تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     01-01-2018

سرخیاں‘ متن اور اسلم عارفی کی شاعری

قبضہ مافیا سے تعلق ہے نہ کرپشن کا داغ‘ ہمیشہ 
مظلوم کے ساتھ کھڑا رہا:چوہدری نثار
سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ''کرپشن کا داغ ہے نہ قبضہ مافیا سے تعلق‘ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑا رہا ہوں‘‘ اگرچہ کرپٹ لوگوں کی حمایت جاری رکھنا بھی کرپشن سے کم نہیں ہے‘ تاہم مجبوری بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور شریف برادران کا ساتھ اس لیے دیتا رہا کہ میں شروع سے ہی انہیں مظلوم سمجھتا رہا ہوں کیونکہ جو کام انہوں نے کیے ہیں وہ بھی بحالت مجبوری ہی کیے ہیں اور مجبور سے زیادہ مظلوم اور کون ہو سکتا ہے اور جہاں تک قبضہ مافیا کا تعلق ہے تو ان کا پنجہ ہی اس قدر سخت اور مضبوط تھا کہ میرے جیسوں کی اس میں گنجائش ہی کیسے نکل سکتی ہے۔ تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق بڑے میاں صاحب سیاست سے ریٹائر ہو کر جلاوطنی اختیار کرنے پر تیار ہو گئے ہیں اور چھوٹے میاں صاحب کے ساتھ ساتھ میرا بھی چانس نکل سکتا ہے لیکن ان کے مستقبل کے بارے میں بھی یقین کی ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ آپ اگلے روز ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
علی بابا اور چالیس چور اکٹھے ہو کر بھی پاکستان
کا بال بیکا نہیں کر سکتے: رانا افضل
وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل نے کہا ہے کہ ''علی بابا اور چالیس چور اکٹھے ہو کر بھی پاکستان کا بال بیکا نہیں کر سکتے‘‘۔ کیونکہ یار لوگوں نے پاکستان کے سر پر کوئی بال چھوڑا ہی نہیں تو بیکا کس چیز کو کریں گے یعنی گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا اور پھر یہ علی بابا جتنے بھی ہیں‘ سب نقلی ہیں اور اصلی علی بابا کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ''جب بھی نواز شریف کی حکومت آتی ہے‘ ملک کے دشمن متحرک ہو جاتے ہیں‘‘ حالانکہ ان کا کام کافی خوش اسلوبی کے ساتھ پہلے ہی ہو رہا ہوتا ہے کیونکہ نواز شریف ہر ادارے کی ایسی تیسی پھیر دیتے ہیں اور جو بچ ہوتا ہے اس کے ساتھ پنگا لے لیتے ہیں کیونکہ وہ نظریاتی آدمی ہیں اور ہر وقت اپنے نظریات پر کاربند رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''عوام سب کو پہچانتے ہیں‘‘ حتیٰ کہ اب انہوں نے نواز شریف کو بھی پہچاننا شروع کر دیا ہے بلکہ کافی حد تک پہچان بھی چکے ہیں۔ آپ اگلے روز فیصل آباد پہنچنے پر اپنا استقبال کرنے والوں سے خطاب کر رہے تھے۔
قسم اٹھانے کو تیار ہوں ماڈل ٹائون کا
واقعہ منصوبہ بندی نہیں تھا: رانا ثناء اللہ
وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ''قسم اٹھانے کو تیار ہوں کہ ماڈل ٹائون کا واقعہ منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا‘‘ اور حلف نامے میں ترمیم کے بعد تو ہم لوگوں کی قسم اور بھی زیادہ قابل اعتبار ہو گئی ہے۔ نیز یہ واقعہ ہی اتنا سیدھا سادہ تھا کہ اس کیلئے کسی خاص منصوبہ بندی کی ضرورت ہی نہیں تھی اور اس سلسلے میں ایک اجلاس کی صدارت کو منصوبہ بندی ہر گز نہیں کہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ''خرم گنڈا پور سے دیت کیلئے ملاقاتیں ہوئیں‘‘ لیکن وہ قصاص سے کم پر راضی ہی نہیں ہو رہے تھے حالانکہ دیت بھی عین اسلامی طریقہ ہے جس کا ہم ریمنڈ ڈیوس والے معاملے میں بھرپور مظاہرہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''انہوں نے رقم کم قرار دی تھی‘‘ اور ہم نے چونکہ مختلف طریقوں سے اس مسئلے پر قابو پا لینا تھا اس لیے زیادہ رقم دینے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ''اے پی سی کامقصد ن لیگ کی سیاست کو ختم کرنا ہے‘‘ حالانکہ وہ پہلے ہی ختم ہو رہی ہے‘ اس کیلئے اتنا تردد کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ آپ اگلے روز ایک مقامی نیوز چینل سے گفتگو کر رہے تھے۔
نواز شریف کا دورئہ سعودی عرب‘ عمران خاموش رہیں:پرویز رشید
نواز لیگ کے مرکزی رہنما سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ''نواز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے بارے میں عمران خان خاموش رہیں‘‘ رنگ میں بھنگ نہ ڈالیں اور بات کو کسی نتیجے پر پہنچنے دیں اور خوشخبری کا انتظار کریں کہ اب وہ لندن کے فلیٹوں ہی میں مستقل رہائش اختیار کرنے پر تیار ہو گئے ہیں جبکہ سب لوگ پہلے ہی وہاں جمع ہو چکے ہیں اور مریم بی بی بھی جانے کو تیار بیٹھی ہیں جبکہ اصل نقصان انہی کا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''غیر ذمہ دارانہ تبصرے برادر ملک کی دل شکنی کا سبب بن سکتے ہیں‘‘ جبکہ وہ نواز شریف کو ہی پہلے کچھ زیادہ لفٹ نہیں کرا رہے ‘ورنہ وہ ان کیلئے بھی جہاز بھیجتے۔ انہوں نے کہا کہ ''ایسے تبصروں سے پاکستان کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘‘ اس لیے اگر کوئی نیک کام ہونے جا رہا ہے تو اسے ہونے دیں‘ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
طاہر القادری اور عمران خان اشاروں پر چلتے ہیں:جاوید لطیف
نواز لیگ کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ''عمران خان اور طاہر القادری اشاروں پر چلتے ہیں‘‘ لیکن ہم اشاروں کی پروا کیے بغیر اندھا دھند چلتے ہیں اور توہین عدالت کی بھی پروا نہیں کرتے بلکہ اگر عمران خان کی تجویز پر توہین عدالت کا قانون ختم کر دیا جائے تو کچھ مزہ باقی نہیں رہے گا اور ہماری ساری تقریریں پھسپھسی اور بے مزہ ہو کر رہ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ''پیپلز پارٹی اس شخص کے ساتھ بیٹھ رہی ہے جو پارلیمنٹ میں یقین نہیں رکھتا‘‘ اگرچہ خود نواز شریف بھی پارلیمنٹ میں کم کم ہی آتے ہیں تاہم وہ اس دوران دیگر ضروری کاموں میں مصروف رہتے ہیں جس پر اب انہیں خواہ مخواہ تنگ اور پریشان کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ماڈل ٹائون کیس میں سازش ہو رہی ہے‘‘ کہ کسی نہ کسی طرح مظلوم لواحقین کو انصاف مل سکے۔ حالانکہ انصاف جیسی چیز صرف اللہ میاں ہی سے مانگی جا سکتی ہے۔ لگتا ہے کہ ان کے ایمان بہت کمزور ہیں۔ آپ اگلے روز ایک نجی نیوز چینل پر گفتگو کر رہے تھے اور اب گوجرہ سے اسلم عارفی کے اشعار:
گھٹن ہے جا بجا‘ تازہ ہوائوں کی ضرورت ہے
میانِ شہر بھی اب ایک گائوں کی ضرورت ہے
.........
ہے پھول کہیں اور تو مہکار کہیں اور
میں اور کہیں ہوں‘ مرے آثار کہیں اور
آج کا مقطع
ڈوبنا اور ابھرنا ہے اسی میں جو‘ ظفرؔ
سامنے خواب ہے اور خواب کی گہرائی ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved