تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     23-01-2018

آزمائشی دوڑیں

ابھی تک سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی تصادم کی کیفیت برقرار ہے۔ ہو سکتا ہے انتخابات کے بعد‘ سیاسی جماعتیں نتائج دیکھ کر فیصلہ کریں کہ بلاشرکتِ غیرے اپنی حکومت بنائی جائے یا دیگر جماعتوں کے ساتھ کولیشن کے ذریعے اکثریت حاصل کریں۔ موجودہ صورت حال برقرار رہی تو مخلوط حکومت کا قیام مزید مسائل پیدا کرے گا۔ اندازہ یہی لگایا جا رہا ہے کہ انتخابی تیاریوں کے لئے جس طرح دھما چوکڑی مچا کرتی ہے اور ہر کوئی اپنی کامیابی کے دعوے کرتے ہوئے میدان میں اترتا ہے‘ وہ کیفیت ابھی سے شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ حکومت جو اپنے تعمیراتی ''کارناموں‘‘ پر فخر کر رہی ہے اور جس طرح انتخابات سے پہلے وہ پوری طاقت سے وفاق اور پنجاب میں اپنی برتری بر قرارر کھنے کی کوشش کر رہی ہے‘ اس کے نتیجے میں کوئی اندازہ قائم کرنا آسان نہیں۔ ماضی میں دو تین بڑی پارٹیوں کے علاوہ چند ٹھِگنی پارٹیوں کے اتحاد‘ منظر عام پر آتے رہے ہیں۔ اب کہ قبل از وقت اندازہ لگانا کسی کے اختیار میں نہیں۔ جو تین سرکردہ پارٹیاں کامیابی کی دوڑمیں‘ تھوڑے سے فرق کے ساتھ آگے پیچھے دوڑ رہی ہیں‘ان کے بارے میں تجزیہ کار‘ انتخابی ماہرین اور سیاسی پنڈت کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر پا رہے۔ جب کشمکشِ اقتدار شروع ہوتی ہے‘ تو سیاسی پیش گوئیاں کرنے والے بڑی مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔
موجودہ حکومت نے جب کامیابی کے بعد اقتدار سنبھالا تو اسے قومی اسمبلی میں محض اپنی نشستوں کی تعداد ‘زیادہ ہونے کے باوجود اکیلے حکومت قائم کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔ ویسے تو ساڑھے چار سال سے زیادہ عرصہ سے(ن) لیگ حکومت بنائے بیٹھی ہے۔ یہ بھی ایک عجوبہ ہے۔ آج کی صورتحال تو یہ ہے کہ بھانت بھانت کے سیاسی جھونگوں سے بھری پلیٹیں دے کر مشکل سے اپنی حکومت چلا رہی ہے۔ ہر پارٹی اپنی تعداد کے بل بوتے پر کسی کولیشن کا حصہ بننے کے قابل بھی نہیں ہوتی جیسا کہ آج کل ہے۔ مثلاً مولانا فضل الرحمن‘ نواز شریف کے بڑے اتحادی ہیں لیکن وہ سخت پریشانی میں ہیں کہ موجودہ حکومت کے ساتھ اپنے بندھے ہوئے رشتے کو‘ برقرار رکھ کر حکومت میں کوئی حصہ لے پائیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود مولانا آئندہ انتخابات کے بعد‘ امور کشمیر کا محکمہ لینے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ مولانا‘ حکمران پارٹی کے ساتھ اتنے گہرے مراسم رکھتے ہیں کہ سابق وزیراعظم کے ساتھ خوش گوار تعلقات کی بنا پر‘ اپنی پسندیدہ وزارت لینے میں نہ صرف کامیاب رہے بلکہ اسے بچانے کی دائو بازی بھی ساڑھے چار سال تک قائم رکھتے چلے آ رہے ہیں۔ وزیراعظم تو اب سابق ہو گئے لیکن مولانا نے وزارت نہیں چھوڑی۔
حسبِ روایت دو تین بڑی پارٹیوں کے علاوہ‘ دس پندرہ پارٹیوں کے ایک ایک‘ دودو اراکین قومی اسمبلی کی صورت میں‘ بھاری بھرکم سیاسی طاقت بن جاتے ہیں لیکن اس کام میں حضرت مولانا مفتی محمود زیادہ سمجھدار سیاست دان تھے۔ وہ جس حکومت میں بھی جاتے‘ اپنی اصلی طاقت سے زیادہ‘ اقتدار کا حصہ نہ صرف لے لیا کرتے بلکہ ایک بار تو انہوں نے موجودہ کے پی میں وزارت اعلیٰ بھی حاصل کر لی تھی۔ ان کا دورِ اقتدار بھی بہت دلچسپ رہا۔ باقی کارکردگی کے بار ے میں تو مجھے زیادہ علم نہیں لیکن پشاور سے آنے والے دوست احباب بڑی دلچسپ باتیں سنایا کرتے تھے۔ مثلاً آوارہ گرد لوگ جب سورج ڈھلنے کے بعد‘ وزیراعلیٰ ہائوس کے قریب سے گزرتے تو گاڑیاں آہستہ کر کے خالی بوتلیں وزیراعلیٰ ہائوس کے قدموں میں نچھاور کرتے ہوئے‘ تیزی سے آگے نکل جاتے۔ غریب آدمیوں کی اچھی خاصی گزر اوقات ہو جاتی۔ وہ فجر سے پہلے ہی اقتدار کی دیواروں کے نزدیک بیٹھ جاتے اور جو پہلے دیوار کے قریب جاتا‘ دو چار بوتلیں جمع کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔ جن بے چار ے کمزوروں اور ناتوانوں کو آخر میں دیوار کے قریب جانے کا موقع ملتا‘ ان کے ہاتھ خالی پوّا یا ادھا ملتا۔ جتنے میں یہ بکتا‘ اس میں سوائے ایک بھرے ہوئے سگریٹ کے کچھ ہاتھ نہیں لگتا تھا۔ لیکن بے چارے عادت کے مارے اس پر بھی قناعت کر لیتے۔
انتخابات میں صرف پانچ چھ مہینے رہ گئے ہیں لیکن انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹیاں ابھی تک ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔ وزیراعظم کی کر سی ایک ہے اور امیدوار تین۔ زبان خلق کے مطابق‘ اقتدار کے آئندہ حصے داروں میں‘ شاید ہی کوئی فیصلہ کن اکثریت لے کر کامیاب ہو۔ ابھی تک ستاروں‘ علم جعفر اور ہندوئوں کے متعدد علوم‘ مستقبل کا مکمل خاکہ دیکھنے والوں میں سے کسی کے پاس بھی مکمل زائچہ موجود نہیں۔ وزارتِ عظمیٰ کے تین امیدوار رات کے اندھیرے میں چھپ چھپ کے اپنا ہاتھ دکھانے نکلتے ہیں اور نجومیوں کے پاس جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی اپنے لئے وزارتِ عظمیٰ کی پیش گوئی لئے ہوئے‘ جھومتا جھامتا لوٹ آتا ہے۔ تینوں امیدواروں کے مابین کوئی مخلوط حکومت بنتی نظر نہیں آتی۔ صرف ایک (ن) لیگ ہے جو ووٹوں کی کمی‘ منہ مانگے دام دے کر پوری کر لیتی ہے۔ اگر میاں نواز شریف کے وکیل‘ ان کی جیب ہی خالی کر گئے تو پھر باقی رہ جانے والے دو امیدواروں میں وزارتِ عظمیٰ کے لئے سخت مقابلہ ہو گا۔ ''بھائیاں دی جوڑی‘‘ اپنی پونجی یکجا کر کے وزارتِ عظمیٰ پر قبضہ جمانے کے لئے اچھی پوزیشن رکھتی ہے۔ اگر آصف زرداری کی 26 شوگر ملوں سے اچھی آمدنی ہو گئی تو وہ بھی اقتدار کی کرسی کے امیدوار بن سکتے ہیں۔ رہ گئے عمران خان‘ تو وہ فاسٹ بائولر ہیں۔ وہ آج بھی اچھے اچھے کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سبقت لے کر ٹارگٹ پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ آخری بات یہی ہے کہ وزارتِ عظمیٰ پر قبضہ جمانے کے لئے جو تین تیز رو مقابلہ کریں گے‘ ان میں سے توعمران خان ہی سب سے آگے نکل سکتے ہیں۔ اگّوں تیرے بھاگ لچھئے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved