تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     23-12-2017

جمہوریت؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سینیٹ میں خطاب کی میڈیا اور سینیٹرز کی جانب سے خوب پذیرائی واضح کرتی ہے کہ یہاں صورتحال کیا ہے۔ایک دلچسپ تبصرے نے بہت سے تلخ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جن کی وجہ سے یہ ملک آج نہ ختم ہونے والے مسائل کا شکار ہے۔ پریس رپورٹ کے مطابق جب کچھ سینیٹرز نے گزشتہ برسوں کی خراب خارجہ پالیسی اور اس میں اداروں کے کردار کے حوالے سے سوالات کیے تو آرمی چیف نے کہا کہ ''ہم سب نے ماضی میں غلطیاں کی ہیں۔ اب آگے بڑھیں‘‘۔
نصف ملکی تاریخ میں یہاں غیر جمہوری حکومتیں قائم رہیں۔ ان آمریتوں کو قانونی جواز فراہم کئے گئے اور حکمرانوں کے گماشتہ دانشوروں اور کارپوریٹ میڈیا نے اس کی داد بھی دی۔ 'جمہوری‘ ادوار میں بھی جمہوریت کے جو معاملات چلتے رہے‘ وہ سب کے سامنے ہیں۔ ہم سب ان سے واقف اور آگاہ ہیں۔ آمریتوں میں جبر کی شدت مختلف رہی اور مختلف نظریاتی لبادوں کو استعمال کیا جاتا رہا۔ ماضی میں حکمران سیاسی ٹولوں کے درمیان تضادات اور بحرانوں کی وجہ سے فوج کو مداخلت کرنا پڑتی تھی۔ آج اس کے امکانات کم ہیں، اگرچہ اس امکان کو یکسر مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
میرے ذاتی خیال میں معیشت میں بڑھتے ہوئے کردار کی وجہ سے یہ صورتحال سامنے آئی؛ تاہم یہ دعویٰ کہ یہ شعبہ ایک طبقہ بن گیا ہے، بنیادی طور پر غلط ہے۔ اگرچہ کچھ حلقوں کا ریاست اور سیاست میں بحیثیت ثالث کردار بڑھا ہے لیکن اس سے وہ حکمران طبقہ نہیں بن جاتے اور نہ ہی اس سے طبقے اور ریاست کا وہ بنیادی تعلق تبدیل ہوتا ہے جسے مارکس اور بعد میں لینن نے واضح کیا تھا۔ آمریتوں کے دوران بھی حکمران طبقہ وجود رکھتا ہے اور ریاست کو اپنے استحصالی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہاں کے سرمایہ دار طبقے کے بدعنوان، تاخیر زدہ اور مالی طور پر نحیف ہونے کی وجہ سے اداروں پر اس کا انحصار بڑھا ہے۔ ایک صحت مند سرمایہ دارانہ معیشت کی تعمیر میں تعطل ان کی نااہلی کی وجہ سے ہے اور انہیں مجبوراً اپنی سماجی، معاشی اور سیاسی حیثیت کو بدعنوانی سے قائم رکھنے کے لیے حکومت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ریاستی اداروں کے کچھ افراد یقینا حکمران طبقے کا حصہ بن سکتے ہیں لیکن یہ ادارے بذات خود حکمران طبقہ نہیں بن سکتے۔
مارکس نے 1852ء میں لکھا تھا ''ہمیں صرف اتنا تصور کرنا چاہیے کہ جمہوری نمائندے سب کے سب کاروباری لوگ ہیں یا کارپوریٹ اور چھوٹے دکانداروں کے پرجوش حمایتی ہیں۔ اپنی تعلیم اور انفرادی حیثیت کے اعتبار وہ زمین اور آسمان کی طرح ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جو چیز انہیں پیٹی بورژوازی کا نمائندہ بناتی ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ ذہنی طور پر وہ ان حدود سے تجاوز نہیں کر سکتے جن سے یہ پیٹی بورژوازی اپنی زندگی میں نکل نہیں سکتی اور نتیجتاً انہیں نظریاتی طور پر انہی مسائل اور حل کی جانب جانا پڑتا ہے جن کی طرف مادی مفادات اور سماجی حیثیت پیٹی بورژوازی کو عملی طور پر دھکیلتی ہے۔ یہ عمومی طور پر ایک طبقے کے سیاسی اور ادبی نمائندوں اور اس طبقے کے درمیان تعلق ہے‘‘۔
سماجی و معاشی بحران میں اضافے کے ساتھ ہی پاکستان کے موجودہ نودولتیے حکمران طبقات کا انحصار ریاست پر بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ سیاسی پارٹیاں جو اس نظام کو قبول کرتی ہیں، حکمران طبقات کے ان دھڑوں کا دم چھلا بن جاتی ہیں جو سماج کی دولت اور ریاست کے اثاثوں کی لوٹ مار کے لیے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ کسی حقیقی پروگرام یا عوام پر اعتماد کی عدم موجودگی میں نیو لبرل معاشیات اور بھتہ خوری کی یہ سیاست بالآخر ریاست پر ہی منحصر ہوتی ہے۔
1970ء کے تاریخی انتخابات کے بعد سے تمام تر الیکشن عوامی طبقات کے جوش و جذبے، امنگوں یا دبائو سے عاری رہے ہیں۔ اس سے مقتدر حلقوں کے لیے راستہ کھلتا ہے کہ وہ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوں اور وہ جمہوری حکومتوں کو بناتے اور فارغ کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں نے عوام کو ترک کر دیا ہے اور چور راستوں سے حکومت میں آنے کا راستہ چُن لیا ہے۔ وہ اقتدار میں آنے کے لیے مختلف علاقائی اور عالمی سامراجی طاقتوں کی کاسہ لیسی کرتے ہیں‘ لیکن اس سے بڑھ کر انہیں ریاست کے مختلف دھڑوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
پچھلی کچھ دہائیوں سے سامراجیوں کی رقابت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ دھڑے کسی حد تک خود مختار بن گئے ہیں اور اپنے معاشی اور سٹرٹیجک مفادات کے مطابق حکومتیں تشکیل دیتے ہیں۔ نیم کینیشین گروتھ ماڈل کے تحت چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور اسلحے کی فروخت نے اس نئی طاقت کے اثر و رسوخ کو بڑھایا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی احمقانہ پالیسیوں اور بڑی مارکیٹ رکھنے والے ہندوستان کی طرف‘ امریکی سامراج کے جھکائو نے چین کی طرف توجہ مبذول کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ معاملہ بڑے ٹھیکوں کا بھی ہے، جن کی وجہ سے تنازعات جنم لے رہے ہیں۔ مالی مفادات کی یہ جنگ اس وقت عروج پر ہے۔
'جمہوری اور سیاسی‘ قوتوں کے 'گرینڈ الائنس‘ کی باتیں بھی احمقانہ ہیں۔ بدعنوان حکمران طبقے اور اس کے سیاسی نمائندوں کا ریاست پر انحصار اتنا زیادہ ہے کہ جب ایک دھڑا لوٹ مار سے بے دخل ہوتا ہے تو مختلف طریقے استعمال کرکے مخالف سیاسی دھڑے کی حکومت گرانے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض اوقات میڈیا بھی اس دھڑے بندی کا حصہ بنتا ہے اور بزنس ٹائیکون بھی اپنے مفادات کے تحت کروڑوں روپے اس کھیل میں لگاتے ہیں۔ بحران جتنا بڑھتا ہے یہ سیاسی تنازعے بھی شدت پکڑتے ہیں ۔
نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے جمہوری نظام، سویلین بالادستی اور آئینی شقوں کو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لے لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ طاقتوں کے اس پرانے توازن کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ لیکن جمہوری نظام کی بالادستی کے نعروں کے باوجود اُن کے پاس عوام کی محرومی اور غربت ختم کرنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ان کی تحریک بے جان ہے۔عوام پارلیمنٹ، آئین اور جمہوری نظام کی بالادستی کے لیے باہر نہیں نکلیں گے، کیونکہ اس نام نہاد جمہوریت نے ان کی زندگیوں کو مزید عذاب میں ہی ڈالا ہے۔ عوامی حمایت کے بغیر کوئی بھی تحریک طاقتوں کا توازن نہیں بدل سکتی۔ عوام جب نکلیں گے تو سرمائے کے سارے نظام اور اس کے سیاسی ڈھانچوں کو ہی اکھاڑ ڈالیں گے۔

مارکس نے 1852ء میں لکھا تھا ''ہمیں صرف اتنا تصور کرنا چاہیے کہ جمہوری نمائندے سب کے سب کاروباری لوگ ہیں یا کارپوریٹ اور چھوٹے دکانداروں کے پرجوش حمایتی ہیں۔ اپنی تعلیم اور انفرادی حیثیت کے اعتبار وہ زمین اور آسمان کی طرح ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جو چیز انہیں پیٹی بورژوازی کا نمائندہ بناتی ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ ذہنی طور پر وہ ان حدود سے تجاوز نہیں کر سکتے جن سے یہ پیٹی بورژوازی اپنی زندگی میں نکل نہیں سکتی اور نتیجتاً انہیں نظریاتی طور پر انہی مسائل اور حل کی جانب جانا پڑتا ہے جن کی طرف مادی مفادات اور سماجی حیثیت پیٹی بورژوازی کو عملی طور پر دھکیلتی ہے۔ یہ عمومی طور پر ایک طبقے کے سیاسی اور ادبی نمائندوں اور اس طبقے کے درمیان تعلق ہے‘‘۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved