تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     15-03-2013

الیکشن کمیشن ’’راہِ راست‘‘ پر آجائے

نیکی برباد اور گناہ لازم شاید اسی کو کہتے ہیں کہ حکومت نے سراسر اپنی درخشندہ روایات کے خلاف ایک آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن اپوزیشن کی متفقہ رائے سے قائم کیا لیکن اسی ادارے نے الٹا ان شرفاء کو خواہ مخواہ پریشان کرنا شروع کردیا ہے اوراگر وہ اپنی ضد پر قائم رہا تو شریف برادران سمیت تمام کابینائوں کے ارکان تک الیکشن میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قرار دیے جاسکتے ہیں حالانکہ الیکشن کمیشن کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ فرشتوں کے درمیان الیکشن نہیں کروا رہا بلکہ اس کا واسطہ انہی معصوموں سے ہے‘ گزشتہ سے پیوستہ الیکشن میں جنہوں نے جعلی ڈگریاں پیش کیں‘ ٹیکس نہیں دیئے، بینکوں کے نادہندہ ہیں، کروڑوں کے قرضے معاف کرواچکے یا کرپشن وغیرہ کے حوالے سے جن کی شہرت اگر انتہائی خراب نہیں تو انتہائی مشکوک ضرور ہے۔ اوپر سے سپریم کورٹ اسے ہلہ شیری دے رہی ہے اور باور کرا رہی ہے کہ وہ اس معاملے میں مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہے اور شفاف الیکشن کے لیے ہر طرح کی تدابیر اختیار کرسکتا ہے اور یہ کہ عدلیہ اس کے ساتھ ہے وغیرہ وغیرہ، حالانکہ معزز عدلیہ بھی اچھی طرح سے جانتی ہے کہ آئین پر کون سا اور کتنا عمل ہورہا ہے جو آرٹیکل 62، 63 پر من و عن عمل کرنا بھی ضروری ہے اور، یہ کہ اس کے اپنے فیصلوں پر عمل کس حد تک ہورہا ہے۔ مقصد یہ کہ ان زعماء کی مجبوریوں کو ہرگز درخور اعتناء نہیں سمجھا جارہا کہ وہ کس ماحول کے پروردہ ہیں اور کس نئے ماحول میں خواہ مخواہ گھسیڑے جارہے ہیں۔ ادھر سینٹ کے حالیہ اجلاس میں کیا خوب کہا گیا ہے کہ اگر عوام جعلی ڈگریوں والے نمائندے چاہتے ہیں تو الیکشن کمیشن کو کیا اعتراض ہے جبکہ ساتھ ہی اسے بھی مضمونِ واحد تصور کرنا چاہیے کہ اگر عوام ٹیکس چور، قرضے ہڑپ کرجانے والے، نادہندگان اور خراب شہرت والے نمائندے چاہتے ہیں تو الیکشن کمیشن اپنی ضد پر قائم رہ کر پورے عوام کے جذبات کیوں مجروح کرنا چاہتا ہے بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی شریف آدمی اسمبلیوں میں نہ پہنچ سکے جو ان کے مسائل حل کرسکے جن میں میرٹ کے خلاف نوکریاں دلانا، مخالفین کے خلاف جھوٹے پرچے درج کروانا اور اپنے حلیفوں کو تھانے سے چھڑانا وغیرہ شامل ہیں۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچنے والے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اور مندرجہ بالا مسائل حل کرنے کی بجائے مکھیاں مارتے رہیں، نہ تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکے دے سکیں اور بھوکوں الگ مریں۔ آخر اس سے بڑی قطع رحمی اور کیا ہوسکتی ہے؟ اگرچہ الیکشن کمیشن کی نیت کو بھانپتے ہوئے قومی اسمبلی نے یہ قانون منظور کرلیا ہے کہ امیدوار کا نامزد کردہ کوئی بھی شخص اس کی بجائے الیکشن میں حصہ لے سکے گا تاکہ اگر اصل امیدوار اپنے اوصاف حمیدہ کی بدولت الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دے بھی دیا جائے تو ان کے نامزد کردہ اعزّہ میں سے کوئی فرد اس کی جگہ لے سکے تاکہ خاندان کی درخشندہ روایات باقی رکھی جاسکیں، تاہم اس قسم کے نئے آنے والوں کو بھی نااہل ہونے والوں کو یہ سارے آداب سکھانا پڑیں گے‘ مثلاً قبضہ گروپ کس طرح چلانا ہیں، نوکریوں کی منصفانہ فروخت کیسے کرنی ہے، نام نہاد میرٹ کے خلاف ترقیاں اور تبادلے وغیرہ کس طرح کروانا ہیں اور الیکشن کا خرچہ نکالنے کے لیے دیگر مفید ذرائع کیا اختیار کرنا ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان سینئر زعماء کے دیرینہ تجربہ سے فائدہ اٹھانے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا جائے جو کہ موروثی جمہوری اصولوں کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ ان کی اولادوں کو بہرحال اپنے وقت پر ان بکھیڑوں میں پڑنا چاہیے یعنی جب تک ان کے بزرگوں کے ہتھیار اچھی طرح سے کُند نہیں ہوجاتے۔ بیشک نگران صوبائی حکومتوں سے یہ بھرپور توقع رکھی جارہی ہے کہ وہ تھانیداروں، تحصیلداروں، نمبرداروں اور پٹواریوں وغیرہ کے فرائض منصبی میں حائل نہیں ہوں گے تاکہ الیکشن کو زیادہ سے زیادہ صاف اور شفاف بنایا جاسکے، لیکن پھر بھی یہ زبردست خطرہ موجود ہے کہ الیکشن کمیشن اس سلسلے میں بھی بے جا مداخلت سے باز نہیں آئے گا۔ اس بات کو جواز بنا کر کہ بھارت میں کاغذات نامزدگی میں امیدوار کو زندگی بھر کی معلومات دینا ہوتی ہیں۔ ایک دشمن ملک کی روایات پر کیونکر عمل کیا جاسکتا ہے اور انہیں کیسے اپنے لیے مثال بنایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ بھی ہمارے خلاف کوئی سازش ہوسکتی ہے۔ع تفو بر تو اے چرخِ گرداں تفو نیز، ان حالات میں جبکہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق نواز لیگ نے جعلی ڈگری والوں کے لیے دل میں نرم گوشہ پیدا کرلیا ہے اور وہ ایسے حضرات کو بھی ٹکٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہے جو نہ صرف جمہوریت کی بقاء کے لیے ہے بلکہ زبردست ملکی مفاد میں بھی ہے، الیکشن کمیشن کو کم از کم نواز لیگ کا ہی خیال کرنا چاہیے جو ایک سروے کے مطابق ملک کی مقبول ترین پارٹی بن چکی ہے اور اس کے ارادے بھی انتہائی نیک ہیں جو اس سے بھی ظاہر ہے کہ بڑے میاں صاحب کامیاب ہوکر فوراً امیر المومنین بننے کی کوشش کریں گے، اگرچہ بظاہر حلف وہ وزارت عظمیٰ ہی کا اٹھائیں گے جبکہ سیاسی کے علاوہ یہ ایک زبردست اسلامی خدمت بھی ہے۔ اس کے علاوہ، بلکہ سب سے پہلے الیکشن کمیشن کو قوم کے ہاضمے کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ یہ ہر طرح سے نیک پاک ارکان اسمبلی قوم کو ہضم کس طرح سے ہوں گے جو ان شرفاء کی کٹڑ عادی ہوچکی ہے جنہیں الیکشن کمیشن نے اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ آخر اس ادارے کو ملکی مفاد کا خیال کیوں نہیں آرہا۔ کیا الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ ارکان اسمبلی ہر وقت نمازیں ہی پڑھتے رہیں اور کوئی ڈھنگ کا کام کرکے ہی نہ دیں؟ ع اے کمال افسوس ہے تجھ پر کمال افسوس ہے خبر تو شائع ہوچکی ہے کہ الیکشن کمیشن نے صدارتی منظوری کے بغیر ہی انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنی مجوزہ شرانگیز اصلاحات و تجاویز کے ساتھ نامزدگی فارم چھپوانا شروع کردیئے ہیں، بلکہ اس سلسلے میں معزز ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقات سے بھی انکار کردیا ہے اوریہ بھی کہا ہے کہ اگر صدر نے منظوری نہ بھی دی تو وہ اس ضمن میں نگران حکومت سے آرڈیننس جاری کروا لے گا جس کا مسودہ اس نے تیار کرکے رکھا ہوا ہے، تو اس بے مہار الیکشن کمیشن سے کوئی خیر کی توقع کیونکر کرسکتا ہے جبکہ یہ سراسر ایک باغیانہ حرکت ہے اور حکومت کو جب تک وہ قائم ہے اس کا نوٹس لینا چاہیے ورنہ اگر چڑیاں کھیت ہی چُگ گئیں تو پھر کیا فائدہ؟ آج کا مطلع میں سانس لے نہیں سکتا، ہوا رُکاوٹ ہے رُکا ہوا ہوں کہ خود راستہ رکاوٹ ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved