وہ عوامی بغاوتوں کو خاموش کرتے ہیں‘ لیکن اس انتہا پسندانہ اقدام سے عوامی بغاوتیں اور سرکشیاں جنم لیں گی۔
مظاہروں کے پیش نظر فلسطین میں تین روزہ 'یوم الغضب‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔ سامراجی کاسہ لیسی کرتے کرتے محمود عباس کی ساکھ گر چکی ہے۔ مسلم حکومتوں کی جانب سے مذمت صرف اس خوف کی وجہ سے ہے کہ امریکی سامراج سے قربت کہیں انہیں عوامی غیظ و غضب کا نشانہ نہ بنا دے۔ اس اقدام نے سرمایہ دارانہ حدود میں فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کے مذاکراتی عمل کے ڈھکوسلے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
'الیکٹرانک انتفادہ‘ کے علی ابونما نے الجزیرہ کو بتایا ''امریکہ پر بطور ایماندار بروکرصرف وہی یقین کر سکتا ہے جو پچھلی چند دہائیوں میں کسی اور سیارے پر رہا ہو۔ یہ امریکی پالیسی کا ایماندارانہ اظہار ہے، یعنی اسرائیل کو غیر مشروط طور پر قبول کرنا۔ سالوں سے امریکہ کی بنیادی پالیسی یہی رہی ہے اور ٹرمپ نے محض اس کا اظہار کیا ہے‘‘۔ حتیٰ کہ پوپ فرانسس نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا ''یروشلم کی الاقصیٰ مسجد میں حالات کو پہلے کی طرح ہی قائم رہنا چاہیے‘‘۔ فرانسیسی صدر میکرون کی تنقید دراصل یورپی سامراجی سفارتکاری کی منافقت کا واضح اظہار ہے۔
اقوام متحدہ کے 1947ء منصوبے کے مطابق فلسطین کو یہودی اورعرب ریاستوں میں تقسیم اور یروشلم کو 'عالمی اقتدار اورکنٹرول‘ میں رکھا جانا تھا‘ جسے عالمی سامراجی طاقتوں اور سٹالنسٹ روس نے بھی ووٹ دیا تھا۔ تین مذاہب کی تقدسی اہمیت کی وجہ سے یروشلم کو سپیشل سٹیٹس دیا گیا۔ 1948ء کی جنگ میں صہیونی فوج نے شہر کے مغربی حصے پر قبضہ کر لیا اور اسے اسرائیل کاحصہ قرار دیا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا اور اس شہرکو اپنا 'ابدی اور غیر منقسم‘ دارالحکومت قرار دے دیا۔ 1980ء میں اسرائیل نے یروشلم کا قانون ''یروشلم، مکمل اور متحدہ، اسرائیل کا دارالحکومت ہے‘‘ پاس کرکے اپنے قبضے کو قانونی شکل دیدی۔ اسرائیلی حکومتی ادارے بشمول پارلیمنٹ یا کنیسا اور سپریم کورٹ اب یروشلم میں تھے۔ بعدکی اسرائیلی حکومتوں نے اس میں مزید توسیع کی۔
آج مشرقی یروشلم کا 86 فیصد اسرائیلی حکام اور یہودی آبادکاروں کے قبضے میں ہے۔ تقریباً دو لاکھ آباد کار فلسطینی سرزمین پر رہتے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے 2002ء میں شروع کی گئی دیوار دیہاتوں و شہروں کو چیرتی اور خاندانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہوئی مغربی کنارے کے علاقوں سے گزرتی ہے۔ یروشلم میں اس دیوار نے 140,000 فلسطینیوں کو شہر کے باقی حصوں، بنیادی ضروریات زندگی اور انفراسٹرکچر سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ پچھلے دس سالوں میں 2600 سے زائد لوگوں کے گھروں کو مسمار کر کے انہیں بے گھرکر دیا گیا ہے۔ یروشلم کے 324,000 فلسطینیوں میں سے صرف 56 فیصد شہر کے پانی کے نظام سے منسلک ہیں۔ 1967ء سے شہر کے باسیوں پر 'ارنونا میونسپل ٹیکس‘ نافذ ہے‘ جس سے امتیازی طور پر فلسطینی متاثر ہوتے ہیں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے سالانہ کرائے کا خرچہ بڑھ جاتا ہے۔
یروشلم کے فلسطینی باسی بنیادی طور پر بے وطن ہیں۔ وہ اسرائیل کے شہری نہیں ہیں، نہ اردن اور نہ ہی فلسطین کے۔ وہ وہاں اپنے حق کی بنیاد پر نہیں بلکہ 'ریاست کی مہربانی‘ سے رہ رہے ہیں باوجودیکہ ان کی پیدائش وہیں کی ہے۔ وہ مستقل طور پراس خوف میں جی رہے ہیں کہ کہیں ان کی رہائش منسوخ نہ کر دی جائے۔
اس سر زمین کی تقسیم اور اسرائیل کی تخلیق کا آغاز 1917ء کے 'بالفور ڈیکلئریشن‘ سے ہوتا ہے‘ جس کے مطابق ''یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن‘‘ تعمیر کیا جائے گا۔ 'بالفور ڈیکلئریشن‘ برطانوی سیکرٹری خارجہ آرتھر بالفور کی جانب سے لائینل والٹر روتھ چائلڈ کے نام لکھا گیا خط تھا‘ جو سلطنت عثمانیہ کے لیوانت صوبے سے نئے ممالک بنانے کا منصوبہ تھا۔ برطانیہ نے 1916ء کے ایک الگ 'سائیکس پیکٹ معاہدے‘ کے تحت فرانس سے وعدہ کیا کہ فلسطین کا اکثریتی علاقہ عالمی کنٹرول میں ہو گا جبکہ خطے کے باقی علاقوں کو جنگ کے بعد دونوں آپس میں بانٹیں گے۔ ڈیکلئریشن کے تحت فلسطین برطانیہ کے قبضے میں آنا تھا؛ تاہم دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانوی سامراج کا زوال ہوا جس کی جگہ امریکی سامراج نے لے لی۔ اس وقت سے اسرائیل مشرق وسطیٰ میں تنازع اور عدم استحکام پھیلانے کا امریکی سامراج کا آلہ کار ہے۔
بنیامین نیتن یاہو اور دوسری صہیونی رجعتی قیادتیں ٹرمپ کی توثیق کی خوشی سے سرشار ہیں لیکن شاید انہیں بہت جلد مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک اور انتفادہ کا سامنا کرنا پڑے گا‘ جس میں اسرائیلی عوام بھی عرب مظاہرین کے ساتھ اسرائیلی شہروں میں نکل سکتے ہیں‘ کیونکہ اس جبر کا شکار وہ اسرائیلی محنت کش اور غریب بھی ہیں‘ جنہیں پوری دنیا سے اسرائیل میں لایا گیا اور جو غیر مذاہب اور اقوام کے نرغے میں مسلسل خوف کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیون ٹراٹسکی نے اپنے 'آبائی وطن‘ میں ہجرت کرنے والے یہودیوں کو ایک خوفناک زندگی سے باخبر کرتے ہوئے 1938ء میں لکھا تھا ''یہودی مسئلے کو یہودیوں کی فلسطین میں ہجرت کے ذریعے حل کرنا‘ یہودی عوام کے ساتھ خوفناک مذاق ہے‘‘۔ کارل مارکس نے لوٹ مار کے لیے سامراجیوں اور کارپوریٹ سرمائے کی جانب سے انتہا پسندی کو استعمال کرنے کے پیچھے مالی مفادات کا بخوبی تجزیہ کیا ہے۔ مارکس نے 1843ء کے خزاں میں اپنی ایک لکھت میں اس سازش کو بے نقاب کیا ''عملی ضرورت اور ذاتی مفادات کا دیوتا پیسہ ہے۔ پیسہ اسرائیل کا متعصب دیوتا ہے جس کے سامنے کوئی اور دیوتا ٹِک نہیں سکتا۔ اس نے خود کو ہر چیز کی آفاقی قدر بنا ڈالا ہے۔ یوں پیسے نے انسان اور فطرت کی دنیا سے اس کی حقیقی قدر چھین لی ہے‘‘۔
اسرائیل کا معاشرہ بھی طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہے۔ یہاں کے محنت کشوں اور غریبوں کو معاشی استحصال اور معاشرتی جبر کا سامنا ہے‘ لیکن اس سخت گیر صہیونی ریاست نے 'بیرونی دشمنوں‘ کے حصار کے خوف کو جس شدت سے مسلط کر رکھا ہے اس سے طبقاتی کشمکش بہت بڑی رکاوٹ اور سبوتاژ کا شکار ہے‘ لیکن سماج کی کوکھ میں سلگنے والی یہ طبقاتی کشمکش پورے خطے کی صورتحال کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔ 2011ء میں عرب انقلابی تحریکوں کا سب سے واضح پہلو اسرائیلی محنت کشوں کا عرب دنیا میں اپنے طبقے سے یکجہتی کے لیے اپنے صہیونی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنا تھا۔ جب عوامی غیظ و غضب اور بغاوت ابھرے گی تو اسرائیل بھی اس کی زد میں آئے گا۔ مسلح اسرائیلی صہیونی ریاست اور اس کے سامراجی آقا ایک نئی بغاوت کو کچل نہیں پائیں گے جس میں عوام جبر، تشدد اور استحصال کو ختم کرنے نکلے ہوں۔ ایک نئی انقلابی صورت حال پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل کر سامراجی غلامی کی زنجیروں کو توڑ تے ہوئے صہیونی ریاست اور رجعتی عرب بادشاہتوں اور حکومتوں کو اکھاڑ پھینکے گی۔ امریکی سامراج کا یہ بانسری بجاتا نیرو تاریخ کے انتقام کا شکار ہو گا۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved