تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     21-02-2018

… اور نیپال بھی جاگ اٹھا

تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے نیپال کو خیال آیا ہے کہ بھارت کا بغل بچہ بن کر بہت جی لیے۔ ہمالیہ کی گود میں سمائی ہوئی اس واحد باضابطہ ہندو ریاست کے لیے زندگی کبھی آسان نہیں رہی۔ سات آٹھ عشروں سے بھارت نے اسے مکمل طور پر کچل کر، دباکر، دبوچ کر رکھا ہوا ہے۔ اس چھوٹی سی ریاست کے لیے کبھی یہ ممکن نہ ہو پایا کہ بھارت جیسے بڑے اور طاقتور پڑوسی کی مرضی کے خلاف جائے۔ نئی دہلی نے کھٹمنڈو کو اب تک مجموعی طور پر صوبائی دارالحکومت کے درجے میں رکھا ہے۔ 
نیپال میں سیاسی تبدیلیاں تب تب رونما ہوئی ہیں جب جب نئی دہلی نے ایسا چاہا ہے۔ نیپال کے بیشتر سیاست دان بھارت سے واضح طور پر مرعوب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ وہ بھارت کے آغوش میں رہے ہیں۔ بھارت کی مرضی سے ہٹ کر کوئی بڑی بات کرنا ان کے لیے کبھی ممکن نہیں رہا۔ نیپال چونکہ خشکی سے گِھرا ہوا ملک ہے اس لیے وہ بھارت یا اور کسی اور پڑوسی سے زیادہ بگاڑ مول نہیں لے سکتا۔ باقی دنیا سے رابطہ رکھنے کے لیے نیپال کو بھارت اور دیگر پڑوسیوں سے بہتر تعلقات استوار رکھنا ہی پڑتے ہیں۔ مگر کیا اس کی قیمت یہ ہے کہ نیپال اپنی خود مختاری اور سالمیت کو داؤ پر لگادے یا اس حوالے سے کوئی خطرہ ابھرتا ہوا دیکھے تو کچھ نہ کہے، خاموش رہے؟ 
نیپال میں حکومت تبدیل ہوئی ہے۔ نئے وزیر اعظم کے پی اولی نے ''چائنا کارڈ‘‘ کھیلنے کا واضح اشارا دیا ہے۔ نئی دہلی کے پالیسی میکرز کر پریشان کرنے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے کہ نیپال کا واضح جھکاؤ چین کی طرف ہوگیا ہے۔ کے پی اولی نے چین نواز رویّہ اپنانے کی بات کرکے بھارتی قیادت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔ اب تک یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ نیپال تو گھر کی چیز ہے۔ جیسے چاہو بروئے کار لاؤ، جس طرح چاہو دبالو، دبوچ لو۔ کوئی کچھ کہے گا نہ جواب طلب کرے گا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ نیپال نے ٹریک بدلتے ہوئے چین کی طرف جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور یہ فیصلہ یقیناً مجبوری کے عالم کا معاملہ ہے۔ بھارت کی جانب سے نیپال کو ہر معاملے میں دبوچ کر رکھنا ایسی حکمتِ عملی ہے جس کے جواب میں ''تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے مصداق نیپالی قیادت کو وہی کچھ کرنا چاہیے جو وہ کر رہی ہے۔ 
چین ہم خیال ممالک کے ساتھ میدان میں آیا ہے تو خطے کے چھوٹے ممالک کی ہمت بندھی ہے۔ اب تک بھارت اور دیگر ممالک سے دبے ہوئے ممالک چاہتے ہیں کہ اپنی مرضی کے مطابق جی کر دکھائیں۔ نیپال کے وزیر اعظم کے پی اولی نے ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے اخبار ''ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘‘ سے انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت اہم ملک ہے۔ نیپال اور بھارت کی سرحدیں کھلی ہوئی ہیں۔ ہم بہت سے معاملات میں بھارت پر انحصار کرتے ہیں مگر یہ بات کسی بھی طور نظر انداز نہیں کی جانی چاہیے کہ نیپال کا ایک پڑوسی نہیں، دو ہیں! ہم کسی ایک کی طرف جھک کر دوسرے کو یکسر نظر انداز نہیں کرسکتے۔ کے پی اولی نے شکوہ کیا کہ نئی دہلی کی بیورو کریسی میں بعض عناصر دونوں ممالک کے تعلقات خراب کرنے کے درپے رہے ہیں مگر خیر، معاملات کو کنٹرول کرلیا گیا ہے۔ نئی دہلی کی قیادت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ خرابی پیدا کرنے والوں کو الگ تھلگ رکھا جائے گا۔ 
کے پی اولی کی طرف سے چین نواز رویّہ اپنائے جانے کا عندیہ دیئے جانے پر نئی دہلی کے بزرجمہر دفاعی پوزیشن میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نیپال اگر واضح طور پر چین کی طرف جھک کر اسٹریٹجک فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آگیا تو چین سے ملحق سرحد کو کنٹرول کرنا مزید بڑے دردِ سر میں تبدیل ہوجائے گا۔ 
کے پی اولی نے معاملے کو محض بڑھک تک نہیں رکھا۔ وہ جو بات کر رہے ہیں اس پر عمل کرنے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔ چین کے ساتھ ڈھائی ارب ڈالر کا پن بجلی کا معاہدہ کھٹائی میں پڑگیا تھا۔ سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا نے بے قاعدگیوں کی اطلاعات پر یہ معاہدہ معطل کردیا تھا۔ کے پی اولی نے معاہدے کو بحال کرنے کا اعلان کرکے نئی دہلی کے پیٹ میں مروڑ پیدا کرنے کا سامان کیا ہے۔ یہ بڑا منصوبہ چین اور نیپال کے تعلقات کو مستحکم تر اور بھارت کو مزید پریشانی سے دوچار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ 
چین، روس اور پاکستان کا مل کر، ابھر کر سامنے آنا خطے کی سیاسی حرکیات کو نئی زندگی دینے کا وسیلہ ثابت ہوا ہے۔ سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش کو بھارت نے اب تک دبوچ کر رکھا ہے۔ نیپال کی طرح بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی بھارت مخالف جذبات غیر معمولی حد تک پائے جاتے ہیں۔ بُھوسا تیار ہے۔ کوئی ایک بڑی چنگاری بھارتی مفادات کو جلاکر راکھ کرسکتی ہے۔ بھارتی قیادت یہ سمجھتی رہی ہے کہ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش کو اپنی جیب میں رکھ کر مزے سے ریاستی و سفارتی سفر جاری رکھا جاسکتا ہے۔ چین اور روس کے میدان میں آ جانے سے معاملات تبدیل ہوگئے ہیں۔ ایک طرف بھارت کو اپنے مفادات کی فکر لاحق ہے اور دوسری طرف امریکا، جاپان اور آسٹریلیا بھی پریشان ہو اٹھے ہیں۔ چاروں ممالک مل کر چین کے ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ کی ٹکر کا کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکا اور آسٹریلیا کے لیے معاملات زیادہ پریشان کن نہیں۔ وہ اس خطے کے نہیں۔ جاپان بھی چین سے مخاصمت ضرور رکھتا ہے مگر اتنا مضبوط ہے کہ بہت کچھ جھیل سکتا ہے۔ رہ گیا بھارت تو اس کے لیے البتہ مسائل زیادہ الجھ سکتے ہیں۔ چین سے براہِ راست اقتصادی و تکنیکی تصادم بھارت کے لیے خسارے کا سودا ثابت ہوسکتا ہے۔ معاملات کو الجھتا ہوا دیکھ کر امریکا تو اپنی راہ لے گا اور آسٹریلیا بھی پیچھے ہٹ جائے گا۔ ایسے میں بھارت کے تنہا رہ جانے کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ 
اپنے بل پر کچھ کرنا الگ بات ہے اور کسی کی شہ پر اچھلنا کچھ اور معاملہ۔ پروین شاکر نے خوب کہا ہے ؎ 
چادر ہٹا کے برف کی لہرا رہی ہے گھاس 
سورج کی شہ پہ تِنکے بھی بے باک ہو گئے! 
ایک زمانے تک بھارت گھاس کا تنکا تھا اور امریکا سورج۔ اس سورج کی شہ پر بھارت بھی سر اٹھاکر جی رہا تھا۔ اب نیپال اور دیگر چھوٹے علاقائی ممالک کے لیے ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے۔ چین کمر کس کر میدان میں آیا ہے اور روس کو بھی ساتھ لایا ہے تو بھارت کی چیرہ دستیوں سے عاجز ممالک کے لیے امید کی محض کرنیں نہیں بلکہ پورا سورج پیدا ہوگیا ہے! ان کے لیے یہی تصور انتہائی خوش کن ہے کہ ایک ہاتھی کی بدمستیوں کو لگام دینے کے لیے دو ہاتھی میدان میں آگئے ہیں۔ فرق تو پڑے گا۔ بس اِسی فرق سے فائدہ اٹھانے کے لیے جنوبی ایشیا کی چھوٹی ریاستیں بھی پر تول رہی ہیں۔ اس میں بُرا کیا ہے؟ سفارت کاری اور بین الریاستی معاملات میں ایسا تو ہوتا ہی ہے۔ حالات میں رونما ہونے والی تبدیلیاں خطے کے چھوٹے ممالک کے لیے نعمتِ غیر مرقبہ سے کم نہیں اور بھارت کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ خطے میں اپنی پوزیشن متوازن رکھنے کے لیے متوازن پالیسیاں اپنانے کی طرف مائل ہو۔ نیپال کے کے پی اولی نے جو فیصلہ کیا ہے وہی فیصلہ کرنے میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کی قیادت کو زیادہ دیر نہیں لگے گی! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved