تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     10-01-2018

آ رٹیکل گیارہ اور حافظ سعید

انسانی حقوق کی تشریح کرنے والایونیورسل چارٹر اپنے آرٹیکل گیارہ کے تحت ہر شخص کو حق دیتا ہے کہ جب تک اس پر تعزیراتی دفعات کے تحت عائد کئے جانے والے الزامات مجاز عدالت سے ثابت نہیں ہوجا تے اس وقت تک اسے بے گناہ تصور کیا جائے گا۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ بھارت اور امریکہ کی ڈکٹیشن پر اقوام متحدہ حافظ سعید پر 26/11/2008 کے ممبئی حملوں کی ذمہ داری ڈالتے ہوئے بغیر کسی تحقیق کے اسے دہشت گرد قرار دے دے۔ اگر اس طرح کی رسم چل پڑی تو پھر بھارت کو کلبھوشن یادیو کے اقبالی بیانات اور پاکستان کے تحقیقاتی اور تفتیشی اداروں کی حاصل کردہ رپورٹس کی روشنی میں بھارتی راء کے جوائنٹ سیکرٹری اور دوسرے اعلیٰ حکام کو پاکستان کے حوالے کرنے کیلئے تیار رہنا ہو گا کیونکہ بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیانات کے مطا بق راء کے افسر اور فوج کے اعلیٰ افسران پاکستان کی فوجی تنصیبات پر حملوں کیلئے اسے با قاعدہ ہدایات دیتے رہے ہیں اور انہی اعترافات کی بنیاد پر نریندر مودی کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کو بھی پاکستان کے حوالے کرنا ہو گا کیونکہ وہ بھی بلوچستان میں ٹارگٹ بتاتے ہوئے کلبھوشن کو براہ راست احکامات دیتے رہے تھے اس کے علا وہ اپنی تقریروں میں اقرار کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں بھارتی جاسوس کی حیثیت سے بہت سی تخریبی کارروائیاں کرتے رہے ہیں؟۔ کیا اجیت ڈوول نے یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے خو دنہیں کہا کہ ہم پاکستان میں دہشت گردی کرائیں گے اور اس کیلئے ان کے ہی آدمی خریدیں گے؟۔ اجیت کا یہ خطاب اور کلبھوشن یادیو کے اقبالی بیانات آج بھی یوٹیوب پر موجود ہیں اور دنیا بھر میں جس کا دل چاہے انہیں کسی بھی وقت دیکھ اور سن سکتا ہے۔ ممبئی حملے میں بھارت کے169 شہری ہلاک ہوئے جبکہ کلبھوشن یادیو کے مطا بق اس کے نیٹ ورک نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز سمیت750 سے زائد لوگوں کو شہید کیا ہے۔ امریکہ نے ابھی حال ہی میں 4 دسمبر کو پاکستان کو اپنی اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرنے کے الزامات کے تحت '' انڈر آبزرویشن‘‘ رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔۔۔کیا امریکہ بھول چکا ہے کہ بھارت میں با بری مسجد کس اقلیت کی ہے؟۔ اور اسے مسمار کرنے والوں کی قیا دت کرنے والا کون تھا؟۔کیا امریکہ بھول چکا ہے کہ بھارت نے دائودی بوہرہ فرقہ کے لوگوں کو دسمبر میںسالانہ اجلاس کیلئے آنیوالوں کو بھارت کا ویزہ نہیں دیا؟۔ کیا امریکہ نہیں جانتا کہ ہندوستان کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ نظام الدین اولیاکے عرس کی سالانہ تقریبات میں شرکت کیلئے پاکستان سے آنے والے192 افراد کو بھی ویزہ فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے؟۔ امریکہ نہیں جانتا کہ گودھراگجرات میں3000 کے قریب مسلمان بچوں عورتوں اور بوڑھوں کو کس کی حکومت نے کس کے حکم سے زندہ جلایا تھا؟۔ کیا امریکہ بھول چکا ہے کہ تین ہزار کے قریب مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے نریندر مودی کو اپنی سرکاری کتابوں میں دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ا س کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی؟۔کیا امریکہ بھول چکا ہے کہ دہشت گرد نریندر مودی کے خلاف آج بھی گودھرا کے قتل عام اور غلط بیانی کرنے کے الزامات کے تحت امریکی عدالت میں مقدمہ زیر التوا ہے؟۔
ان سب کے با وجود پاکستا ن نے متعدد مرتبہ بھارت کو پیش کش کی ہے کہ وہ حافظ سعید کے خلاف ممبئی حملہ کیس میں کارروائی کرنے کیلئے تیار ہے لیکن اس کیلئے بھارت سے پاکستان کی صرف ایک درخواست ہے کہ پہلے ممبئی حملہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اگر اس میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ حافظ سعید ممبئی حملہ کا ذمہ دار ہے توپاکستان بھارت کے کہنے سے پہلے ہی حافظ سعید کے خلاف ہر وہ کارروائی کرے گا جو بھارت چاہتا ہے۔لیکن نہ جانے کیا وجہ ہے کہ آج اس واقعہ کو 9 برس گزر چکے ہیں لیکن بھارت اس کی جوڈیشل انکوائری کرانے کی بجائے ہر وقت یہی رٹ لگائے جاتا ہے کہ حافظ سعید دہشت گرد ہے، اسے ہمارے حوالے کیا جائے۔۔۔ آزادانہ سوچ رکھنے والا کوئی بھی ذی شعور شخص پاکستان کی اس پیش کش کو ٹھکرانے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور اگر بھارت ممبئی حملہ کیس میں مخلص ہوتا تو اس کے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کو زیا دہ سے زیا دہ اپنی کارروائی مکمل کرنے میں چھ ماہ کا عرصہ لگتا، چلیں اس سے بھی دو قدم اور آگے بڑھتے ہیں کہ ایک سال کا عرصہ لگ جاتا۔۔۔اور پاکستان کو تو یہ مطا لبہ کرتے ہوئے آج9 سال بیت چکے ہیں جوڈیشل کمشن کے ذریعے اب تک دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر سب کے سامنے آ جانا تھا ؟۔ سمجھ نہیں آتی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بھارت ممبئی حملہ کیس پر جو ڈیشل کمیشن بنانے سے مسلسل گھبرارہا ہے۔ کہیں دال میں کچھ کالا تو نہیں؟۔
پاکستان نے حافظ سعید اور اس سے متعلقہ ادارے کو عالمی دبائو پر سخت نگرانی میں رکھنے کے علاوہ جنوری2017سے گھر پر نظر بند کرنے کے احکامات جا ری کئے۔ حافظ سعید نے اپنی نظر بندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کر دی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ Imprisonment without trial and conviction is prima facie un lawful and unconstitutional۔جس پر لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی معزز بنچ نے ان کا موقف تسلیم کرتے ہوئے ان کی دس ماہ سے جاری نظر بندی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔جب سے لاہور ہائیکورٹ نے حافظ سعید کی نظر بندی ختم کی ہے بھارت نے آسمان سر پر اٹھاتے ہوئے پاکستان کے خلاف طوفان اٹھا رکھا ہے۔ قانونی ماہرین حیران ہوتے ہیں کہ امریکہ نے حافظ سعید کے سر کی قیمت کس طرح مقرر کر رکھی ہے۔ کیا حافظ سعید کسی گمنام شخصیت کا نام ہے؟۔ کیا حافظ سعید کہیں چھپا ہوا ہے؟۔ یا مفروری میں کہیں نامعلوم جگہ پر بھاگا ہوا ہے؟۔ وہ ہمہ وقت میڈیا سے رابطے میں رہنے والا اور سب کے سامنے دن کے اجالے میں گھومنے پھرنے والا شخص ہے۔۔۔۔۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ کے '' ریوارڈ برائے جسٹس پروگرام‘‘ نے تو اپنی طرف سے حافظ سعید پر صرف شک کا اظہار کیا ہے‘ انہیں مستند دہشت گرد قرار نہیں دیا۔ امریکی جسٹس پروگرام کا مقصد ہی یہ ہے کہ کسی بھی دہشت گر دکے خلاف یا تو ثبوت مہیا کئے جائیں یا پھر دہشت گرد کے بارے میں اسے اطلاع دی جائے ۔ امریکہ جس نے گودھرا گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے تمام شواہد اور ثبوت اکٹھے کرنے کے بعد دنیا بھر سے آئی ہوئی ہیومن رائٹس کی تنظیموں کی رپورٹس دیکھنے اور اقوام متحدہ کی جان گسل تحقیق دیکھنے اور عالمی میڈیا کی آنکھوں سے ٹپکتے ہوئے آنسو دیکھنے کے بعد نریندر مودی کو سکہ بند دہشت گرد قرار دیا اسے اقلیتوں پر ظلم اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا مجرم قرا ر دے دیا اور پھروہی نریندر مودی آج امریکہ کے دل کی دھڑکن بن چکا ہے کیوں؟۔
حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دینے سے پہلے بھارت کو اگر فرصت مل سکے تو اسے امریکہ کے2018 کے اس آرڈر کو ایک بار دیکھ لینا چاہئے جس سے لشکر طیبہ کو US NATIONAL DEFENCE AUTHORIZATION ACT 2018 کی اس فہرست سے نکال دیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان پر حافظ سعید اور لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے دبائو ڈالا جاتا رہا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے ظلم و بربریت سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کیلئے حافظ سعید کوScapegoat بنارکھا ہے وگرنہ بھارت کے پاس حافظ سعید کے ممبئی حملے میں ملوث ہونے کے ذرا سے بھی ثبوت ہوتے تو کب کا جوڈیشل کمیشن بنا چکا ہوتا۔!!

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved