تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     15-01-2018

سرخیاں، متن اور امجد بابر

سی پیک خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا : نوازشریف
سابق اور نااہل وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ '' سی پیک خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا ‘‘ اور اس کی نحوست کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُدھر شروع ہوا اور اِدھر میری عارضی گیم چینج ہوگئی اور اگر کرپشن کی وجہ سے چین اس میں ‘ بعض خبروں کے مطابق 'سرمایہ کاری روکنا چاہتا ہے ‘ یا روک سکتا ہے تو یہ بہت زیادتی ہوگی کیونکہ کرپشن تو یہاں کی آب و ہوا میں شامل ہے اور اگر چین کی طرح یہاں بھی کرپشن کی سزا موت ہوتی تو اب تک ہماری نصف آبادی پھانسی چڑھ چکی ہوتی اور حکومت کرنے کے لئے ہمارے پاس صرف 10 کروڑ لوگ رہ جاتے ۔ ہیں جی ؟ انہوں نے کہا کہ '' پاک چین دوستی مثالی ہے‘ ‘ بالکل اسی طرح جیسے شہزادگان کے ساتھ میری دوستی مثالی تھی لیکن کچھ عرصے پہلے انہوں نے جو مہمان نوازی میرے ساتھ کی ہے وہ مجھے عمر بھر یاد رہے گی، تاہم کم از کم چین سے مجھے ایسے سلوک کی امید نہیں ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں چینی سفیر سے ملاقات کررہے تھے ۔ 
تبدیلی باتوں سے نہیں ، کام سے آتی ہے : شاہد خاقان عباسی
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ '' تبدیلی باتوں سے نہیں ، کام سے آتی ہے ‘‘ جیسے کہ نوازشریف صاحب پر جو تبدیلی عائد کی گئی ہے ، ان کے کام ہی کی وجہ سے ہے بلکہ اصل تبدیلی تو ابھی آنی ہے کیونکہ اصل کام بھی بہت جلد ظاہر اور ثابت ہونے والے ہیں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق مجھ میں بھی ایک بڑی تبدیلی لانے پر کام شروع ہونے والا ہے۔ بلکہ شروع ہو بھی چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' مسلم لیگ کی حکومت نے کام کرکے دکھایا ہے ‘‘ اور جو انقلاب اس کام کی وجہ سے آ رہا ہے، اور جس میں اب چند ہفتے ہی باقی رہ گئے ہیں‘ ساری دنیا دیکھ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ '' الیکشن میںعوام کا فیصلہ سر آنکھوں پر ہوگا ‘‘ تاہم ، جن لوگوں نے الیکشن لڑنا ہے ، یہ اُنہی کا مسئلہ ہے ۔ ہماری تو اس وقت ساری آب و ہوا ہی تبدیل ہو چکی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ '' ہم کام کریں گے تو آگے بڑھیں گے ورنہ گھر جائیں گے ‘‘ اور وہ گھر بھی شاید اپنا نہ ہو۔ آپ اگلے روز پشاور میں شعبہ آئی ٹی کی ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ 
تین روز سے سو نہیں سکا ، زینب کے قاتل 
جلد گرفتار کئے جائیں : شہباز شریف 
خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ '' تین روز سے سو نہیں سکا ، زینب کے قاتل جلد گرفتار کئے جائیں ‘‘ کیونکہ اس غم میں ساری ساری رات جاگتا اور صرف دن کو سوتا ہوں اور اگر یہ قاتل گرفتار نہیں ہوتے تو ان کی جگہ دو چار اور لوگ ہی پکڑ لیں کیونکہ پولیس کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ ویسے بھی ، ہمارا سارا معاشرہ ہی بدکردار ہو چکا ہے اس لئے ہر آدمی کسی نہ کسی طرح سے گناہگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' زینب کا واقعہ نہایت دلخراش ہے ‘‘ اگرچہ اس سے پہلے بھی قصور ہی میں اس طرح کے آٹھ دس واقعات ہو چکے تھے جن کی خراشیں بھی میرے دل پر دیکھی جاسکتی ہیں لیکن اب یہ مزید خراشیں برداشت نہیں کرسکتا، اس لئے اسے شاید تبدیل ہی کروانا پڑے۔ آپ اگلے روز کابینہ کمیٹی برائے امن کے اجلاس کی صدارت کے بعد ترک قونصل جنرل اور سعد رفیق سے ملاقات کررہے تھے ۔ 
'' نوازشریف سے ا ختلافات اپنی جگہ پر ، لیکن
مسلم لیگ ہی میں رہوں گا‘‘ چوہدری نثار
سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارنے کہا ہے کہ '' نوازشریف سے ا ختلافات اپنی جگہ پر ، لیکن مسلم لیگ ہی میں رہوں گا‘‘ کیونکہ دوسرا دھڑا نہایت خوش اسلوبی سے اپنا کام کررہا ہے اور میرے اور شہباز کے نام کا قرعہ کسی وقت بھی نکل سکتا ہے اور اگر شہباز شریف بھی حدیبیہ کیس میں دھر لیے جاتے ہیں تو پیچھے خاکسار ہی رہ جائے گا۔ اس لئے مسلم لیگ سے الگ نہ ہونا سب کی سمجھ میں آسکتا ہے بلکہ اگر سچ پوچھیں تو امپائر کی نظر بھی خاکسار پر ہی ہے کیونکہ آدھی سے زیادہ مسلم لیگ تو ویسے ہی اندر ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' میاں صاحب کو قائل کرنے کی بڑی کوشش کی‘‘ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے بلکہ وہ تو مجھے بھی قائل کرنے والے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ '' میں نے کبھی قبلہ بدلا‘ نہ وفا داری تبدیل کی ‘‘ چنانچہ اس دفعہ قبلہ خود ہی اپنی جگہ پر نہیں رہا اور مجھے اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ آپ اگلے روز لالہ رخ میں ایک اجتماع سے بات کررہے تھے جس کا انعقاد سید نذیر حسین شاہ نے کیا تھا۔
امجد بابر نے اپنی نظموں اور اسلم عارفی نے غزلوں سے گوجرہ کا چھوٹا سا افق روشن کر رکھا ہے۔ امجد بابر کی ایک نظم دیکھئے۔ عنوان ہے '' رات ‘‘ ۔
رات میرے باطن میں چھپی بیٹھی ہے
وقت کا‘ کاکروچ باسی خوابوں کا ناشتہ کرکے 
ساحل سمندر کی ریت پر 
کچھ اَن کہے لفظوں کے نشاں ڈھونڈتا ہے
نارسائی کے سائبان تلے 
لہروں کے تال میل سے بنی آواز گونجتی ہے 
میری خواہش کی آبدوز ڈوب گئی ہے 
کوئی میرے خیال کے ٹکڑے اکھٹے کرکے 
اور مجھے بھوک کی چمنیوں کے دھوئیں سے بچا کر 
کسی نادیدہ نخلستان کے ریوڑ میں چھوڑ آئے 
تاریخِ انسانی میں طبعی عمر کی خراشیں
کبھی زخموں سے خالی نہیں ہوتیں
محبت کے نقش و نگار پیوندکاری کے ذائقے سے 
محروم ہو جاتے ہیں
تب آنکھیں ٹیرھی ہو جاتی اور سانس اکھڑنے لگتی ہے 
گیان میں چند تصویریں رہ جاتی ہیں 
یا پھر آنسو بارش بن کر گرتے ہیں 
آج کا مقطع
صاحبِ سازِ سخن میں ہی نہیں تنہا‘ ظفر ؔ
کافی اوروں کا بھی حصہ میری یکتائی میں ہے

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved