تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     14-01-2018

جنسی بے راہ روی کا خاتمہ

گزشتہ چند روز سے ملک کے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر قصور میں سات سالہ بچی کے ساتھ ہونی والی زیادتی‘ اور بعد میں اس معصوم بچی کو قتل کرکے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دینے والے المناک واقعہ پر بہت زیادہ گفتگو کی جا رہی ہے۔ یقینا سات سالہ بچی کے بہیمانہ قتل کا یہ واقعہ ہر اعتبار سے انتہائی افسوس ناک ہے اور اس واقعے نے پورے ملک میں بسنے والے ہر حساس شہری کے دل پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ بہت سے لوگ اس واقعے کے سبب شدید ذہنی اور عصابی تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں اور بچوں اور قوم کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی زیادہ تشویش پائی جا رہی ہے۔ گو یہ واقعہ انتہائی المناک اور افسوسناک ہے لیکن یہ اپنی طرز کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ ملک میں آئے روز اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ فقط ضلع قصور ہی میں کسی معصوم بچی کو بداخلاقی کے بعد قتل کرنے کا یہ بارہواں (12) واقعہ تھا۔ اس سے قبل قصور ہی کے علاقے حسین خاں والا میں بڑی تعداد میں کم سن بچوں کے ساتھ برائی کا ارتکاب کرکے ان کی غیر اخلاقی ویڈیوز کو بیرون ملک فروخت کیا گیا۔ جب اس طرح کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو حکمران طبقے سے وا بستہ نمایاں افراد اور وزراء چند گھنٹوں کے اندر مجرموں کو پکڑ کر قرار واقعی سزا دینے کا اعلان کرتے ہیں، لیکن یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں کے دوران کسی بھی مجرم کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکا۔ جرم و سزا کے اس کمزور نظام اور معاشرے کی بگڑتی ہوئی اخلاقی قدروں نے بہت سے اہم سوالا ت کو جنم دیا ہے اور لوگ اس بات کو سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ معاشرے کی گرتی ہوئی اخلاقی صورتحال اور معاشرے میں پائی جانے والی فحاشی اور بے حیائی پر کیونکر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس سلگتے ہوئے حساس ترین موضوع پر کہ ہم معاشرے میں فحاشی اور عریانی کے خاتمے میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔ میں کتاب وسنت کی روشنی میں چند اہم باتوں کو مقتدر طبقات اور عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ اگر خلوصِ نیت کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات کی بنیاد پر پیش کیے جانے والے ان اہم نکات پر عمل کر لیا جائے تو امیدِ واثق ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں معاشرہ جنسی جرائم کی بھینٹ چڑھنے کی بجائے اخلاقی پاکیزگی اور روحانی طہارت کے راستے پر چل نکلے گا۔ وہ اہم تجاویز جن پر عمل پیرا ہو کر ہم معاشرے میں صنفی بدامنی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، درج ذیل ہیں:
1۔ خشیت الٰہی: مادی کشمکش نے لوگوں کی اکثریت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات سے بہت دور کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کے خوف سے بے نیاز ہو کر فقط اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ یہ بات زندگی کے تمام شعبوں میں دیکھنے کو ملتی ہے کہ نفسانفسی کی اس کیفیت کی وجہ سے نہ تو لوگ مالِ حلال کمانے پر توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ معاشرے میں روحانی اقدار کو فروغ دیا جائے اور اس سلسلے میں منبر ومحراب اپنا جو کردار ادا کر رہے ہیں‘ اس کے ساتھ پوری ریاست اور پورا سماج ایمان باللہ اور خشیت ِالٰہی کی کیفیت کو بھرپور طریقے سے اجاگرکریں تاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے جوابدہی کے احساس کی وجہ سے نفوسِ انسانی میں تزکیہ، پاکیزگی اور طہارت کی کیفیت پیدا ہو۔
2۔ ارکان اسلام کی ادائیگی: ارکان اسلام بالخصوص نماز کو صحیح طریقے سے قائم کرنے کی وجہ سے انسان فحاشی وعریانی سے بہت دور چلا جاتا ہے۔ سورہ عنکبوت کی آیت نمبر 45 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ''بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘‘۔ ہر نماز کو احسن طریقے سے ادا کرنے والا شخص جب کبھی نفس امارہ کی اکساہٹ کی زد میں آتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ احساس بھی بیدار ہو جاتا ہے کہ میں اگلی نماز میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے کس چہرے کو لے کر حاضر ہوں گا؛ چنانچہ وہ اپنی منفی خواہشات کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے جذبے کے سبب دبا لیتا ہے اور نیکی کے راستے پر چل پڑتا ہے۔
3۔ پردہ داری کا فروغ اور اختلاط کا خاتمہ: ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر پردہ داری سے بہت دور ہو چکا ہے۔ کمر شل سرگرمیوں اور تجارتی مقاصد کی تکمیل کے لیے چلائی جانے والی تشہیری مہموں نے بے پردگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور میڈیا کی بیشتر اقسام پوری طرح اس کی لپیٹ میں آ چکی ہیں۔ معاشرے میں مخرب الاخلاق پروگرام بھی کیبل، سی ڈیز اور انٹرنیٹ کے ذریعے گھر گھر میں داخل ہو چکے ہیں۔ آج معاشرے میں فارغ اوقات میں تفریحی مشاغل کا ایک بہت بڑا حصہ ان غیر اخلاقی پروگراموں کو دیکھنے پر مشتمل ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکامات پر شدت سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ احزاب کی آیت نمبر 59 میں ارشاد فرمایا ''اے نبیﷺ! کہہ دیجئے اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں (سے ) (کہ) وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکایا کریں‘‘۔ لباس کی پردہ داری جو کہ حجاب اور نقاب کی شکل میں ہونی چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ مخلوط مجالس، مخلوط تعلیم، مخلوط مشاغل اور مخلوط کاروبار کی روک تھام کے لیے بھی کوششیں ہونی چاہئیں۔ خواتین کے لیے الگ تعلیمی اداروں کا قیام اور الگ ملازمت کے مواقع فراہم کرنا معاشرے کی طہارت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جب تک ہم بے پردگی اور مرد و زن کے اختلاط پر قابو نہیں پائیں گے‘ اس وقت تک معاشرے سے صنفی بدامنی کاخاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔
4۔ نکاح کو آسان بنانا: معاشرے میں اس وقت برائی کرنا نکاح کرنے کے مقابلے میں بہت زیادہ آسان ہے۔ نکاح سے متعلقہ رسومات اس قدر مہنگی ہو چکی ہیں کہ سفید پوش اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ نکاح کے بوجھ کو اٹھانے سے گھبراتے اور کتراتے ہیں۔ نکاح درحقیقت ولیوں کی رضا مندی کے ساتھ ایک بالغ مرد اور عورت کے ایجاب و قبول کا نام ہے اور اس کو سادگی سے اپنی معاشی حیثیت کے مطابق کسی بھی مقام پر کیا جا سکتا ہے۔ نکاح کرنے کے لیے بہترین جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی مسجدیں ہیں۔ اگر سادگی سے نکاح کی تقریبات کا انعقاد کیا جائے اور نبی کریمﷺ کی اس حدیث مبارکہ پر عمل کیا جائے کہ جب کوئی شخص تمہارے پاس آئے اور اس کا دین اور اخلاق تمہیں بھلا معلوم ہو تو اس سے نکاح کر دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین پر بہت بڑا فتنہ اور فساد ظاہر ہو گا۔
5۔ اسلامی سزائوں کا نفاذ: معاشرے میں بے راہ روی کی روک تھام کے لیے قرآن وسنت میں مذکور سزائوں کا التزام کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اگر معاشرے میں بدی کی روک تھام کے لیے اسلامی سزائوں کو نافذ کر دیا جائے تو سزا کے خوف سے بہت سے بدطینت اور حیوان صفت لوگ بے حیائی اور بدکرداری کے راستے پر چلنے سے باز آ سکتے ہیں۔ اس نکتے کو عام طور پر اس لیے فراموش کر دیا جاتا ہے کہ ملک میں بہت سی این جی اوز اور حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے ادارے سزائے موت کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم تصور کرتے ہوئے ہمیشہ اس کے خاتمے کی حمایت کرتے رہتے ہیں۔ انسانی حقوق کی اصطلاح بڑی دلکش ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق کے حقدار وہی لوگ ہیں جو انسان کہلوانے کے مستحق ہوں۔ جو لوگ شرفِ انسانیت سے گر کر بد راہی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ کسی رو رعایت کے مستحق نہیں۔ اس حوالے سے حکومت کو ان این جی اوز اور حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی انجمنوں اور مغربی حکومتوں کے دبائو کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ زنا بالجبر، گینگ ریپ اور بچوں کے ساتھ برائی کا ارتکاب کرنے والے لوگوں کے بارے میں اہلِ مغرب اگر سخت قوانین کو تشکیل دے سکتے ہیں تو ایک اسلامی جمہوری ریاست میں ان قوانین کے نفاذ میں کون سا امر مانع ہے کہ جن قوانین کا مقصد فقط بدی کی بیخ کنی اور روک تھام ہے۔ 
6۔ عدالتی اختیارات میں وسعت اور ریاستی اداروں کی نگرانی: ان جرائم پر قابو پانے کے لیے عدالتوں کے کردار کو مؤثر بنانا اور ریاست کے بااختیار اداروں کو فعال کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جدید سائنسی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے مجرم تک رسائی حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں بہت آسان ہو چکا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عام طور پر مجرم کو کوئی نہ کوئی سیاسی سہارا یا سماجی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت کا کندھا میسر آ جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے مجرم کا صحیح طریقے سے احتساب نہیں ہو پاتا۔
اگر ان تمام تجاویز پر خلوصِ نیت اور دیانت داری سے عمل کر لیا جائے تو معاشرے سے بے راہ روی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور معاشرہ امن وسکون کا گہوارا بن سکتا ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved