تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     08-02-2018

پاکستان اور افغانستان میں مصالحت کی کوششیں

پاکستان کی مغربی سرحد کے پار سے آنے والی خبروں کے بارے میں اب یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ جب بھی افغانستان میں کوئی زوردار دھماکہ یا تباہ کن خود کش حملے کا واقعہ ہو گا‘ کابل انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی جائے گی۔ چند دن ہوئے افغانستان کے دارالحکومت کابل اور مشرقی حصے کے ایک بڑے شہر جلال آباد میں یکے بعد دیگرے چار بڑے حملے ہوئے۔ صرف 9 دنوں میں ہونے والے ان پے در پے حملوں میں ایک اندازے کے مطابق 130 افراد ہلاک اور اس سے کہیں زیادہ زخمی ہوئے۔ بعض ذرائع کے مطابق ان حملوں میں 200 کے قریب افراد‘ جن میں افغان فوج‘ پولیس کے اہلکاروں اور شہریوں کے علاوہ غیر ملکی بھی شامل تھے‘ کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ان میں وہ حملہ جو 27 جنوری کو کیا گیا‘ خاص طور پر تباہ کن تھا۔ بارود سے بھری ہوئی ایک ایمبولینس کو شہر کے ایک بارونق چوک پر دھماکے سے اڑا دیا گیا‘ جس میں 103 افراد ہلاک اور 235 کے قریب زخمی ہوئے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے علاقے میں کیا گیا‘ جہاں سخت ترین سکیورٹی کے انتظامات تھے۔ ان حملوں نے افغان حکومت کی کمزوری اور بے بسی کو بُری طرح بے نقاب کر دیا ہے‘ اور ایک رپورٹ کے مطابق اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ افغانستان میں کوئی جگہ محفوظ نہیں‘ اور سارا مُلک طالبان اور داعش کے نشانے پر ہے۔
ان حملوں میں سے دو کی ذمہ داری افغان طالبان اور باقی دو کی ذمہ داری داعش نے قبول کی‘ لیکن افغان حکومت نے ان کی ذمہ داری حقانی نیٹ ورک پر ڈال دی ہے۔ افغان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی حقانی نیٹ ورک کے جنگجوئوں نے پاکستان میں قائم اپنے محفوظ ٹھکانوں پر کی۔ غیر ملکی میڈیا میں چھپنے والی خبروں کے مطابق افغان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان دھماکوں میں حقانی نیٹ ورک کے جنگجوئوں کے ملوث ہونے اور پاک سرزمین کے استعمال ہونے کے شواہد حکومت پاکستان کو پیش کر دیئے گئے ہیں‘ لیکن حکومتِ پاکستان نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی اور کہا ہے کہ پاکستان کو بلا جواز موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے افغانستان کی حکومت کو اپنی کمزوریاں دور کرنی چاہئیں‘ جن کی وجہ سے افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ افغانستان میں دھماکوں اور افغان حکومت کی طرف سے پاکستان پر الزامات عائد کرنے کی وجہ سے جو تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے‘ پاکستان نے اس کے پیش نظر افغان حکومت کے ساتھ رابطہ بھی قائم کیا‘ اور اس کے لیے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی سرکردگی میں اعلیٰ سول اور ملٹری حکام پر مشتمل ایک وفد کابل بھی بھیجا گیا۔ اس وفد کے بھیجنے کا مقصد کابل میں افغانستان پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سالیڈیریٹی کے پہلے اجلاس میں شرکت تھی۔ 
یہ فورم گزشتہ برس اکتوبر کے اوائل میں چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ کابل کے موقع پر افغان حکام کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں قائم کیا گیا تھا۔ اس فورم کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ‘ بارڈر سکیورٹی‘ انسدادِ دہشت گردی‘ افغان مہاجرین کی واپسی اور نان سٹیٹ ایکٹرز کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے دونوں ملکوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ جنرل باجوہ نے کابل میں اپنے قیام کے دوران میں افغان صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات کی تھی‘ اور پاکستانی وفد نے افغان حکام کے ساتھ مذاکرات کے دوران افغانستان کی فوج کو پاکستانی اداروں میں تربیت دینے اور افغانستان کی عسکری استعداد بڑھانے کے لئے مدد کی پیشکش کی تھی۔ اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کابل میں ہونے والے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور باہمی بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مشترکہ تفتیش کی پیشکش کی ہے۔ دونوں ممالک نے اس فورم کے تحت مذاکرات کے سلسلے کو جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ فورم کا آئندہ اجلاس 9 فروری کو ہو گا۔ 
کابل میں پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کی افغان حکام کے ساتھ بات چیت‘ اور اس پر دفتر خارجہ کے حوصلہ افزا تبصرے سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان موجودہ مخدوش صورتحال کے باوجود امن اور تعاون کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کابل میں ہونے والے مذاکرات اس سلسلے کی ایک کڑی تھے۔ ان سے قبل گزشتہ برس دسمبر میں بیجنگ میں چین پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس ہوا تھا۔ یہ بھی اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس تھا اور اس کا مقصد افغانستان میں امن اور مصالحت کے عمل کے آغاز اور ترقی‘ تعاون اور باہمی روابط کے شعبوں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا تھا؛ چنانچہ اس اجلاس میں افغانستان کو سی پیک میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ افغانستان میں چینی سفارت خانے کے ایک بیان کے مطابق افغانستان کو عنقریب یوریشین اکنامک کوآپریشن زون میں شامل کر کے روس کو بھی چین پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ایک مشترکہ فورم کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ اس فورم کا اگلا اجلاس رواں سال اسلام آباد میں ہو گا۔ افغانستان اور پاکستان میں اختلافات کو کم کرنے اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے چین اور روس بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان چاروں ممالک پر مشتمل ایک فورم ''ماسکو فارمیٹ‘‘ کے نام سے بھی قائم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں روس کے سفیر کے ایک بیان کے مطابق افغانستان میں امن اور مصالحت کے عمل کو آگے بڑھانے کی ان کوششوں میں بھارت اور وسط ایشیائی ریاست تاجکستان کو بھی بعد میں شامل کر لیا جائے گا۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے کوششوں کے ایک اور سلسلے کے تحت بھی پاکستان اور چین مشترکہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس کا نام ''استنبول پراسیس‘‘ ہے اور اس فورم کے اب تک اسلام آباد‘ استنبول اور کابل میں اجلاس ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں جنگ کے شعلوں میں تیزی آنے کے سبب اس کو ٹھنڈا کرنے کی کوششوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ چین اور روس ان کوششوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ جاری رہنے سے ان دونوں ممالک کی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ چین اور افغانستان کی باہمی سرحد اگرچہ صرف 70 کلومیٹر طویل ہے؛ تاہم یہ سرحد چین کے مغربی صوبے سنکیانگ سے ملتی ہے‘ جہاں چین کو انتہا پسند اور علیحدگی پسند عناصر کی طرف سے شورش کا سامنا ہے۔ اسی طرح روس کا موقف یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ جاری رہنے سے روس میں منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردی کے خدشات میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان کے بارے میں اعلان کردہ نئی حکمت عملی سے بھی افغانستان میں جنگ مزید تیز ہونے کا امکان ہے کیونکہ امریکہ نے طالبان کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لئے افغانستان میں اپنی فوجی قوت میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان حالات میں نا صرف پاکستان اور افغانستان اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ چین کی پوری کوشش ہے کہ اس تصادم کو وسیع ہونے سے روکا جائے کیونکہ پاکستان کے ساتھ طے پانے والے اکنامک کوریڈور کی کامیابی کے لئے پاکستان اور افغانستان میں امن بہت ضروری ہے۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved