تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     16-12-2017

سُرخیاں‘ متن اور افضال نوید کی تازہ غزل

حالات اچھے نہیں‘ بدحالی شروع‘ انتشار بڑھنے لگا : نوازشریف
سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''پاکستان کے حالات اچھے نہیں‘ بدحالی شروع‘ انتشار بڑھنے لگا‘‘ کیونکہ جس مُلک کے وزیراعظم کو بے عزت کر کے نکال دیا جائے اور وہ سڑکوں پر مارا مارا اور پوچھتا پھرے کہ مجھے کیوں نکالا‘ اس مُلک کے حالات کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں‘ ہیں جی؟ اور ساتھ ہی بدحالی بھی شروع ہو گئی ہے جس میں اس مظلوم وزیراعظم کی بدحالی بطور خاص قابل ذکر ہے جسے اپنی نیک کمائی سے بنائے ہوئے قیمتی اثاثے بھی اونے پونے فروخت کرنا پڑ رہے ہوں جن پر مُلکی خزانہ نظریں جمائے بیٹھا ہے حالانکہ اس خزانے نے ہمارے ہاتھ اچھی طرح دیکھے ہوئے ہیں جبکہ انتشار بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ ارکان اسمبلی کے استعفے آنا شروع ہو گئے ہیں‘ اور سپیکر قومی اسمبلی کو یہ کہنا پڑ گیا ہے کہ حکومت اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرتی نظر نہیں آتیں۔ انہوں نے کہا کہ ''عدالتوں سے ایسے فیصلے آئیں تو یہی کچھ ہوتا ہے‘‘ بلکہ اس سے بھی خوفناک فیصلے تو ابھی آنے والے ہیں جس کا ایک نقصان یہ ہو گا کہ مجھے اپنا تکیہ کلام ''مجھے کیوں نکالا‘‘ تبدیل کر کے یہ اختیار کرنا پڑے گا کہ ''مجھے کیوں باندھا‘‘ آپ اگلے روز لندن میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
سانحہ ماڈل ٹائون افسوسناک ہے‘ لاشوں پر سیاست 
نہیں ہونی چاہیے : شہبازشریف
خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ'' سانحہ ماڈل ٹائون افسوسناک ہے‘لاشوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے‘‘ کیونکہ اگر لاشوں کو ٹھیک طرح سے دفنا دیا گیا ہے تو اس سانحے پر مٹی پا دینی چاہیے اور صبر سے کام لینا چاہیے جیسا کہ ہم صبر کیے بیٹھے ہیں کیونکہ ہمیں پتا ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے جس کا خلاف معمول ہمارے پاس کوئی علاج نہیں اور اپنے نیک انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''ہماری ہمدردیاں شہداء کے لواحقین کے ساتھ ہیں‘‘ کیونکہ قصاص وغیرہ دینے کے ہم قابل نہیں رہے کہ پہلے ہی اتنے خسارے میں جا رہے ہیں اور اگر عدالت نے ہی ہمیں رگڑا دے دیا تو حساب ویسے ہی برابر ہو جائے گا کیونکہ عدالتوں کا ہم پر‘ انٹ پہلے ہی کافی بھخا ہوا ہے بلکہ اُلٹا لواحقین کی ہمدردیوں کی ضرورت ہمیں پڑ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ''بعض عناصر نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے اورنج لائن منصوبے میں رکاوٹ پیدا کی‘‘ اور ہمارے ذاتی مفادات کو سراسر نظرانداز کر دیا۔ آپ اگلے روز لندن میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
پنجاب میں بنائی گئی کمپنیوں میں ایماندار لوگ رکھے تھے : رانا ثناء اللہ
وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ''پنجاب میں بنائی گئی کمپنیوں میں ایماندار لوگ رکھے تھے‘‘ لیکن کیا کیا جائے کہ ایماندار لوگوں کے لیے بے ایمان ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے حالانکہ وہ کچھ ہماری طرف ہی دیکھتے کہ اُوپر سے لے کر نیچے تک کس ایمانداری کے ساتھ کام کرتے چلے آ رہے ہیں اور سپریم کورٹ تک اس کی تصدیق کر رہی ہے اور مستقبل قریب میں مزید اور حتمی تصدیق بھی کرنے والی ہے بلکہ ہمیں اپنی ایمانداریوں کے غلبے نے اتنی فرصت ہی نہ دی کہ ان کمپنیوں کی طرف بھی کوئی توجہ دیتے جبکہ ہمیں آئے دن پولیس ایکشن بھی کرانا ہوتا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں رہے‘ البتہ اب مجھے کافی فراغت ملنے والی ہے کیونکہ وزیراعلیٰ نے بڑے مولوی صاحب سے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ میرا استعفیٰ لے لیں گے اور اسی پر موصوف نے اپنا گوجرانوالہ والا جلسہ بھی منسوخ کر دیا ہے‘ چنانچہ اب وہ مجھے کسی اور بہتر کام پر لگا دیں گے جو میرے مزاج کے عین مطابق ہو گا۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی پر گفتگو کر رہے تھے۔
قائداعظم کی کیپ پہننے سے کوئی قائداعظم 
نہیں بن جاتا : طلال چوہدری
وزیر مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ''قائداعظم کی کیپ پہن کر کوئی قائداعظم نہیں بن جاتا‘‘ اسی لیے میاں نوازشریف نے بھی قائداعظم بننے کی کوشش کی نہیں کی اور صرف قائداعظم ثانی بننے پر ہی اکتفا کر لیا کیونکہ ویسے بھی وہ امیرالمومنین بننا چاہتے تھے لیکن فلک کج رفتار کو ایسا منظور نہ تھا اور وہی فلکِ کج رفتار اب پھر اپنی جولانیاں دکھا رہا ہے اور کچھ پتا نہیں کہ اسے کیا ہو جائے اور سارا کچھ دھرا رہ جائے حالانکہ ہم نے اس کمبخت فلکِ کج رفتار کا کبھی کچھ نہیں بگاڑا اور اپنی دال روٹی کمانے ہی کے دھندے میں پڑے رہے‘ ویسے تو ہم نے سپریم کورٹ کا بھی کچھ نہیں بگاڑا تھا‘ ماسوائے ایک چھوٹے سے حملے کے اور چھوٹے موٹے حملوں سے اس کی صحت پر اثر بھی کیا پڑتا ہے جبکہ یہ کار خیر میاں صاحب بڑے تواتر اور ثابت قدمی کے ساتھ کر رہے ہیں لیکن اس کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی حالانکہ کم از کم جوئوں کو تو کھُل کھیلنے کا موقع دینا چاہیے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اور‘ اب افضال نوید کی تازہ غزل کے کچھ اشعار :
تری گلی میں جو ہم صبح و شام بُھول گئے
نہ جانے کون تھی اور کیا تھا نام بُھول گئے
نشے میں باغ تھا اور ہر چراغِ خواب کے ساتھ
مہک رہا تھا لبِ لالہ فام بُھول گئے
ہم اُس کو دیکھتے رہنے میں ہو گئے مصروف
اور ایسا کرنے میں کرنا سلام بُھول گئے
میں اپنے آپ کو باہر سے دیکھنے لگا تھا
اسی لیے مجھے اندر کے کام بُھول گئے
تمہارے خواب تو اب تک ہماری آنکھ میں ہیں
کہاں پہ شب کا ہُوا اختتام بُھول گئے
نہ جانے کون سی چھت پر تھے ریشمی ملبوس
صدائے چشم لگائی تو بام بُھول گئے
شگفتہ عہدِ گزشتہ کو بار بار نویدؔ
تمام یاد رکھا اور تمام بُھول گئے
..............................
آج کا مطلع
دُھوئیں کی دُھول چھٹی‘ آسماں دکھائی دیا
بہت دنوں میں مجھے یہ سماں دکھائی دیا
........................

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved