تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     27-01-2018

صحافت پنکچر

یہ درست ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر غلط تھی‘ درندے عمران کے سینتیس اکائونٹ تو کیا ایک بھی اکائونٹ نہ تھا اور یہ خبر موصوف کی صحافت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی لیکن یہ بھی درست ہے کہ مجموعی طور پر میڈیا نے بھی اس معاملے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ چھتیس گھنٹے ہر جانب ایسا ہیجان برپا رہا جس نے لوگوں کا رہا سہا سکون بھی چھین لیا۔ خبر سامنے آنے پر میں نے ایک معروف بینکر سے پوچھا‘ اگر آپ کو کسی شخص کا آئی ڈی کارڈ نمبر دیا جائے تو آپ کتنی دیر میں یہ بتا سکتے ہیں کہ اس کے نام پر کتنے اکائونٹس چل رہے ہیں۔ بینکر نے بتایا: دو منٹ۔ ہم دو منٹ میں بتا سکتے ہیں اس نے کب اور کس برانچ میں اکائونٹ کھولا اور کب کتنے پیسے جمع کرائے اور نکلوائے ۔ سوال یہ ہے اگر ڈاکٹر موصوف نے غلطی کر ہی لی تھی تو پھر میڈیا کیلئے اس کو بڑے پیمانے پر ہائی لائٹ کرنا کتنا ضروری تھا۔ جیسے ہی یہ خبر آن ایئر ہوئی‘ سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک سیلاب آ گیا۔ خوف کی جو لہر قصور سانحے سے اٹھی تھی‘ اس نے ایسی ہائپ کری ایٹ کی کہ لوگ یہ تک سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ کیا یہ ملک رہنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ امریکہ سے دوست اعجاز صاحب تو یہاں تک متفکر ہوئے کہ پاکستان کو انہی گناہوں کی سزا مل رہی ہے؛ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ساری خبر غلط تھی۔ عمران کا اس سے تعلق تھا یا نہیں یہ تو بعد میں پتا چلے گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ڈارک ویب کا وجود نہیں یا پھر یہ کہ بچوں کی ویڈیوز بیرون ملک پیسوں کیلئے نہیں بیچی جاتیں۔ ابھی تک پنجاب حکومت اور سٹیٹ بینک کی جانب سے اکائونٹس کی نفی ہوئی ہے۔ جے آئی ٹی عمران سے تفتیش کرے گی تو باقی باتیں بھی کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عمران چند ہزار کی معمولی رقم کیلئے یہ قبیح حرکت کرنے کو تیار ہو جاتا ہو اور ویڈیوز بنا کر کسی اور کو دے دیتا ہو۔ ہمارے ملک میں جہاں بیس روپے کے لئے قتل ہو جاتے ہوں‘ جہاں بیروزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے مائیں تین تین بچے لے کر نہروں میں کود رہی ہوں وہاں ایسا ہونا نا ممکنات میں سے نہیں۔ قصور میں تین سال قبل دو سو چوراسی بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان کی ویڈیوز بنانے کا جو سکینڈل سامنے آیا تھا اس میں بچوں کو پچاس پچاس روپے کے عوض اس کام کیلئے راضی کر لیا جاتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ ان ویڈیوز کا خریدار کون ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ چند سال قبل تک پاکستان سے بچے خرید کر یا اغوا کر کے کئی عرب ممالک میں اونٹ دوڑ کیلئے لیجائے جاتے تھے۔ اونٹوں کو دوڑایا جاتا تو خوف اور جھٹکوں سے بچے چیخیں مارتے جس سے اونٹ تیز دوڑنے لگتے۔ اس منظر سے تماش بینوں کو تسکین ملتی۔ بچے گر گر کر زخمی ہوتے اور وفات پا جاتے؛ تاہم عالمی سطح پر تنقید کی وجہ سے عرب ممالک میں اب اونٹ کی دوڑ میں روبوٹ بٹھائے جاتے ہیں ۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایسی ویڈیوز کے خریدار اور دیکھنے والے کون ہو سکتے ہیں اور انہیں بچوں کے ساتھ جرم ہوتے دیکھ کر تسکین کیوں ملتی ہے۔ قصور میں تین سو بچوں کے ساتھ زیادتی کا سکینڈل اگر دوبارہ کھولا جائے اور اگر چیف جسٹس اس پر از خود نوٹس لیں تو نہ صرف حسین خاں والا میں ہونے والے اس گھنائونے جرم سے پردہ اٹھ سکتا ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں ممکنہ طور پر جاری ایسے عمل کو مستقل روکا جا سکتا ہے۔ زیادتی کے بڑھتے واقعات کی ایک اور وجہ پورنو گرافی بھی ہے۔ اس حوالے سے کئی مرتبہ عدالتیں نوٹس لے چکی ہیں اور متعلقہ محکموں سے استفسار کیا جا چکا ہے لیکن آج بھی ہر طرح کی ویب سائٹس اوپن ہیں۔ جب کبھی ڈنڈا آتا ہے تو سائبر کرائم ونگ چند فلٹر لگا دیتا ہے لیکن معاملہ ٹھنڈا پڑنے پر یہ فلٹر ہٹا دئیے جاتے ہیں۔ اس کی بڑی ذمہ داری انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز پر عائد ہوتی ہے جو اس پر تعاون کرنے کو اس لئے تیار نہیں کیونکہ ان کی کمائی کا بڑا حصہ فحش مواد کی ڈائون لوڈنگ کا مرہون منت ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوال اٹھایا کہ پورنو گرافی کیسے پھیلائی جا رہی ہے اور حکومت نے اسے روکنے کے کیا اقدامات کیے ہیں؟ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پورنو گرافی کا پورا انٹرنیشنل گینگ ہے، جس سے کسی بھی گھر کی زینب اور کلثوم محفوظ نہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پی ٹی اے نے 212 ویب سائٹس بلاک کی ہیں جبکہ بائیس ہزار ویب سائٹس کے لنکس بلاک کیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کیا اس طرح کی وضاحت سے عدالت کی آنکھوں میں دُھول جھونکی جا سکتی ہے؟ آج بھی موبائل فون اور کمپیوٹر پر سینکڑوں پراکسی سائٹس اور ایپس موجود ہیں جن کے ذریعے یہ مواد دیکھا جا رہا ہے لیکن ان پراکسی سائٹس کو جان بوجھ کر بلاک نہیں کیا جا رہا۔ سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے ایسا مربوط نظام بنایا ہوا ہے جس کے تحت ایسی ویب سائٹس کا کھلنا تقریباً ناممکن ہے۔ چلیں پورن ویب سائٹس تو ایک طرف رہیں‘ ہماری تو ہزاروں ایسی پاکستانی ویب سائٹس ہیں جن میں کئی معروف نیوز ویب سائٹس بھی شامل ہیں جہاں فحش ‘جنسی اور ہیجان انگیز خبروں کو بیچ کر ڈالر کمائے جا رہے ہیں لیکن ہماری آئی ٹی کی وزارت پردہ کئے ہوئے ہے۔ ان ویب سائٹس اور یو ٹیوب چینلز پر گوگل کے اشتہارات لگے ہیں اور ان خبروں کو سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ شیئر کیا جاتا ہے تاکہ 'ٹریفک‘ مل سکے۔ آپ ان میں سے کئی ویب سائٹس کو اہل خانہ کے ہمراہ کھول نہیں سکتے۔ خبر کی ہیڈنگ انتہائی متجسس انداز میں بنائی جاتی ہے اور سسپنس باقی رکھا جاتا ہے تاکہ یوزر اسے کلک کرنے پر مجبور ہو۔ اس کام کیلئے خبریں اخلاق باختہ انداز میں اس طرح توڑ مروڑ کر لگائی جاتی ہیں کہ ماں بیٹا اور بھائی بہن کے رشتوں کی بھی پروا نہیں کی جاتی۔ ایسا تب سے ہوا جب سے گوگل اور یوٹیوب نے پاکستان کیلئے پیسے کمانے کا راستہ کھولا ہے۔ یو ٹیوب پر بھی ہزاروں ایسے چینلز بن چکے ہیں جو دھڑا دھڑ فحش مواد پر مبنی کہانیاں‘ لطیفے‘ انجان لڑکے لڑکیوں کی فحش ٹیلی فون کالز‘ پاکستانی سیاستدانوں‘ اہم شخصیات اور ماڈلز کی ذاتی خبریں اور من گھڑت واقعات شیئر کر رہے ہیں۔ ایسی کسی ایک ویڈیو کو ایک ہزار مرتبہ دیکھنے پر تقریباً ایک ڈالر ملتا ہے جبکہ ایسے مواد کو روزانہ لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں دیکھا جاتا ہے اور اس کا زیادہ شکار بچے‘ طالب علم اور نوجوان ہو رہے ہیں۔ کئی ویب سائٹس اشتہاروں سے اس قدر کما رہی ہیں کہ ان کے مالکان دبئی منتقل ہو چکے ہیں تاکہ انہیں اس کمائی کا پاکستان میں حساب نہ دینا پڑے۔ یہ پاکستان میں دفتر بنا کر کام کر رہے ہیں لیکن اپنا سارا پیسہ بیرون ملک وصول کر رہے ہیں۔ لہٰذا پورن مواد کے خلاف کریک ڈائون کے ساتھ ساتھ ایسی ویب سائٹس کو بھی شکنجے میں لایا جائے جو گوگل سے ملنے والے فحش اشتہار چلا رہی ہیں اور معاشرے میں بے راہ روی کے اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
جہاں تک ملزم عمران کو سر عام پھانسی دینے کا سوال ہے تو اس کی مخالفت کرنے والوں سے میرا سوال ہے کہ ایک لمحے کو سوچیں کہ خدانخواستہ ان کے ساتھ اگر ایسا واقعہ پیش آئے تو کیا وہ اس سے کم مطالبہ کریں گے۔ بھارت جیسا ملک جہاں پھانسی پر پابندی تھی وہاں بھی جب تین سال قبل ایک پندرہ سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مجرم کو پکڑا گیا تو سارا بھارت اس کی سرعام پھانسی کا مطالبہ کرنے لگا۔ یہ درست ہے کہ قانون میں اس کی فی الوقت گنجائش نہیں لیکن یہ قانون ہمی لوگوں نے بنائے ہیں‘ اگر ہم اس ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھتے ہیں تو پھر ایسے دلدوز واقعات پر قانون میں شرعی تبدیلی کیوں نہیں لا سکتے ‘ہم خود کو ایک منٹ کیلئے قصور کے متاثرین کی جگہ پر کیوں رکھ کر نہیں سوچتے اور آخر اسلامی سزائوں کے یہ مخالفین ملک چھوڑ کر مغرب میں کیوں نہیں جا بستے؟ انتہائی پسماندہ علاقوں سے نکلنے والے ایسے دانشور آج اپنے قلم کو ایک سو اسی ڈگری پر گھمانے سے پہلے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ دنیا میں آنے کا مقصد صرف پیسہ کمانا‘ اپنی ذاتی کمپنیوں کی توسیع‘ حکومت پر دبائو ڈال کر اپنے لئے پراجیکٹس حاصل کرنا اور اُن این جی اوز کے غیرملکی ایجنڈوں کو آگے بڑھانا نہیں جو ایک درخت کے کٹنے پر تو شور مچا دیتی ہیں‘ جو سوات کی ایک مبینہ ویڈیو پر تو آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں لیکن زینب جیسی معصوم کلیوں کو مسلنے اور انہیں چیل کوئوں کے سامنے کچرے کے ڈھیروں پر پھینکنے پر چوہے کی طرح بلوں میں جا گھستی ہیں۔ یہ قلم‘ یہ کیمرہ اور یہ ٹاک شو ہر کسی کو نہیں ملتا‘ یہ قدرت کا انعام اور مہربانی ہے اور جو کالم نگار‘ اینکر اور دانشور قدرت کے اس انعام اور مہربانی کی قدر نہیں کرتا‘ جو مخلوق کے حق میں آواز اٹھانے کی بجائے ہیجان انگیزی‘ حکمرانوں کی کاسہ لیسی اور شرعی سزائوں کی مخالفت کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیتا ہے‘ اس کا حال ڈاکٹر شاہد مسعود جیسا ہو تا ہے‘ اس کی صحافت پنکچر ہو جاتی ہے۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved