تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     01-02-2018

انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن

برطانوی ادارہ انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن برطانیہ میں انٹرنیٹ سے غلط اور غیرقانونی مواد تلاش کرکے اسے وہاں سے ہٹاتا ہے۔فاؤنڈیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں غلط استعمال والے مواد کا ساٹھ فیصد یورپ میں پایا جاتا ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں انیس فیصد زیادہ ہے ۔ آئی ڈبلیو ایف کی سربراہ سوسی ہارگریوز کے خیال میں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں حالات اب الٹ گئے ہیں۔ شمالی امریکہ کے بجائے اب یورپ اطفال کے جنسی استحصال کا سب سے بڑا منبع و مخزن بن گیا ہے۔ یہ رپورٹ اس بات کا مظہر ہے کہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے اس قسم کے واقعات کا تدارک ممکن نہیں‘بلکہ اس کے لئے سخت سزا ئیں بلکہ سرعام کڑی سزائیں ہی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہاں سے ایک بات یہ بھی ثابت ہو گئی کہ بچوں کو کو جنسی تعلیم اور آگاہی دینا بھی کافی نہیں جیسا کہ زینب قتل کیس کے بعد میڈیا کا ایک بڑا حصہ اور این جی اوز یہ پنڈورا کھول کر بیٹھ گئے کہ بچوں کو جنسی تعلیم اور حملوں سے بچائو کے بارے میں آگاہی دینے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ اگر اس طرح مسئلہ حل ہو جاتا تو دنیا بھر میں غلط استعمال والے مواد کا ساٹھ فیصد حصہ یورپ میں نہ پایا جاتا۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات اب بھی یورپ میں تواتر سے جاری ہیں تاہم یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بچوں کو محتاط رہنے کی ٹریننگ دی جانی چاہیے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تنہا کوئی ایک قدم برائی کے اتنے بڑے نیٹ ورک کے خاتمے میں موثر ثابت نہیں ہو سکتا۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم لوگ فوری ردعمل دینے والی قوم بن چکے ہیں۔ الیکٹرانک اور انٹرنیٹ میڈیا کی کوشش ہوتی ہے کہ خبر سب سے پہلے بریک کی جائے ۔ اس چکر میں ہم بہت کچھ گنوا رہے ہیں جس میں سب سے اہم کریڈیبیلٹی ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کیس اس کی واضح مثال ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے خبر دی تو سب نے اس کا ایک حصہ یعنی سینتیس اکائونٹس کی خبر بڑی خبر کے طور پر چلا دی۔ بہت کم نے یہ کراس چیک کرنے کی کوشش کی کہ ملزم کے اتنے اکائونٹس ہیں بھی یا نہیں۔یہ جاننے میں زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹہ لگ سکتاہے۔ ہر چینل میں انویسٹی گیشن کا شعبہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے جو اس قسم کی معلومات بینکوں سے آسانی سے حاصل کر سکتا ہے۔ڈاکٹر شاہد مسعود کی بھی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے واقعات اور خبر کو خلط ملط کر دیا۔ ان کی خبر کے بنیادی طور پر تین حصے تھے۔ پہلا حصہ بینک اکائونٹس پر مبنی تھا جو کم از کم عمران علی کے معاملے میں ابھی تک مکمل طور پر غلط ثابت ہوا ہے۔ ابھی اس معاملے میں تحقیقات جاری ہیں کہ کہیں عمران علی ویڈیوز کسی اور کو سپلائی نہ کرتا ہو اور بدلے میں رقم وصول کر لیتا ہو۔ میری اطلاع کے مطابق اس کے گزشتہ چھ ماہ کا فون کال کا ڈیٹا بھی نکلوا لیا گیا ہے جس سے کیس میں مدد مل سکتی ہے۔ڈاکٹر صاحب کی خبر کا دوسرا حصہ ڈارک ویب یا ڈیپ ویب پر مشتمل ہے۔ یہ انٹرنیٹ کا وہ حصہ ہے عام لوگوںکو جہاں تک رسائی حاصل نہیں۔اسے کوئی بھی سرچ انجن انڈیکس نہیں کرتا۔ اس لئے گوگل میں تلاش کرنے پر کوئی لنک نہیں ملتا۔ ڈیپ یا ڈارک ویب غیر قانونی دھندوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسے منشیات ‘غیر قانونی اسلحہ سپلائی کرنے والے اور ناجائز پیسہ منتقل کرنے والے بکثرت استعمال کرتے ہیںجبکہ بچوں کی نازیبا ویڈیوز بھی اسی پلیٹ فارم پر دیکھی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ فحش ویب سائٹس یورپی ممالک میں ممنوع نہیں ہیں۔ امریکہ اور دیگر ممالک میں انہیں قانونی چھتری بھی حاصل ہے اور یہ کام کرنے والے حکومت کے باقاعدہ ٹیکس پیئر ہوتے ہیں لیکن بچوں کی جنسی فلمیں دنیا کے ہر ملک اور ہر قانون میں ممنوع ہیں۔اس لئے اس کام کے لئے ڈارک ویب استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے وہ لوگ استعمال کرتے ہیں جو پیسہ لٹانے اور اپنی جنسی اور نفسیاتی تسکین کے لئے نت نئے حربوں اور ذرائع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ڈارک ویب کی تفصیل میں جائیں تو رونگٹے کھڑے کر دینے والے انکشافات سامنے آتے ہیں۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ انسان اس حد تک گر جائے گا کہ محض اپنی تسکین کے لئے کسی کا قتل کروا دے یا کسی کو ایسے ایسے طریقوں سے اذیت دے کہ شیطان بھی توبہ کر اٹھے۔ گزشتہ چند برسوں میں داعش اور طالبان کی ایسی ویڈیوز سامنے آئی تھیں جن میں مغویوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔ انسانوں کے سر کاٹ کر فٹ بال کھیلا جاتا‘ سر کاٹ کر گردن میں پٹرول بھر کے لاش کو آگ لگا دی جاتی اور اس کا ناچ دیکھ کر قہقہے لگائے جاتے اور تو اور پشاور کے آرمی پبلک سلوک میں معصوم بچوں کو کمروں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کے سروں میں گولیاں ماری گئیں ۔ چنانچہ اس طرح کے واقعات کے بعد اس میں شک کی گنجائش کم ہی رہ جاتی ہے کہ ڈارک ویب میں مغویوں کے ساتھ ایسی ہی درندگی ہوتی ہو گی ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر کا یہ حصہ گزشتہ دنوں اس وقت سچ ثابت ہوا کہ جب کینیڈین انٹرپول کی نشاندہی پر ایف آئی اے نے جھنگ میں چھاپہ مار کر بچوں کی نازیبا ویڈیوز شیئر کرنے والے گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کرلیا۔ تیمور مقصود نامی شخص سے بچوں کی نازیبا ویڈیوز کا مواد اور دیگر غیرقانونی سامان بھی برآمد ہوا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز انٹرنیٹ پر شیئر کرتا ہے لیکن بچوں کے ساتھ زیادتی یا فلمیں بنانے میں ملوث نہیں۔ یہاں سے اس شک کو بھی تقویت ملتی ہے کہ یہ دھندا پاکستان میں جاری ہے اور عمران علی بھی ان لوگوں میں شامل ہو سکتا ہے جو ویڈیوز جھنگ کے تیمور جیسے لوگوں کو سپلائی کرتے ہوں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر کا تیسرا حصہ وفاقی وزیر اور پنجاب کی شخصیت کے اس دھندے میں ملوث ہونے پر مبنی تھا‘ اس پر البتہ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس بارے میں انہیں شک ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے دیکھیں تو ڈاکٹر صاحب کی خبر صرف تیتیس فیصد درست ثابت ہوئی لیکن یہ کوئی نئی خبر یا انکشاف اس لئے نہ تھا کہ ڈارک ویب کا وجود دو ہزار گیارہ کے بعد ثابت ہو چکا ہے اور عالمی ممالک کی ایجنسیاں ان کے تدارک کے لئے کام کر رہی ہیں۔
بدقسمتی سے ہم ایسی قوم بن چکے ہیں کہ جو مردے کا کفن بھی چوری کرنے اور اسے بیچنے سے باز نہیں آتی۔ ہم روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو تو مانیٹر کرتے ہیں لیکن انٹرنیٹ ‘ سوشل میڈیا اور یو ٹیوب کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ میں نے گزشتہ تحریر میں انٹرنیٹ پر ایسی خبروں کو مزید سنسنی خیز بنا کر اور ان میں اپنی طرف سے مواد ڈال کر غیر اخلاقی ویڈیوز اور خبریں چلانے والی ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز کی نشاندہی کی تھی۔ بدقسمتی سے یہ لوگ زینب قتل کیس سے بھی ڈالر بنانے کی دوڑ میں لگ گئے ہیں۔ مجھے یاد ہے جنید جمشید کے طیارہ حادثے کی ایک آڈیو اور ویڈیو بہت شیئر ہوئی جس میں کہا گیا کہ یہ آخری لمحات میں جہاز کے گرنے سے قبل کی آوازیں ہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ ویڈیو کسی انڈونیشین جہاز کی تھی جس میں مسلمان موجود تھے اور استغفار کر رہے تھے ۔ زینب قتل کیس کے بعد کئی لوگ یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا دل کرتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول سے اٹھا لیں‘ انہیں گھر میں بند کر لیں‘ اس واقعے کے بعد ان کا اعتماد معاشرے کے ہر فرد سے اٹھ گیا ہے۔ جو لوگ زینب کیس کی آڑ میں انٹرنیٹ اور موبائل فون پر جعلی ویڈیوز اور خبروں کے ذریعے سنسنی پھیلا کر گوگل سے ڈالر کمانے میں لگے ہیں وہ خدا کا خوف کریں اور ذرا سوچیں کہ یہ ویڈیوز ان والدین یا ان کے رشتہ داروں تک پہنچتی ہوں گی تو ان پر کیا بیتتی ہو گی۔ وہ یہ غم بھلانا چاہتے ہیں اور یہ لوگ ان کے غم کو پھیلانے اور تشہیر میں لگے ہیں۔ میری حکومت سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر انٹرنیٹ سنسر کرنے کے لئے قانون سازی کرے‘ وہ برطانیہ کی طرز پر انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن جیسا ادارہ بنائے ‘ اس ادارے میں ٹاپ آئی ایکسپرٹس اور ہیکرز کو بھرتی کیا جائے ‘ یہ ادارہ چاروں صوبوں میں سائبر کرائم ونگز اور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز کے ساتھ مل کر انٹرنیٹ پر موجود غیر اخلاقی‘ جنسی‘ فرقہ وارانہ اور بلیک میلنگ پر مبنی مواد کو تلف کرے‘ ایک آن لائن شکایات سیل‘ویب سائٹ اور موبائل ایپ بنائی جائے جہاں لوگ ایسے کسی مواد اور اکائونٹس کے بارے میں نشاندہی کر سکیں‘ یہی ادارہ پاکستان میں ممکنہ طور پر موجود ایسے نیٹ ورکس کا سراغ لگائے جو بچوں کی جنسی ویڈیوز ڈارک یا ڈیپ ویب کو سپلائی کرتے ہیں اور یہ ادارہ ایسے اکائونٹس اور مواد کی بھی نشاند ہی کرے جو ایسے افسوس ناک سانحات پر بھی دُکھی خاندانوں کے آنسوئوں اور غموں کو ڈالر کمانے کیلئے استعمال کررہے ہیں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved