تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     17-12-2017

اصول کتاب میں ہوتا ہے

اصول الکتاب میں ہوتا ہے۔ فرمایا: ولکم فی القصاص حیاۃ یا اولی الالباب۔ زندگی قصاص میں رکھی گئی۔ عدل میں استثنیٰ نہیں ہوتا‘ جناب چیف جسٹس‘ جناب سپہ سالارآپ جانتے ہیں عدل میں استثنیٰ نہیں ہوتا۔
حکم لگانا ابھی مشکل ہے اگرچہ امکانات قدرے واضح ہیں‘ بارش جیسے کھنڈرات اجاگر کردے۔ کچھ قرار آیا ہے۔ کوئی بڑی تبدیلی نہ ہوئی تو مقابلہ اب کپتان اور خادم پنجاب میں ہوگا۔ 
کیا الیکشن بروقت ہوں گے؟ پیالے اور ہونٹوں کے درمیان اب بھی کچھ سوال حائل ہیں۔ بظاہر نئی مردم شماری‘ بظاہرحلقہ بندیاں۔ مگر سب سے بڑی رکاوٹ اقتدار کے بھوکے ہیں اور ان کے اندھے پیروکار۔ آدمی کی پوری تاریخ اسی کشمکش کی تاریخ ہے۔ سیزر اسی میں قتل ہوتے ہیں۔ سیزر کیا جگر گوشۂِ رسول کہ آج تک آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں۔ ہر عہد کو اپنے چھچھورے ہی بدترین لگتے ہیں۔ تاریخ کہتی ہے کہ غلبے کی وحشیانہ جبلت میں بھائیوں پہ بھائیوں اور کبھی باپ بیٹوں پہ ایک دوسرے کا خون حلال ٹھہرا ہے۔ 
عمران خان کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کے ایک حصے میں وہی تحفظات ہیں‘ جو بعض ووٹروں کے بھی۔ اداروں پہ بھروسہ‘ بہادری اور دیانت؛ چنانچہ بہت سے اس کی عزت بھی کرتے ہیں۔ شہبازشریف ریاضت کیش اور متحرک ہیں۔ چاہیں توکام کی رفتار تیزکر دیتے ہیں؛ البتہ ادارہ شکن‘ خودپسند اور امانت و دیانت سے بے نیاز۔ تقریریں الگ‘ ایک قول ان سے منسوب ہے Honesty is no virtue یعنی دیانت کوئی خوبی نہیں۔ نام جمہوریت مگر مسلک یہ ہے کہ سرکاری خزانہ حاکم کا ذاتی ہے۔ اقتدار کا بٹیرا پائوں تلے آ جائے تو اس کے بعد بٹیروں کے سوا کچھ نہ کھانا چاہیے۔ خاندان کے سوا بھروسہ کبھی کسی پہ نہیں۔ اداروں کو اپنی مرضی اور انگلی کے گرد گھمانا چاہیے۔ 
حکمران اکثر ذہنی مریض ہوتے ہیں۔ غالبؔ نے کہا تھا''گو ہاتھ کو جنبش نہیں‘ آنکھوں میں تو دم ہے/ رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے‘‘ اپاہج غلام محمدکی طرح حکومت بہرحال ہاتھ میں رہنی چاہیے‘ ورنہ اولاد کے سپرد۔ حمزہ شہباز جانشین ہیں‘ جس طرح مریم نواز میاں محمد نوازشریف کی۔ ہم بائیس کروڑ شہری نہیں‘ رعایا ہیں۔ کرم فرما کر احسان جتلائیں تو اظہار تشکر کے لیے ہمیں جھکنا چاہیے۔ من مانی کریں تو مقدر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لینا چاہیے۔ حمزہ شہباز نے ارشاد کیا تھا کہ کرپشن ہوتی رہتی ہے‘ جمہوریت چلنی چاہیے۔ اب فرمایا ہے کہ شہید کا فرزند بے نسب بچے کی طرح ہوتا ہے۔ تربیت نہ تعلیم‘ مطالعہ نہ حسنِ صحبت۔ ادراک کہاں سے جنم لے‘ دانش کہاں سے آئے۔ جوڑ توڑ البتہ‘ انسانوں کی خریدوفروخت البتہ۔ غلامی کے مارے معاشروں میں برائے فروخت بہت ہوتے ہیں۔ جوشؔ کا وہی شعر؎
کوئی مشتری ہو تو آواز دے
میں کم بخت جنسِ ہنر بیچتا ہوں
سیاسی حرکیات عمران خان کے حق میں ہیں۔ ہلال کی طرح وہ بڑھتا جاتا ہے۔ نئی نسل زیادہ تر اس کے ساتھ ہے۔ کارکن اس کے پُرجوش ہیں۔ ساکھ اس کی بہتر۔ انتظام و انصرام سے البتہ کوئی علاقہ نہیں‘ شریف خاندان کا جو سب سے مضبوط پہلو ہے۔ گجرات کے چودھریوں سمیت کئی جہاں دیدہ‘ مدد کر سکتے ہیں‘ مانگے تو۔ ووٹر کو پولنگ سٹیشن تک پہنچانے کا سلیقہ اسے نہ اس کے ساتھیوں کو۔ کچھ سیاست میں نئے‘ عدمِ تحفظ کے مارے کچھ دھڑے بندی میں مبتلا۔ اچھلتی کودتی اس پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ تربیت اور تجربہ کی بجائے جنون کا سبق اس نے پڑھا ہے۔ کام کاج کی بجائے دل کا بوجھ ہلکا کرنے (Catharsis) کی روش۔ کپتان کا ذہن غیر سیاسی ہے‘ مشیر ناقص۔ خود کو برگزیدہ سمجھتا اور ستائش کرنے والوں میں آسودہ رہتا ہے۔ 
شہنشاہ نوازشریف کے برعکس اسٹیبلشمنٹ ان دونوں‘ خادم پنجاب اور کپتان کو قبول کر سکتی ہے۔ ایک ممتاز شخصیت نے ناچیز سے کہا‘ آسیب سے نجات اسی نے دلائی ہے۔ قائداعظم ثانی سے جن کا مشکوک مال ملک سے باہر ہے۔ دشمن بھارت صمیم قلب سے جنہیں قبول کرتا ہے۔ شہبازشریف پہ یہ الزام نہیں۔
صرف ووٹر نہیں‘ انہیںاپنے بھائی‘ اسٹیبلشمنٹ اور اپنی پارٹی کی تائید بھی درکار ہوگی۔ بھائی کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا‘ خودپسندی کے علاوہ‘ صاحبزادی اور خاندان کے دوسرے افراد کا ان پر دبائو ہے۔ ارکان اسمبلی شہبازشریف سے خوف زدہ رہتے ہیں‘ سرکاری افسر بھی۔ جنرلوں کے سامنے وہ مودب پائے جاتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ سمیت ذہنی قلیوں کو برتنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔ وہ جن کے بارے میں اقبالؔ نے کہا تھا:
شریکِ حکم غلاموں کو کر نہیں سکتے
خریدتے ہیں فقط ان کا جوہرِ ادراک
تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ بہترین انسانی صلاحیت آزادی اور اداروں میں بروئے کار آتی ہے۔ من مانی تو ایک حد تک عمران خان بھی کرتے ہیں۔ عالمی کپ‘ شوکت خانم‘ نمل یونیورسٹی اور پختونخوا میں ایک ارب درخت۔ کامیابی خودفریبی میں مبتلا کرتی ہے۔ شریف خاندان کے اکابر کو خودفریبی کے لیے کامیابی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔وہی بہت ہیں‘ شاعر نے جن تصویر کھینچی ہے۔
معلوم نہیں ہے یہ خوشامد یا حقیقت
کہہ دے کوئی الّو کو اگر رات کا شہباز
چالیس برس ہوتے ہیں‘ فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں کے سگے بھائی بہادر خاں قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف تھے۔ ایک دن ایوان میں دل جلے نے سینہ کوبی کرتے پڑھا:
ہر شاخ پہ الّو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا
سرما کی اداس راتوں میں خوں ریز المیوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ 16 دسمبر کو نام نہاد جہادیوں نے ڈیڑھ سو بچے پشاور میں ذبح کر دیئے تھے‘ بھارت کے کارندے۔ وہ مخلوق قرآن کریم جسے پتھر دل قرار دیتا اور اسفل السافلین کہتا ہے۔ بدترین انسانوں میں سے بھی بدترین۔ اللہ کے آخری رسولؐ سے پوچھا گیا: انسانوں میں سب سے پست کون ہے۔ آپؐ کو تامّل ہوا۔ ارشاد کیا: اللہ ان پہ رحم کرے۔ سوال دہرایا گیا تو فرمایا: جو دنیا کے لیے دین کو بیچتے ہیں۔ دنیا کی ہوس میں اندھے‘ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ذمہ دار بھی ایسے ہی تھے۔ اقتدار کے بھوکے جو انسانی احساسات کی تجارت کرتے ہیں۔ کبھی جمہوریت اور کبھی حبّ وطن کے نام پر۔ اپنے سوا جو دراصل کسی کے نہیں ہوتے۔ فریبِ نفس کے مارے‘ نرگسیت کے مریض۔ جنرل آغا محمد یحییٰ خان‘ ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن۔ عوامی لیگ کا تو مرکزی حکومت پہ حق تھا۔ بھٹو اور یحییٰ خان کس بنیاد پہ سودے بازی فرما رہے تھے۔ 
ایک خودشکن قوم اپنی منزل کی جسے خبر نہیں‘ اپنی ترجیحات جو طے نہیں کر سکتی‘ تجزیے پہ جو قادر نہیں کہ علم ہے نہیں۔ خودغرضی‘ تعصب اور وحشت کا غلبہ ہے۔ دنیا بھر میںاوسطاً 80‘ 75 فیصد ٹیکس مال دار طبقہ ادا کرتا ہے۔ 25‘ 20 فیصد باقی لوگ۔ غضب خدا کا پاکستان میں 87سے 90فیصد عام لوگ دیتے ہیں۔ 7 سے 10 فیصد صنعتکار اور تاجر۔ جاگیردار دیتے ہی نہیں۔سالانہ کم از کم تیس بلین ڈالر ہڑپ کر لیے جاتے ہیں۔ پھر کشکول اٹھائے ‘حکمران دنیا بھر میں بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ اپنی قوم گروی رکھ دی۔ 
راکھ میں چنگاریاں ہی باقی بچتی ہیں۔ خوئے غلامی کی ماری قوم میں کم لوگ ہوتے ہیں‘ خطرات میں جو فقط اصول یاد رکھیں۔ اخلاقی طور پہ معاشرہ تباہ ہے۔ غلامی کی صدیاں‘ تعلیم سے محرومی‘ زمانوں کی بگڑی اشرافیہ‘ فرقہ پرستی کے مارے علمائ‘ خودپسندی کی دلدل میں جیتے اخبار نویس اور دانشور۔ حکمرانوں کا احتساب کون کرے۔ ابھی حال ہی میں جس نے استعفیٰ دیا‘ وزیراعظم عباسی کو اس کے بارے میں بتایا گیا کہ سرکاری ٹی وی میں اپنے حواریوں پر چالیس پچاس لاکھ روپے ماہوار وہ لٹاتا رہا۔ سیاسی اور عسکری ذرائع فاٹا میں مسائل پیدا کرنے والے مولوی صاحب کے بارے میں یکسو ہیں کہ سرحد پار سے ان کی جیب گرم ہوئی۔
دلدل سے نکلنا ہے تو الیکشن بروقت چاہئیں اور مکمل طور پہ منصفانہ۔ مکّرر عرض ہے‘ مکمل طور پہ منصفانہ‘ دولت کے بے دریغ استعمال پر پابندی۔ دھاندلی کے الزام پر ایک ڈیڑھ ماہ میں فیصلہ۔ سپیکر ایاز صادق دونوں بار خیانت سے جیتے اور اب تک برقرار ہیں۔ خواجہ سعد رفیق بھی۔ دولت مشکوک‘ الیکشن مشکوک۔ دھاڑتے اس طرح ہیں گویا ابھی ابھی کشمیر فتح کرکے لوٹے ہوں۔ گھوڑے سے ابھی اترے نہ ہوں۔
اصول الکتاب میں ہوتا ہے۔ فرمایا: ولکم فی القصاص حیاۃ یا اولی الالباب۔ زندگی قصاص میں رکھی گئی۔ عدل میں استثنیٰ نہیں ہوتا‘ جناب چیف جسٹس‘ جناب سپہ سالارآپ جانتے ہیں عدل میں استثنیٰ نہیں ہوتا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved