تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     18-02-2018

ایک روح پرور تقریب

معروف صحافی اسد اللہ غالب کے میرے والد علامہ احسان الٰہی ظہیر کے ساتھ بہت گہرے تعلقات تھے۔ وہ والد گرامی سے ملاقات کے لیے اکثر و بیشتر ہمارے گھر تشریف لاتے اور بچپن میں جہاں میں والد گرامی کے دیگر دوست احباب کی گفتگو کو سنا کرتا‘ وہیں پر اسد اللہ غالب صاحب کی گفتگو کو بھی بڑی توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنا کرتا تھا۔ اسد اللہ غالب والد گرامی کے ساتھ‘ ان کی زندگی کی آخری سانسوں تک دوستانہ تعلقات نبھاتے رہے۔ والد گرامی کی وفات کے بعد بھی ان کا میرے ساتھ ہمیشہ شفقت والا برتاؤ رہا۔ ان کے فرزند عمار الاسلام کے ساتھ بھی میرے دیرینہ تعلقات ہیں۔ عمار الاسلام آئی ٹی کے شعبے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ صحافت میں اپنے والد گرامی کی جانشینی کے فریضے کو بھی انجام دے رہے ہیںاور ''دنیا‘‘ اخبار میں ان کے کالم تواتر سے چھپتے رہتے ہیں‘ جن میں وہ اہم عنوانین پر اپنے کالموں کو لکھ کر عوام کو آگہی اور شعور دلانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ عمار الاسلام کو مذہب کے ساتھ بھی گہری دلچسپی ہے۔ وہ میرے مرکز میں گاہے گاہے جمعے کے اجتماع میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ برادر عمار الاسلام نے چند روز قبل مجھے ایک خوش کن خبر سنائی کہ ان کے نو عمر بیٹے نے دار ارقم سکول سے گیارہ ماہ میں قرآن مجید کے حفظ کی سعادت حاصل کی ہے۔ یہ بات میرے لیے انتہائی خوشی اور مسرت کا باعث تھی۔ عمار الاسلام نے اس موقع پر مجھے یہ بات بھی بتلائی کہ میرے بھانجے ڈاکٹر سبیل اکرام اور مرکز قرآن وسنہ کے استاد قاری عبدالودود عاصم کی مؤثر اور خوش کن تلاوت ان کے بیٹے کے حفظِ قرآن کی طرف راغب ہونے کا بڑا سبب بنی۔ 
برادر عمار الاسلام نے اس موقع پر دار ارقم سکول کی معاونت سے مسلم ٹاؤن میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا‘ جس میں مرکز قرآن و سنہ کے استاد قاری عبدالودود عاصم، لیاقت بلوچ صاحب، امیر العظیم صاحب، دارارقم سکول کے ایم ڈی پرنسپل اور دیگر مہمانان کے ساتھ ساتھ مجھے بھی مدعو کیا گیا۔ یہ تقریب ہر اعتبار سے خوشگوار اور دل پذیر یادوں کو اپنے جلو میں لیے ہوئے آئی۔ اس تقریب میں دار ارقم سکول کے طالب علموں کے ساتھ ساتھ مرد و خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی، تقریب کے بعد شرکاء کے لیے پروقار ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا اور قاری عبدالودود عاصم نے سورہ رحمن کو بہت رقت آمیز انداز میں تلاوت کیا۔ ان کی تلاوت کو سننے کے بعد سامعین کے دلوں پر ایک روحانی کیفیت طاری ہو گئی۔ تلاوت کلام کے بعد نبی کریمﷺ کی ذات اقدس سے والہانہ وابستگی اظہار کے لیے دار ارقم سکول کے طالب علم نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ بعد ازاں عمار الاسلام کے نو عمر فرزند عفان نے اپنے آخری سبق‘ پہلے پارے کے آخری رکوع کی تلاوت کی۔ جس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
''اللہ کا رنگ (اپناؤ) اور کون زیادہ اچھا ہو سکتا ہے اللہ سے رنگ میں اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کیا تم جھگڑتے ہو ہم سے اللہ کے بارے میں حالانکہ وہ ہمارا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال اور ہم اس کے لیے ہی خالص (عبادت )کرنے والے ہیں۔ کیا تم کہتے ہو بے شک ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور (ان کی) اولاد یہودی یا نصرانی تھے؟ کہہ دو کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اورکون ہے بڑا ظالم اس سے جو چھپائے گواہی کو (جو) اس کے پاس ہو اللہ کی طرف سے اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو۔ اور وہ ایک اُمت تھی یقینا وہ گزر چکی‘ اس کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور تمہار ے لیے ہے‘ جو تم نے کمایا اور نہیں تم پوچھے جاؤ گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے‘‘۔
عفان بیٹے نے جس انداز میں قرآن مجید کی تلاوت کی‘ اس کے دل نشیں اثرات پورے ہال پر طاری ہو گئے اور ہر شخص نے محسوس کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس بچے کو بڑے خوبصورت لہجے اور پرسوز انداز سے تلاوت کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ تلاوت کے بعد میری توجہ قرآن مجید کے الفاظ کی خوبصورت ادائیگی کے ساتھ ساتھ تلاوت کی گئی آیات کے مفہوم کی طرف بھی مبذول ہو گئی اور خصوصیت سے میرا دھیان اللہ تبارک وتعالیٰ کے رنگ کے حوالے سے اللہ کے فرمان کی طرف مائل ہو گیا اور میں سوچنے لگا کہ اس وقت ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ کہیں قومی و لسانی تعصبات ہیں تو کہیں فرقہ وارانہ کشیدگی اور سیاسی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے رنگ میں رنگنے کی بجائے لوگ اپنے اپنے مفادات کی طرف بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگر ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے آپ کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے رنگ میں رنگ لیں تو ہمارے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر برارد امیرالعظیم نے یہ بات بتلائی کہ اس بچے کی کامیابی کے پس منظر میں ان کی مشاورت کا بھی عمل دخل رہا اور انہوں نے خاندان کی توجہ دار ارقم سکول کی طرف مبذول کروائی تھی۔ اس موقع پر برادر عمار الاسلام نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بتلایا کہ جب ان کی والدہ بیمار تھیں تو انہیں اس موقع پر عفان کی تلاوت سن کر خاصا سکون حاصل ہوتا۔ اس حفظ قرآن کی طرف راغب ہونے میں والدہ کی بیماری کے دوران کی گئی تمنا کا خصوصی سے عمل دخل رہا ہے۔ بچے کے دادا اور معروف صحافی اسد اللہ غالب نے اس موقع پر اپنے پوتے کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ جہاں پر حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرنا‘ ایک انعام کی بات ہے وہیں پر قرآن مجید کے ترجمے اور مفہوم پر توجہ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔ جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری جناب لیاقت بلوچ نے اس موقع پر بچے کی حوصلہ افزائی کے لیے بڑے خوشگوار جذبات کا اظہار کیا اور یہ بات بتلائی کہ قرآن مجید کی تلاوت سے دلوں کو امن، اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستر سال سے معاشرے میں پائی جانے والی بے اعتدالیاں دراصل قرآن وسنت سے دوری کی وجہ سے ہیں۔ اس موقع پر مجھے بھی اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔ میں نے اپنے ماضی کے حوالے سے بعض مشاہدات اور تجربات کو سامعین کے سامنے رکھاکہ:
ایف ایس سی پری انجینئرنگ کے امتحانات دینے کے بعد‘ رزلٹ آنے سے پہلے میری والدہ نے میری توجہ اس سمت مبذول کروائی کہ مجھے قرآن مجید کو یاد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس عمر میں قرآن مجید یاد کرنا بظاہر مشکل نظر آ رہا تھا لیکن والدہ کے رغبت دلانے کی وجہ سے میں نے قرآن مجید کو یاد کرنا شروع کیا تو چند ہی ماہ میں اللہ کے فضل وکرم سے 18 پاروں کو حفظ کر لیا۔ بعد ازاں انجینئرنگ یونیورسٹی کے پہلے سال کی تعطیلات میں میں نے چھ پارے اور دوسرے سال کی تعطیلات میں بقیہ مزید چھ پاروں کو یاد کرکے قرآن مجید کے حفظ کو مکمل کر لیا۔ اسی اثناء میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا۔ تو میں خصان قلب کی کیفیت میں مبتلا ہو گیا۔ ڈاکٹر نے جب مجھے جب میڈیسن کھانے کے لیے کہا تو میں نے محسوس کیا کہ میڈیسن کے استعمال کے باوجود مجھے افاقہ نہیں ہو رہا۔ اس کیفیت سے نجات حاصل کرنے کے لیے میں نے قرآن مجید کی تلاوت کرنا شروع کی تو کچھ مہینے کے بعد میری طبیعت اعتدال میں آ گیا اور میں نے محسوس کیا مجھے ادویات کی نہیں بلکہ تلاوت قرآن مجید کی ضرورت تھی۔ قرآن مجیدکے حفظ سے مجھے جو شرح صدر حاصل ہوا وہ دیگر مضامین کا امتحان دینے میں میرے بہت زیادہ کام آیا اور میں نے حفظ قرآن کے بعد جن مضامین کا امتحان دینا چاہا‘ اللہ کے فضل وکرم سے ان تمام امتحانات میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہو تا چلا گیا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے دینی اور دنیاوی کامیابیاں حاصل کریں تو اس کے لیے ہمیں کتاب وسنت سے مضبوط تمسک کو اختیار کرنا پڑے گا۔ عصری علوم کو حاصل کرنا یقینا دنیاوی معاملات کو سمجھنے اور چلانے کے لیے ضروری ہے لیکن دین ودنیا کی کامیابی تبھی حاصل ہو سکتی ہیں جب ہم عصری علوم کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے ساتھ تمسک اور تعلق کو مضبوط کریں گے۔ قرآن مجید کا ہم پر حق ہے کہ ہم اس کو پڑھیں‘ سمجھیں‘ اپنی ذات پر لاگو کریں‘ اس کا ابلاغ کریں اور اس کو معاشرے میں قائم اور لاگو کرنے کی کوشش کریں۔ 
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن مجید کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved