تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     23-12-2017

اگر شہباز وزیراعظم بن گئے!

ڈینئل گرین کل تک برطانیہ کے نائب وزیراعظم تھے۔ آج وہ گھر میں سگار سلگا رہے اور اپنی ایک معمولی غلطی کو کوس رہے ہیں۔ وہ بیس برس سے کنزرویٹو پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ چلے آ رہے تھے۔ وہ ٹرانسپورٹ سیکرٹری اور امیگریشن کے وزیر بھی رہے۔ تھریسا مے وزیراعظم بنیں تو انہوں نے ڈینئل کو سیکرٹری آف سٹیٹ بنا دیا۔رواں برس عام انتخابات کے نتیجے میں انہیں فرسٹ سیکرٹری آف سٹیٹ اور نائب وزیراعظم بننے کا موقع ملا اور اس دوران ہی کابینہ میں ڈینئل گرین کے خلاف ایک انکوائری کا آغاز بھی ہوگیا۔ ان پر الزام تھا کہ 2008ء میں انہوں نے اپنے دفتری کمپیوٹر کا غلط استعمال کیا تھا۔پولیس نے اس وقت ڈینئل کو حراست میں بھی لیا اور بعد ازاں ضمانت پر رہائی دیدی۔ ان پر یہ الزام تھا کہ ان کے کمپیوٹر سے چند اہم سرکاری راز افشا کئے گئے۔ تفتیش کے دوران پولیس کو ان کے کمپیوٹر میں سے درجنوں فحش ویڈیوز ملیں جو انٹرنیٹ سے ڈائون لوڈ کی گئی تھیں۔ یہ برطانیہ کے پبلک آفس رولز کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ پولیس نے ان کا کمپیوٹر قبضہ میں لے لیا اور ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ تاہم ڈینئل نے پولیس کو اپنے بیانات سے مطمئن کر دیا۔ پانچ برس بعد2013ء میں پولیس نے دوبارہ ان سے فون پر اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے موقف بدل لیا۔ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے ایک برطانوی خاتون صحافی کیٹ مالٹبی پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ چند ماہ قبل جب ڈینئل ڈپٹی وزیراعظم بنے تو کابینہ میں ان پر نو سال قبل لگنے والے ان الزامات کی دوبارہ تحقیقات شروع کر دیں ۔ ڈینئل اہم راز افشا کرنے اور صحافی کو چھیڑنے والے معاملے سے تو باعزت بری ہو گئے لیکن سرکاری کمپیوٹر پر فحش مواد دیکھنے اور اسے محفوظ کرنے پر ان پر شدید تنقید ہوئی جس کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے دو ہزار آٹھ اور تیرہ میں فحش فلمیں دیکھنے کے حوالے سے اپنے کولیگز اور پولیس سے جھوٹ بولا تھا جس پر انہیں شرمندگی ہے۔ وہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے انتہائی قریبی ساتھی شمار کئے جاتے تھے لیکن تھریسامے نے پبلک رولز کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا اور انہیں مستعفی ہونے کے لئے ایک خط لکھا جس کے بعد برطانیہ کا ڈپٹی وزیراعظم ایک منٹ کے لئے بھی اپنے عہدے پر نہیں رہا ‘اس نے اپنے ہاتھ سے تھریسا مے کو استعفیٰ لکھا ‘اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور ٹیکسی لے کر گھر کو چلے گئے۔
اب اس پس منظر میں آپ اقامے پر نااہل ہونے والے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دیکھ لیجئے جو کہتے ہیں مجھے معمولی سے اقامے اور بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیج دیا گیا۔ نواز شریف کی طرح ڈینئل گرین بھی کہہ سکتے تھے کہ معمولی سی بات کو رائی کا پہاڑ بنایا گیا۔میں تو چند ماہ قبل ڈپٹی وزیراعظم بنا جبکہ مجھ پر نو برس پرانا مقدمہ ڈالا گیا ۔جس طرح لندن فلیٹس کے حوالے سے نواز شریف‘ مریم نواز اور ان کے بھائیوں کے ٹی وی بیانات میں کھلا تضاد تھا‘ ڈینئل کے بیان تو کسی نے اس طرح سنے ہی نہیں۔ ایک پولیس افسر کو انہوں نے فون پر کچھ کہا اور آج نو برس بعد انہوں نے اعتراف کر لیا کہ میں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا وہ سب کھلے عام کسی نے نہ سنا۔ نواز شریف کی طرح ڈینئل بھی کہہ سکتے تھے میں نے برطانیہ کیلئے فلاں فلاں کارنامے سر انجام دئیے اور مجھے ان خدمات کی سزا دی جا رہی ہے لیکن وہ جس پارلیمان کے تنخواہ دار تھے‘ وہاں کے اصول اور قواعد معمولی سی بھی خیانت‘ دھوکہ دہی اور بددیانتی کو برداشت نہیں کرتے۔ صرف برطانیہ ہی نہیں جرمنی میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ مس مارگٹ جرمنی کی خاتون پادری تھیں‘ جرمنی کی اہم قومی شخصیات میں ان کا شمار پہلے پچاس افراد میں ہوتا تھا۔ جرمنی کے شہرہنوور میں پولیس معمول کے گشت پر تھی کہ آدھی رات کے قریب ایک گاڑی نے ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کی۔ پولیس نے کار کو روک لیا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر مارگٹ بیٹھی تھیں۔ انہیں پولیس سٹیشن لے جا یا گیا جہاں ان کا الکوحل ٹیسٹ کیا گیا۔ ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا۔ ان کے خون میں الکوحل کی مقدار 0.154فیصد نکلی۔ یہ مقدار مقررہ حد سے تین گنا زائد تھی‘ خاتون بشپ پر شراب نوشی ثابت ہو گئی چنانچہ ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاجس کے بعد خاتون نے اپنے عہدے سے رضاکارانہ استعفیٰ دے دیا۔ وہ کہہ سکتی تھیں کہ یہ معمولی مقدار تھی لیکن انہوں نے عزت کے ساتھ گھر جانا مناسب سمجھا۔ یورپی ممالک میں ایسے سینکڑوں واقعات ملتے ہیں جہاں حکومتی سربراہان کو معمولی خیانت پر اپنا عہدہ تک چھوڑنا پڑا جبکہ ہمارے ہاں جو جتنا بڑا مجرم ہے وہ اتنی ہی سختی سے چیونگم کی طرح اقتدار سے چپک جاتا ہے۔
نواز شریف صاحب ہر جلسے میں فرماتے ہیں‘ انہیں نا اہل کرنا ہی تھا تو کرپشن کی بنیاد پر کیا جاتا۔ ویسے ان کی یہ خواہش بھی جلد پوری ہونے والی ہے اور چھ ماہ میں احتساب عدالت کو جہاں ان کی تفتیش مکمل کرنے کا کہا گیا ہے‘ ممکن ہے اس میں انہیں اچھی خاصی سزا ہو جائے اور توقع ہے ان کا اگلا پڑائو اڈیالہ جیل ہو پھر انہیں سمجھ آ جائے گی کہ انہیں اقامہ پر نا اہل کیوں کیا گیا اور بعد میں تفتیش کیوں شروع کی گئی۔ ایک لمحے کو فرض کر لیتے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ انہیں کرپشن پر نکال دیتی تو پھر وہ سڑکوں پر یہ گلہ کر رہے ہوتے کہ سپریم کورٹ تو تفتیش کرنے والا ادارہ ہی نہیں ہے‘ یہ کام تو نیب کا ہے ‘ نیب تفتیش کرتی یا کسی احتساب عدالت میں ان کے خلاف کرپشن کا فیصلہ آتا تو پھر وہ اسے مانتے۔تب انہوں نے اس معاملے پر کسی اور طرح سے شور مچانا تھا۔ شریف خاندان اچھی طرح جانتا ہے برطانیہ جیسے ملکوں میں جہاں ان لوگوں کے فلیٹس اور دیگر اثاثے ہیں‘ وہاں ایک عدد پارلیمان بھی ہے۔ یہ جو جمہوریت جمہوریت کا روز راگ الاپتے ہیں یہ جمہوریت برطانیہ جیسے ممالک کی ہی دین ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ لوگ برطانیہ سے علاج بھی کرا لیں گے‘ وہاں ایئرپورٹ سے باہر قدم رکھتے ہی بغیر پروٹوکول ٹریفک سگنلز کی پابندی بھی کریں گے اور وہاں کے کپڑے‘ ادویات اور وہاں کا پانی پاکستان لا کر استعمال بھی کر لیں گے لیکن وہاں کی جمہوریت پاکستان میں لاگو کرنے کی انہیں جرأت تک نہیں ہو گی۔
حکومت بڑے زور و شور سے ہفتۂ قائد منا رہی ہے۔ گزشتہ سال بھی منایا گیا جب نواز شریف وزیراعظم تھے۔ یہ سب رسمی کارروائیاں ہیں۔ قائداعظم سے انہیں کوئی محبت ہوتی تو یہ ان کے فرمودات پر عمل بھی کرتے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ''اے ایمان والو!تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو، جن پر تم خود عمل نہیں کرتے،اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بڑی نا راضی کی بات ہے کہ تم ایسی بات کہو جو خود نہیں کرتے ہو‘‘۔ نواز شریف کہتے ہیں اقامہ رکھنا اور اس پر نااہلی معمولی بات تھی کیا انہوں نے قائداعظم کا وہ واقعہ نہیں پڑھ رکھا کہ جب وہ ریل گاڑی میں سفر کررہے تھے کہ اتفاقاً ان کا ٹکٹ کہیں گم ہوگیا ۔اتنے میں ٹکٹ چیکر آگیا اور مسافروں کے ٹکٹوں کی پڑتال کرنے لگا ۔سب مسا فر وں نے اپنے اپنے ٹکٹ نکال کر ہاتھو ں میں تھام لیے ۔قا ئد اعظم نے جیب ٹٹولی تو اس میں ٹکٹ نہ تھا۔ وہ پہلے تو گھبرائے ،پھر جب ٹکٹ چیکر ان کے پاس آیا تو انہوں نے جیب سے روپے نکال کر اس سے کہا:میرا ٹکٹ گم ہوگیا ہے ۔آپ مجھے نیا ٹکٹ بنا دیجیے۔ ٹکٹ چیکر نے پوچھا ‘آپ کہاں اتریں گے ؟قا ئداعظم نے جواب دیا ‘‘اگلے سٹیشن پر ''۔اس پر ٹکٹ چیکر کہنے لگا ‘‘تو پھر ٹکٹ بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ ٹکٹ کی رقم میں سے کچھ پیسے مجھے دے دیجیے ۔میں آپ کو سٹیشن کے باہر پہنچا دوں گا ۔''ٹکٹ چیکر کا یہ کہنا تھا کہ قا ئد اعظم غصے میں آگئے اور بولے ۔‘‘تمہیں شرم نہیں آتی ؟تم مجھے دھوکے اور بے ایمانی کا سبق دے رہے ہو ؟میں تمہیں پولیس کے حوالے کردوں گا ۔''یہ سن کر ٹکٹ چیکر گھبرا گیا اور معافی مانگنے لگا ۔قائد اعظم نے کہا معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ۔پیسے لو اور ٹکٹ بناؤ ۔ٹکٹ چیکر نے پیسے لے کر خاموشی سے ٹکٹ بنا دیا۔
اب اس قوم کو یہ سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ آپ کے اگلے وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے ۔ ویسے اگر شہباز شریف ملک کے وزیراعظم بن گئے تو اس ملک اور اس کے اداروں کی تباہی اور عوام کی بربادی میں کون سی کسر باقی رہ گئی ہے جو ان کے برادر عزیز نے چھوڑی ہے اور وہ آ کر پوری کریں گے؟


Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved