تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     23-03-2018

حکمرانی کی اقسام اور 23مارچ

حکمرانی کی سب سے اعلیٰ اور بالا ترین قِسم ''آسمانی حکمرانی‘‘ کی قِسم ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کسی خاص بندے کو نبوت سے سرفراز فرماتے ہیں اور حکمران بھی بنا دیتے ہیں، جیسا کہ حضرت دائود علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو نبوت سے نوازا اور حکمران بھی بنایا۔ وہ اپنے وقت کے ''رسول بادشاہ‘‘ تھے۔ ان کی حکمرانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست رہنمائی کی صورت میں تھی۔ یوں مندرجہ بالا حکمرانی الہامی حکمرانی تھی۔ حکمرانی کی ایک اور قِسم اس طرح ہے کہ نبی کی درخواست پر اللہ تعالیٰ حکمران کا تعین فرما دیتے ہیں۔ اس کی مثال حضرت طالوت کی حکمرانی ہے۔ وقت کے نبی حضرت سیموئل علیہ السلام کے پاس قوم کے لوگ آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں اور مولا کریم اپنی مرضی سے ہمارے لئے ایک بادشاہ (حکمران) کا تعین فرما دیں، چنانچہ حضرت سیموئل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی اور مولا کریم نے حضرت طالوت کو بادشاہ بنا دیا۔ یہ بادشاہ بنواسرائیل کے سب سے کمزور قبیلے حضرت بنیامین کی اولاد سے تھا۔ برتر قبیلوں نے نبی کے سامنے حضرت طالوت کی کمتری کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے نبی کے ذریعے قوم کو جواب دیا کہ طالوت علمی اور جسمانی اعتبار سے برتر ہے، یعنی حکمران کو اپنے وقت کا عالم، حکیم و دانشور ہونا چاہئے۔ جسمانی اعتبار یعنی ذہنی لحاظ سے بھی تندرست ہونا چاہئے اور جسم کے باقی اعضاء کے اعتبار سے بھی تندرست ہونا چاہئے۔ اسے لاغر نہیں ہونا چاہئے اور ان خصوصیات کے اعتبار سے جناب طالوت ہی بہترین حکمران ہیں۔ جی ہاں! حضرت طالوت کی حکمرانی ایسی حکمرانی ہے کہ وہ خود تو پیغمبر نہیں مگر وہ ایک پیغمبر کی رہنمائی میں حکمرانی کرتے ہیں۔ کتاب و سنت کی روشنی میں مجھے یہ سمجھ آئی ہے کہ حکمرانی کی یہ دوسری قِسم ہے جو پہلی سے ذرا کم مگر اعلیٰ ترین قِسم ہے اور اسے بھی (Indirect) آسمانی رہنمائی حاصل ہے۔
مندرجہ بالا دونوں اقسام سے اعلیٰ ترین اور برتر ترین حکمرانی کی قِسم وہ قِسم ہے جو حضرت محمد کریمؐ کی حکمرانی کی قِسم ہے۔ یہ ایسی نادر، بے مثال اور لا جواب قِسم ہے کہ جس کی مثال نہ تو حضور نبی کریمؐ سے پہلے موجود ہے اور نہ ہی قیامت تک ہو گی، کیونکہ حضورؐ خاتم الانبیاء ہیں، نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ ہی ایسی کوئی قِسم سامنے آئے گی۔ حضورؐ آخری نبی بن کر مکہ میں 13سال بغیر حکمرانی کے دعوت کا کام کرتے رہے، تکالیف اٹھاتے رہے۔ یہ دعوت یثرب پہنچی تو وہاں کے بیشتر لوگ مسلمان ہو گئے۔ انہی لوگوں کے سرکردہ اور دانشور لوگ مکہ گئے اور حضورؐ کو حکمرانی کی درخواست کی۔ آپؐ نے حکمرانی کی درخواست کو قبول فرمایا۔ جی ہاں! اِک مہاجر شخص دوسرے علاقے کے لوگوں کا حکمران بن جائے اور مقامی لوگوں کی درخواست و التجا کی صورت میں حکمران بنے، دنیا ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ کا کردار اس قدر بھاری تھا کہ معلوم انسانی تاریخ میں مندرجہ بالا معجزہ رونما ہوا۔ کردار کے اس بھاری پن کا اندازہ حضورؐ کی ایک حدیث مبارک سے بھی ہوتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا! فرشتے آئے اور انہوں نے ایک ترازو میں میرا وزن کیا۔ پہلے تو ایک ترازو میں مجھے بٹھایا اور دوسرے میں دس آدمی بٹھائے، پھر یہ تعداد بڑھتے بڑھتے ہزار سے ہوتی ہوئی ساری انسانیت تک پہنچ گئی۔ یعنی دوسرے پلڑے میں کُل انسان تھے۔ آپؐ فرماتے ہیں مجھے یوں لگا، یہ انسان مجھ پر گر جائیں گے یعنی وہ پلڑا انتہائی اوپر تھا اور حضورؐ کا پلڑا زمین سے اٹھنے نہ پایا تھا۔ یہ وزن کردار کا وزن تھا، اللہ کے ہاں حضورؐ کے اعلیٰ ترین مقام کا وزن تھا۔ یہ وزن ختم نبوت کا وزن تھا، ساری انسانیت سے بھاری تھا۔
حضورؐ نے مدینہ کا حکمران بن کر اپنے آپ کو بادشاہ نہیں کہلوایا، بادشاہت کے جو لوازمات ہوتے ہیں، سرفہرست، عالی شان محل، تخت اور تاج ہوتا ہے۔ حضورؐ نے نہ سر مبارک پر تاج رکھا، نہ بیٹھنے کو تخت تھا، نہ رہنے کو محل تھا، محل کی جگہ کچا سا حجرہ تھا۔ تخت کی جگہ کھجور کی چٹائی کا مصلّٰی تھا اور سونے میں ہیروں کے جڑائو کے حامل تاج کی جگہ سادہ سا سفید عمامہ تھا یا کبھی کبھار سیاہ پگڑی مبارک تھی۔ آپؐ نے خود فرمایا میں نے اللہ کی طرف سے دیئے ہوئے اختیار کہ چاہے تو ''رسول بادشاہ‘‘ بن جائو اور چاہو تو ''اللہ کے بندے (حکمران) رسول‘‘ بن جائو۔ میں نے جبریل کے مشورے پر اپنی طبیعت کے مطابق دوسرے آپشن کو اختیارکر لیا... سبحان اللہ! حکمرانی کی یہ ہے وہ لاجواب قِسم اور بے مثال انداز جو ہمارے حضور حضرت محمد کریمؐ نے اختیار فرمائی۔ ایسے حکمران کی حکمرانی پر دل و جان اور سارا جہان قربان۔
حضورؐ کی حکمرانی نے قیامت تک اسوہ بننا تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اور خلیل کی حکمرانی قائم کروائی تو مدینہ کے لوگوں کے ذریعے سے قائم کروائی۔ حضورؐ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اب جو حکمرانی شروع ہوئی یہ ختم نبوت کے بعد کی حکمرانی ہے۔ اس حکمرانی کو خود حضورؐ کی بتلائی ہوئی اصطلاح کے مطابق خلافت راشدہ کی حکمرانی کہا جاتا ہے۔ اس حکمرانی کے پانچ حکمران ہیں۔ صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان غنی، علی مرتضیٰ اور حسن رضی اللہ عنھم... حضورؐ کی پیشگوئی کے مطابق اس حکمرانی کا عرصہ تیس سال ہے۔ حضرت حسنؓ کے چھ مہینے شامل ہوں تو تیس سال بنتے ہیں۔ جی ہاں! پانچوں حکمرانوں کو حکمران بنایا تو عوام کے دانشور طبقے نے بنایا۔ یوں یہ حکمرانی ''راشدہ‘‘ یعنی بھلائی اور خیر کی حکمرانی ہے۔ بعد کی حکمرانیاں خاندانوں کی حکمرانیاں ہیں۔ بہت اچھے درجے کی بھی ہیں۔ درمیانے درجے کی بھی ہیں۔ کم تر درجے کی بھی ہیں اور برے درجے کی بھی ہیں۔ ہم ایسے ہی ادوار میں زندہ رہ رہے ہیں اور یہ حکمرانیاں دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔
اب میں آتا ہوں برصغیر اور پاکستان کی جانب... اس برصغیر کے مسلمانوں کوایک قائد ملا۔ اک حکمران ملا جس کا نام حضرت محمد کریمؐ کے مبارک نام پر ''محمد علی‘‘ تھا۔ کردار کا پہاڑ تھا۔ حکمرانی کی چاہت کا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں میں جو سب سے بڑا دانشور تھا، جسے ''حکیم الامت‘‘ کہا گیا۔ نام اس کا بھی حضرت محمد کریمؐ کے مبارک نام پر ''محمد اقبال‘‘ تھا۔ اس محمد اقبال نے اپنے دیگر دانشور ساتھیوں کے مطالبے پر محمد علی جناح کو درخواست کی کہ برصغیر کے مسلمانوں کی قیادت آپ سنبھالیں۔ انہوں نے درخواست قبول فرما لی اور پھر23مارچ 1940ء کو انہوں نے لاہور میں کہ جہاں برصغیر کے ہر علاقے کے مسلمان موجود تھے۔ پاکستان کا مطالبہ کر دیا اور صاف کہا کہ یہاں مدینے کی ریاست کا تجربہ کیا جائے گا۔ اللہ اللہ! میں نے غور کیا تو حیران رہ گیا کہ محمد علی جناح قائد بنا تو خود اہل مدینہ کے دستور پر قائد بنا۔ یہ ہے وہ اعزاز جو میرے مولا کریم نے برصغیر کے مسلمانوں کے قائداعظم کو عطا فرمایا۔ میں نے 23مارچ 2018ء کے دن کے لیے آج کا کالم اس خواہش اور مطالبے پر لکھا ہے کہ مجھے پاکستان کا حکمران ایسا چاہئے، جھوٹ بولنے والا، کرپشن کی زد میں ڈبکیاں کھانے والا، اقرباء پروری کرنے والا، خاندانی افراد کو اردگرد رکھنے والا، برادری کے لوگوں کو ریوڑیوں کی طرح وزارتیں بانٹنے والا نہیں چاہئے۔ اللہ کے نام پر پاکستان کے فیصلہ سازوں سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے 2018ء کے الیکشن میں قائداعظم جیسا حکمران چاہئے۔ محمد علی جناح جیسا حکمران چاہئے۔ میرے دیس میں کوئی اقبال ہے جو 20کروڑ عوام کی خواہش پوری کرے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved