تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     05-01-2018

خبردار! اب ڈرنا منع ہے

اہلِ جہاں منع کرتے تھے، سمجھاتے تھے مگر ہم مانتے تھے نہ سمجھنے کو تیار تھے۔ مرعوبیت کی انتہا تھی۔ غلامی کا شوق تھا۔ ہم سات عشروں تک امریکی غلامی کا طوق بصد شوق گلے میں ڈالے رہے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ ؎ 
لوگ سمجھاتے رہ گئے دل کو 
ہوش جاتے رہے تو ہوش آیا! 
دکھ صرف اس بات کا تھا کہ ہم خود کو ایک ہی سُوراخ سے کئی بار ڈسوانے کے لیے تیار، بلکہ بے تاب رہا کرتے تھے۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکا سے مرعوبیت کی ابتدا ہوئی۔ پھر ہم نے دیکھا کہ 1971ء میں بھارت سے جنگ کے موقع پر انکل سام نے منہ پھیر کر پیٹھ دکھا دی۔ ہم جنگ اور آدھا ملک ہار گئے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ امریکا کی طرف دیکھنا پھر بھی بند نہیں کیا گیا۔
پھر ستر کی دہائی کے اواخر میں سابق سوویت یونین نے افغانستان پر لشکر کشی کی تو ہمیں فرنٹ مین بننے کا ''اعزاز‘‘ حاصل ہوا! امریکا اور یورپ نے مل کر ہم میں ڈالر کی ہوا بھری اور ہاتھی کے سامنے کھڑا کر دیا۔ امریکا و یورپ کے دیئے ہوئے ہتھیاروں اور ڈالرز کی مدد سے ہم نے مجاہدین کے ذریعے افغانستان کے طول و عرض میں سوویت افواج کا ایسی ''پامردی‘‘ سے سامنا کیا کہ ان کے اور ہمارے اپنے قدم ساتھ ساتھ اُکھڑے!
افغان سرزمین پر شکست سے دوچار ہونے کے بعد سوویت افواج ہی پسپا نہیں ہوئیں بلکہ سوویت یونین بھی دنیا کے نقشے سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔ مشن مکمل ہوتے ہی امریکا نے ہم سے نظریں پھیر لیں۔ گو کہ یہ حیرت انگیز بات نہ تھی مگر ہم پھر بھی ملول تو ہوئے، دل تھام کر رہ گئے۔ اور اِس سے بڑی، تلخ تر حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں سوویت افواج کو ہرانے کا تجربہ ایسا خوفناک تھا کہ ہمیں سَر بھی تھامنا پڑے! کون نہیں جانتا تھا کہ افغانستان میں سوویت افواج سے نبرد آزما ہونے کے نتیجے میں ہمیں اپنے معاشرے میں شدید خرابیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کم و بیش 35 لاکھ افغان پناہ گزین ہماری سرزمین ہی پر آباد نہیں ہوئے بلکہ ہماری زندگی کا حصہ بھی بنے۔ اُن کی آمد سے کل کے صوبۂ سرحد اور موجودہ خیبر پختونخوا کا ثقافتی تانا بانا بکھر گیا، آبادی کا توازن بگڑ گیا۔ معیشت پر بھی اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوئے۔ 
سوویت یونین کی تحلیل اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کم و بیش ایک عشرے تک افغانستان میں شدید عدم استحکام رہا۔ اور یہ عدم استحکام ہم پر اثر انداز نہ ہوتا ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
ابھی ہم جیسے تیسے سرد جنگ کے بعد کے زمانے کو جھیل ہی رہے تھے کہ 2001ء کے اواخر سے امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر نیا ٹوپی ڈراما شروع کیا اور اس ٹوپی ڈرامے کے لیے ''بچہ جمورا‘‘ کے طور پر ہم اُس کے ساتھ تھے۔ ڈیڑھ عشرے کے دوران پاکستان نے جو کچھ جھیلا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاکستانی معاشرے کا حلیہ مزید بگڑ گیا ہے۔ تین سال سے تھوڑا سکون ہے۔ اس سے پہلے بارہ سال تک ہم قدم قدم پر مشکلات سے دوچار تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا کھل کر ساتھ دینا 'آ بیل، مجھے مار‘ کے مترادف تھا۔ پوری قوم ایک بار پھر قعرِ مذلت میں جا گری۔ دس بارہ سال تک تباہی پاکستان کا مقدر رہی۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر جو کچھ ملا وہ پاکستان کو پہنچنے والے نقصان سے کہیں کم تھا۔ معاملہ یہ ہوا کہ امریکا نے ہمیں استحقاق سے بہت کم دیا اور احسان بھی جتاتا رہا۔ معیشت، سیاست، سفارت سبھی کچھ تو خرابی 
سے دوچار ہوا۔ عالمی برادری میں ملک کی ساکھ مزید کمزور ہوئی۔ سوفٹ امیج کے نام پر کچھ بھی نہ بچا۔ 
امریکا نے قدم قدم پر اپنی بات منوائی۔ چند ڈالرز کے عوض پوری پاکستانی قوم کو ایک ایسی جنگ میں الجھا کر رکھا جو کسی بھی طور اس کی نہ تھی۔ سوویت افواج کو ناکوں چنے چبوانے والے مجاہدین کو امریکا نے دہشت گرد اور ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا۔ وہ تجربہ کافی تھا مگر ہم ایک بار پھر اوکھلی میں سر دے بیٹھے۔
افغانستان میں امریکا اور اس کے حاشیہ برداروں کو جب منہ کی کھانا پڑی تو ملبہ ایک بار پھر پاکستان پر ڈالنے کی تیاری کی گئی۔ اب بہانہ یہ تھا کہ افغانستان میں امریکا اور اس کے ہم نوا ممالک کی افواج پر حملوں میں حقانی گروپ اور القاعدہ والے ملوث ہیں اور اِنہیں پاکستان سے حمایت و مدد ملتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجیز کی مدد سے ایک ایک قدم پھونک کر رکھنے والی امریکی فوج کیا گھاس کھود رہی تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہوسکا کہ اس کی ناک کے نیچے کیا ہو رہا ہے۔ ہر معاملے میں حتمی ذمہ داری انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) پر ڈال کر اطمینان کی چادر تان لینا امریکا اور بھارت دونوں کا وتیرہ رہا ہے۔
کئی سال سے '' ڈو مور‘‘ کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ہی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ نشانہ بنائے تاکہ امریکا میں عوام کو یہ کہتے ہوئے مطمئن کیا جا سکے کہ امریکی قیادت نے پاکستان سے اپنی بات منوا لی ہے اور اب دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تباہ کی جا رہی ہیں۔ امریکا کے پاس نگرانی کا اعلیٰ ترین نظام موجود ہے۔ اس کی مدد سے وہ پاکستانی علاقوں پر بھی نظر رکھتا ہے اور افغانستان پر بھی۔ اب اگر یہ اعلیٰ ترین نظام دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں اور سرگرمیوں کا پتا نہیں دے سکتا تو پھر بہتر یہ ہے کہ اِسے خیرباد کہہ دیا جائے۔
اب ایک بار پھر ڈرایا، دھمکایا جا رہا ہے۔ چند برس پہلے تک حالت یہ تھی کہ امریکا سے کوئی بھی نچلے درجے کا عہدیدار آتا تھا اور ہم اس کے سامنے نظریں جھکائے‘ واشنگٹن کے تازہ ترین احکام سنتے تھے۔ وہ دور اب نہیں رہا۔ حالات بدل چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے اب اپنی بات کہنے اور منوانے کا وقت بہت حد تک آ چکا ہے۔ امریکا کا دھمکیاں دینے پر اتر آنا اس امر کا غمّاز ہے کہ دال گل نہیں رہی، بات بن نہیں رہی۔ ایسے میں بڑھکیں مارنے کا آپشن رہ جاتا ہے اور امریکی نظام طاقت کے زعم میں حماقت کی راہ پر منزلیں مارتے مارتے اب بڑھکیں مارنے کی منزل تک آ پہنچا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے جنرل اسمبلی کی رائے شماری سے صدر ٹرمپ کے احسان فراموشی پر مبنی ٹویٹ تک بہت کچھ ہے جو خود بخود بیان ہوگیا ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان سمیت کئی ممالک کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب پاکستان پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے مال تو لیا مگر کام نہ کیا! دوسری طرف ہماری قیادت بھی واضح کر چکی ہے کہ کوئلے کی دلالی میں ہاتھ ہمارے کالے ہوئے ہیں اور اب امریکی قیادت یہ کالک ہمارے منہ پر بھی مَلنا چاہتی ہے۔
25 کروڑ ڈالر کی امداد روک دی گئی ہے۔ مگر خیر، یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ ہم حوصلہ ہار بیٹھیں۔ قابل اعتبار ساتھی موجود ہیں۔ اب ڈرنا منع ہے۔ یہ وقت خُم ٹھونک کر میدان میں آنے اور حریف کو کسی حد تک منہ دینے کا ہے۔ بین الاقوامی سیاست کے اکھاڑے میں طاقت سے زیادہ اعتماد کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور اس بات کی بھی کہ ڈرے بغیر کوئی اپنے پتّے کس طور کھیلتا ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved