تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     20-01-2018

اس سے بہتر تھا گھر بیٹھے رہتے!

مال کے شو کی بات بنی نہیں۔ جتنا اس کا ہائپ (hype) تھا اس کے نزدیک بھی کچھ نہ ہوا۔ مجمع نسبتاً چھوٹا تھا، مال کے شایان شان بالکل نہیں۔ دراصل لیڈران زیادہ تھے اور جب ایسا ہو تو نتیجہ ایسا ہی نکلتا ہے۔ جیسا کہ ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں آل پارٹیز کانفرنس میں چھوٹے بڑے لیڈروں کی بھرمار سے پکوان بدمزہ ہی رہتا ہے۔ 
ہم جیسوں‘ جو کسی ہنگامے کیلئے ہمیشہ تیار یا منتظر رہتے ہیں‘ نے سمجھا تھا کہ مال اور آس پاس کی سڑکیں کھچا کھچ بھری ہوں گی، جوش عروج پہ ہو گا اور احتجاج کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔ ایک دو اور ایسے جلسے ہوں تو شیخ الاسلام کے ممکنہ احتجاج سے سارا زور نکل جائے۔ اور یہ استعفوں کا جو مطالبہ سٹیج سے آیا وہ تو بالکل ہی بے تُکا تھا۔ ایسا آپشن کسی احتجاج یا تحریک کے آخر میں بروئے کار لایا جاتا ہے‘ جب حالات گرم ہو چکے ہوں اور بس آخری وار کی گنجائش رہ جائے۔ اس وقت کوئی اسمبلیوں سے استعفیٰ دے تو بے وقوف ہی لگے گا۔ شیخ رشید جوشِ خطابت میں تو یہ کہہ گئے‘ لیکن اب ضرور اپنی پھبتی پہ نظرِ ثانی کر رہے ہوں گے۔
سچ تو یہ ہے کہ میدان کے سارے کھلاڑی سخت کنفیوژن کا شکار ہیں۔ خواہشات بہت ہیں لیکن یہ عملی شکل کیسے دھار سکتی ہیں کسی کو معلوم نہیں۔ نواز شریف تو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دئیے گئے لیکن اس کے بعد کیا ہونا تھا یا کیا ہونا چاہیے تھا اس بارے ذہنوں میں کوئی نقشہ نہیں۔ بس خواہش ہے کہ شریفوں کی حکمرانی کا بندوبست زمین بوس ہو اور ن لیگ کا شیرازہ بکھر جائے۔ لیکن کچھ تدبیر بن نہیں رہی کہ یہ کیسے ممکن ہو۔ نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں کارروائی چل رہی ہے‘ لیکن اس انداز سے کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ نتیجہ خیز ثابت ہو گی یا نہیں۔ اسحاق ڈار کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے‘ لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے اور نیب کی دسترس سے باہر لندن میں کہیں پڑے ہیں۔ نواز شریف کے دونوں بیٹے بھی آرام سے لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں اور نواز شریف یہاں بیٹھے موقع پاتے ہی مختلف اداروں پہ تنقید کے گولے برسائے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں البتہ ہاتھ کی صفائی دیکھنے میں آئی اور وہاں لیگی حکومت کو اس انداز سے فارغ کیا گیا کہ سب حیران رہ گئے۔ لیکن وہ بلوچستان تھا‘ جہاں یہ سب کچھ ہو گیا۔ اُس جیسی ترکیب اسلام آباد اور لاہور کی طاقت کے مراکز پر کیسے آزمائی جائے‘ یہ سمجھ سب کچھ کرنے والوں کو نہیں آ رہی۔ اسی لئے تمام فریق مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ نواز شریف کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنا بچاؤ کیسے کریں اور مہربانوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ نواز شریف کا مسئلہ تمام کیسے کریں۔
نواز مخالف عناصر نے دو چیزوں پہ تکیہ کیا ہوا تھا، ایک حدیبیہ کیس‘ دوسرا ماڈل ٹاؤن سانحہ۔ یہ قیاس لگائے بیٹھے تھے کہ دونوں مقدمات شریفوں کے لئے مہلک ثابت ہوں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔ حدیبیہ کیس سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے اس خوبصورتی سے نمٹایا کہ شاید شریفوں کو بھی گمان نہ ہو کہ اُنہیں اس انداز سے ریلیف مل جائے گا۔ ماڈل ٹاؤن کیس بھی بدستور دبا ہوا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے دھمکیاں تو بہت آئیں لیکن جیسا لاہور مال روڈ پہ دیکھا گیا کوئی چیز بن کے نہیں نکلی۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ شریف اس چنگل سے نکل رہے ہیں‘ اور اُنہیں ایک اور سیاسی زندگی ملنے والی ہے؟ ایسا ہوا تو اُن کی خوش قسمتی پہ مہر لگ جائے گی‘ اور اس بات کا بھی یقین مزید پختہ ہو جائے گا کہ اس ملک میں ہونے والا کچھ نہیں۔
ممکنہ صورتحال دو ہی ہیں: جھٹکا لگے یا انتخابات کی راہ صاف ہو جائے۔ جھٹکے کے امکانات عسکری ذرائع تواتر سے رَد کرتے آئے ہیں۔ رہ جاتے ہیں انتخابات۔ اُن کے نتائج کی پیش گوئی کون کر سکتا ہے۔ پی ٹی آئی پنجاب میں چیلنج ضرور دے رہی ہے اور اب کی بار 2013ء والا معاملہ نہیں ہو گا جب الیکشن کا بہاؤ تقریباً ایک طرف تھا۔ اب صحیح مقابلہ ہو گا لیکن ن لیگ کہیں بکھر کے نہیں جا رہی۔ اس کا ووٹ بینک موجود ہے اور اس کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنے حلقوں میں مضبوط پوزیشنیں رکھتے ہیں۔ یہی صورتحال رہی تو الیکشن کے قریب حالات کسی مانیٹر یا مہربان کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔ ایک حد تک انتخابات میں اِدھر اُدھر کیا جا سکتا ہے لیکن بنیادی طور پہ ووٹر اپنی مرضی کرتا ہے۔ پانامہ پیپرز قصیّ میں شریف بدنام ہوئے لیکن جتنی بدنامی ہونی تھی ہو چکی۔ اس سے کوئی مزید نقصان شریفوں کو نہیں پہنچ رہا۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ تاجر اور دکاندار طبقہ جو شریفوں کا روایتی حمایتی رہا ہے اُس کے سامنے پانامہ پیپرز کے الزامات کوئی بڑی چیز نہیں۔ کرپشن کا مسئلہ ڈرائنگ روم کلاس کا مسئلہ ہے۔ تاجر طبقہ اُس پہ اپنی نیندیں حرام نہیں کرتا۔ جب ووٹ ڈالنے کا وقت آئے گا تو عام ووٹر پانامہ پیپرز کو سامنے رکھ کے فیصلہ نہیں کرے گا۔
نواز شریف کی نااہلی کے بعد سمجھا جا رہا تھا کہ پتہ نہیں اس کے بعد کیا ہو گا۔ کئی لوگ اُمید لگائے بیٹھے تھے کہ بڑا بے رحم احتساب ہونے جا رہا ہے۔ ڈرائنگ روم طبقات ایسی اُمیدوں کے جلد اسیر ہو جاتے ہیں اور چھوٹی بنیادوں پہ بڑی توقعات بنا لیتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں بہت حد تک پانامہ کا بخار اُتر چکا ہے۔ مطلب یہ کہ شریف پانامہ کی چوٹ سہہ چکے ہیں اور جن خدشات کا اظہار اُن کی سیاسی صحت کے بارے میں کیا جا رہا تھا‘ درست ثابت نہیں ہوئے۔ 
اب واضح ہو رہا ہے کہ کسی کے پاس پلان بی یا سی نہیں تھا۔ کوئی پلان تھا تو سپریم کورٹ کے نااہلی کے فیصلے کے بعد بروئے کار لایا جاتا۔ یہ نہیں ہوا کیونکہ غالباً جن کو ہمت دکھانی چاہیے تھی مطلوبہ ہمت سامنے نہ لا سکے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔2014ء کے دھرنوں کے وقت جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری اسلام آباد کی طرف روانہ ہونے کی تیاریوں میں تھے‘ تو ہم جیسوں نے سمجھا تھا کہ بغیر کسی در پردہ اشارے کے عازم اسلام آباد ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ جب حالات بنیں گے اور سٹیج سجے گا تو غیبی راستوں سے کچھ ہو جائے گا۔ لاہور کے ایک دوست سے میں یہ ساری باتیں کر رہا تھا‘ جب اُس نے کہا کہ کچھ بھی نہیں ہو گا کیونکہ کرنے والے آخری وقت ہمت ہار جائیں گے۔ میں نے اتفاق نہیں کیا۔ لیکن میں غلط ثابت ہوا اور میرے دوست‘ جن کی ملکی سیاست پہ گہری نظر رہی ہے‘ درست ثابت ہوئے ہیں۔ اب بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ جی، کرنے کو بہت کچھ چاہتا ہے لیکن وسوسے آن گھیرتے ہیں۔ مہربانوں کی کیفیت ہیملٹ (Hamlet) والی ہے۔ اگر اُن کی ذہنی کیفیت جاننا ہو تو ہیملٹ کے مشہور مکالمہ To be or not to be. سے جانی جا سکتی ہے۔ اس سے بہتر عکاسی الفاظ میں نہیں ہو سکتی۔ خاص طور پہ وہ سطور جن میں عمل پہ وسوسوں کے اثر کا ذکر ہے۔
ملک ایک پُرانی کیفیت میں پھنسا چلا آ رہا ہے۔ شریف گزرے ہوئے کل کے لئے تو شاید موزوں ہوں لیکن آنے والے کل کے مسافر بالکل نہیں۔ اُن کی سوچ محدود ہے۔ نئی اُفقوں کا ادراک نہیں رکھتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سوائے ایک دو کے سیاست کے میدان میں تمام ماضی کے کھلاڑی ہیں، فرسُودہ تصورات کے شاہ سوار۔ قوم کی رگوں میں نیا خون کیسے آئے گا۔ آگے کی منزلوں کی طرف لے جانا‘ یہ تاریخی ذمہ داری کون نبھائے گا؟

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved