تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     16-02-2018

خوابوں کا جہان اور سیاستدان

سندھ کے صوبائی وزیر جناب منظور وسان کے خواب بہت مشہور ہوئے ہیں۔ وہ اپنا بیان خوابوں کی صورت میں دیتے ہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان سے متعلق بھی کچھ دن قبل خوابوں کی صورت میں شادی کی ایک خبر مشہور ہوئی‘ جو اب دم توڑ چکی ہے؛ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان ہر رات خواب ضرور دیکھتا ہے۔ وہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی ہوتا ہے۔ بعض مذہبی لوگ بھی اپنے خواب بیان کرتے ہیں اور ایسے خواب بیان کرتے ہیں کہ جس سے ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں ان کی روحانی عظمت کی دھاک مزید بیٹھ جائے۔ ماہرین نفسیات اور دماغی طب نے بھی خوابوں پر بہت کچھ بتایا ہے لیکن خواب کی اصل حقیقت تک کوئی بھی رسائی حاصل نہیں کر سکا۔ خوابوں کے تذکرے قرآن مجید میں بھی آئے ہیں اور حدیث مبارکہ میں بھی۔ آج کے کالم میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں خوابوں کے حوالے سے مختلف پہلو قارئین کے سامنے رکھنے جا رہے ہیں تاکہ وہ اس سلسلے میں وحی اور الہام نبوی کے نور سے مستفید ہو سکیں۔ ایسا حقیقی نور کہ جس کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی طرف جو وحی کرتے ہیں‘ اس کی چار اقسام ہیں۔ 
(1) اللہ تعالیٰ پردے کے پیچھے سے براہ راست کلام کرتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا۔
(2) فرشتے کے ذریعے نبی پر وحی نازل ہوتی ہے۔
(3) دل پر الہام ہوتا ہے۔
(4) خواب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا ہے۔
آخری اور چوتھی قسم کا مطلب یہ ہے کہ نبی کا خواب وحی اور الہام ہوتا ہے۔ نبی کا خواب کبھی غلط خیال نہیں ہوتا بلکہ وحی کی ایک قسم ہوتا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے یہ خواب بیٹے کو سنایا تو بیٹا ذبح ہونے کے لئے تیار ہو گیا اور باپ ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گیا اور پھر اس پر عمل بھی کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے عملدرآمد کو روک دیا اور باپ بیٹے کو دنیا و آخرت میں بلند مقام سے نوازا۔ اسی طرح سورہ یوسف میں حضرت یوسفؑ کے خواب کا ذکر ہے جو کئی سالوں پر محیط تھا۔ آزمائشوں سے گزرنے کے بعد بالآخر خواب پورا ہوا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول حضرت محمد کریمﷺ پر وحی کا آغاز ہوا تو سچے خوابوں سے وحی کا آغاز ہوا۔ آپؐ رات کو جو خواب بھی دیکھتے تھے وہ اسی طرح سچ ثابت ہوتا تھا جیسے رات گزرنے پر صبح نمودار ہو جاتی ہے۔ (بخاری: 6982)
انبیاء کے علاوہ جو لوگ خواب دیکھتے ہیں‘ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا اس کی تین اقسام ہیں:
(1) شیطان کی طرف سے ڈرانے والی چیزیں تاکہ ان کے ذریعے وہ آدمؑ کے بیٹے کو غم میں مبتلا کر دے۔
(2) ایک انسان کا جاگنے کی حالت میں جن امور سے واسطہ پڑتا ہے، انہی کو اپنے خواب میں ملاحظہ کرتا ہے۔
(3) سچا خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتا ہے، یہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ (مسلم:2663، ابن ماجہ:3907 حسن)
یاد رہے! اللہ کے رسولﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خون میں گردش کے ذریعے وہ دماغ اور دل میں پہنچ کر انسان کے ساتھ کھیل کھلواڑ کرتا ہے، ڈراتا ہے اور غم میں مبتلا کرتا ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ جب کوئی انسان ایسی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو بائیں کندھے پر تین بار تھو تھو کر دے اور شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے۔ ایسے خواب کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے۔ ایسا خواب اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ اس کے بعد بستر پر اپنی کروٹ کو تبدیل کر لے۔ (بخاری و مسلم)
قارئین کرام! اللہ کے رسول حضرت محمد کریمؐ نے یہ بھی فرمایا کہ سب جھوٹوں اور بہتانوں میں سے عظیم ترین جھوٹ اور بہتان یہ ہے کہ وہ ایسے خواب کو دیکھنے کا دعویٰ کرے کہ جو اس نے نہیں دیکھا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ ایسے شخص کے انجام کے بارے میں بتلاتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا جس نے ایسے خواب کا دعویٰ کیا جو اس نے نہیں دیکھا تو اسے (قیامت کے دن) مجبور کیا جائے گا کہ وہ جَو کے دو دانوں کے درمیان گانٹھ (گرہ) باندھے۔ وہ ایسا نہیں کر سکے گا (بخاری) یعنی ایسا نہ کر سکے گا تو سزا پائے گا۔ اللہ کی پناہ ایسے کذاب سے، معلوم یہ ہوا کہ وہ لوگ جو ایسی کرتے حرکتیں ہیں‘ انتہائی مذموم ہیں۔
یاد رہے! دین وہ ہے جو حضورﷺ کی مبارک زبان سے ادا ہو کر قرآن و حدیث کی صورت میں محفوظ ہے۔ کسی نیک آدمی کا خواب دین میں کمی بیشی نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی خواب قرآن و حدیث کی تعلیمات کے خلاف ہو تو وہ بلا شک و شبہ شیطانی خواب ہو گا یا انسان کے اپنے نفس کے خیالات ہوں گے جو خواب بن کر اس کو دکھائی دے گئے۔
اللہ کے رسولؐ نے یہ بھی فرمایا کہ جس نے مجھے دیکھا تو اس نے خواب میں سچ دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ (مسلم: 2997) سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کو اپنے حبیب اور خلیل حضرت محمد کریمﷺ کی عزت اور حرمت اس قدر عزیز ہے کہ شیطان کو بہت کھلی چھٹی دی کہ اولادِ آدم کو گمراہ کرتا پھرے، اپنا زور لگاتا پھرے مگر ایک بات کی ہمت اور طاقت نہیں دی کہ وہ حضورﷺ کا روپ اختیار کر کے کسی کے خواب میں کسی کو گمراہ کر سکے۔ یہ ہمارے حضور پاکؐ کے مبارک چہرے کی عزت و حرمت کی بات ہے اور ابلیس اس عزت و حرمت کے حصار اور قلعے کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا۔ علماء نے حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ البتہ شیطان یہ کر سکتا ہے کہ کوئی بزرگی والا چہرہ اختیار کر کے کسی کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے۔ یاد رہے! شیطان بزرگی کی صورت اختیار کر کے نیک لوگوں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ باقی جو کتاب و سنت کے عالم اور باعمل لوگ ہیں وہ تعبیر کرتے ہوئے بتلا سکتے ہیں کہ دیکھنے والے نے واقعی حضور نبی کریمؐ کے مبارک چہرے کو دیکھا ہے؟ علماء اس لئے بھی بتلا سکتے ہیں کہ احادیث میں حضورﷺ کے مبارک چہرے کے خدوخال پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔
اللہ کے رسولؐ نے یہ بھی فرمایا کہ جب کوئی خواب دیکھے تو اسے صرف خیر خواہ، عالم، عقلمند یا اپنے پیار کرنے والے کے سامنے بیان کرے۔ (حاکم، عبدالرزاق، صحیح) کیونکہ تعبیر کرنے والا جس طرح تعبیر کرے گا‘ خواب اسی طرح واقع ہو جائے گا۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ ایک آدمی نے اپنا ایک پائوں اٹھا رکھا ہے اب وہ انتظار کر رہا ہے کہ اسے کب زمین پر رکھے۔ (حاکم: صحیح) یعنی تعبیر کرنے والے نے جونہی تعبیر کی‘ خواب اسی طرح واقع ہو جائے گا لہٰذا خواب کا معاملہ انتہائی حساس ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: خواب اپنے دیکھنے والے کے سر پر پرندے کی طرح ہے (جو اڑ رہا ہے) یہ اس وقت تک ہے جب تک وہ اپنے خواب کو بیان نہیں کرتا، جونہی بیان کرتا ہے پرندہ گر پڑتا ہے (مصنف عبدالرزاق، صحیح الاسناد)
جی ہاں! ہم تکرار کے ساتھ واضح کر رہے ہیں کہ شریعت اسلامیہ میں خواب انتہائی اہم مسئلہ ہے لہٰذا ہم نے کتاب و سنت کی روشنی میں جو کچھ عرض کیا اس کو سامنے رکھنا چاہئے۔ کردار جس قدر صاف ستھرا ہو گا، رزق حلال ہو گا، عقیدہ درست ہو گا، سچا انسان ہو گا، نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا البتہ ایسے باکردار شخص کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ یعنی سچا خواب دیکھنے کا پھل اور تحفہ ملے گا۔ یہ تحفہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکیزہ زندگی عطا فرمائے۔ (آمین)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved