تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     13-01-2018

نگلتے بنے‘ نہ اگلتے بنے

رچرڈ جی اولسن جان‘ امریکہ کے پختہ کار سفارت کار ہیں۔ ایک عرصے تک وہ پاکستان میں امریکہ کی نمائندگی بھی کرتے رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک پاکستان کے لئے اچھے خیالات کا اظہار نہیں کیا لیکن رچرڈ اولسن نے موجودہ امریکی انتظامیہ کے جارحانہ تصورات کی موجودگی میں غیر جانبدارانہ خیالات کا اظہارکیا‘ جو ہمارے نقطۂ نظر سے ایک مثبت اقدام ہے۔ موجودہ پاک امریکہ صورت حال پر ''نیو یارک ٹائمز‘‘ میں ان کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
''پاکستان کو ملنے والی تمام سکیورٹی امداد کی معطلی کا فیصلہ کرنے کے بعد امریکی صدر‘ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ''پاکستان نے ہمیںجھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا‘‘۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب وہ سخت گیر موقف اختیار کرنے جا رہی ہے جس کے آثار اگست میں دکھائی دینے شروع ہو گئے تھے۔ پاکستان کو یہ امداد انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت اور فارن ملٹری فنانسنگ پروگرام کے تحت فراہم کی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ کے موجودہ فیصلے کے تحت 1.3 بلین ڈالرکی سالانہ امداد متاثر ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ جذباتی طور پر پاکستان کو سزا دینا طمانیت بخش دکھائی دے جو گزشتہ 16 سالوں سے افغانستان میں امریکی دشمنوں کی حمایت کر رہا ہے لیکن دیکھنا ہو گا کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ مؤثر بھی ثابت ہوگا یا نہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو شاید ہماری اتنی ضرورت نہیں جتنی ہمیں اس کی ہے۔ پاکستان کی پالیسی اور امریکہ کے محدود آپشنزکو سمجھنے کے لیے تاریخ اور جغرافیے کے معروضات کا ادراک بہت ضروری ہے۔ دریائے سندھ کے آر پار پھیلے ہوئے پٹی نما ملک‘ پاکستان کا دفاع آسان نہیں۔ اس کے مشرق میں ہموار میدان ہیں تو مغربی پہاڑوں پر ریاستی عملداری سے آزاد قبائل موجود ہیں۔ یہ نازک جغرافیائی عوامل زیادہ بڑا مسئلہ نہ ہوتے اگر پاکستان اپنے عقربی ہمسائے‘ بھارت کے ساتھ محاذ آرائی کی طویل تاریخ نہ رکھتا۔
1947ء میں اپنے قیام کے وقت سے ہی پاکستان نے خود کو ایک نیشنل سکیورٹی ریاست قرار دے دیا تھا تاکہ وہ مخاصمت پر آمادہ اپنے مشرقی ہمسائے کو جارحیت سے باز رکھ سکے۔ پاکستان کو شروع سے ہی خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ بھارتی ٹینک‘ مشرقی میدانوں سے گزر کر بہت آسانی سے لاہور تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ملک کے باقی حصوں کی طرف پیش قدمی کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم پاکستان کو لاحق بھارتی خطرے کو ایک وہم سمجھیں لیکن میرا تجربہ یہ ہے کہ کم و بیش تمام پاکستانی‘ بھارت کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اپنے جغرافیائی خطرے کو بھانپ کر پاکستان فطری طور پر اس کا فوجی حل نکالنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اس حل میں پراکسی دستوں کا استعمال بھی شامل ہے۔ 1980ء کی دہائی میں افغانستان میں سوویت فورسز کے خلاف ان پراکسی لشکروں کے استعمال میں امریکہ کو بھی کوئی تامل نہ تھا۔ امریکہ کی پالیسی 1989ء میں افغانستان سے سوویت انخلا کے ساتھ ختم ہوگئی۔ 1990ء میں پریسلر ترمیم کے ذریعے‘ پاکستان کی سکیورٹی امداد معطل کر دی گئی کیونکہ پاکستان جوہری ہتھیار بنانے کے پروگرام پر گامزن تھا۔ پاکستان، جس میں قبائلی گروہ اور بڑی تعداد میں پشتون آبادی رہتی ہے‘ کے لیے افغان انتہا پسندوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا کبھی بھی آسان آپشن نہ تھا۔ پاکستان نے افغان طالبان بشمول حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں کارروائیاں کرنے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ حقانی گروپ کو ریگن دور میں امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ صرف یہی نہیں‘ پاکستان اہم مواقع پر ان گروہوں کی نادیدہ مدد بھی کرتا ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی مشکلات کا تعین کرنے والا جغرافیہ‘ امریکہ کے لیے ہمیشہ سے باعثِ آزار رہا ہے۔ سمندر سے دور افغانستان میں گزشتہ 16 برس کے دوران کی جانے والی فوجی کارروائیوں کا بہت حد تک انحصار پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود سے گزرنے والی سپلائی پر تھا۔ امریکہ کا ایران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ ناممکن تھا۔ دیگر آپشنز بھی سہل نہ تھے۔ وسط ایشیائی ریاستوں سے تھیوری کے اعتبار سے سپلائی ممکن ہے لیکن اس کا دار و مدار روس کی منشا پر ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستانی تعاون کے بغیر‘ افغانستان میں امریکی فوج ساحل پر پھنسی ہوئی ایک وہیل مچھلی ثابت ہوتی۔
امریکہ نے پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کے لیے ایک بھرپور امدادی پیکیج دیا۔ اس کی شروعات 2001ء میں بش انتظامیہ کے دور میں ہوئی۔ امریکہ کا خیال تھا کہ وہ افغانستان کے اندر ہماری جنگ میں تعاون کرنے کے عوض‘ پاکستان کے ساتھ مالی تعاون کر رہا ہے؛ تاہم پاکستانیوں کی نگاہ میں یہ رقم ان کی داخلی طور پر دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کی قیمت تھی۔ اس جنگ میں پاکستان 50 ہزار جانوں اور کئی ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھا چکا ہے۔ چنانچہ اس امداد کی وصولی کے عوض اتنا بھاری نقصان ایک گھاٹے کا سودا سمجھا گیا۔ اوباما انتظامیہ کی طرف سے سالانہ ایک ارب ڈالر کے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کے باوجود‘ امریکہ رقم کے عوض مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ راولپنڈی میں اپنے ہیڈکوارٹرز سے افغان پالیسی چلانے والے پاکستانی جنرلوں کو کبھی قائل نہ کیا جا سکا کہ انہیں امریکہ اور طالبان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ میں تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ میں نے چار سال تک یہ آپشن واضح کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ پاکستانی جنرل جانتے تھے کہ جب تک افغانستان میں امریکی فوج موجود ہے‘ امریکہ کو پاکستان کی اس سے زیادہ ضرورت ہے جتنی پاکستان کو امریکہ کی۔ اوباما انتظامیہ کے دور میں واشنگٹن اور راولپنڈی کے تعلقات میں پڑنے والے رخنے کے نتیجے میں‘ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات خراب ہوتے گئے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکہ کا راولپنڈی اور اسلام آباد پر اثر زوال پذیر ہے۔ جب امریکہ نے پاکستان کی دہری پالیسیوں پر امداد میں کمی کی تو پاکستان کے لیے چینی امداد میں اضافہ ہونے لگا۔ چین‘ پاکستانی انفراسٹرکچر میں 62 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ سرمایہ کاری پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ وسیع تر ''ون بیلٹ ون روڈ‘‘ منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ اس عظیم منصوبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے سامنے امریکی امداد کی حیثیت مونگ پھلی سے زیادہ نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کو سرزنش کرنے اور اسے سزا دینے کی کوشش کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ پاکستان بھی دوسرے ممالک کی طرح کھلے عا م بازو مروڑنے کی کوششوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ بہتر ہوتا اگر یہ پیغام اعلیٰ ترین سطح سے رازداری سے پہنچایا جاتا۔ پاکستان کو اس مرتبہ دوٹوک الفاظ میں بتایا جاتا کہ اب امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے لیے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تمام تعلقات توڑنا ہوں گے۔ دوٹوک اور سخت مؤقف رکھنے کی شہرت کی حا مل ٹرمپ انتظامیہ یہ پیغام زیادہ مؤثر طریقے سے پہنچا سکتی تھی لیکن ٹویٹ کرنے اور کھلے عام امداد بند کرنے کا اعلان کوئی کامیابی نہیں لائے گا۔ امریکہ افغان مسئلے کا صرف سیاسی حل نکال سکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے درپیش الجھن کا ایک ہی حل ہے کہ اب سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ بات چیت کا راستہ نکالا جائے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے علانیہ طور پر کہا تھا کہ یہ جنگ مذاکرات سے ختم ہو سکتی ہے۔ یہ ناقابلِ فہم ہے کہ اب تک سفارتی میدان میں کوئی پیش رفت دکھائی کیوں نہیں دی؟‘‘

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved