تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     07-02-2018

واہ کیا ’’پرائس‘‘ ہے!

جو یہ طے کرلیتے ہیں کہ کچھ نہیں کرنا، کچھ نہیں کمانا وہ زندگی بھر کچھ کیے بغیر کسی نہ کسی طور گزارا کرتے رہتے ہیں۔ جس طور کچھ کرنے والے کو کرنے کی راہیں سُوجھتی رہتی ہیں بالکل اُسی طور کچھ نہ کرنے والے کے ذہن میں کچھ نہ کرنے کے حوالے سے ''آئیڈیاز‘‘ پیدا ہوتے رہتے ہیں! انسان اگر عملی سطح پر کچھ نہ کرنے کی ٹھان لے تو مشکلات تو، ظاہر ہے، قدم قدم پر پیش آتی ہیں مگر بھئی، مشکلات کا کیا ہے، وہ تو آتی جاتی رہتی ہیں۔ بس یہ ہے کہ بندہ ذرا ڈھیٹ ہونا چاہیے! 
یہ تو ہوا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے والوں کا تذکرہ۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو طے کرلیتے ہیں کہ ڈھنگ سے کمانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا۔ ایسے لوگ مٹی میں ہاتھ ڈال کر سونا نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ برطانیہ کا ایک خاندان ایسا ہی ہے۔ اِسے ''پرائس فیملی‘‘ کہا جاتا ہے۔ پرائس یعنی قیمت۔ یہ خاندان اپنی صلاحیتوں کی اچھی قیمت وصول کرنے کا عادی ہے۔ کرسٹوفر، ایما اور ان کے تینوں بچے ماڈلنگ سے وابستہ ہیں۔ اور معاملہ انسانوں تک محدود نہیں رہا۔ اس گھر کا کتا بھی ماڈلنگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ بس ایک بلی ہے جو کام کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتی۔ 
برطانیہ کے متعدد اشتہارات میں ''پرائس فیملی‘‘ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ لوگ ایک معمولی سے اشتہار میں کام کرنے کے ڈھائی تین ہزار پاؤنڈ کما لیتے ہیں یعنی ہر ماہ بارہ پندرہ ہزار پاؤنڈ کی آمدن تو پکی سمجھیے۔ 
اِسے کہتے ہیں پریکٹیکل اپروچ۔ مواقع تو قدم قدم پر ہوتے ہیں۔ کچھ دیدہ اور کچھ نادیدہ۔ جنہیں کچھ کرنا ہو، کچھ کر دکھانا ہو اُن کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ مواقع ڈھکے چھپے ہیں یا روزِ روشن کی طرح عیاں۔ اگر یہ طے کرلیا جائے کہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا ہے، اپنے جوہر کو بروئے کار لانا ہے تو پھر کوئی بھی رکاوٹ، حتمی تجزیے میں، رکاوٹ نہیں رہتی۔ اور یوں امکانات کے در کھلتے ہی چلے جاتے ہیں۔ 
عملی زندگی یعنی معاشی معاملات کی دنیا میں بہت کچھ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں یعنی کچھ کرنے کا ارادہ ہے یا نہیں۔ اگر آپ میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا جذبہ و شوق ہے تو سمجھ لیجیے بات بن گئی، کام ہوگیا۔ سارا کھیل جذبہ و شوق کا ہے۔ جو جتنا پرجوش ہوتا ہے اُسے اتنی ہی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ عملی زندگی میں آؤ بھگت اُنہی کی ہوتی ہے جو عمل نواز ہوتے ہیں، کچھ کرنا اور اپنی ذات کو تھوڑا گِھسنا چاہتے ہیں۔ 
''پرائس فیملی‘‘ جو کچھ کر رہی ہے وہ خاصی یافت کا ذریعہ ہے یعنی بہتر زندگی بسر کرنے کے لیے درکار مالیاتی وسائل ضرورت سے کہیں زیادہ مل رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کی نظر میں یہ عام سی بات ہو۔ ممکن ہے آپ یہ سوچیں کہ ایک گھر کے تمام افراد کام کر رہے ہیں اور صلاحیت یا مارکیٹ ویلیو کے مطابق معاوضہ مل رہا ہے۔ بالکل ٹھیک۔ معاملہ ایسا ہی ہے۔ عام آدمی کو شاید یہ سب کچھ حیرت انگیز محسوس نہ ہو۔ 
مگر خیر، اِس کہانی کے پس منظر میں ایک اور داستان بھی ہے۔ برطانوی معاشرہ خاصا ترقی یافتہ ہے۔ وہاں ہر معاملے میں خاصی بلند اپروچ بروئے کار لائی جاتی ہے۔ تعلیم کا معیار بلند ہے۔ عملی زندگی بھی آسان نہیں۔ تسلیم اُسی کو کیا جاتا ہے جس میں کچھ ہوتا ہے۔ کوئی بھی محض تعلقات کی بنیاد پر کچھ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ 
سوال معاشرے کا نہیں، اپروچ کا ہے۔ جب کبھی کوئی پورا گھرانہ ایک رنگ میں رنگا ہوا ہوتا ہے تب کچھ نہ کچھ انوکھا ضرور ہوتا ہے۔ معاشرہ برطانیہ کا ہو یا پاکستان کا، جہاں بھی اجتماعی سوچ مثبت ہوتی ہے وہاں نتائج بھی مثبت ہی برآمد ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بہت سے لوگ زندگی کی دوڑ میں ذرا آگے نکلنے میںکامیاب ہو پاتے ہیں تو محض اس لیے کہ پورے گھرانے یا خاندان کی اپروچ یکساں ہوتی ہے۔ یعنی گھرانے کے تمام ہی افراد عمل نواز یا عمل پسند ہوتے ہیں۔ 
پاکستانی معاشرے میں اپنی کلاس کو توڑنا عموماً بہت مشکل کام ہے۔ حالات کی چَکّی میں پسنے والوں کو دیکھیے تو اندازہ ہوگا کہ سوچ پست ہے۔ وہ انفرادی سطح پر کوششیںکرتے رہتے ہیں۔ اجتماعی طور پر سوچنے اور سوچے ہوئے پر عمل کرنے کا معاملہ بہت پیچھے رہتا ہے۔ جب کسی گھرانے کا ہر فرد اپنے طور پر کچھ کرنے کی کوشش کر رہا ہو تو عموماً سبھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگر سب مل کر دوسروں سے کچھ ہٹ کر کریں، معمولات کو شکست دیتے ہوئے اپنی بات منوانے کی کوشش کریں تو نتائج مختلف اور خاصے حوصلہ افزا ہوتے ہیں۔ 
اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو مختلف شعبوں میں ہمیں ایسے گھرانے دکھائی دیتے ہیں جن میں ہر فرد کسی نہ کسی اعتبار سے منفرد اور انتہائی باصلاحیت دکھائی دیتا ہے۔ اور پھر یہ سب لوگ ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہوتے ہوئے آگے بڑھنے کی حکمتِ عملی تیار کرتے ہیں تو کامیابی آسان تر ہوتی جاتی ہے۔ ''مایا کو ملے مایا کرکے لمبے ہاتھ‘‘ کے مصداق جب کسی گھرانے کے باصلاحیت افراد مل کر کام کرتے ہیں تو راہ آسان سے آسان تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ٹیم ورک کا نتیجہ بڑا اور حوصلہ افزا ہوتا ہے۔ آگے بڑھنے کا، دوسروں سے ہٹ کر اور کچھ زیادہ پانے کا سنہرا اصول یہی ہے تو ہے کہ ٹیم کی شکل اختیار کیجیے، ایک دوسرے کی صلاحیت سے بہ طریقِ احسن استفادہ کیجیے اور معمول سے اتنا زیادہ پائیے کہ لوگ دیکھ کر حیران رہ جائیں۔ 
ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جس میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں مگر مشکل یہ ہے کہ لوگوں میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے لانے کی صلاحیت خاصی کم پائی جاتی ہے۔ اور وہ بھی انفرادی حیثیت میں۔ ''پرائس فیملی‘‘ کی طرح اجتماعی سوچ اپنانے سے، ایک رنگ میں رنگ جانے سے کامیابی کا حصول آسان ہو جاتا ہے اور جو کامیابی ہاتھ لگتی ہے وہ خاصی پرکشش بھی ہوتی ہے۔ اپنے قریبی ماحول پر نظر دوڑائیے تو اندازہ ہوگا کہ دوسروں سے آگے نکل جانے والے گھرانے یا خاندان وہی ہوتے ہیں جو دوسروں سے کہیں زیادہ اور مل کر محنت کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ایسے گھرانوں کے افراد ایک لہر میں بہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ ایک لہر میں بہنا ہی کہیں نہ کہیں پہنچاکر دم لیتا ہے۔ کامیاب ترین گھرانوں میں لوگ صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ پروان چڑھانے کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں۔ اور اس حوالے سے تنوّع بھی تلاش کرتے ہیں۔ زیادہ باصلاحیت ہونا، اور وہ بھی تنوّع کے ساتھ، نعمت سے کم نہیں۔ جب کسی گھرانے کے تمام افراد چند طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے تگ و دَو میں مصروف ہوتے ہیں تب اپنا بہت کچھ قربان بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ ''پرائس فیملی‘‘ ہی کو دیکھیے۔ اِس گھرانے کے بچے بھی کام کر رہے ہیں۔ والدین نے بچوں کو ابھی سے عمل پسند بنادیا ہے۔ بچپن کا تھوڑا سا حصہ داؤ پر ضرور لگا ہے مگر معاشرے میں وقعت بھی بڑھی ہے اور مالی حیثیت بھی مستحکم تر ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے پرائس فیملی نے کچھ خاص پرائس ادا نہیں کی مگر جواب میں ملنے والی پرائس کہیں زیادہ ہے! کرسٹوفر اور ایما اب اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسی طرزِ زندگی دے سکتے ہیں جو کئی حوالوں سے قابلِ رشک ہو۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved