تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     04-01-2018

سُرخیاں‘ متن اور اقتدار جاوید کی تازہ نظم

پاکستان کا مستقبل تاریک بنانیکی سازشیں ناکام ہونگی : نوازشریف
سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ''پاکستان کا مستقبل تاریک بنانے کی کوششیں ناکام ہوں گی‘‘ اور اب تو اس کا کوئی امکان رہا ہی نہیں کیونکہ تحریک عدل کہیں درمیان ہی میں رہ گئی ہے کیونکہ مجھے یہی تلقین کی گئی تھی جبکہ شاہ سلمان کے ساتھ میری ملاقات کا کوئی یقین ہی نہیں کرتا کیونکہ نہ اس کی کوئی تصویر ہے نہ مشترکہ اعلامیہ وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ ''سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں‘‘ بلکہ خاکسار کے ساتھ بھی تھے لیکن اب وہ پٹھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دیتے بلکہ کئی ارب کا حساب اور بقایا نکال کر دکھا دیا حالانکہ ان معززین کے ساتھ کاروبار تو برکت کی خاطر کیا تھا لیکن اب موجودہ برکت سے بھی محروم ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''پاکستانیوں کو سعودی عرب میں خصوصی مقام حاصل ہے‘‘ اسی لیے انہوں نے ملاقات کے لیے اتنے دنوں تک انتظار کرایا تاکہ ہم لوگ ان کی میزبانی کا زیادہ سے زیادہ لطف اٹھا سکیں‘ ہیں جی؟ آپ اگلے روز بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنے استقبال کے لیے آنے والوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
نوازشریف کا ساتھ دینے کی سزا دی جا رہی ہے : محمود اچکزئی
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خاں اچکزئی نے کہا ہے کہ ''نوازشریف کا ساتھ دینے کی سزا دی جا رہی ہے‘‘ اور اگر نوازشریف کے کام غلط ہیں تو ریفرنسز کا فیصلہ کر کے جلد سزا دی جائے۔ اس کے بعد ہمارا نمبر آئے گا‘ اس لیے ہماری سزا کو تاحال روک لیا جائے کیونکہ ہر کام وقت پر ہی اچھا لگتا ہے اور شکر ہے کہ ہمیں تحریک عدل کا ساتھ نہیں دینا پڑے گا کیونکہ سعودیوں نے ان کا ڈنگ نکال دیا ہے اور این آر او کروانے کی جگہ اپنا کھاتہ کھول کر بیٹھ گئے اور وہ توبہ تائب ہو کر ہی واپس آئے ہیں چنانچہ اگلا تو صرف ٹھنڈ پروگرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''نوازشریف اور مریم نواز جمہوریت کا جس طرح دفاع کر رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے‘‘ کیونکہ اگر ان کی دولت کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو اس کا براہ راست اثر جمہوریت پر پڑے گا کیونکہ انتخابات کے موقعہ پر دولت خرچ کر کے ہی جمہوریت کا بول بالا اور دشمن کا منہ کالا کیا جاتا ہے۔ آپ اگلے روز کوئٹہ میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔
امریکہ پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا 
تو مثبت نتائج آئیں گے : خرم دستگیر
وزیر دفاع خرم دستگیر خاں نے کہا ہے کہ ''امریکہ پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا تو مثبت نتائج آئیں گے‘‘ کیونکہ قرضے ادا کرنے کی تاریخ سر پر آ چکی ہے اور امریکی تعاون کے بغیر ہمارا باپ بھی یہ قسط ادا نہیں کر سکتا جس کے لیے مزید قرضے کی بات چیت شروع ہے اور اگر امریکہ راستے میں آ گیا تو وہ آئی ایم ایف کو روک بھی سکتا ہے جبکہ 25 کروڑ ڈالر کی امداد روک کر امریکہ نے پہلے ہی ہمارے ہوش ٹھکانے لگا رکھے ہیں اس لیے امریکی حکومت کو چاہیے کہ ہماری زبانی کلامی باتوں کو کوئی اہمیت نہ دے اور اپنا دست کرم دراز رکھے جبکہ دیگران کی طرح ہمارے اصل لیڈر میاں نوازشریف نے امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کیونکہ اگر وہ اس کی مذمت کرتے تو مودی صاحب کی بھی دل سوزی ہونا تھی کیونکہ اُنہی کے کہنے پر امریکہ اپنا رویہ تبدیل کر رہا ہے کیونکہ اگر آں حضرت نے کبھی کلبھوشن کا نام تک نہیں لیا تو امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کی مخالفت کیسے کر سکتے ہیں۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹیلی ویژن پروگرام میں شریک گفتگو تھے۔
پیپلز پارٹی ہی امریکہ اور دہشت گردی سے نمٹ سکتی ہے : بلاول
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''صرف پیپلز پارٹی ہی امریکہ اور دہشت گردی سے نمٹ سکتی ہے‘‘ کیونکہ زرداری صاحب کو اس کا تجربہ بھی حاصل ہے جو کہ اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کر چکے ہیں اور اب سینیٹ الیکشن کے حوالے سے نون لیگ کے ساتھ رابطے کر کے اُس کے ساتھ بھی نمٹنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ٹرمپ کے کہنے پر نہیں کریں گے‘‘ بلکہ ٹرمپ کو چڑانے کے لیے ان عناصر کی حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ امریکہ کو ناکوں چنے چبوائے جا سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ''پیپلز پارٹی کو دہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ بھی حاصل ہے‘‘ اگرچہ ایسی کوئی بات نہیں ہے‘ تاہم کہنے میں کیا حرج ہے کیونکہ سیاست میں زیادہ تر باتیں کہنے کے لیے ہی ہوتی ہیں‘ تاہم ہماری باتوں کا اثر بھی ہوتا ہے کہ زرداری صاحب کے واویلا کرنے پر ہی سعودیہ میں کوئی این آر او نہیں ہوا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔
اور‘ اب اقتدار جاوید کی یہ خوبصورت نظم :
بچپن
میں بلّور سے کھیلتے؍ باغ میں خوبصورت پری کو بُلاتے؍ یونہی باپ سے اپنا قد ناپتے؍ دُھوپ کے ساتھ بڑھتے؍ ستاروں کے ہجوں سے ماں باپ کا نام لکھتے؍فلک کی بڑی نیل تختی پہ پوچا لگاتے ؍ اُسے گرم میدان کی دُھوپ میں؍اپنے ہمرہ سُکھاتے؍ بڑا ہو گیا تھا؍ یونہی آئنے میں سے خود کو پکڑتے؍ میں خود سے جھگڑتے؍ میں گھٹنوں پہ چلتے؍اچانک کھڑا ہو گیا تھا؍ وہاں پر‘ جہاں وقت تھم سا گیا تھا؍ جہاں اوس چُگتے پرندے کا؍ اک چہچہا سُن کے پیراہن ابر پھٹتا؍ ذرا روشنی ٹوٹتی؍پردہ چشم ہٹتا؍ گلی جاگتی‘ میں بھی انگڑائی لیتا؍ تو معلوم ہوتا؍ کہ چاروں طرف سونا‘ پگھلا پڑا ہے؍ اگر ڈاکیہ شام تک نہ پہنچتا تو لگتا؍ ابھی دوپہر ہے؍ اگر ماں کی آواز آتی؍ تو بستر میں گھستا؍ سمجھتا کہ اب رات؍ اپنا بچھونا بچھانے لگی ہے؍ اندھیرے نے بستی کو نگلا ہوا ہے؍ کہیں کوئی آہٹ نہیں؍ کوئی جھنکار‘ کچھ بھی نہیں؍ پوری بستی اندھیرے سے لپٹی؍ خوشی سے ڈوبی پڑی ہے فقط؍ اک مرے سانس کی دھونکنی چل رہی ہے!!
آج کا مطلع
بہت مایوس ہوں میں‘ پھر بھی اکثر ڈھونڈتا ہوں
کوئی نایاب ہے جس کو برابر ڈھونڈتا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved