تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     06-01-2018

وطن کی فکر کرناداں، مصیبت آنے والی ہے

گردوپیش کے حالات سے بے خبری اور درپیش خطرات سے غفلت ہمارا قومی مزاج ہے ،اُس کی بابت اپنے دردِ دل کو علامہ اقبال نے ایک طویل نظم میں بیان کیا ہے ،جس کے چند اشعار درج ذیل ہیں:
چھپا کر آستینوں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
سن اے غافل! صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو 
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں
وطن کی فکر کر ناداں، مصیبت آنے والی ہے 
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں 
ہمارے آج کے حالات ان اشعار کی ہوبہو تصویر ہیں ،سیاست دان ذاتی اور گروہی مفاد ات کے لیے باہم دست وگریباں ہیں ، ہر ایک اس فکر میں مگن ہے کہ کسی حیلہ وتدبیر یا غیبی نصرت سے تختِ اقتدار پر متمکن ہوجائے۔وہ دستوری اور قانونی تقاضوں کی میزان پر پورا اتر کر اقتدار تک پہنچنے کی مشقت برداشت کرنے سے گریزاں ہیں ،شاید انہیں خود پر پورا اعتماد نہیں ہے ۔ملک گرِدوپیش اور عالمی اعتبار سے انتہائی پُر خَطر دور سے گزر رہا ہے ،ریاستی اداروں کے درمیان فضا کو مزید با اعتماد بنانے کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف اپنی ٹیم کے ہمراہ سینیٹ میں بریفنگ کے لیے گئے ۔ بریفنگ پسِ پردہ بتائی گئی تھی ،لیکن اُس کو بعض سیاستدانوں نے اِفشا کیا۔ ماضی میں پسِ پردہ اجلاسوں کی باتیں رِس رِس کر قطرہ قطرہ باہر آتی تھیں ، لیکن یہ پرنالے کی طرح روانی سے منظر عام پر آگئیں ،یہی وجہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ جنابِ رضا ربانی نے اس پرناراضی کا اظہار کیا۔ لیکن جو کچھ باہر آیا ،وہ داخلی حالات سے متعلق تھا ،بین الاقوامی حسّاسیت کے بارے میں کوئی اہم بات ہمارے علم میں نہیں آئی۔ 
ہمارے ہاں میڈیا کا کام لوگوں کو جہالت میں رکھنا ، مذہبی وسیاسی مناظرے اور مفروضہ خبریں نشر کر کے ریٹنگ حاصل کرنا ہے ، کیونکہ اسکرین پر یہی مال بکتا ہے ۔اسی بناپر بین الاقوامی حسّاسیت کے حوالے سے کوئی سنجیدہ پروگرام دیکھنے اور سننے کو نہیں ملتاکہ اسکرین کی رونقیں ماند پڑ سکتی ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے 68 صفحات پر مشتمل جو نئی سکیورٹی پالیسی جاری کی ہے ،اس کا مرکزی ہدف شمالی کوریا، چین ،روس ،ایران اور پاکستان ہیں۔اس میںپاکستان کے بارے میں واضح تنبیہات موجود ہیں، چند کالم نگاروں کے علاوہ کوئی اس حسّاسیت کو زیرِ بحث نہیں لایا، جبکہ امریکہ نے وارننگ دی ہے کہ وہ پاکستان کے اندر اپنے اہداف پر براہِ راست حملہ بھی کرسکتا ہے،اسی کو سرجیکل اسٹرائک کہتے ہیں ۔حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں اس کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا ہے کہ ہمیں نوٹسز دیے جارہے ہیں ،یہ غیر دوستانہ عمل ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا: ''ہم نے دو مرتبہ دوسروں کی جنگ لڑی، اب ہم اپنی سرزمین پر دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے‘‘۔بادی النظر میں اس کا اشارہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں جہادِ افغانستان اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کاشراکت دار بننے کی طرف ہوسکتا ہے ،یمن کی جنگ کا ایندھن بننے سے توایک کمزور پارلیمنٹ نے بچالیا۔انہوں نے کہا: ''ملک کے دفاع کے لیے قوم کے تعاون اور محبت کی ضرورت ہے ، کیونکہ یہ جنگ پوری قوم نے مل کر لڑنی ہوگی ،مسلّح افواج تنہا اس سے سرخرو نہیں ہوسکتیں‘‘۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ہم رقم دیتے ہیں اور اس کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی جاتی ،لہٰذا اب انہوں نے کولیشن سپورٹ فنڈ کی قسط سرِ دست روک دی ہے اور وائٹ ہائوس کے ترجمان نے کہا:''ایک دو دن میں نئے مطالبات کی فہرست پاکستان کو پیش کی جائے گی‘‘۔ڈی جی صاحب نے کہا:'' ہمیں رقم اخراجات کی مد میں ملتی ہے،ہم پہلے خرچ کرلیتے ہیں، اس کے بعد امریکہ کی طرف سے ادائیگی ہوتی ہے ۔ہمارا ریاستی موقف یہ ہے کہ یہ ہماری جنگ ہے ،پس ابہام یہ ہے کہ اگر یہ ہماری جنگ ہے تو امریکہ اس کی قیمت کیوں ادا کرے اور اگر یہ امریکی قیادت میں عالمی قوتوں کی جنگ ہے تو پھر ہم امریکہ کے غیظ وغضب اور نفرت کا نشانہ بننے کے باوجود اس کا حصہ کیوں ہیں ،اس بات سے ہمیں اتفاق ہے کہ امریکہ کی دشمنی مول لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ ہماری جنگ کب تک رہتی ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے شراکت دار کس مرحلے پر بنتے ہیں۔
یہاں تک سطور لکھی جاچکی تھیں کہ صدرِ امریکہ کی طرف سے سالِ نو کاتحفہ مندرجہ ذیل ٹویٹ کی صورت میں سامنے آیا:''امریکہ نے احمقانہ طور پر پاکستان کو پندرہ سالوں میں تینتیس ارب ڈالر سے زیادہ رقم دی، اس کے صلے میں انہوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ ہمارے رہنما بے وقوف ہیں، جھوٹ اور دھوکے بازی کے سوا کچھ نہیں دیا، انہوں نے ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں عطا کیں جو افغانستان میں ہمارا ہدف ہیں ،معمولی تعاون کے سوا کچھ نہیں کیا ‘‘۔اسی طرح انہوں نے ایران کے بارے میں یہ ٹویٹ کیا:''اوباما انتظامیہ کی خوفناک ڈیل کے باوجود ایران ہر اعتبار سے ناکام رہا ہے ،عظیم ایرانی قوم کئی سالوں سے جبر کا شکار ہے ،وہ بھوک کا شکار ہیں ، خوراک ، آزادی اور انسانی حقوق کے طلبگار ہیں ،ایرانی دولت لوٹی جارہی ہے، سو تبدیلی کا وقت آگیا ہے‘‘۔اسی ٹویٹ سے پہلی بار معلوم ہوا کہ پندرہ سالوں میں امریکہ پاکستان کوتینتیس ارب ڈالرادا کرچکا ہے ،اخبارات کے مطابق اس میں 19ارب ڈالر کی امداد ہے اور ساڑھے چودہ ارب ڈالر کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت کیے گئے اخراجات کی ادائیگی ہے،ان اخراجات کی نوعیت متعلقہ اداروں کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہے ۔
اس ٹوئیٹ کے بعد ہمارے میڈیا پر پرزور بحثیں شروع ہوئیں ،ماہرین ،مذہبی رہنما، سیاستدانوں اورمختلف طبقات کے رہنمائوں میں ردِّعمل کا مقابلہ شروع ہوگیا ،کوئی بعید نہیں کہ احتجاجی جلسے یا ریلیاںبھی منعقد کی جائیں ،یہ اپنے جذبات کوعالمی برادری کے سامنے لانے کا ایک ذریعہ ہے ۔لیکن اصل کرنے کا جوکام ہے ،وہ جوش کا نہیں بلکہ ہوش کا متقاضی ہے ،ہمیں امریکہ کے ممکنہ اِقدامات اور اُنہیں ناکام بنانے کی تدابیر پر غور کرنا ہوگا ،بعض تبصرہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ کی مثال طاقت کے نشے میں چور ایک غضبناک سانڈ کی سی ہے ،اُسے ٹکر مارنا بے سود یا منفی نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔ہمیں اپنی امکانی استعداد اور دشمن کی طاقت کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے مفادات کے تحفظ کی بابت سوچنا ہوگا ،محض الفاظ کی چاند ماری سے ہم صرف اپنے جذبات کی ترجمانی کرسکتے ہیں۔لازم ہے کہ ہماری حکومت کے تمام فیصلہ ساز افراد اور ادارے سرجوڑ کر بیٹھیں اور درپیش حالات سے نمٹنے کی تدابیر پر غور کریں، جس میں مختلف سطح کے اقدامات اور آپشن شامل ہوتے ہیں،ہماری سول اورفوجی قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کونسل کا ردِّ عمل بھی ہوشمندی پر مبنی ہے ۔اس کے لیے پارلیمنٹ کا پسِ پردہ طویل اجلاس ہونا چاہیے ،مگر ایسا نہیں کہ ادھر چیف آف آرمی اسٹاف بریفنگ دے کر باہر آئیں اور اُدھر ہمارے پارلیمنٹیرین اُس کی تفصیلات میڈیا پر بیان کرنا شروع کردیں۔اگر یہی کرناہے توپارلیمنٹ کے اجلاس کو پسِ پردہ قرار دینے کی کیا منطق ہے، پسِ پردہ اور کھلے اجلاس میں فرق ہوتا ہے،کھلا اجلاس محض تقریری مقابلے اور نمبر گیم کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
ہمارے سینئر صحافیوں جناب عبدالقادر حسن ،جناب مجیب الرحمن شامی ، جناب ہارون الرشید وغیرہ اور یادِ ماضی کا عذاب پالنے والوں کو16دسمبر1971سے ماقبل کے ایام یاد ہوں گے،پیشہ ور ریلیاں نکالنے والوں کا جوش وخروش دیدنی تھا ،اخبارات میں مختلف تنظیموں اور مشایخ کی جانب سے ہندوستان سے ممکنہ جنگ کے لیے رضاکار پیش کرنے کالفظی مقابلہ جاری تھا ، ایک کا دعویٰ دس ہزار کاہوتا تو دوسرے کا بیس ہزار کا،علیٰ ھٰذا القیاس ،مجرّددعووں کی یہ مسابقت روز افزوں تھی ،مگر جب اصل امتحان کا وقت آیا تو منظر مختلف تھا، ہمارے زمانۂ طالب علمی میں ایک صوفی طالب علم پنجابی زبان کا یہ ماہیا دردناک آواز میں پڑھتا تھا:
ماہی کر گیا وعدہ آونڑ دا، نہ آپ آیا نہ پیغام آیا
ایسا روگ لگا میری جندڑی نوں، نہ موت آئی نہ آرام آیا
گوریلا جنگ مادّی اور افرادی وسائل کے ساتھ انتہائی ذہانت سے لڑی جاتی ہے ،اپنا مَن پسند محاذ چُن کر دشمن کو بے بس کردیا جاتاہے، لیکن آمنے سامنے کی جنگ ناقابلِ تصور حد تک مہنگی اور ہولناک ہوگی ، جانوں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ اربوں کھربوں کے اعتبار سے ایک ایک دن کے مصارف آئیں گے ۔جوشیلی باتیں کرنے سے داد ملتی ہے ،ہوش کی بات کرنے والوں پر پست ہمتی اور مایوسی پھیلانے کا طعن کیا جاتا ہے ،انگریزی مقولے کا مفہوم ہے:''بالآخر ثبات سچ ہی کو ملتا ہے‘‘۔لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں جھوٹ کا چلن زیادہ ہے، پروفیسر حفیظ تائب نے کہا تھا:
سچ میرے دور میں جرم ہے ،عیب ہے
جھوٹ فنِّ عظیم آج لاریب ہے
ایک اعزاز ہے جہل وبے راہ روی
ایک آزار ہے آگہی یا نبی!
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' مومن کو چاہیے کہ اپنے آپ کوذلت سے دوچار نہ کرے، عرض کیا گیا:(یارسول اللہ!) وہ اپنے آپ کو ذلت سے کیسے دوچارکرتا ہے؟، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ خود کو ایسی ابتلا میں ڈالتاہے جس سے عہدہ بر اہونے کی اس میں طاقت نہیں ہے ، (ترمذی:2254)‘‘۔پس اسلام کا حکم یہ ہے کہ ابتلا کو دعوت نہ دو، قضائے الٰہی سے آجائے تو ثابت قدم رہو۔ جمعرات کے اخبار میں دفاع پاکستان کونسل کی یہ سرخی پڑھی:''امریکہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھے گا، تو آنکھیں نکال لیں گے‘‘، اردو روز مرہ اور محاورے کے ماہرین ہمیں بتائیں کہ ''میلی آنکھ‘‘ سے کیا مراد ہے، شاید ان جو شیلے مجاہدین کے خیال میں ٹرمپ جب پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے تو اس کی آنکھیں میلی نہیں ہوتیں، بلکہ چمک رہی ہوتی ہیں، آئندہ بھی ٹرمپ کو احتیاط کرنی ہوگی، ورنہ ان کی آنکھوں کی خیر نہیں ہے ۔ ملّی عظمت اور قومی حمیّت کے ساتھ جینے کا راستہ ایک ہی ہے کہ ہم اپنی چادر کے مطابق پائوں پھیلائیں اور اپنے وسائل کے اندر رہنا سیکھیں،ورنہ سب تَعلّیاں اور خوش فہمیاں ہیں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved