تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     17-01-2018

نیتن یاہو اور چین کے مرغے

اگر نریندر مودی‘ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے بھارت آنے پر‘ کچھ زیادہ ہی مستی میں آ گئے ہیں تو میں بھی آج کی چند خبریں پڑھ کر جھوم رہا ہوں۔ میرے ساتھ ا یسا 1965ء کی جنگ میں ہوا تھا‘ جب چین نے دوچار اچھے جملے کہہ کے پاکستان کو حوصلہ دیا اور بھارت کو تنبیہ کی۔ جب بھارت جنگ سے باز نہ آیا اور حملے کی دھمکیاں دینے لگا تو اچانک دلّی میں چینی بھیڑیں نمودار ہوئیں۔ ساتھ ہی چین نے مطالبہ کر دیا کہ بھارت ہماری جو بھیڑیں اغوا کر کے لے گیا ہے‘ وہ یا تو شرافت سے واپس کر دے ورنہ زور آزمائی کے لئے تیار ہو جائے۔ بھارتی سمجھ گئے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ ان کے لیڈروں کی دھوتیاں ڈھیلی ہو گئیں۔ انہوں نے چینی سفارت خانے جا کر پیشکش کی کہ ہم آپ کی بھیڑیں واپس کرنے کو تیار ہیں۔ یہ بتائیے کہ آپ کس راستے سے ان کی واپسی چاہتے ہیں؟ جہاز میں، ٹرک میں، یا کسی اور طریقے سے؟ یہیں پر پاک بھارت جنگ کا فیصلہ ہو گیا۔ جیسے ہی گزشتہ روز اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو‘ دلّی آئے تو بھارت کی گردن ایک بار پھر اکڑ گئی۔ سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی ایک بار امریکہ گئیں تو میزبان حکومت کی طرف سے ان کے استقبال کے لئے کوئی اہم شخصیت ایئر پورٹ پر موجود نہیں تھی‘ جس پر اندرا جی سخت غصے میں آ گئیں۔ واپسی پر انہوں نے حکم جاری کیا کہ بھارت کا کوئی وزیراعظم کسی غیر ملکی مہمان کو ایئر پورٹ جا کر ریسیو نہیں کرے گا۔ نیتن یاہو کے بھارت آنے پر‘ نریندر مودی نے انتہائی پر تپاک اور خصوصی اہتمام کے ساتھ ایئر پورٹ جا کر ان کا استقبال کیا۔ نیتن یاہو سے گلے ملے۔ بھاگ کر کار کے دوسری طرف جا کر دروازہ کھولا اور پھر سائیڈ بدل کر اپنی سیٹ کی طرف جا کر بیٹھ گئے۔ میں بھارتی اخبار کی ایک رپورٹ کا اقتباس پیش کر رہا ہوں‘ جس میں بھارت کی بدمستیاں اور چہلیں مناسب تفریح فراہم کرتی ہیں لیکن میں بھارت کو چین کا انتباہ پڑھ کر بھنگڑا ڈال رہا ہوں۔ مناسب یہ ہو گا کہ پاک بھارت جنگ نہ ہو۔ خدانخواستہ ایسا ہوا تو چین کی بھیڑیں نہیں‘ اس بار مرغے دلّی سے برآمد ہوں گے اور پھر ہاہاہا۔
''انڈین ایکسپریس‘‘ کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان‘ لو کنگ نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کو ''خطرے‘‘ کی علامت قرار د یتے ہوئے بھارت کو انتباہ کیا کہ ''سرحد کے بار ے میں ایسے بیانات‘ پرامن ماحول قائم کرنے میں مددگار نہیں ہوں گے‘‘۔ واضح رہے کہ اگست 2017ء میں چین نے ڈوکلام پر بھارت اور چین کے مابین تنازع پر کہا تھا کہ وہ ڈوکلام سے بھارتی فوجیوں کو نکالنے کے لیے محدود نوعیت کی فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ اپنے حالیہ بیان میں چینی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار نے واضح کیا کہ بھارتی چیف کا بیان‘ برکس ممالک کے اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی چن پنگ کے درمیان ہونے والی پرامن اور بہتر تعلقات سے متعلق بات چیت کے منافی ہے۔ اخبار کے مطابق بھارتی آرمی چیف جنرل بپن روات نے تجویز دی تھی کہ بھارت کو اپنی توجہ پاکستانی سرحد سے ہٹا کر لائن آف ایکچول کنٹرول پر مرکوز کرنی چاہیے‘ جہاں بیجنگ کی جانب سے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ چینی دفترِ خارجہ کے مطابق ''ڈوکلام چین کا حصہ ہے اور چین تاریخی کنونشن کے مطابق اپنے اقتدار کے حقوق کا استعمال کرے گا اور ریاستی سالمیت کو برقرار رکھا جائے گا‘‘۔
اس تنازع کا آغاز گزشتہ سال جون میں اس وقت ہوا جب بھارتی فوج کی جانب سے ڈوکلام کے چینی علاقے میں سڑکوں پر جاری کام کو روک دیا تھا۔ نتیجے میں دونوں ممالک کی فوج آمنے سامنے آ گئیں۔ چینی اخبار ''گلوبل ٹائمز‘‘ کے مطابق چین آئندہ 2 ہفتے میں بھارت کے خلاف محدود نوعیت کی عسکری کارروائی کر سکتا ہے۔ چین‘ بھارت اور بھوٹان کی سرحدوں کو آپس میں ملانے والے اپنے علاقے میں ایک سڑک تعمیر کر رہا ہے اور یہ علاقہ بھارتی ریاست سکم سے ملتا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دلّی اس معاملے پر پیچھے ہٹ جائے۔ بھارت دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کا خواہاں ہے لیکن چین کا کہنا ہے کہ جب تک بھارت اس کی حدود سے اپنی فوج نہیں ہٹائے گا‘ اس وقت تک کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ چینی ماہر کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد چین کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے بھارتی فوجیوں کو گرفتار کرنا ہے جبکہ انہیں علاقے سے نکالنے کا آپشن بھی زیرِ غور ہے؛ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن سے قبل بھارتی وزارتِ خارجہ کو مطلع کر دیا جائے گا‘‘۔ یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ چین تو اپنی چونی نہیں چھوڑتا۔ گوادر میں تو وہ بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved