تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     01-02-2018

دشمن یا غدار؟

کسی بھی ملک یا ریا ست کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کی دشمن ہے اور وہ کون ہے اور کہاں ہے لیکن کئی ایسے وطن مخالف لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی ریاست یا قبیلے کی سالمیت کیلئے دشمن سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ان میں بڑے بڑے مذہبی اور مزدور لیڈر، سیا ستدان، حکومتی اہلکار اور نامور صحافیوں سمیت دانشور شامل ہوسکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی کاٹ اور زخم اس لئے بھی نا قابل علاج ہوتے ہیں کہ ان میں سے کچھ نے اپنی اپنی فیلڈ میں خود کو ہزاروں تو کسی نے بلا شبہ لاکھوں کی تعداد کو اپنا گرویدہ بنایا ہوتا ہے جس کی چھوٹی سی مثال بھارت کے اس جوگی اور سادھو کی ہے جسے ابھی حال ہی میں جب گرفتار کیا گیا تو لوگ ہزاروں کی تعداد میں پر تشدد کارروائیاں کرتے ہوئے سڑکوں پر آ گئے جس سے سات افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے ۔۔۔۔غدار اپنے چہروں پر نقاب چڑھائے کبھی سرکار یا پارٹی ترجمان بنے ہوتے ہیں تو کبھی وزیر اور مشیر تو کبھی اس سے بھی اونچے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں ۔ 
اس عہدے اور سرکاری حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے وہ اس ملک اور ریا ست کے ایک ایک راز اور ایک ایک کمزوری سے واقف ہو تے ہوئے اس دشمن کے حوالے کر دیتے ہیں جو اس ریا ست کے وجود سے ہی انکاری ہو اور وہ دشمن جو آپ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتاہو جس کا مطمح نظر ہی یہ ہو کہ آپ کے وجود کو ختم کرنا ہے تو کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس قسم کے دشمن کا آلہ کار بن کر آپ کے اندر رہنے والا وہ غدار وطن آپ کے ملک کیلئے کس قدر خوفناک ہو سکتا ہے؟۔ اسی قسم کا ایک شخص 88-92 ء تک میاں نواز شریف کا مشیر رہا پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کا مشیر بنا ، بد قسمتی سے پاکستان کا سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوا اور پھر شومئی قسمت کہ زرداری صاحب کی مہربانی سے چار برس تک دنیا کے حساس ترین ملک امریکہ میں پاکستان کا سفیر بنارہا ۔ حسین حقانی کے نام سے پہچانا جانے والا یہ شخص پاکستان کا ترجمان بنا رہا وہ حسین حقانی آج بھارت ا ور امریکہ کے حقانی نیٹ ورک کے نام سے پاکستان کے خلاف قسم قسم کا زہر اگل رہا ہے‘ قدم قدم پر کبھی بلوچستان میں ہماری سکیورٹی فورسز اور عوام کے خون سے ہولی کھیلنے والے براہمداغ کا ترجمان بن کر جنیوا اور لندن میں آزاد بلوچستان کی وال چاکنگ کرواتا ہے تو کبھی یورپی ممالک کی پبلک ٹرانسپورٹ پر فری بلوچستان جیسے بورڈ لگانے کے مشورے دے رہا ہے ۔ اور دو ماہ ہوئے اس نے فیض آباد دھرنے میں قومی اداروں کو بھر پور طریقے سے رگیدنے کی ایک بار پھرناکام کوشش کی ہے۔ 
عمران خان بار بار اشارہ کرتے ہیں کہ '' نواز شریف نے کن کے کہنے پر۔۔۔کن کو خوش کرنے کیلئے الیکشن قوانین میں ترمیم کے نام والے بل میں حلف نامے کواقرار نامے میں تبدیل کرایا؟۔ 17 جنوری کو آل پارٹیز کانفرنس کے پلیٹ فارم سے خطاب کرتے ہوئے بھی عمران خان نے یہی سوال کیا کہ یہ ترمیم کس لئے کی گئی تھی؟۔ کس کے کہنے پر کی گئی تھی؟۔ کن کو خوش کرنے کیلئے کی گئی تھی؟۔ ذرا غور کیجئے کہ ادھر میاں نواز شریف یہ ترمیم منظور کراتے ہیں اور پھر لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ ایک قافلہ آرام سے چلتا ہوا فیض آباد میں دھرنا دے دیتا ہے اور اس کی قیا دت لبیک یا رسول اﷲ کا نعرہ لگاتے ہوئے خادم رضوی کرتے ہیں۔۔۔اور یہ وہ جماعت ہے جو صرف میاں نواز شریف کی مخالف جماعتوں کے ووٹ تقسیم کرنے کیلئے ایک طاقتور سول خفیہ ایجنسی کے ایسے سربراہ کی تخلیق بتائی جاتی ہے جنہیں میاں نواز شریف چار بار مدت ملازمت میں توسیع دے چکے ہیں۔ حسین حقانی آج کل پاکستان کے ایسے ہی وطن مخالف گروپ میں شامل ہیں جس سے ان کی کارروائیوں کی نوعیت کا آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے کو حسین حقانی نے اپنے مضمون میں عسکری ادارے کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے توجیح پیش کی ہے کہ نواز شریف نا اہل ہونے کے بعد مسلم لیگ کی صدارت کیلئے قومی اسمبلی سے اپنے حق میں ترمیم کرانے میں جیسے ہی کامیاب ہو ئے فوج نے خادم رضوی کے ذریعے نواز لیگ کو دبائو میں لانے کیلئے ختم نبوت کے نام سے یہ دھرنا ترتیب دیا ۔۔۔ حقانی نیٹ ورک نےPakistan Caught by Mosque and Military Again کے عنوان سے اپنے آرٹیکل میں وہی باتیں لکھی ہیں جو نواز حکومت کے وزراء دھرنے کے دوران اور بعد میں اپنی تقاریر اور ٹی وی ٹاک شو میں کرتے چلے آ رہے ہیں ۔۔۔۔ اصل کہانی یوں بتائی جاتی ہے کہ سپیشل برانچ نے شہباز شریف کو رپورٹ دی کہ صوبے کی ہر مسجد میں ختم نبوت بل کے بارے میں آپ کے خلاف باتیں ہو رہی ہیں اور آپ کے خلاف یہ لاوا کسی بھی وقت پھٹنے والا ہے پھر سب نے دیکھا کہ لاہور الحمرا ہال میںمیاں شہباز نے اپنے بھائی نواز شریف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔قائد محترم جس وزیر نے بھی ختم نبوت بل میں یہ شق شامل کی ہے اسے کان سے پکڑ کر کابینہ سے نکال دیا جائے۔ تو جناب یہ تقریر شہباز شریف سے کس نے کرائی تھی؟۔کیا لاہور سے فیض آباد تک یہ دھرنا فوج لے کر گئی تھی؟۔فیض آباد میں ان کی تعداد کسی بھی صورت میں تین ہزار سے زیا دہ نہیں تھی اور ان کا مطالبہ بھی وہی شہباز شریف والا ہی تھا کہ وزیر قانون زاہد حامد سے استعفیٰ لیا جائے؟۔ تو کیا شہباز شریف کو فوج کہہ رہی تھی کہ تم وزیر قانون کے استعفیٰ کا مطالبہ کرو؟۔ کیا مسلم لیگی اراکین اسمبلی شاہد خاقان عبا سی صاحب سے وزیر قانون کے استعفے کی تکرار نہیں کر رہے تھے؟۔ وہی استعفیٰ جو فیض آباد قتل و غارت کے بعد لیا گیا ہے۔۔۔ کیا وہ شہباز شریف کے کہنے پر پہلے ہی نہیں لیا جا سکتا تھا؟۔ ختم نبوت بل کی شق کو حذف کرنے پر بنائی گئی راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر کیوں نہیں لائی جا رہی؟ سپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کی وہ گفتگو آج بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہم دیکھیں گے کہ حلف نامے کو اقرار نامے میں کس طرح تبدیل کیا گیا؟۔ کہیں یہ کوئی کلیریکل غلطی تو نہیں تھی؟۔مسلمانوں کے اس حساس ترین مسئلے کو کس طرح کلیریکل غلطی کا نام دیا جا سکتا ہے؟۔کیا یہ ترمیم کسی کلرک نے تیار کی تھی؟۔ یہ کیسا وزیر اعظم اور وزیر قانون تھا کہ انہیں اس کی خبر بھی نہ ہو نے دی گئی اور بل ایوان میں پیش کر دیا گیا؟۔
جیسے ہی پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے نواز حکومت نے یہ بل منظور کرایا اس کی کاپی فوری طور پر امریکی سفارت خانے کو بھجوا دی گئی اور پھر حسین حقانی نے وائٹ ہائوس کے صدارتی عملے اور طاقتور اراکین سینیٹ و کانگریس کو یہ خوش خبری سنائی اور جب اس بل کے خلاف پاکستان سے عوامی رد عمل سامنے آ نا شروع ہوا تو امریکہ کو باور کرایا جانے لگا کہ '' یہ پاکستانی عسکری ادارہ ہی ہے جو بنیاد پرستی کو ہوا دیتا ہے‘‘ امریکہ اور یورپ میں یہ تاثر دیا جانے لگا کہ نواز شریف تو لبرل معاشرہ چاہتے ہیں۔۔۔وہ کشمیر کی بات ہی نہیں کرتے۔۔۔انہیں کلبھوشن کی بھی کوئی پروا نہیں۔۔۔وہ بھارت سے د وستی اور کھلی تجارت چاہتے ہیں اور وہ دونوں ممالک کی سرحدوں کو صرف ایک لکیر کے سوا کچھ نہیں سمجھتے ۔۔۔!! 
۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved