تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     14-01-2018

ہم بھی بھولے بادشاہ ہیں!

قصور میں جس طرح کی نالائقی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ پولیس اور ڈی ایم جی افسران نے مل کر کیا ‘ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ تھکی ہاری بیورو کریسی اور بابو ازم کے اس دیمک زدہ نظام کو ختم کرکے اب سروس کے نئے نظام اور نئی شروعات کی ضرورت ہے۔
یہ پولیس اور ڈی ایم جی جو سنبھالے نہیں سنبھلتے تھے کہ ان سے زیادہ قابل کوئی پیدا نہیں ہوا، اب بری طرح ایکسپوز ہو گئے ہیں۔ دونوں گروپس ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے بڑھکیں مارتے تھے، ایک دوسرے کی نالائقیوں کی کہانیاں سنا کر اپنی انا کی تسکین کرتے تھے۔ اب دونوں ایک دوسرے کو طعنہ دینے کے قابل بھی نہیں رہے۔ جہاں قصور کے ڈی پی او ذوالفقار کی نالائقی سامنے آئی وہیں ڈپٹی کمشنر سائرہ عمر بھی بری طرح ناکام رہیں۔ ان کے گارڈز نے سیدھی فائرنگ کر کے دو افراد کو موقع پر ہی قتل کر دیا۔ سائرہ عمر کو ڈپٹی کمشنر لگانے کا میرٹ یہ تھا کہ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں وزیراعلیٰ کی پرنسل ڈپٹی سیکرٹری تھیں۔ انہیں قصورکا ضلع دیا گیا۔
چونتیس لاکھ آبادی کے ضلع قصور کو مشکل ضلع سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ مشکل ضلع ایک ایسی خاتون بیورو کریٹ کے حوالے کیا گیا جسے اس سے پہلے کوئی چھوٹا موٹا ضلع چلانے کا بھی تجربہ نہیں تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ احتجاج کرتے ہجوم کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہیں اور ان کے گارڈز نے دو افراد کو سیدھی گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ ڈی ایم جی کلاس ہمیں بتاتی تھی کہ پولیس کے اوپر سے ڈپٹی کمشنر کا اختیار ختم کرنے سے یہ بے مہار ہو گئی ہے، اگر ڈپٹی کمشنر کو پولیس پر اختیار لوٹا دیا جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اب کیا کہیں گے کہ ڈپٹی کمشنر کے گارڈز نے ہی تین لوگ قتل کر دیئے؟ فائرنگ کا حکم کس نے دیا تھا؟ کیا گارڈز نے خود فائرنگ کی یا پھر ڈپٹی کمشنر کا حکم تھا کیونکہ حکم کے بغیر پولیس گولی نہیں چلا سکتی تھی۔
حیران ہوتا ہوں یہ سوچ کر کہ ہندوستان جیسا بڑا خطہ، ہزاروں نسلوں اور قومیتوں کے کروڑوں لوگ، ہزاروں زبانیں پھر بھی صرف 400 انگریز بیوروکریٹس نے ڈیڑھ سو سال تک اس خطے پر کیسے حکومت کی؟ پاکستان بننے کے بعد جو نسل بچ گئی تھی وہ عرصے تک انگریزوں کے دور کو یاد کرتی رہی۔
باقی چھوڑیں‘ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا تھا کہ انگریز کے دور میں قتل کے مقدمہ میں‘ ایک سال میں پولیس کی تفتیش کے مرحلوں سے گزر کر‘ لوئر عدالت سے لے کر اعلیٰ عدالت تک‘ فیصلہ ہو جاتا تھا۔ پاکستان میں آج کل ایک مقدمے میں بیس سے پچیس سال لگتے ہیں۔
آج ہمارے پاس ہزاروں کی تعداد میں بیورو کریٹس ہیں‘ پھر بھی روز بروز گورننس کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے افسران انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں‘ جنہیں آپ واقعی پولیس افسر یا ڈی ایم جی افسر کہہ سکتے ہیں۔ پولیس کی اب بھی کچھ مثالیں مل جاتی ہیں جنہوں نے کردار دکھایا لیکن ڈی ایم جی افسران میں سے کوئی نہیں ملتا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کے بعد شاید ہی کوئی بیورو کریٹ ملا ہو جس نے متاثر کیا ہو۔ پولیس میں پھر بھی شارق کمال صدیقی، محمد علی نیکوکارا، آفتاب چیمہ جیسے لوگ ہیں یا پھر طارق کھوسہ، میر زبیر محمود جیسے افراد تھے۔ ڈی ایم جی کلاس تو اللہ کے فضل سے کب کی اپنی موت آپ مر چکی۔ جس طرح پنجاب کمپنیز سکینڈل میں بیورو کریٹ کی کرپشن، ہوس اور نالائقی بے نقاب ہوئی ہے‘ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ بیورو کریسی اپنی تاریخ کے بدترین زوال سے گزر رہی ہے۔ کبھی اچھے خاندانوں کے لوگ سول سروس میں یہ سوچ کر آتے تھے کہ خدان نے انہیں صلاحیتوں سے نوازا ہے اور وہ اپنی قابلیت، ذہانت اور کردار سے معاشرے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انڈین سول سروس میں شامل ہونے کیلئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے‘ اس کی کسی دن تفصیل لکھوں گا۔ اب تو آپ بی اے کر لیں اور اگلے دن بابو لگ جائیں۔ اور پھر کھل کر کھیلیں، کیونکہ اب اتنے ہی نوجوان پاس ہوتے ہیں جتنی سیٹیں ہوتی ہیں۔ انٹرویوز بھی ایک تکلف بن کر رہ گئے ہیں۔ اب سمجھ میں آتا ہے کہ کیوں لمبے عرصے تک انگریزوں نے مقامی لوگوں کو اس قابل ہی نہ سمجھا کہ انہیں ذمہ داری سونپی جائے۔ ایک دفعہ میرے مرحوم دوست ڈاکٹر ظفر الطاف نے بتایا کہ انگریز دور میں ایک ڈپٹی کمشنر کیلئے ضروری تھا کہ وہ گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر اتنے کلومیٹر تک اپنے علاقے کا سفر کرے تاکہ اسے پتا ہو کہ علاقے کے چپے چپے میں کیا ہو رہا ہے۔ جو کام وہ گورے ڈپٹی کمشنر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر کرتے تھے، آج کل ہمارے بابوز کروڑوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر بھی نہیں کر سکتے۔ انگریز کو احساس تھا کہ مقامی لوگ بہت سلو اور نالائق ہیں لہٰذا ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کوئی ضلع چلا سکیں گے۔ پھر بھی انگریزوں نے اعلیٰ نسل کے ہندو، سکھ اور مسلمان افسران تلاش کیے۔ انہیں تربیت دی ،اوپر بیٹھ کر ان کی نگرانی کی اور جاتے ہوئے پورا ہندوستان ان کے پاس چھوڑ کر گئے۔
اب دیکھتے ہیں کہ اس کلاس نے ہمارا کیا حشر کیا ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ سیاسی مداخلتوں نے بیورو کریسی کا بیڑا غرق کیا۔ سوال یہ ہے کہ بیورو کریسی نے بیڑا غرق کیوں ہونے دیا؟ کیا پوسٹنگ لینا اتنا ہی اہم ہے کہ اس کیلئے پورا معاشرہ تباہ کر دیا جائے؟ کیا جب یہ افسران ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے کہ ہم معاشرے کو کیسے بربادی کی طرف لے کر جا رہے ہیں؟ ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ معیاری تعلیم کا ہے۔ تعلیم کا معیار روز بروز گر رہا ہے اور اس کے ساتھ افسران کا بھی۔ ہمارے ہاں کتاب پڑھنے کا رواج نہ پہلے تھا اور نہ ہی اب ہے۔ نہ معاشرے میں ہے، نہ سیاستدانوں میں اور نہ ہی بیوروکریٹس میں۔ اب جو نوجوان نسل آ رہی ہے اسے سوشل میڈیا نے کتاب سے دور کر دیا ہے لہٰذا آنے والوں زمانوں میں مزید نالائق کلاس سامنے آئے گی جس کے اثرات ابھی سے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ دس ہزار پاکستانی ہر سال سی ایس ایس کا امتحان دے رہے ہیں، دو سو مشکل سے پاس ہوتے ہیں اور دو سو ہی پوسٹیں ہوتی ہیں لہٰذا انٹرویوز کا تکلف کیا جاتا ہے۔ ویسے سول سروس اکیڈمی کیا تربیت دے رہی ہے؟ جو تھوڑی بہت پڑھی لکھی کلاس تھی وہ یا تو ملک چھوڑ گئی ہے یا پھر وہ این جی اوز میں چلی گئی ہے۔ اب وہ بیورو کریسی میں آنے کو تیار نہیں، لہٰذا اب میرے جیسے نالائق اور پس ماندہ لوگوں کیلئے بیورو کریسی کے دروازے کھل گئے ہیں‘ جن کی زندگی کا خواب پہلے اپنی غربت اور احساس کمتری دور کرنا ہے۔ معاشرے یا لوگوں کی خدمت ان بابوز کی ترجیحات میں نہیں ہے۔ بیورو کریسی کا نیا زوال دیکھنا ہو تو کسی وقت پبلک اکائونٹس کمیٹی میں تشریف لے جائیں یا پھر جو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس ہوتے ہیں‘ وہاں ان بابوئوں کی گفتگو سنیں اور کارکردگی ملاحظ فرمائیں‘ تب پتا چلے گا کہ ہم کہاں آن گرے ہیں۔
مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ ڈی پی او قصور نے بچی کے وارثوں کو کہا کہ جس ڈی ایس پی نے لاش ڈھونڈی ہے‘ اسے دس ہزار روپے انعام دیں۔یہ انجام ہوا ہے اس کلاس کا‘ جس کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ انتہائی پڑھے لکھے لوگ ہیں اور جو معاشرے کی کریم سمجھی جاتی ہے۔ اب ان پر کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ انہیں شہباز شریف نے اتنا ڈرا دیا ہے کہ یہ خود سے کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ یہ اب معذور ہو چکے ہیں۔ ان کے اندر خود سے سوچنے‘ سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں۔ میکائولی کا قول تھا کہ خوف پیدا کر کے حکمرانی آسان ہو جاتی ہے۔ لگتا ہے کہ شہباز شریف نے میکائولی کا دائو بیورو کریسی پر آزمایا ہے۔ جو بابوز خود عدم تحفظ کا شکار ہیں وہ بھلا کیسے عوام کو تحفظ دیں گے؟ ہم بھی عجیب لوگ ہیں کہ اس کلاس سے تحفظ مانگے رہے ہیں جو خود خوف کا شکار ہے۔بے حسی کی حد اب یہ ہو چکی ہے کہ قصور پولیس اب سات سالہ زینب کی زخموں سے چور لاش ڈھونڈنے پر ورثا سے دس ہزار انعام مانگتی ہے اور خاتون ڈپٹی کمشنر اپنے دفتر کے باہر دو افراد کو سیدھی گولیاں مروا دیتی ہیں۔
ہم ان سرکاری بابوئوں سے بہتر معیارِ زندگی، کرپشن فری معاشرے اور انصاف کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں جن کی 55 کمپنیز کا تازہ تازہ سکینڈل سامنے آیا ہے۔ پنجاب کے لاڈلے سرکاری بابوز عوام کی فلاح کے نام پر اربوں لوٹ کر کھا گئے ہیں۔ ہم بھی کتنے بھولے ہیں‘ بلکہ کتنے بھولے بادشاہ ہیں!

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved