تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     01-02-2018

نکاح اور تقویٰ

حافظ محمد علی یزدانی میرے قریبی ساتھی اور جمعیت اہل حدیث پاکستان کے متحرک اور فعال رہنما ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دس برس کے دوران مختلف دینی اور سیاسی اجتماعات میں میرے ہمراہ شرکت کی اور دینی اورملی حوالے سے میری مشغولیات میں ہمہ وقت میرے ساتھ رہے۔ ان کے نکاح کی تقریب کا انعقاد 29 جنوری کو ہوا اور میں نے حافظ محمدعلی یزدانی کا نکاح پڑھایا۔ حافظ محمد علی یزدانی نے اپنے ولیمے میں ملک کے ممتاز مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو مدعو کیا۔ ولیمے کی اس تقریب میـں حافظ محمد سعید ، پروفیسر ساجد میر، پیر اعجاز ہاشمی، مولانا امجد خاں، ڈاکٹر فرید پراچہ، امیر العظیم، اعجاز چوہدری، بختیار قصوری، حافظ عبدالغفار روپڑی ، حافظ عاکف سعید ، مولانا عبدالخبیر آزاداور دیگر رہنما شریک ہوئے۔ اس موقع پر حافظ محمد علی یزدانی نے حافظ محمد سعید، پروفیسر ساجد میر اور مجھے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ساجد میر صاحب نے کہا کہ ایسی مجالس بلاشبہ ہر اعتبار سے قابل قدر ہوتی ہیں جن میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کا ذکر کیا جائے۔ شادی کی تقریبات میں بالعموم لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فرمودات کو بھلا کر دنیا داری میں گم ہوجاتے ہیں جو کہ کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔ اس لیے کہ دین اسلام صرف عقائد اور عبادات ہی کا نام نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں کی طرح شادی بیاہ کے حوالے سے بھی دین اسلام کی تعلیمات بین اور واضح ہیں۔ چنانچہ اس موقع پر ہمیں ان نصیحتوں کو ذہن نشین کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اس موقع کے حوالے سے کی ہیں۔ اس موقع پر جماعۃ الدعوہ کے امیر حافظ محمد سعید نے کہا کہ ایک مسلمان جوڑے کی شادی کی ان کے لیے باعث رحمت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے نتیجے میں ایک مسلمان مرد اور عورت اپنے نصف ایمان کو مکمل کرتے ہیںا ور ان کو اپنے باقی نصف ایمان کے بارے میں سنجیدگی سے غوروغوض کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس موقع پر اس مسنون دعا کا بھی ذکر کیا جو اس موقع پر نبی کریمﷺ دولہا کے لیے فرمایا کرتے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ اسے تمہارے لیے بابرکت بنائے اور تم پر برکت کا نزول فرمائے اور تم دونوں کو خیر پر جمع فرمائے۔ انہوں نے اس موقع پر حافظ محمد علی یزدانی کے لیے نیک تمناؤ ں کا بھی اظہار کیا۔ مجھے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کو سامعین کے سامنے رکھنے کا موقع ملا۔ جنہیں میں قارئین کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں: 
نکاح کے موقع پر خطبہ مسنونہ کے بعد جن آیات کی تلاوت کی جاتی ہے ان میں مشترکہ نکتہ تقویٰ کا ہے ۔ تقویٰ کا لغوی معنی کسی چیز کو ایسی چیز سے بچانا ہے جو اس کو دینے والی یا ایزا پہنچانے والی ہو۔لیکن اصطلاح شریعت میں اس سے مراد ایسے کاموں سے بچ جانا ہے جو انسان کو گناہ گار کرنے والے ہوں۔ زندگی کے جملہ امورمیں جہاں پر تقویٰ کی بہت زیادہ اہمیت ہے وہیں پر شادی بیاہ کی تقاریب میں بھی اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر بے پردگی ، اختلاط اور بہت سی ایسی رسومات کو کیا جاتا ہے جو قرآن وسنت کی تعلیمات کے برعکس ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے نکاح سمیت جس عقد اور معاہدے میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ ڈر شامل حال ہو جائے اس میں خیر وبرکت اور اللہ کی رحمت شامل ہو جاتی ہیں۔ تقویٰ کے حوالے سے قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے مختلف امور کا ذکر کیا جن کا خلاصہ درج ذیل ہے: 
1۔تنگیوں کا خاتمہ اور رزق کی فراوانی : اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ طلاق کی آیت نمبر 2 اور 3 میں ارشاد فرماتے ہیں ''اور جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے تقوے کو اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنائیں گے اور اس کو رزق وہاں سے دیں گے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔‘‘
ہر انسان کی دو اہم خواہشات یہ بھی ہیں کہ وہ اپنی پریشانی پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے اور دوسرا یہ کہ وہ خوشحالی کی زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے۔ آیات مذکورہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ انسان کی یہ دونوں خواہشات تقویٰ کے ذریعے پوری ہو سکتی ہیں۔
2۔ سابقہ گناہوں کی معافی : گناہوں سے اجتنا ب او ر تقویٰ کو اختیار کرنے کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ طلاق ہی کی آیت نمبر 5میں ارشاد فرماتے ہیں ''جو اللہ تبارک وتعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے گا تو وہ گناہوں کو معاف فرما دے گا اور اس کے اجر کو زیادہ کر دے گا۔ ‘‘ گویا کہ گناہوں سے اجتناب اور تقویٰ کا اختیار کرنے کے نتیجے میں اللہ تبارک وتعالیٰ سابقہ تمام خطاؤں کو بھی معاف فرما دیتے ہیںاور اجر کو بھی زیادہ کر دیتے ہیں۔
3 ۔معاملات میں آسانی : اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ طلاق ہی کی آیت نمبر 4میں اس بات کا بھی ذکر کیا ''جو تقویٰ کو اختیار کرے گا تواللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی کر دے گا۔‘‘ جب اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کے کسی کام یا معاملے کو آسان کر دیں تو معاملہ خواہ کتنا ہی بوجھل کیوں نہ ہو انسان کے لیے آسانی والی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس کے بالمقابل اگر انسان کسی مسئلے میں نفسیاتی الجھاؤ ،حیرت یا مشکل سے دوچار ہو جائے تو ایسی صورت میں چھوٹی سے چھوٹی تکلیف بھی انسان کے لیے وبال جان بن جاتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آیت مذکور میں اس بات کی نوید سنائی کہ جو کوئی اللہ تبارک وتعالیٰ کے تقویٰ کواختیار کرے گا اللہ اس کے معاملات کو آسان بنا دیں گے۔ معاملات ملازمت، تعلیم، روزگاریا کسی بھی اور نوعیت کے ہوں جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت کو اختیار کرتے ہوئے گناہوں سے اجتناب کرنا شروع کردیتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے لیے آسانی پیدا فرما دیتے ہیں۔
4۔ اللہ کی طرف سے آسمان اور زمین سے برکات کا کھلنا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ اعراف میں سابقہ اقوام پر آنے والے عذابوں کا ذکر کیا کہ ان اقوام کے لوگوں نے جب اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی کی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان پر اپنی گرفت اور اپنے عذابوں کو مسلط کر دیا۔ اقوام سابقہ پر آنے والے عذابوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ اعراف کی آیت نمبر 97میں اس بات کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ''اگر واقعی بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ کا اختیار کر لیتے تو ہم ضرور کھول دیتے ہیں ان پر برکتیں آسمان اور زمین سے ‘لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے پکڑ لیا انہیں ۔‘‘گویا کہ گناہوں اللہ تبارک وتعالیٰ کی پکڑ کو دعوت دینے والے اور اس کے بالمقابل تقویٰ اور گناہوں سے اجتناب انسان کے لیے آسمان اور زمین سے برکات کے دروازے کھل جانے کا سبب بن جاتا ہے۔ 
5۔ فرقان کا حصول: گناہوں سے اجتناب کے نتیجے میں جہاں انسان کی دشواریاں، تنگیاں اور تکالیف اللہ کے فضل وکرم سے دور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ وہیں پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ انفال کی آیت نمبر 29میں اس بات کا ذکر فرمایا کہ ''اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے حق وباطل کا فرق ظاہر کر دے گا۔‘‘ نیکی ،بدی اور اندھیرے اجالے کے درمیان تفریق کرنے کی اس صلاحیت کا پیدا ہوجانا اللہ تبارک وتعالیٰ کی بہت بڑی عطا ہے۔ جب کوئی انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کے ڈر کو اپنے دل میں جگہ دینا شروع کر دیتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس میں ایک ایسی صلاحیت کو پیدا فرما دیتے ہیں کہ وہ ہدایت اور گمراہی کو پہچاننے کے قابل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ ہدایت کے راستوں کو اختیار کر لیتا ہے اور برائی کے راستوں سے بچ جاتا ہے۔ 
6۔اللہ کی نظروں میں معزز ہو جانا: تقویٰ ہی کے فوائد کے حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ حجرات کی آیت نمبر 13میں اس بات کا اعلان فرماتے ہیں '' بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت دار وہ ہے جو پرہیز گار ہے۔ ‘‘ ہر انسان عزت کا طلب گار ہے اور اس عزت کے حصول کے لیے انسان کئی مرتبہ ہر چیز کو داؤ پر لگانے کے تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت بتلاتی ہے کہ حقیقی عزت اگر حاصل ہوگی تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت اور گناہوں سے اجتناب کے نتیجے میں حاصل ہوگی۔ اخروی کامیابی کے ساتھ ساتھ دنیا میں رہتے ہوئے تقویٰ کو اختیار کرنے کے نتیجے میں بہت سے فوائد ہیں جو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو دینے والے ہیں۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 189میں ارشاد فرماتے ہیں ''اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ کامیابی پاؤ۔‘‘ تقویٰ کے نتیجے میں جہاں اخروی کامیابیاں حاصل ہوں گی وہیں ہم مندرجہ بالا دنیاوی فوائد کو بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکی کے راستے پر چلنے اور گناہ سے اجتناب کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین!

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved