تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     28-02-2018

’’کامیابی کا مغالطہ‘‘

اویسن سویٹ مارڈن، نپولین ہل، سیمیوئل جانسن، ڈیل کارنیگی، اینڈریو کارنیگی، ڈینس ویٹلے، برائن ٹریسی، ڈاکٹر دیپک چوپڑا، ابراہیم ماسلو، ٹونی رابنز، رابرٹ انتھونی، نوئیل وٹیکر، نارمن ونسنٹ پیل، کریم حاجی، ڈاکٹر میکسویل میلز اور دوسرے بہت سے لکھنے والوں نے اِس دنیا کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ یہ تمام مصنفین شخصی ارتقاء یقینی بنانے کے حوالے سے متحرک رہے ہیں۔ کسی بھی انسان کو بھرپور زندگی بسر کرنے کی تحریک دینا اور حقیقی کامیابی کے حصول کی طرف مائل کرنا ایک بڑی خدمت ہے جو کم ہی لوگ کر پاتے ہیں۔ جو لوگ ایسا کرنے میںکامیاب ہوتے ہیں اُنہیں لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اوریسن سویٹ مارڈن، ڈیل کارنیگی، نپولین ہل، نارمن ونسنٹ پیل اور برائن ٹریسی جیسے لوگوں نے زندگی بھر یہی کام کیا ہے۔ کامیابی کے لیے درکار خود اعتمادی اور لگن پیدا کرنے کے لیے ان لوگوں نے اتنا لکھا ہے کہ بہت سے محض سوچ کر رہ جاتے ہیں کہ اتنا کیسے سوچا اور لکھا گیا ہوگا! 
شخصی ارتقاء اور کامیابی کے موضوع پر جو کچھ لکھا جاتا ہے اُسے عرف عام میں Success Literature کہا جاتا ہے۔ یہ لٹریچر پوری دنیا میں مقبول ہے۔ ہر معاشرہ اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابیں پڑھنا پسند کرتا ہے۔ جو لوگ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں وہ بھی سکسیس لٹریچر پڑھنے میں دلچسپی لیتے ہیں اور جو کامیابی حاصل کرچکے ہیں وہ بھی اس موضوع پر کچھ نہ کچھ پڑھتے رہنا پسند کرتے ہیں۔ 
سکسیس لٹریچر دنیا بھر میں مقبول اور کامیاب کیوں ہے؟ آج دنیا بھر میں ہزاروں موٹیویشنل اسپیکرز بھرپور کامیابی سے ہمکنار ہیں۔ وہ لیکچرز دیتے ہیں اور ہزاروں افراد دم بخود ہوکر سنتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ لوگ کامیابی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سننا اور پڑھنا کیوں پسند کرتے ہیں؟ 
کامیابی سے ہمکنار ہونا کون پسند نہیں کرتا؟ وہ کہ جو اس حوالے سے محنت کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے وہ بھی کامیابی کے بارے میں سننا تو پسند کرتے ہی ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے لاکھوں، بلکہ کروڑوں افراد ہیں جو کامیابی کے حوالے سے شائع کی جانے والی کتابیں پڑھتے ہیں اور پڑھ کر بھول جاتے ہیں۔ کامیابی کا حصول یقینی بنانے کے لیے جو کچھ کرنا پڑتا ہے وہ ہر ایک کو اپنے بس کا کام محسوس نہیں ہوتا۔ یہی سبب ہے کہ لوگ کامیابی کے بارے میں اور کامیاب شخصیات کے بارے میں پڑھنا تو پسند کرتے ہیں مگر اس حوالے سے متحرک ہونے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ سیدھی سی بات ہے، وہ کامیابی کی قیمت جانتے ہیں اور یہ قیمت ادا کرنے کو ترجیح نہیں دیتے۔ 
ایسا کیوں ہے کہ لوگ کامیابی کے بارے میں پڑھتے ہیں مگر کامیاب ہونے کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے؟ سیدھی سی بات ہے، لوگ صرف پڑھنا چاہتے ہیں۔ اِس سے آگے جانا اُنہیں اچھا نہیں لگتا۔ دل کے بہلانے کو یہ خیال بھی اچھا ہے کہ کامیابی کے لیے کچھ کیا یا نہیں کیا، پڑھ تو لیا۔ دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ سکسیس لٹریچر کے نام پر جو کچھ بھی لکھا اور شائع کیا جارہا ہے اُس کا کم و بیش 98 فیصد سطحی نوعیت کا ہے۔ موضوعات بھی پُھسپُھسے ہیں اور اُن کی ٹریٹمنٹ بھی انتہائی بے جان اور سطحی نوعیت کی ہے۔ سکسیس لٹریچر کی دنیا کے بیشتر لکھنے والے ٹیبل اسٹوری چلاتے ہیں یعنی جس طور اخباری رپورٹرز خبریں گھڑتے ہیں بالکل اُسی طور یہ لکھاری بھی کتابیں گھڑتے ہیں! جن موضوعات پر ہزاروں کتابیں شائع ہوچکی ہیں اُنہی کو ''مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کے مصداق مزید رگڑا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پڑھنے والوں کو زندگی کا معیار بلند تر کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ملتا اور وہ آگے بڑھنے کی بھرپور لگن پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ 
سکسیس لٹریچر کی داغ بیل ڈالنے والوں نے لوگوں کو معیاری زندگی بسر کرنے کی تحریک دینے کے حوالے سے خاصی وقیع تحقیق کی۔ اوریسن سویٹ مارڈن ان کے سرخیل تھے۔ اُنہوں نے معروف جریدہ SUCCCESS جاری کیا۔ اُن کے بعد نپولین ہل نے اینڈریو کارنیگی کی وساطت سے کم و بیش 500 کامیاب ترین شخصیات کو انٹرویو کیا اور ان کے حالاتِ زندگی کا جائزہ لینے کے بعد Law of Success کے عنوان سے 16 جلدوں پر مشتمل کتاب لکھی جو پوری دنیا میں مقبول ہوئی، قدر کی نگاہ سے دیکھی گئی۔ اِسی کتاب کو بنیاد بناکر نپولین ہل نے بعد میں Think and Grow Rich اور Grow Rich with Peace of Mind کے دنوان سے کتابیں لکھیں اور یہ کتابیں بھی مقبولیت سے ہمکنار ہوئیں۔ 
ڈیل کارنیگی نے بھی زندگی بھر لوگوں کو کامیابی کی بھرپور لگن سے ہمکنار کرنے کے حوالے سے کام کیا۔ انہوں نے پبلک اسپیکنگ پر بہت زور دیا۔ ان کا استدلال تھا کہ بھرپور کامیاب زندگی بسر کرنے کے لیے بولنے کی صلاحیت کا پروان چڑھانا لازم ہے۔ اور یہ کہ جو لوگ اچھی طرح بولنے کے قابل ہوتے ہیں وہ زندگی کے ہر معاملے میں اپنا آپ منوانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اور ہم جانتے ہیں کہ ان کی بات ایسی غلط بھی نہیں۔ ڈیل کارنیگی نے پبلک اسپیکنگ یعنی خطابت کے موضوع پر جو کچھ لکھا وہ ان کی موت کے بعد کتابی شکل میں شائع ہوا۔ ان کی زندگی ہی میں ان کی دو کتابیں عالمگیر مقبولیت سے ہمکنار ہوئیں۔ پہلی تھی How to Stop Worrying and Start Living اور دوسری How to Win Friends and Influence People تھی۔ ان دونوں کتابوں کی بدولت ڈیل کارنیگی کا نام زندہ رہے گا۔ 
ڈاکٹر میکسویل میلز نے 1950 کے عشرے میں خاصی تحقیق کے بعد Psycho Cybernetics کے موضوع پر دو کتابیں شائع کیں جو بھرپور مقبولیت سے ہمکنار ہوئیں۔ ان کتابوں میں اُنہوں نے سیلف امیج کو موضوع بنایا یعنی یہ کہ انسان اپنے آپ کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور خود کو بدلنے کے حوالے سے کیا کچھ کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے۔ وہ معروف پلاسٹک سرجن تھے اور ان کا مشاہدہ تھا کہ جن کا چہرہ بدل جاتا ہے وہ باطنی طور پر بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ 
یہ سب تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے سکسیس لٹریچر کا دامن بھرنے کی سنجیدہ کوششیں کیں۔ مگر اب ایسا نہیں ہے۔ لوگ چند ایک کتابیں پڑھ کر چند اصول مرتب کرتے ہیں اور کتاب لکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک اشاعتی ادارے سے شائع ہونے والی کتاب ''کامیابی کا مغالطہ‘‘ میں جواں سال محقق عاطف حسین نے اِسی موضوع کو چھیڑا ہے۔ کتاب زیادہ ضخیم نہیں۔ موضوع بہت وسیع ہے اِس لیے اِسے چھوٹی سی کتاب میں سمویا نہیں جاسکتا۔ عاطف حسین نے بہرحال محنت کی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ سکسیس لٹریچر کے نام پر جو کچھ پیش کیا جارہا ہے وہ زندگی کا معیار بلند کرنے میں زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو رہا۔ کسیس لٹریچر کے نام پر اب لوگوں کو صرف بہلایا پھسلایا جارہا ہے۔ انہیں یقین دلایا جارہا ہے کہ چند ہفتوں کی محنت سے وہ لاکھوں کمانے کے قابل ہوجائیں گے۔ ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ بھرپور کامیابی کا حصول وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی دشوار ہوتا جارہا ہے۔ کسی بھی شعبے میں بھرپور کامیابی اب زندگی بھر کا معاملہ ہے یعنی انسان کو پورے وجود کے ساتھ زندگی بھر محنت کرنا پڑتی ہے۔ بہر کیف، عاطف حسین نے ایک اچھا موضوع بر وقت برتا ہے۔ اس موضوع پر دوسروں کو بھی محنت کرنی چاہیے تاکہ لوگ اُتھلے پانیوں جیسی چیزیں پڑھنے اور سُننے کی زحمت سے بچیں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved