تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     31-12-2017

عائلی خوشگواریاں

گھنٹی
ایک صاحب اپنے کسی دوست سے ملنے کے لیے گئے تو اُس نے مہمان کو اپنے بیڈ روم ہی میں بُلا لیا۔ سنگل بیڈ دیکھ کر مہمان نے کہا‘ تم یہاں سوتے ہو تو تمہاری بیوی کہاں سوتی ہے‘ جس پر دوست نے جواب دیا کہ کچن سے آگے جو بچوں کا کمرہ ہے‘ وہ وہاں سوتی ہے۔ اس نے پھر پوچھا کہ اگر تمہیں ضرورت محسوس ہو تو کیا کرتے ہو۔ دوست نے کہا‘ بیڈ کے ساتھ جو گھنٹی لگی ہوئی ہے میں وہ بجا دیتا ہوں اور وہ آ جاتی ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ اور اگر اُسے ضرورت محسوس ہو تو وہ کیا کرتی ہے؟ تو وہ صاحب بولے کہ وہ دروازے میں آ کر پوچھ لیتی ہے کہ آپ نے گھنٹی تو نہیں بجائی؟
کُتا
ایک صاحب کہیں جا رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک جنازہ جا رہا ہے جس میں شامل لوگ قطار میں جا رہے تھے اور آگے آگے ایک کُتا جا رہا تھا جس کے گلے میں پھولوں کے ہار تھے۔ اس شخص نے حیران ہو کر جنازے میں شامل ایک شخص سے پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ ہے؟ تو اُس نے بتایا کہ یہ خاتون اس کے کاٹنے سے مری تھی۔ اُن صاحب نے کہا‘ کیا یہ کُتا ایک دن کے لیے مجھے مل سکتا ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ قطار اسی کُتے کے اُمیدواروں کی ہے۔ ان سے فارغ ہو گیا تو تم لے جانا!
قبریں
ایک شخص قبرستان میں سے گزر رہا تھا کہ اس نے دیکھا ایک صاحب افسردہ شکل بنائے تین قبروں کے سرہانے بیٹھے تھے۔ اس نے پوچھا‘ یہ کس کی قبریں ہیں؟ جواب ملا کہ میری بیویوں کی ہیں۔ اس نے پوچھا‘ اُن کی موت کیسے واقع ہوئی؟ تو جواب ملا کہ دو نے تو زہر کھا لیا تھا‘ اور تیسری؟ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ تیسری نے زہر کھانے سے انکار کر دیا تھا!
وصیت
ایک امیر آدمی نے مرتے وقت وصیت کرتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا کہ میری ساری دولت تم قبر کے اندر میرے ساتھ رکھ دینا۔ اس وقت بیوی کی ایک سہیلی بھی پاس بیٹھی تھی۔ وہ آدمی مر گیا خاتون کی سہیلی تعزیت کے لیے آئی تو اُس نے پوچھا کہ کیا تم نے وصیت پر عمل کیا ہے؟ تو جواب ملا کہ اس کی جتنی رقم بنتی تھی‘ میں نے چیک کاٹ کر اُس کے سرہانے رکھ دیا تھا تاکہ بوقتِ ضرورت کیش کرا لے!
کھمبا
ایک صاحب کی بیوی فوت ہو گئی۔ جب اس کا جنازہ لے جا رہے تھے تو جنازے کی چارپائی گلی کا موڑ مڑتے کھمبے سے ٹکرا گئی جس پر وہ عورت اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ کچھ دنوں بعد اس کا پھر انتقال ہوا تو جنازہ لے جاتے ہوئے جب گلی کے موڑ پر پہنچے تو عقب سے اس کے میاں نے پکار کر کہا‘ کھمبے سے بچا کر! 
کیا بنے گا؟
بیمار بیوی کا وقت جب آخری دموں پر پہنچا تو وہ پاس بیٹھے ہوئے اپنے میاں سے بولی‘ میں سوچ رہی ہوں کہ اگر میں مر گئی تو تمہارا کیا بنے گا؟ میاں بولے‘ اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ تم اگر نہ مریں تو پھر میرا کیا بنے گا؟
تلاش
شاپنگ کے دوران رش میں ایک صاحب کی بیوی بچھڑ کر کہیں گم ہو گئی۔ وہ اُسے تلاش کر رہے تھے کہ اُنہیں اپنا ایک دوست پریشان حالت میں نظر آیا۔ وجہ پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ بھیڑ میں میری بیوی کہیں کھو گئی ہے‘ اُسے ڈھونڈ رہا ہوں‘ اور تم؟ اس نے پوچھا تو اُن صاحب نے بتایا کہ میں بھی اپنی بیوی ہی کو ڈھونڈ رہا ہوں‘ تو ان صاحب نے اس سے بیوی کا حلیہ پوچھا تو اس نے بتایا کہ گوری چٹی‘ دراز قد اور نہایت خوبصورت ہے تو وہ صاحب بولے کہ میری بیوی تو خاصی بدصورت ہے‘ اس لیے میری بیوی پر لعنت بھیجو‘ چلو مل کر تمہاری بیوی کو ڈھونڈتے ہیں!
چڑیل
میاں بیوی مر گئے تو دوسرے جنم میں میاں نے جن کی شکل اختیار کی اور بیوی نے چڑیل کی۔ اتفاق سے ایک جگہ دونوں کا ٹاکرا ہوا تو بیوی بولی‘ تمہاری شکل کیسی ہو گئی ہے‘ تم تو اتنے خوبصورت ہوا کرتے تھے‘ جس پر میاں بولا‘ ٹھیک ہے‘ لیکن تم تو ویسی کی ویسی ہی ہو!
شیشہ
میاں بیوی میں لڑائی شدت اختیار کر گئی تو بیوی نے جُوتا اس کی طرف چلایا‘ لیکن میاں بیٹھ گیا اور جُوتا کھڑکی کے شیشے میں جا لگا جس سے شیشہ ٹوٹ گیا۔ اس پر میاں نے کہا کہ شیشہ تمہاری وجہ سے ٹوٹا ہے تو بیوی بولی‘ اس کے ذمہ دار تم ہو‘ تم اگر نہ بیٹھتے تو شیشہ کبھی نہ ٹوٹتا!
شاپنگ
ایک خاتون سے اس کی سہیلی نے پوچھا کہ تم آئے دن شاپنگ پر نکلی رہتی ہو تمہارے پاس اتنے پیسے کہاں سے آتے ہیں تو خاتون نے جواب دیا کہ جب ہم میں لڑائی ہوتی ہے تو میں اُسے کہتی ہوں کہ میں نے یہاں نہیں رہنا‘ میں میکے جا رہی ہوں مجھے کرایہ دو‘ وہ کرایہ دے دیتا ہے لیکن میں نہیں جاتی اور پیسے جمع ہوتے رہتے ہیں!
اور‘ اب آخر میں خانہ پُری کے لیے یہ تازہ غزل :
ویسے بھی کام ہیں ابھی آگے پڑے ہوئے
یوں ہی نہیں ہم آپ کے پیچھے پڑے ہوئے
دل کے معاملات ہیں‘ ناقابل بیاں
اُلٹے پڑے ہوئے کہیں سیدھے پڑے ہوئے
کہیے اُمید و بیم کا احوال اور کیا
برتن ہیں آرزوئوں کے اوندھے پڑے ہوئے
فارغ نہ تھے بدن کی سجاوٹ سے جو کبھی
دیکھو اُنہی کو جان کے لالے پڑے ہوئے
زحمت ہوا نے بھی نہ اٹھائی ہے آج تک
سڑکوں پہ ہیں ابھی مرے پتے پڑے ہوئے
اُس رات یہ زمیں بھی مجھے آسماں لگی
یُوں فرش خاک پر تھے ستارے پڑے ہوئے
ہم کو نظر نہ آئے دُھوئیں اور دُھند میں
آنکھوں کے آس پاس تماشے پڑے ہوئے
کیا کیا بیان کرتے ہیں دریا کی داستاں
پانی کے منتظر یہ کنارے پڑے ہوئے
وہ تو اُٹھائے گا نہیں آ کر کبھی‘ ظفرؔ
ہیں آپ کس اُمید میں ایسے پڑے ہوئے
آج کا مقطع
اُس دشتِ نارسائی کے گھیرے میں ہے ظفرؔ
جس میں تیرے وجود کا آہو کہیں نہیں

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved