تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     24-02-2018

عمران خان کی مذہبی سیاست

نواز دشمنی میں، کیا عمران خان اب مذہب کو بھی استعمال کریں گے؟
عمران خان نے ختمِ نبوت کا پرچم اٹھا لیا ہے۔ سیاست پر سطحی نظر رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ وہ جس جرم میں ن لیگ کو مطعون کر رہے ہیں، ان کی جماعت اس میں پوری طرح شریک ہے۔ ختمِ نبوت کے باب میں پارلیمنٹ کے فورم پر جو پیش رفت ہوئی، تحریکِ انصاف ہر مرحلے پر اس کا حصہ رہی۔ یہاں تک کہ جب جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ حمداﷲ نے قابلِ اعراض امر کی نشان دہی کی، تو بھی تحریکِ انصاف نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اگر کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہوا تو وہ وزیرِ قانون زاہد حامد تھے۔ 2013ء کی انتخابی شکست کے انتقام میں عمران خان اس حد تک جا سکتے ہیں کہ مذہب کو بھی استعمال کریں گے، کم لوگوں کو اس کا اندازہ تھا۔
مذہب کے سیاسی استعمال نے پاکستان میں جن المیوں کو جنم دیا، کوئی اس کا تجزیہ کرے تو برسوں کفِ افسوس ملتا رہے۔ یہ مذہب کا سیاسی استعمال ہے جس نے فرقہ واریت کو سیاسی المیے میں بدل ڈالا۔ قوم کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ سیاست میں انتہا پسندی کی بنیاد رکھی۔ معاشرے کو عدم برداشت کا وہ کلچر دیا کہ لوگ ایک مصلّے پر نماز نہیں پڑھ سکتے۔ یوں حضرت عثمانؓ کی وہ پیش گوئی مکمل ہوئی جو انہوں نے اپنی شہادت سے پہلے کی تھی۔
سیاست میں مذہب سے راہنمائی لینا اور سیاسی مفادات کے لیے مذہب کو استعمال کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ پہلی بات سے، مذہب کو ماننے والا شاید ہی اختلاف کر سکے۔ مذہب ہماری اخلاقی تطہیر کرتا ہے۔ تطہیر اور تزکیے کا یہ عمل انفرادی سطح پر ہوتا ہے اور اجتماعی سطح پر بھی۔ مذہب اہلِ اقتدار سے بھی یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بحیثیت حکمران خدا کے احکام کی پابندی کریں۔ وہ یہ مطالبہ ہر فرد سے اس کے سماجی مقام اور مرتبے کے مطابق کرتا ہے۔ سیاست میں مذہب کے کردار کا مفہوم یہ ہے کہ اہلِ سیاست اس بات سے کبھی صرفِ نظر نہ کریں کہ مذہب ان پر کیا ذمہ داری عائدکرتا ہے۔ اگر وہ اس باب میں غفلت کے مرتکب ہوں تو علما یا میڈیا کو اس بارے میں انہیں متنبہ بھی کرنا چاہیے۔ یہ کام سیاسی حریفوں کو بھی کرنا چاہیے۔ اگر وہ انتباہ کے باوجود اپنی روش تبدیل نہ کریں تو پھر عوام کو یہ حق ہے کہ انہیں بدل ڈالیں۔
مذہب کا سیاسی استحصال یہ ہے کہ لوگوںکے مذہبی جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ حکمرانوں کے ایمان اور اسلام کو مشتبہ بنایا جائے۔ ان پر مذہب دشمنی کا الزام لگایا جائے۔ حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کرنے کے لیے ان کو اسلام مخالف اور خود کو اسلام کا نمائندہ بنا کر پیش کیا جائے، درآں حالیکہ سب مسلمان ہیں اور ملک کے آئین کے پابند ہیں‘ جو اسلام کو ریاست کا دین قرار دیتا ہے۔ مذہب کے سوئے استعمال کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ مذہبی طبقات کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان کی مالی معاونت کی جائے اور ساتھ ہی اس بات سے صرفِ کیا جائے کہ وہ معاشرے میں مذہب کے نام پر کس بات کو فروغ دے رہے ہیں۔
میرے ذاتی خیال میں نواز دشمنی میں عمران خان مذہبی استحصال کی ان دونوں صورتوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کا جو تصورِ مذہب، اس سے پہلے سامنے آیا، اس میں توہم پرستی تو ابتدا ہی سے موجود تھی‘ لیکن ریاست و حکومت کے باب میں وہ مہاتیر محمد جیسے لوگوں کو آئیڈلائز کرتے تھے۔ اجتماعی امور میں بھی انہوں نے مذہب کے اخلاقی پہلو پر اصرار کیا تھا۔ 2013ء کے بعد ان کی ایسی قلبِ ماہیت ہوئی ہے کہ وہ اب مذہب سمیت، ہر اس چیز کو استعمال کرنے پر آمادہ ہیں جس سے نواز شریف کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اسی جذبے کے ساتھ انہوں نے ایک طرف ختمِ نبوت کا پرچم اٹھا لیا ہے اور دوسری طرف مولانا سمیع الحق کی تائید حاصل کرنے کے لیے، خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت، ان کو علانیہ مالی امداد دے رہی ہے۔ میری تحقیق یہ ہے کہ 2016-17ء کے بجٹ میں دارالعلوم حقانیہ کے لیے تین سو ملین روپے رکھے گئے۔ اب خبر یہ ہے کہ اسی مدرسے کو مزید ستائیس کروڑ ستر لاکھ روپے کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ خبر بھی ہم سن چکے کہ ہر امام مسجد کو دس ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی رقم انہیں کس خدمت کے عوض دی جا رہی ہے؟
تحریکِ انصاف کا مقدمہ یہ ہے کہ یہ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش ہے اور اس کے بدلے میں مدارس کے نصاب اور نظام میں تبدیلی لائی جائے گی۔ یہ دلیل اس آدمی کے لیے قابلِ قبول ہو سکتی ہے‘ جو مدارس کے نظام سے واقف نہ ہو۔ پہلی بات یہ ہے کہ آج تک کوئی ایسی دستاویز سامنے نہیں آ سکی جو یہ بتاتی ہو کہ اس مدد کے بدلے میں یہ وہ تبدیلی ہے جس کا مدارس نے وعدہ کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ مدارس کے نظام اور نصاب میں تبدیلی ان تعلیمی بورڈز کی ذمہ داری ہے جو قومی سطح پر موجود ہیں اور ایک نظم کے تحت کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر دارالعلوم حقانیہ، وفاق المدارس کے تحت کام کرتا ہے جو دیوبندی مدارس کا تعلیمی بورڈ ہے۔ اس میں وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو وفاق نے طے کیا ہے۔ اسی کے تحت امتحانات ہوتے ہیں۔
ان مدارس کے نصاب یا نظام میں تبدیلی کا فیصلہ وفاق المدارس کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست یا حکومت جب مدارس سے کوئی معاملہ کرنا چاہتی ہے‘ تو ان کے تعلیمی بورڈز کے نمائندوں سے رابطہ کرتی ہے۔ مدارس سے انفرادی سطح پر معاملہ نہیں کیا جا تا۔ مدارس دینی تعلیم کے علاوہ اگر خود کسی کام کی ابتدا کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ جیسے اگر وہ بچوں کا میٹرک کرانا چاہیں یا انہیں کوئی ہنر سکھانا چاہیں تو اس کا حق رکھتے ہیں۔ اگر دینی تعلیم یا نظام میں اصلاحات مطلوب ہیں تو یہ کام وفاق المدارس ہی کی سطح پر ہو گا۔ اگر دیوبندی مدارس کا معاملہ ہے۔ اگر مدارس بریلوی مسلک کے ہیں تو یہ ذمہ داری 'تنظیم المدارس‘ کی ہے۔
اس پس منظر میں دینی مدارس کی یہ امداد ان کی سیاسی تائید حاصل کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مولانا سمیع الحق اگر چہ دیوبندی مسلک کے ممتاز عالم ہیں مگر وہ مولانا فضل الرحمٰن کے حریف ہیں۔ سیاست پر نظر رکھنے والا ہر آدمی جانتا ہے کہ یہ اقدام آئندہ انتخابات میں مولانا فضل الرحمٰن کا توڑ ڈھونڈنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ معاملہ اگر سیاسی سطح پر ہوتا ہے تو اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ میرا اعتراض مذہب کے سیاسی استحصال پر ہے۔ یہ مذہبی حلقوں کی تائید حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے جس کے لیے سرکاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ پیسہ وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ سے دیا جا رہا ہے۔ میرے لیے یہی بات باعثِ تشویش ہے۔
مذہب کے سیاسی استحصال کا کام مسلم لیگ نے طویل عرصے تک کیا۔ پیپلز پارٹی کے خلاف مذہب کو استعمال کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، نواز شریف صاحب میں جو مثبت تبدیلیاں آئی ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے اس مذہبی سیاست سے رجوع کر لیا ہے۔ اسی لیے انہیں لبرل ہونے کا طعنہ بھی دیا جاتا ہے۔ عمران خان بھی ایک قومی راہنما ہیں۔ اگر وہ بھی اسی راستے پر چلیں گے تو یہ پاکستان کے لیے کوئی نیک شگون نہیں۔ نواز دشمنی میں اگر وہ مذہب کو بھی استعمال کریں گے تو یہ ایک قومی المیہ ہو گا۔ پاکستان آج جن المیوں کا شکار ہے، ان میں سے اکثر کی بنیاد مذہب کا سیاسی استعمال ہے۔
قومی سیاسی جماعتوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ عوام کو خادم رضوی صاحب جیسے حضرات سے آزاد کراتی ہیں‘ جو ختمِ نبوت جیسے معاملات میں، ان کے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہیں۔ اگر یہ جماعتیں بھی یہی کام کرنے لگیں تو قوم کہاں جائے؟ 



Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved